Monday, December 10, 2018

tu kitni masoom hai episode 18 by aymen nauman

tu kitni masoom hai episode 18 by aymen nauman

ماماگھبراکر سہیل صاحب کے پاس آئی 
"کیا ہوا سب خیریت تو ہے نا؟؟؟؟"

"جی۔۔ جی۔۔ ننہیں"۔۔
سائرہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔
اسراءتو ٹھیک ہے نا اور تم رو کیوں رہی ہو ؟؟؟؟
"ہاں آسرا تو ٹھیک ہے مگر آپ کے"۔۔
"کیا ہوا ہے؟؟؟؟
" پہلے سکون کا سانس لو اور مجھے صحیح سے بتاؤ "۔۔

"وہ انیس بھائی جان کی حالت بہت خراب ہے ہمیں ابھی اور اسی وقت کیسے بھی کرکے اسلام آباد نکلنا ہوگا "۔۔
"ابھی ابھی بھابھی کا فون آیا تھا بھائی صاحب کی حالت دوبارہ سے بگڑ گئی ہے ڈاکٹر نے انکو 24گھنٹوں کا وقت دیا ہے"۔۔
وہ ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر بولتی چلی گئیں
آخر کو ان کے اکلوتے جیٹ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے ۔۔
آ
سائرہ کی بات سنکر سہیل صاحب کے بھی حواس معطل ہو گئے ۔۔۔

اور وہ اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے بولے ۔۔
"چلیں آپ تیاری کریں میں ٹکٹس کر آتا ہوں ""۔
جاتے ہوئے وہ پلٹے اور سائرہ بیگم سے کہنے لگے کہ۔ ۔۔۔
"لیکن سائرہ اسر ا ءکو کیسے تنہا چھوڑ سکتے ہیں؟؟؟"۔

"ہاں یہ تو آپ ٹھیک کہے رہے ہیں مگر اس کو لیجہ بھی تو نہیں سکتے اس کی طبیعت ہی ایسی نہیں ہے """۔۔
سہیل صاحب صحیح معنوں میں آسرا کو لے کر فکر مند ہو رہے تھے ۔۔
یہاں ان کا کوئی رشتہ دار بھی نہیں تھا سب ہی اسلام آباد میں مقیم تھے۔ ۔۔

"اگر ایسا ممکن ہوجائے کہ بی اماں اسراء کے پاس
آجائے ؟؟"۔۔
سائرہ بیگم کو خیال آیا کہ اگر ایسا ہو جائے تو آسرا کی طرف سے ان کی پریشانی قدرے دور ہوجائے گی۔۔۔ 
سہیل صاحب کو ان کی یہ تجویز مناسب لگی۔۔

کیونکہ اس وقت بی اماں کے علاوہ کوئ ان کو بھروسہ کے قابل نہ لگا تھا ۔۔
سہیل صاحب نے ٹائم زایہ کیے بغیر فوراًحمدان کے گھر فون کھڑکھڑایا ۔۔
"اسلام علیکم "۔۔
"جی وعلیکم السلام صاحب کون بات کر رہے ہیں؟؟؟"

"جی میں سہیل بات کر رہا ہوں بشر کا والد مجھے بی اماں سے بات کرنی ہے "۔۔۔
"جی بہتر "۔۔
اور کچھ ہی لمحوں میں بی اماں لائن پے تھیں ۔۔

بی اماں کو تمام صورتحال بتا کر انہوں نے اپنے گھر رہنے کے لیے کہا۔۔
مگربی اماں حمدان کے خیال سے راضی نہ ہوئیں اور اسراء کو بے فکر ہو کے اپنے پاس چھوڑ کر جانے کے لئے کہا ۔۔
سہیل صاحب اور سائرہ کو ان کی یہ تجویز بھی بری نہ لگی اور سمجھ میں آئی ۔۔۔
💓💓💓💓

"آپ میری اور اپنی پیکنگ کریں نہ جانے کتنے دن لگ جائیں آسرا کو دیکھ لو زرا میں"۔۔۔
سہیل صاحب سائرہ سے گویا ہوئے۔ ۔

وہ آسرا کے کمرے میں آئے آسرا بیڈ پہ نیم دراز سوچ کی وادی میں گم تھی۔۔۔
یہاں تک کہ وہ سہیل صاحب کے کمرے میں آکر اس کے پاس موجودگی کو بھی محسوس نہ کر سکی ۔۔۔

"آسرا میرے بچے اب کیسی طبیعت ہے ؟؟؟"
اسراء ان کی آواز پہ واپس ہوش کی دنیا میں آئی اور دوپٹہ ٹھیک کر کے ادب سے ہو کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
"جی خالو اب ٹھیک ہوں" ۔۔
اس کی نقاہت زدہ آواز نکلی ۔۔
"بیٹا اپنا خیال رکھو تم میری بیٹی ہو بڑی اور میں اپنی بیٹی کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں "۔۔۔
سہیل صاحب اس کو ایک باپ کی طرح محبت اور شفقت سے سمجھا رہے تھے ۔۔۔
"بیٹا میرے بھائی کی طبیعت بہت خراب ہو گئی ہے ہمیں فوری اسلام آباد کے لئے نکلنا ہوگا "۔۔
سہیل صاحب نے اسراء کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا اور اس کو بتایا کہ وہ اس کو اپنی ایک "عزیز" کے گھر چھوڑ رہے ہیں یہاں ملازموں کے بیچ میں اس کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے ۔۔۔۔
اسراء خاموش رہیں اور چپ چاپ خالو کی بات پر سر جھکا گئ۔۔۔۔
🌷🌷🌷🌷
خالہ اور خالو اسراء کو حمدان کے گھر چھوڑ کر بی اماں کے حوالے کرکے جاچکے تھے۔۔
"ہائے میری دھی تو بہت بیمار ہے آچل بیٹھ میرے پاس پتری "۔۔
اسراء کو پر خلوص سی بی اماں بہت اچھی لگیں
"جی آنٹی"۔۔

" اور مجھے آنٹی مت کہو تم میرے پوتے جیسی ہی ہو میرے لئے مجھے بی اماں ہی کہو "۔۔
اسرانے اثبات میں سر ہلایا ۔۔
پھر عشاء کے بعد بی اماں کے ساتھ کھانا کھا کر وہ تھوڑی دیر صوفے پر بیٹھی۔۔
جب اس کو خیال آیا کہ کیا اس گھر میں اور کوئی نہیں ہے بی اماں کے علاوہ مگر اس کو پوچھا مناسب نہ لگا۔ ۔۔
"اچھا بیٹا میں اب سوُ نگی تم اوپرجاوُ وہاں 'پرلی' طرف تمہارا کمر تیارکروا دیا ہے "۔۔۔
"پرلی طرف"؟؟؟؟؟
آسرا کو پرلی کا مطلب سمجھ نہیں آیا وہ رائٹ لیفٹ یا دائیں باِئیں ہی جانتی تھی ۔

ابھی اس نے پوچھنے کے لئے لب وا ہی کیے تھے کہ بی امّاں عشاء کی نماز کیلئے نیت باندھ چکی تھیں۔۔۔
وہ اوپر تو آ گئی مگر اس کو پرلی طرف کا کمرہ نہیں مل رہا تھا ۔۔
"ہوسکتا ہے یہی ہو ایک کمرے کا دروازہ تھوڑا کھلا دیکھ کر اس کو لگا شاید یہ کمراہی اس کے لیے کھولا گیا ہے"۔۔

وہ کمرے کے اندر داخل ہو گئی کمرہ انتہائی خوبصورت انداز میں ڈیکوریٹڈ تھا ۔۔
بیج وائٹ اور ڈارک چاکلیٹی کلر کی تھیم دی گئی تھی پورے کمرے کو۔۔۔
اسرانےپورے کمرے کا جائزہ لینے کے بعد اپنا سامان سائٹ پر رکھا اور عشاء کی نماز کے لئے وضو کرنے چلی گئی ۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷

حمدان رات دیر سے گھر پہنچا اور بغیر کسی کو جگائے اپنے کمرے کی طرف بڑھا کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا ۔۔۔
سردیوں کی راتیں ہر سو خاموشی کا راج 
گھڑی کی ٹک ٹک کی کی آواز پورے ماحول میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی ۔۔۔

اس نے لائٹ ان کی پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا ۔۔
اسی وقت اسراء واش روم سے باہر نکلی۔
حمر ان کو کمرے میں پاکر اس کی آنکھیں خوف کی زیادتی سے پھٹی پڑھ رہی تھیں۔ ۔۔۔
حمدان اپنی گھڑی اتار کے جیسے ہی مڑہ اسراء کو اپنے کمرے میں رات کے اس پہر بیچ ودبیچ استادہ یکھ کے حیران رہ گیا ۔۔
اسرا ہاف سلیو کی شارٹ شرٹ اور ڈھیلا ڈھالا ٹراوزر پہنے ہوئے تھی۔۔
حمدان ان کی نظریں یکلخت اسراء کے و جود کے نشیب و فراز میں الجھ کر رہ گئیں۔۔
حمران کو سامنے دیکھ کر اسرا شرم اور سراسیمگی سے اپنا دوپٹہ ادھر ادھر تلاشنے لگی۔۔
🌷🌷🌷🌷
بشر اور حجاب دبئ پہنچ چکے تھے اور آب اپنے 
ہوٹل شیرٹن 0۔4 بر دبئی میں تھے ۔۔

"تم فریش ہو لو جب تک میں کھانے کا آرڈر کرتا ہوں"۔۔ 
بشر نے حجاب کو کہا جو محض دو گھنٹے کے سفر سے ہی تھک چکی تھی ۔۔

اور اب صوفے پر سر ٹکا ئے آنکھیں موندے نیم دراز تھی ۔۔۔
"آج 7 بجے میری ایک کلائنٹ سے میٹنگ ہے اس کے بعد رات میں ڈیرہ دبئی کی طرف چلیں گے"۔۔۔
بشر نے پروگرام بتایا ۔۔
ا" بھی ریسٹ کرنا ہے تو کر لو رات میں پھر مجھے مت کہنا کہ میں نے تھکا دیا "۔۔

وہ زو معنی لہجے میں بولا ۔۔
بشر پہ پھر سے شوخی سوار ہو رہی تھی ۔۔
"ہاں ویسے بھی آپ کے منہ ہی کون لگنا چاہتا ہے "؟؟؟؟
حجاب سوٹ کیس میں سے کپڑے نکالتے ہوئے بولی۔۔۔
"تم منہ لگنا نہیں چاہتی تو کیا ہوا مجھے تو لگنے دو اپنے منہ"۔۔ 
بشر مزید پٹری سے اترا ۔۔۔

حجاب بھی اب پہلے جیسی کوئی اتنی کمسن نہیں رہی تھی ۔۔
بشر کے ساتھ رہے کے کچھ کچھ اس کی اور اپنے درمیان رشتے کے تقاضوں کو سمجھنے لگی تھی ۔۔۔
بشر کی قربت اور اسکا لمس اسے بہت کچھ سمجھا چکا تھا اور وہ خود بھی بشر کے بارے میں اکثر سوچنے لگی تھی۔۔۔
اسرااوربشر کو اتنا قریب دیکھ کے وہ اپنے کمرے میں آئ اور اپنی دوست آریج کو فون کرکے دل ہلکا کیا ۔۔۔
اریج نے بہت چاہا اس کے دل سے بشر کے لئے آی بدگمانی اور شک کی دیوار کو مٹانا ۔۔
مگر حجاب کی اپنی ہی منتقیں تھیں۔۔
اریج نے ہر ممکن کوشش کی حجاب کو اس کے اور بشر کے رشتے کے اتارچڑھاؤ اور باریکیاں سمجھانے کی ۔۔
"حجاب تم اپنی حرکتوں سے اپنے شوہر 
کو خود اس مقام پر لے کر آؤں گی"۔۔۔۔

" اگر وہ اس بارے میں سوچ بھی نہیں رہا ہو گا تو تمہاری حرکتوں سے عاجز آ کر وہ ضرور اس قسم کی روش اختیار کر سکتا ہے" ۔۔
"یہ بھی تو ہوسکتا ہے وہ اس کو ایز آ سسٹر ڈیل کر رہا ہوں "۔۔
"تمہاری انہی حرکتوں سے وہ تم سے بدظن ہو جائےگا" ۔

آریج نہیں چاہتی تھی کہ حجاب کا کسی بھی طریقے سے گھر خراب ہو یا اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان ناچاقی پیدا ہو۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ حجاب کو اس کی باتیں سمجھ ائیں یا نہیں مگر وہ حجاب کو لیکر خود بہت پریشان ہو چکی تھی ۔۔۔
حجاب ایک تیکھی نظر بشر پہ ڈال کر اپنے کپڑے باہر ہولڈر پہ ٹانگ کے ٹاؤل لیے شاور لینے چلی گئی۔۔۔
"چل بشر اب لگ جاکام سے"۔۔

" اب تیرے جسم پے لگائی ہوئی مرچوں کے ایک ایک ذرے کو برف میں بدلنے کا ٹائم ہو چکا ہے" ۔۔
پشر تیزی سے اٹھا اور حجاب کے لٹکا ئے ہوئے سوٹ کو اپنے پاس بیڈ پہ رکھ کر وہیں دراز ہو گیا ۔۔۔
ٹی وی چلا کر ایکشن مووی کا چینل لگا کر ریموٹ سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔
مووی ابھی شروع ہی ہوئی تھی وہ انہماک سے مووی دیکھنے میں مشغول ہو گیا ۔۔
"اب بن بتوڑی میرے دل جگر پھیپڑے سب کو ٹھنڈک ملے گی "۔۔
اج بھری محفل میں کوئی بد نام ہو گا 
بشر مسکراتے ہوئے گنگنانے لگا ۔۔
🌷🌷🌷🌷🌷

جاری ہے۔۔۔۔💕
۔.

0 comments:

Post a Comment