Monday, December 10, 2018

tu kitni masoom hai episode 16 by aymen nauman

وہ سب لوگ حمدان کے گھر پہنچ چکےتھے....
حمدان اور بی اماں نے سب کا بہت محبت سے ویلکم کیا ۔۔۔
سب لوگ ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔۔۔
۔
جب حمدان نے اسراء کو نہ پاکر بےقراری سے سوال کیا ۔۔۔۔

"باقی لوگ نہیں آئے؟؟؟" 
"سب تو ہیں"
"بس میری کزن نہیں آسکی "۔۔

بشر بولا
"ارے تو ان کو بھی لے آتے"
حمدان نیں بشر سے کہا ۔۔۔

"بیمار ہے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لئے وہ نہیں آسکی"۔۔
بشر نے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے تفصیل سے جواب دیا ۔۔۔
حجاب بچوں کی طرح بڑے مزے سے کبابوں کے ساتھ انصاف کر رہی تھی۔۔۔۔
، بی اماں کی نظر اس پر پڑی۔۔۔۔
بشر اور حجاب جو کہ تھری سیٹر صوفے پر دراز تھے۔۔۔۔
فاصلے سے بیٹھے ہوئے تھے بی اماں نے بیچ میں بیٹھ کر اس خالی جگہ کو پر کیا ۔۔۔


"ہائے بیٹا تم بشر کی دلہن ہو" ؟؟؟؟

حجاب اب مکمل طور پر ان کی طرف متوجہ تھی۔۔
بشرکے کان بھی کھڑے ہو چکے تھے ۔۔۔
"نہیں آنٹی دولہن تو بس میں اپنی شادی پر بنی تھی" ۔
وہ بڑے مزے سے کولڈرنک اٹھاتے ہوئے بولی۔۔۔

"ہے کیا؟؟"""۔۔۔
" تم اس کی دلہن نہیں ہو" ۔۔۔
بی اماں نے مٹھی میں دبا پان بھی منہ کھا۔۔۔

حجاب کی بے سروپا بات پہ بشر کا دل چاہا سامنے لگے فانوس پہ لٹک جائے یا اس کو لٹکا دے ۔۔۔
"لو بھلا مزاق نہیں کرو بیٹا مجھے پتہ ہے تم شرما رہی ہو۔"۔۔۔
"سدا سہاگن رہو، ہمیشہ پوتوں پھلوں، اللہ تمہاری گود ہری کر دے جلدی" ۔۔
بی اماں کی بات پہ نہ جانے کیوں حجاب کی پلکیں خود بخود جھکتی چلیں گئیں۔۔۔
"ویسے بیٹا تم کہیں سے بھی سہاگن نہیں لگتی"۔۔۔
" سجا سنورا کرو"۔۔
" تیار رہا کرو"۔۔۔۔
شوہر کے دفتر سے آنے سے پہلے خوب اچھی طرح سے تیار ہوا کرو"۔۔۔
"اچھے اچھے کپڑے پہنا کرو چوڑیاں پہنا کرو"۔ ۔۔

"ہمارے وقتوں میں تو ایسا ہی ہوتا تھا آجکل کی اس کلموہی نسل کو پتہ نہیں کیا ہوتا جا رہا ہے" ۔۔؟؟؟؟
بشر کی بتیسی بی اماں کی باتوں پہ پوری کھل گئی ۔۔۔
"سمجھائے سمجھائے بی اماں کافی سمجھائے اس کو، عقل دیں تھوڑی "۔۔۔۔۔
بشر منہ پہ سنجیدگی طاری کر کے بولا۔۔

"بلکہ اس کو تو دو تین دن آپ کے پاس چھوڑ دیتاہوں" ۔۔۔
وہ مزید بی اماں کے پاس کھسک کے بولا اور اپنا ایک ہاتھ انکے شانے پہ ٹکا دیا۔۔۔
حجاب کا بس نہیں چلرہا تھا کہ بشر کے منہ میں اپنا ڈھائ .گز کا دوپٹہ ٹھونس کے اس کی گھوڑے کی طرح چلتی زمان کو بند کردے۔۔۔

بشر کے دل میں لڈو تو کیا پوری حلوائی کی دکان پھوٹ پڑی تھی۔۔۔
۔ اس کا دل چاہ رہا تھا بی اماں کی خوب ساری "پپیاں "لے ڈالے۔
اور ان ساتھ اس بن بتوڑی کے سامنے بھنگڑا ڈالے ۔۔

بشر نے جان کر اپنا دھیان وہاں سے ہٹایا ورنہ اس کی ہنسی چھوٹ جاتی۔۔۔
وہ.سب کے سامنے خامخواہ ہنس کے شرمندہ نہیں ہونا چاہتا تھا ۔۔۔
ادھر ادھر نظر دوڑائی ہمدان کو دیکھنے کے لئے وہ ڈرائنگ روم میں کہیں بھی نہیں تھا ۔۔۔
""واہ بی اماں آپ ہی اس کو "ایسی ویسی" باتیں سمجھا دیں تا کہ میرا بھی زیادہ نہیں تو کچھ تو بھلا ہوسکے ""۔۔۔
وہ صوفہ پہ سر ٹکائے سوچنے لگا۔۔

"لیکن لگتا ہے میری زندگی تو اپنے بچے پالنے کے بجائے"۔۔۔
" اس ننہی دودنی کو پالتے پالتے ہی گزر جائے گی ۔۔۔

بشر ابھی بھی اپنی سوچوں میں گم تھا
💕💕💕💕💕
اسرا کمرے میں آکر پریشانی اور گھبراہٹ سے ادھر ادھر ٹہل رہی تھی ۔۔۔۔
"پتا نہیں اب حمدان کا کیا ری ایکشن آئے گا اور اگر بالفرض وہ مجھے کسی نہ کسی طریقے سے لے گیا تو پھر کیا حشر کرے گا میرا۔"۔۔
۔ میں نے اس کی انا کو جو چوٹ پہنچائی ہے ۔۔۔۔
"وہ کوئ معمولی نہیں تھی"۔۔۔
"وہ اس جیسے پست زہن وڈیرے کے دل پہ تو کسی تازیانے سے کم نہیں لگی ہو گی "۔۔۔
اس نے خوف سے کبوتر کی طرح اپنی آنکھیں بھینچ لیں۔۔۔ 
لیکن یہ کیا ۔۔۔

جیسے ہی اس نے آنکھیں کھولی کمرے میں گھپ اندھیرا پھیلا ہوا تھا ۔۔۔
اس نے لائٹ کا انتظار کیا کہ شاید ابھی جرنیٹر چل جائے گا ۔۔۔
مگر جب کافی دیر تک جنریٹر نہ چلا تو اس نے ادھر ادھر ہاتھ مار کر اندھیرے میں اپنا موبائل تلاشا مگر کوشش رائیگاں رہی۔۔۔
وہ ہلکے ہلکے راستہ ٹٹولتی ہوئی کمرے سے باہر کوریڈور میں پہنچی ۔۔۔۔
کوریڈور میں قدم رکھتے ہیں اس کو احساس ہوا کہ یہاں اندھیرے کی وجہ سے وہ شاید آگے نہ بڑھ پائے۔۔۔
اس نے گھبرا کر واپس جانے کے لئے قدم بڑھائے ہی تھے کہ کسی نے زور سے کھینچ کر اس کو دیوار سے لگایا ۔۔
ابھی وہ اس افتاد سے سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ۔۔۔۔
کسی نے اس کے گداز ہونٹوں پر اپنے مضبوط ہاتھ رکھ کر اس کی نکلنے والی چیخوں کا بےدردی سے گلہ گھونٹ دیا۔۔۔۔ا
آندھیرے کے باعث وہ اس ہیولے کو دیکھ نہیں پا رہی تھی۔۔۔ 
مگر اسے اپنی گردن پر کسی کے دہکتے ہوئے ہونٹ اور گرم گرم سانسیں محسوس ہو رہی تھیں ۔۔۔
اسرا کا تنفس بگڑنے لگا۔۔۔۔
اس کی آنکھیں خوف کی زیادتی سے پھٹی کی پھٹی رہے گئیں۔۔
آنسوں بہے کے گالوؑ پر آ گئے تھے ۔۔۔

وہ اس وقت صحیح معنوں میں بے بسی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔۔۔
جب اس کے کان میں یہ لفظ پڑھے۔۔
"کہا تھا نہ تم میری امانت ہو اور میں اپنی امانت میں خیانت برداشت نہیں کرسکتا "۔۔۔
اسراء اس آواز کو پہچان کرخوف و سراسیمگی سے بےہوش ہو چکی تھی۔۔۔
حمدان کے حصار میں قید ۔۔۔

اسی لمحے لائٹ بھی آ گئی اور کوریڈور روشن ہو گیا ۔۔۔
حمدان نے اس کو اپنی باہوں میں بھر کر روم میں جاکر اس کے بیڈ پر لٹا دیا اور پانی کا چھیٹا اس کے منہ پہ ڈال کر کمرے کا دروازہ بند کر کے باہر نکل گیا ۔۔۔

💕💕💕💕💕💕💕
بشر حمدان کی تلاش میں لان کی طرف آیا جب حمدان سامنے سے آتا اس کو دکھائی دیا ۔۔۔
"ارے کہاں تھا تو مجھے اندر بی اماں اور حجاب کے پاس چھوڑ کر خود فرار ہو گیا" ۔۔
بشر نے اس کے سینے پر مصنوعی مکہ رسید کیا
"کہیں نہیں بس یہی گیا تھا ایک دوست آیا تھا باہر کام سے"۔۔۔
اس نے سوچا ہوا جواب دیا ۔۔۔
"اور تو اتنی ٹھنڈ میں باہر کیوں کھڑا ہے چل اندر"۔۔۔
حمدان اس کو اپنے ساتھ لیے اندر بڑھ گیا ۔۔
ڈنر بہت ہی خوشگوار فضا میں کیا گیا ۔۔
کھانا کھا کر تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد اس نے الودہ لی اسکو صبح آفس کے کسی کام کے سلسلے میں دوبئ نکلنا تھا اپنے ساتھ بابا کے کہنے پہ اس بن بتوڑی کی بھی سیٹ کرالی۔ ۔۔
حجاب کو بابا پہلے ہی بتا چکے تھے۔ ۔۔
4 دن کا اسٹے تھا دونوں کا۔ ۔

اس لئے بشر پھر ان کو اپنے گھر آنے کی دعوت دے کر جلدی الوداع لے کر چلا گیا۔ ۔
ماما بابا بھی سات ہی تھے۔

💕💕💕💕💕💕💕
حجاب دعوت سے آنے کے بعد جلدی سے کمرے میں آئی۔۔۔۔
اس کے دماغ میں پھر سے شیطانی خیالات گردش کر رہے تھے ۔۔۔

"کل کی رات بہت ستایا ہے نہ مجھے"۔۔۔۔
"اب دیکھو آج کی رات تمہیں بھی کتنی پیاری نیند آئے گی" 
۔۔۔
رات میں بشر کمرے میں آیا اس وقت وہ محترمہ بڑے مزے سے صوفے پر خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی ۔۔

"اوہو تو آج خود یہ بن بتوڑی صوفہ پہ سوگئی"
" واہ کیا بات ہے"۔۔۔۔
"" چلو آج رات میری" کٹ "نہیں لگے گی ""۔۔۔۔

ورنہ سوتے میں بھی لاتے مکوں سے مار مار کے میرے دل گردے ،پھیپڑے سب پھوڑ چکی ہے" ۔۔۔۔۔۔
وہ فریش ہو کر آیا اور لائٹ آف کر کے اپنے ٹھنڈے ٹھنڈے بستر پر آ کر لیٹ گیا۔ ۔۔
ابھی اس کو بیڈ پر لیٹے ہوئے محض 10 منٹ ہی ہوئے تھے جب اس کو اپنے ہاتھ پاوُں میں عجیب سی جلن کا احساس ہوا ۔۔۔
اس نے خارش کرتے ہوئے ہاتھ بڑھا کے لیمپ کا بٹن آن کیا ۔۔۔
اور اٹھ کر اپنے بیڈ کا جائزہ لینے لگا ۔۔

بیڈ پے پڑی لال مرچ کا پاؤڈر دیکھ کے بشر کے 14 طباق روشن ہو گئے ۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
"ماما میں بہت پریشان ہوں اب تو ڈاکٹر نے بھی صاف لفظوں میں بتا دیا ہے کہ کوئی بھی راستہ نہیں ہےباقی"۔۔
فرح صوفے پر بیٹھی اپنی ماں سے گویا ہوئی ۔۔۔
"میں نے تمھیں کتنا کہا تھا بعض آجاو مگر تم نہیں مانی" ۔۔۔
وہ ایک بہت نیچ سوچ کا مالک شخص ہے اور وہ تمہیں پنجرے میں قید کرنے کے لئے ہی تو یہ سب کچھ کر رہا ہے" ۔۔۔

"ماما اب میں کیا کروں مجھے نہیں پڑھنا ان سب جھمیلوں میں ابھی سے"
"بیٹا تم نے شاید سنا نہیں کہ تمھاری پریگنینسی کو ڈھائی ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے ۔۔۔۔"
"اب تو تمہیں یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑے گا۔"۔۔۔
"جو تم چاہتی ہو وہ اب بالکل ممکن نہیں ہے، "۔۔
"اس طرح تمہاری جان بھی جا سکتی ہے "
فارح اپنا سر تھام کے بیٹھ گئی ۔۔

فرح کو منانے آیا سمیر ان دونوں کی باتیں باہر کھڑے ہوئے دروازہ کی اوٹ سے سن چکا تھا۔۔۔۔
اس کو بہت افسوس ہوا اپنی شریک حیات پر۔۔۔

"اسکے لئے میں نے سب کچھ چھوڑ دیا اور یہاں آیا تھا "۔۔
آج اپنے متعلق اسکو انکے جیالات جان کے جھٹکا لگا۔ ۔۔
مگر جس چیز سے وہ پریشان تھا کہ فارح کہیں اس کے بچے کو ضائع نہ کر دے ۔۔۔

وہ خوف اب ختم ہو چکا تھا۔۔۔
وہ مطمئن سا واپس مڑ گیا۔۔۔۔

"فرح اس بچے کو دنیا میں آنے کے بعد تم بھی اس کے بغیر ایک لمحہ نہیں گزار سکو گی ہم دونوں تمہیں اپنی محبت کے حصار میں قید کر لیں گے۔"
وہ مستقبل کے تانے بانے بن رہا تھا۔ ۔۔

💕💕💕💕💕💕
حمدان رات بھر ادھر سے ادھر بے چین ہوکر کروٹیں بدلتا رہا ۔۔۔
اس کو بار بار رہ رہ کر ہیر نی کی طرح سہمی ہوئی دو آنکھیں اپنی نگاہوں میں آ رہی تھی۔۔۔

💕💕💕💕
جاری ہے۔۔۔💓

0 comments:

Post a Comment