tu kitni masoom hai episode 17 by aymen nauman
"میرا ہرگز بھی مطلب تم کو خوفزدہ کرنا نہیں تھا "۔۔
حمدان نے چہوتا ڈبہ کھلا تھا سگریٹ کا۔ ۔۔
وہ پچھلے 2 گھنٹے میں سگریٹ کے تین ڈبے ختم کر چکا تھا اسراء کے حجر میں۔ ۔۔
"مگر تم مجھے کیوں بار بار اس مقام پر لا کر کھڑا کر دیتی ہوں جہاں محبت کی جگہ ضد اور انا لے لے"۔۔۔
"کیا تھا اگر تم سیدھے طریقے سے اس رشتے کو قبول کر لیتی ؟؟؟؟"۔۔۔
"لیکن اسرا تمہاری ان بیوقوفیوں کے آگے میں کوئی بیوقوفی کا مستحق نہیں ہو سکتا "۔۔۔
" مجھے پیار سے کوشش کرنی ہوگی "۔۔
"اس سمجھاؤں گا"۔۔۔
"اس کو اپنی محبت کا یقین دلاؤں گا"۔۔
"اور اگر وہ پھر بھی نہیں مانی تو؟ ؟؟؟؟"۔۔
اس "تو" کے آگے اس کا دماغ بالکل سُن ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
"نہیں محبت پیار سے بھی تمہیں راہ راست پر لانے کی کوشش پوری کروں گا"۔۔۔
" اور اگر پھر بھی تم نہ مانیں تو پھر جو میں چاہؤنگا گا وہی ہوگا "۔۔۔
"شوہر ہوں تمہارا "۔۔۔
"ہر طرح سے اپنا حق وصول کرسکتا ہوں"۔۔
اس نے سگریٹ کی ایش کو ایش ٹرے میں ڈال کر دوبارہ لبوں سے لگائ۔ ۔
"صرف حق ہی نہیں ڈیئر وائف تمہیں بھی اپنے 11 بچوں کی اماں نہ بنایا تو میرا نام بدل دینا ۔"۔۔
اپنی اس سوچ پہ اس کے لب بے ساختہ مسکرا اٹھے آنکھوں میں کئ دیئے تھے جو یک لخت روشن ہو گئے ۔۔۔
💓💓💓💓
دوسرے دن ناشتے پہ سب موجود تھے۔
ماما اسراء کہاں؟ ؟؟؟
وہ کیوں نہیں ہے ناشتہ پے ؟؟؟
جب بشر نے اسراء نہ پا کے ماما سے پوچھا ۔۔۔
"بیٹا اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ساری رات بخار میں دہک تے ہوئے گزاری ہے بچاری بچی نے۔ "..
"ہاں بیٹا آپ کی ماما نے بتایا تھاتب میں اس کو دیکھنے گیا تھا"...
"اس وقت بھی قدرے غنودگی میں ہی تھی "۔۔
بابا بولے ۔۔
بشر کرسی گھسیٹ کر اٹھا اسرا کو دیکھنے کے لئے ۔۔
"آپ ناشتہ کریں پہلے بعد میں دیکھ لیجئے گا ۔"۔
بشر کو ناشتہ چھوڑے اٹھتا دیکھ کر حجاب بول پڑی۔۔
"ہاں بیٹا ناشتہ کرلو پھر آرام سے تھوڑی دیر بیٹھ بھی جانا اس کے پاس تم ان دونوں "۔۔
ما ما کو لگا جیسے بشر کا اسراء کو لیکر پریشان ہو نا حجاب کو پسند نہیں آیا ہے ۔۔
اس لئے بات سنبھالتے ہوئے بولیں۔ ۔
"ماما اسراء اس گھر کی فرد ہے اور میری بہت اچھی کزن کے ساتھ اب دوست بھی"۔ ۔
اس نے اک اچٹتی نظر حجاب پہ ڈالی اور پھر سے گویا ہوا۔ ۔۔
" اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے خالی پیٹ ہے وہ رات سےاور میں اپنا پیٹ بھر لو ں"۔۔۔
بشر کو غصہ حجاب کی بات پہ تھا ۔۔۔
اور پھر ماما نے بھی اس ہی کی تائید کی ۔۔
بشر کو یہ چیز پسند نہ آئی ۔۔
بشر ایک نظر حجاب پہ ڈال کے اسراء کے روم کی طرف بڑھ چکا تھا ۔۔۔
"ارے حجاب بچے یہ بتاؤ کب تک نکل رہے ہو آج آپ دونوں؟ ؟؟"
" میرے خیال سے تو ایک بجے کی ہے فلائٹ تم لوگوں کی "۔۔
بابا چائے کا کپ ہاتھ میں لئے حجاب کی طرف متوجہ ہوئے ۔۔
حجاب غائب دماغی سے ہوں ہاں کرتی رہی ۔۔
وہ سب کے ساتھ ہوئے بھی وہاں نہ تھی۔ ۔
ماما کو اچھی لگی اس کی بشر کو لے کر اس "possesivenes "..
💓💓💓💓💓💓💓
بشر ا ،سراکے کمرے کا دروازہ ہلکے سے ناک کرکے اندر آیا۔ ۔۔
اسرا ابھی بھی شاید سو رہی تھی
بشر آہستہ سے کرسی گھسیٹ کر اس کے پاس بیڈ کے قریب ہی بیٹھ گیا ۔۔۔
"اسراء اب طبیعت کیسی ہے "؟؟؟
وہ بہت آہستہ لہجے میں بولا ۔۔
بشر کی آواز سن کر اس نے مندی مندی سی آنکھیں کھولیں ۔۔
بشر نے ہاتھ بڑھا کر اس کا ماتھا اور گال چھوا ۔۔
بخارا ب کم تھا مگر پورے طریقے سے اترا نہیں تھا
"کیا ہوا ہے تمھیں ؟؟؟؟"۔۔
"ایک ہی دن میں کیا حالت بنا لی ہے تم نے اپنی ؟؟۔۔۔
اسراءبشرکا محبت بھرا لہجہ دیکھ کر مزید اپنے آنسوؤں پہ بندھ نہ باندھ سکی۔ ۔
"ارے یہ کیا تم رو کیوں رہی ہو ؟؟؟"
"سب خیر تو ہے؟؟؟"
" اگر کوئی بات ہے جو پریشان کر رہی ہے تو مجھسےشیئر کرو"۔۔۔
" اگر مجھے کچھ سمجھتی ہو تو"۔۔
"پلیز مگر یوں اس طرح نہ روؤ"۔۔
"چلو ایک کزن سمجھ کر نہیں تو ایک اچھا دوست سمجھ کر ہی اپنا دل ہلکا کر لو" ۔۔
بشر کو لگا شاید وہ اپنی ماں کو یاد کر کے رو رہی ہے ۔۔
وہ چاہتا تھا اس کے دل کا غبار نکل جائے ایک دفعہ ہی اچھی طرح ۔
اسراء نے اس کو اپنا محسن سمجھا اور حمدان سے اپنے نکاح کے بارے میں بتانے کا فیصلہ کیا ۔۔
"بشر میرا بچپن میں "۔۔۔
"ایک منٹ زرا رکنا "۔۔
اسراء کی بات ادھوری ہی رہ گئی تھی۔۔
جب حمدان کی اپنے موبائل پر آتی کال دیکھ کر اس نے اسراء کی بات کاٹی ۔۔
سلام دعا کے بعد حمدان نے اپنی بے چینی چھپاتے ہوئے اس سے پوچھا ۔۔۔
"اور سب خیریت ہے؟؟؟"۔……
"ہاں یا ر شیری سب خیریت ہی ہے "۔۔
"کیا ہوا تیرا لہجہ کیوں اتنا افسردہ سا ہے ؟؟؟"۔۔
اصل میں اسنے اسراءکی بے قراری میں فون کیا تھا ۔۔۔
حمدان کی مجبوری تھی اسراءکا نمبر اس کے پاس نہیں تھا ۔۔
"بس میری کزن کے پاس آیا تھا"۔۔۔
"اچھا اچھا وہی جو کل طبیعت خرابی کی وجہ سے نہ آسکی تھی"۔
اسراء لاتعلق سہی آنکھیں موندے لیٹی تھی ۔۔
اسکو علم ہی کہا تھا کہ فون پر وہی ستمگر موجود ہے ۔۔
"اب کیسی طبیعت ہے ان کی "؟؟
حمدان نےاپنے لہجے میں لاپروائی سمو کر کہا۔ ۔
"اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہےابھی بھی بخار ہے میں اس کے پاس ہی بیٹھا ہوں "۔۔۔
'صبح سے اس کےکمرے میں"۔
حمد ان کی مٹھیاں غصے کی شدت سے بھینچتی جلی گیئں۔ ۔
"چیک کیا تو نے ٹیمپریچر "؟؟؟
اس نے غصے کی شدید اٹھتی ہوئی لہر کو دباتے ہوئے پوچھا
"ہاں ابھی گال چھو کر دیکھا تھا ہلکا ہلکا ابھی بھی ہے '۔۔ ۔
"بس میں ابھی اس کو بٹھا ہی رہا تھا بیڈ پہ ناشتے کے لئے تو تیرا فون بج اٹھا "۔۔
بشر کی اگلی بات سن کر حمدان کی آنکھوں میں گویا خون اتر آیا تھا ۔۔۔
اس نے مزید کچھ بھی کہے بغیر فون بند کر دیا اور بشر ھیلوھیلو کرتا رہ گیا
اسرا چونکی جب فون ڈس کنیکٹ ہوجانے کے بعد بشر نے ہیلو حمدان کہے کہے کےفون کو گھورا ۔۔۔
"ھاں اب بتاؤ کیا کہہ رہی تھی ؟؟؟"
مگر اس کے لبوں پہ تالا لگ چکا تھا۔۔۔
"نہیں بس کچھ نہیں "۔۔
وہ ٹا ل گئی۔۔
"اچھا چلواٹھو میں تمہارے لئے اپنی ناشتے کی پلیٹ ہی ڈائننگ ٹیبل سے اٹھا لآیا"۔۔
" اٹھو شاباش"۔۔
وہ اس کو چھوٹے بچوں کی طرح پچکاررہا تھا ۔۔
اسراء اسکی اتنی فکر دیکھ کر خود کے لئے ۔۔۔
اس کو مناہ نہ کرسکی ۔۔
نقاہت سے اٹھنے لگیں جب بشر نے اس کو سہارا دے کر اٹھایا ۔۔
وہ بشر کے ہاتھ کے گھیرے میں تھی ۔۔۔
جب حجاب اچانک کمرے کا دروازہ دھڑ سے کھول کر آگئی ۔۔
بشر اسرآء کو بٹھا چکا تھااور حجاب کو مکمل طور پر اگنور کررہا تھا ۔۔
وہ ان دونوں کو اس طرح دیکھ کر اندر تک سلگ گئ۔ ۔
حجاب اوپری دل سے بشر کے سامنے اس کی طبیعت پوچھ کر چلی گئی کمرے سے
💓💓💓💓�
ادھر حمدان پوری طرح سے آگ کے دہکتے ہوئے شعلوں کی زد میں آ چکا تھا ۔ ۔
"کوئی کیسے تمہیں ہاتھ لگا سکتا ہے ؟؟؟"
"
"کیسے تمہارے گال کو چھو سکتا ہے؟؟؟؟"
بشر اس کا بہت اچھا قریبی دوست صحیح مگر وہ اس وقت صرف اسراءکا شوہر بن کر سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسراء کو کسی بھی طرح وہاںسے غائب کردے۔ ۔
"بس تم ایک دفعہ میر ی دسترس میں آ جاؤں "۔۔۔
حمدان کے دل میں اسراء کے لئے منفی خیالات گردش کرنے لگے ۔۔
و ہ ہر گس بھی شکی نہیں تھا وہ تو اس طرح کے کمزور ضرف مردوں کو لعنتیاں ملامتیاں بھیجتا کرتا تھا ۔۔۔
لیکن اسراء اس کو اس مقام پرخودلا آئی تھی ۔۔۔
و ہ بھول گئی تھی؟؟؟
یا جان کر بھی انجان بن نہ چاہ رہی تھی ؟؟
کہ وہ اس کا شوہر ہے وہ اس سے زیادہ دن اس طرح بھاگ نہیں سکتی ۔۔
مر دچاہے کتنا اچھا ہی کیوں نہ ہو پر اپنی بیوی کے لئے پوسیسو ھی اچھا لگتا ہے ۔۔
💕💕💕💕💕
حجاب اب تیار ہو رہی تھی ایئرپورٹ نکلنے کے لئے
موٹ البتہ اوف ہی تھا ۔۔
بشر جب کمرے میں آیا تو ایک نظر اس کے گول گپے کی طرح کچوری ہوتے منہ پر ڈالی ۔۔
بشر کو ہنسی آگئی وہ جو باہر سے غصے میں سوچتا آیا تھا کہ۔۔
" یہ کر دے گا وہ کر دے گا "۔۔
"خوب سنائے گا "۔۔
"آج تو وہ حجاب کی طبیعت ہرن کر دے گا "۔۔
اس چھوٹی سی جلیبی کی طرح سیدھی و معصوم لڑکی کو دیکھ کر بشر کا سارا طنطنہ اور اکڑ۔۔۔
کمرہ کا دروازہ بند کرتے ہوئے۔۔
و ہیں وہ بھی کہیں باہر ہی بند ہو کر رہ گئی تھی ۔۔
اور ہمیشہ جب سے وہ اس کی زندگی میں آئی تھی یہی تو ہوا تھا کہ وہ جب جب اس کی طبیعت صاف کرنے کی ٹھان تا تھا ۔۔۔
تب تب حجاب کی کوئی معصوم سی شرارت اس کے دل و دماغ کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیتی تھی ۔
اور وہ گھنٹوں اس کے حصار میں قید ہو جاتا ۔۔
وہ لڑکی ان سات ماہ کے عرصے میں اس کی زندگی بن چکی تھی۔۔۔
وہ تورات میں کی گئی اس کی شرارت پہ بھی اس سے دو دو ہاتھ کرنے آیا تھا ۔۔۔
مگر سب کچھ دھرا کا دھارا ر ہے گیا ۔۔
اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ کس طرح سے اس کی لگائی ہوئی مرچوں کا حساب برابر کرے گا ۔۔۔
"مرچی لگاؤ کا میں سجنی کے نام کی"۔۔۔
"اب تم بچ کرتو دکھاؤ پھلجڑی"۔۔
"وہاں تو تم ہو گی میں ہوں گا اور بس ہمارا کمرہ ، تنہائی ہرررررےےےےے" ۔۔۔
"اس دفعہ اینٹ کا جواب ایسے پتھر سے دوں گا" ۔۔"کہ تم مجھ سے پنگا لینے سے پہلے سو دفعہ نہیں بلکہ کروڑوں دفعہ سوچو گی "۔۔۔
ماما بابوخا کو تو چمچہ بنانے کے بجائے پورا اپنا بیلچہ ہی بنا لیا ہے ۔۔۔۔
"اس بل بتوڑی نہیں "۔۔
"دوری نہ رہے کوئی "
"آج اتنے قریب آؤ "
"میں تجھ میں سما جاؤں"
" تم مجھ میں سماجاؤ "۔۔ن
پشر کمرے میں گنگناتا ہوا تیار ہونے لگا۔
حجاب حیران تھی کہ ابھی تک یہ لسوڑہ پھوٹا کیوں نہیں؟ ؟؟
"کیا اس کی اسکن چمپینزی کے جیسی ہے جو اس پہ مرچوں کا اسر ہی نہیں ہوا ؟؟؟"۔۔
وہ شیشے کے سامنے بال سلجھاتے ہوئے سوچ رہی تھی ۔۔۔
اس کو بشر کا اطمینان ہضم نہیں ہو پا رہا تھا ۔۔۔
💕💕💕💕💕
آریج کی کل پریزنٹیشن تھی وہ اس کی تیاری کرتے کرتے جب تھک گئی تو کچن سے چائے بنا کر کپ لیکر تھوڑی دیر ہوا خوری کرنے کے لئے لان میں آ کر بیٹھ گئی ۔۔
"اپنی شادی کے دن اب نہیں دور ہیں"۔۔
" میں بھی تڑپا کروں تو بھی تڑپ کر ے"
آبھی اس نے چائے کا دوسرا سپ ہی لیا تھا ۔۔
جب نہ جانے کہا ں سے زوار آدھمکا اور ایک لوفرانہ ادا سے اپنی گولا گنڈاسی ڈارک آتشی اور گولڈن شرٹ کا کالر سیدھا کر کے فحش قسم کا گانا گانے لگا ۔۔
"یہ اپنا افہیم چیوں والا بھو تا لے کر و ہیں کہسکو
جہاں تم جیسی full tunn موجود ہو ں"۔ ۔۔
"میرے سامنے سے یہ اپنا گوریلا جیسا منہ لے کر دفعان ہو جاؤ" ۔۔
ذوار اس کی تمام باتیں اک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال رہا تھا۔ ۔
اور بڑی کمینگی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پہ تھی کہ جیسے اس نے اریج کو فتح کر لیا ہو ۔۔
اریج کے دل سے اب مار مار کھا کھا کے اندر کا ڈر خوف ختم ہو گیا تھا "۔۔۔
شاید وہ اس مار کی عادی ہو گئی تھی۔۔
'رہنے دو تم ایک کام کرو ڈیڈی اور اپنی اس سویٹ سکسٹین بہن کے پاس جا کے خوب اپنا یہ پگ جیسا گلا پہاڑ پھاڑ کر رووُ اور بتاؤ"۔۔
" میں نے تمہاری اوقات گدھے سے بھی بد تر کر دی ہے اور خوب چیخ چیخ کے رو نہ تاکہ وہ تمہیں جلدی سے لولی پاپ دےکر چپ کرا دیں اور پھر تم تالیاں بجانا خوش ہوں کے۔"۔۔۔
۔
یہ کہ کروہ اپنا چائے کا مگ اٹھاکر واپس اپنے کمرے میں جاکر بند ہو گئی ۔۔
4 ماہ بعداس کی شادی زوار کے ساتھ کرنے کے آرڈر جاری ہو چکے تھے ۔۔
ان چار ماہ کا بھی صرف اس لئے انتظار کیا گیا تھا تاکہ سبحان آسکے ۔۔۔
وہ اب ہر احساس اور جذبات سے عاری ہو چکی تھی اس کو کسی بھی چیز سے سروکار نہیں رہا تھا ۔۔۔
💕💕💕💕💕
حجاب اور بشر کو گئے ہوئے 2 گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے جب ماما گھرائ ہوئ بابا کے پاس آئیں۔۔
"کیا ہوا سب خیریت تو ہے "۔۔
"جی۔۔ جی ۔۔۔۔نہیں "۔۔
ماما کی آنکھوں میں آنسو تھے
"اسراء تو ٹھیک ہے نہ اور تم رو کیوں رہی ہو ؟؟؟"۔۔
اسداء تو ٹھیک ہے مگر آپ کے ۔۔۔۔۔
جاری ہے۔ ۔۔

0 comments:
Post a Comment