tu kitni masoom hai episode 8 by aymen nauman
کے اتنے قریب تھا کہ حجاب اس کی دھڑکنیں تک
محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔
" تو میں کچھ مدد کر سکتا ہوں "
؟؟؟؟
"ج۔۔ جج۔۔۔ نہیں مجھے چھوڑیے میں نے تیار ہونا ہے"۔۔
حجاب کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا وہ اب باقاعدہ کانپ رہی تھی ۔
"اف یہ لڑکی میری اتنی سی قربت نہیں سہ پاتی"۔۔۔
بشر منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا ۔۔۔۔
مسکراکر اپنے سر پہ ہاتھ پھیرتا ہے۔۔۔
حجاب کےماتھے پے اپنی محبت کی نشانی ثبت کرکے اس کو بہت آہستہ سے اپنی گرفت سے آزاد کردیتا ہے۔۔۔۔
" میں نے نہیں پہننی یہ ساری"۔۔۔
حجاب کو اس کی قربت بوکھلا دیتی تھی۔۔۔
" اچھا بس اب رونا بند کرو میں یوٹیوب لگا رہا ہوں"۔۔۔
" اس پر دیکھ کر باندھ لیں گے "۔۔۔۔
"ہیں آپ کیسے بنوائیں گے"۔۔۔
حجاب کا منہ کھلا رہ گیا حیرانی سے۔۔۔
"کیو ں اس کام کو کرنے کیلئے کیا سرٹیفیکٹ حاصل کرنا پڑتا ہے۔
" آپ کا کام تو بس مجھ سے لڑنا اور غصہ کرنا ہے"۔۔۔۔
حجاب نے منہ بسوڑا۔۔۔
" اچھا"۔۔۔۔
بشر اب خود کو تھوڑا سیریس ظاہر کرکے بولا۔۔
"تو اور نہیں تو کیا آپ کو اور آتا ہی کیا ہے "۔۔۔
حجاب اب اپنی ٹون میں واپس آچکی تھی ۔۔۔
"آتا تو بہت کچھ ہے مائ ڈیئر وائف اگر املاً بتاؤں تو تم پھر رو دوں گی"۔۔
" ایک تو یہ آپ کی باتیں میرے سر پر سے گزر جاتی ہیں"۔۔۔
حجاب جھنجلائی۔۔
" اچھا چلو ابھی تو تیار ہو پھر کبھی اگر تم نے موقع فر اہم کیا تو اپنی تمام باتیں بڑی فرصت سے سمجھاؤں گا بھی اور عمل کرکے بھی دکھاؤں گا"۔۔۔
بشر نے ساڑھی زمین سے اٹھا کر کہا ۔۔۔
"ٹھیک ہے بھئی سمجھا دئے گا۔ ابھی پلیز یہ ساڑھی میں میری ہیلپ کریں"۔۔۔
بشر نے اپنے تمام جذبات پہ لوہے کی زنجیر سے لاک لگا کراس دشمنِ جاں کی ساڑھی یوٹیوب سے دیکھ دیکھ کر باندھ ہی دی آخر۔۔۔
" میں دنیا کا پہلا مرد ہو نگا جو اس طرح اپنی بیوی کی ساڑھی باندھ رہا ہے"۔ ۔۔
بشر نے جل کے سوچا۔ ۔
ایک گھنٹے کی کھینچم تانی کے بعد جیسے تیسے مشن سکسیس فل ہوا۔۔ ساڑھی بند ھ ہی گئی۔۔
بشر صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا۔۔
" بس حجاب اب جلدی کرو"۔۔
میک اپ نہیں کرو اور بال کھلے چھوڑ دو"۔۔
بشر نے حجاب کو آئ شیڈ لگاتے دیکھ فوراً ٹوکا۔۔۔۔۔
"
"ارے مگر "۔
"نہیں بس یہ بہت ہے"۔۔
" ایسے ہی محترمہ آفت ڈھا ر ہی ہیں" ۔۔۔
بشر بڑبڑایا ۔۔
حجاب نے وائٹ بلاؤز کے ساتھ پلین شیفون کی ساڑھی کا انتخاب کیا تھا ۔۔۔
بشر کی جلدی جلدی پر اس نے ریڈ لپ اسٹک ہی لگائی اور آئی لائنر لگا کر بال پشت پہ کھلے چھوڑ دیے۔۔۔۔
بشر حجاب کو دیکھ کر اپنے ضبط کو داد دیئے بغیر نہ رہ سکا۔۔۔
" چلیں"۔۔۔
حجاب نے جلدی سے سینڈلز پہنیں اور ہینڈ کلچ لے کر کمرے سے باہر نکل گئ۔ ۔۔
💗💗💗💗💗
وہ لوگ علی کے فنکشن میں پہنچ چکے تھے...
علی اور ثناء( علی کی وائف) نے دونوں کو بہت گرم جوشی سے ویلکم کیا۔۔۔۔
سناءنے تھوڑی ہی دیر میں حجاب کو ایک دوست کی طرح خود سے گھلاملالیا۔۔۔
آج حجاب بشر کو بہت حیران کر رہی تھی لگی ہی نہ رہا تھا کہ یہ وہی آفت ہے جو گھر میں تہلکہ مچا کر رکھتی ہے۔۔
حجاب سلیقے سے سب سے مل رہی تھی ۔ ۔
ٹہر،ٹہر کر سب سےسلیقے سے گفتگو کرتی۔
بشر کو حیرانیوں کے سمندر میں دھکیل رہی تھی۔۔ ۔
"اوئے کیا بات ہے ارادے کیا ہیں جناب کے "۔۔
علی نے سیٹی بجاتے ہوئے بشر کو چھیڑا۔۔۔۔۔
وہ بہت دیر سے بشر کو نوٹ کر رہا تھا وہ بات تو اس سے کرہا تھا مگر بشر کی نظریں بار بار حجاب کی طرف بھٹک رہیں تھیں۔ ۔۔۔
"نہیں کچھ نہیں"۔۔۔
بشر نے مکہ بناکر علی کے شولڈر پر رسید کیا۔۔ ۔
" لگتا ہے آج مو وف دل ہار بیٹھے ہیں "۔
توچپ ہوتا ہے یا میں سناء کو شادی کے پہلے والے افیئرز کا بتاو تیرے"۔۔۔
بشر کی دھمکی کارگر ثابت ہوئی اور علی نے مسکراتے ہوئے ہاتھ جوڑ دیئے۔۔۔
" اچھا معاف کردے کیوں شیرنی کے پنجرے میں مجھ ناچیز کو دھکیل رہا ہے؟ ؟؟؟؟؟۔۔
"ادھر آ تجھے کسی سے ملواؤں گا"۔
"کس سے بتا تو"۔۔۔
" ابھی پتا چل جائے گا"۔۔
علی اس کو کھینچتا ہوا حال کی اینٹرنس پہ لے آیا۔۔۔
" اب تو بھی مل دیکھ میں کوئی بھی سرپرائز فضول نہیں دیتا ۔۔۔
بشر حمدان کو اتنے عر صے بعد دیکھ سرپرائز ہو گیا۔ ۔
"دانی تو بے غیرت کہاں غائب ہو گیا تھا ؟؟؟"۔۔
بشر نے حمدان کو دیکھ کر فوراً عزت افزائی شروع کردی اس کی ۔۔۔
"ارے ارے نہ سلام نہ دعا بس ملتے ہی لعنتیا ں شروع کردیں تو نے دینی "۔۔۔۔۔
"تو نہیں سدھرے گا۔" ۔۔۔
حمدان نے آگے بڑھ کر بشر کو گلے لگایا ۔۔۔
وہ لوگ پورے چھ سال بعد ایک دوسرے سے مل رہے تھے ۔۔۔
"ویسے تو یہ بتائے گا کہ تو اتنے عرصے مرا کہا تھا"۔۔۔
بشر حمدان کو بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔۔
"یار پہلے اسپیشلائزیشن کے لئے ملک سے باہر چلا گیا تھا" ۔
"تجھے اتنی دفعہ کال بھی کی"۔۔
بشر بولا۔ ۔
۔سم چینج کرنی پڑی اس لیے کہ ایک حسینہ تیرے دوست سے شدید قسم کی محبت میں گرفتار ہو گئی تھی وہ الگ بات ہے کہ مابدولت نے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور نمبر ہی بدل ڈالا"۔۔
حمدان نے بشر کے کندھے پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔۔۔
البتہ علی ایکسکیوز کر کے چلا گیا کسی گیسٹ کو رسیو کرنے۔۔۔۔
" چل سم کا تو سمجھا آگیا"۔۔۔۔
گھر تو آ سکتا تھا نہ"۔
بشر نے مزید لتاڑا ۔۔
" بیٹاسم میں نے بدلی مگر گھر تو نے بدلہ تھا "۔۔
حمدان نے تیوری چڑھا کر کہا ۔۔۔
"مطلب تو گیا تھا پہلے والے گھر؟؟"۔۔۔
" جی جناب اور وہاں جا کر پتہ چلا کہ آپ لوگ شفٹ ہوگئے ہیں" ۔۔
"چل یہ سب چھوڑ بچے کہاں ہے لایاہے یا نہیں"۔۔/
بشر نے پوچھا۔۔۔
" بیوی اور بچے ہا۔ ۔ہا۔ ۔ہا" ۔۔
"ابھی بی وی کابو نہیں آرہی اورتو بچوں کی بات کررہا ہے "۔۔۔۔
حمدان مصنوعی بے بسی چہرے پر تاری کی ۔۔۔۔،"
مطلب؟؟؟
بشر نہ سمجھی سے بولا۔ ۔۔
" یہ کہ ہماری زوجہ محترمہ رخصتی کے لیے تیار نہیں ہیں" ۔۔
" اور جب تک رخصتی نہیں ہو گی تو بچے کیسے ہوسکتے ہیں""۔۔۔
" خیر میرا چھوڑ تو بتا کہاں ہیں آج کل شادی کی یا ویلا ہی گھوم رہا ہے؟؟"۔۔۔
حمدان نے موضوع تبدیل کیا ۔۔۔
"شادی ہوچکی ہے میری 20 دن پہلے "۔۔
بشر نے بتایا ۔۔
"بہت مبارک ہو مگر میرے بغیر ہی "۔۔
"یار ایک تو تیرا اتا پتا نہیں تھا اوپر سے میری شادی بھی بہت ہنگامی حالات میں قرار پائی تھی "۔۔"
"مطلب میں کچھ سمجھا نہیں"۔۔
حمدان نیں کہا ۔۔۔
" بشر آپ یہاں ہیں میں کتنی دیر سے آپ کو ڈھونڈ رہی ہوں"۔۔
حجاب بشر کو ڈھونڈتی ہوئ آئ۔ ۔۔
" سلام علیکم"۔۔۔
حجاب نیں جھٹ سلام کیا۔ ۔
بشر کےبرابر میں کھڑے ہمدان کو۔۔۔
"وعلیکم سلام "۔۔
بشر یہ ؟؟۔۔
حمدان نے کچھ بھی بولنے سے پہلے تعرف چاہا۔۔
"یہ حجاب ہے میری وائف"۔۔
" اور حجاب یہ حمدان عرف دانی میرے بچپن کا دوست"۔۔
"نائس ٹو میٹ یو"۔۔
حجاب نے کر ٹیسی نبھائی۔۔۔
"نائس ٹو میٹ یو ٹو بھابی"۔
ہمدان کو چھوٹی سی معصوم سی حجاب بشر کی لائف پارٹنر کے طور پہ بہت پسند آئی۔۔
بشر تو آج حیران ہی ہو رہا تھا حجاب کے طور طریقے دیکھ کر لوگوں سے علیک سلیک اور دھیمی آواز میں سب کو اچھے طریقے سے ملتی کہیں سے بھی وہ بشر کی" بن بتوڑی" نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔
💕💕💕💕💕💕
"اف آج تو بہت تھک گئی"۔۔۔
حجاب سالگرہ سے گھر آکر اپنی وارڈروب کھول کے کھڑی رات کے لئے کپڑے نکال رہی تھی۔۔
جب بشر کمرے میں آیا اور حجاب کو اپنی وار ڈروب میں گھسے دیکھ کر ایک شیطانی سی مسکراہٹ بشر کے لبوں پہ آ کر معدوم ہو گئی ۔۔۔
"اب آئے گا مزا بن بتوڑی "۔۔
جبکہ حجاب اپنے کپڑے لے کر ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئ ابھی حجاب کو اندر گئے پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے تھے جب ایک زور دار چیخ کی آواز کے ساتھ ڈریسنگ روم کا دروازہ کھول کر وہ چنگھاڑتی ہوئی نمودار ہوئ۔۔۔
" کس نے کیا ہے یہ؟ ؟؟؟؟"
وہ اپنی شرٹ ٹراوزر آگے کر کے بولی۔۔۔
"اللہ یہ بھی"۔۔
حجاب نے دوسرا ڈریس نکالا پھر ایک کے بعد دوسرا سب کے حالت ایک سی ہی تھی ۔۔۔
وہ صدمے سے بولی ۔۔۔
"مجھے پتہ ہے یہ سب آپ نے ہی کیا ہے"۔۔۔
حجاب باقاعدہ بشر کی طرف بڑھی وہ ابہی تک ساڑھی میں ہی تھی ۔۔۔
"کیوں میں کیوں کرنے لگا؟؟"۔
بشر نے ابرو اچکا کر کہا ۔۔
"اس لیے کیوں کہ آپ نے مجھ سے بدلہ لیا ہے میں نے آپ کے کپڑوں کو جو خراب کیا تھا"۔۔۔
وہ بیڈ پر بیٹھے بشر کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔
جب بشر سے چند قدم کے فاصلے پر اس کا پیر اپنی ہی ساڑھی میں الجھا اور وہ اوندھی بشر کے اوپر گر پڑی۔۔۔
" محترمہ اتنا ہی قریب آنے کا شوق ہے تو مجھ سے کہہ دیا ہوتا"۔۔۔۔
بشر نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر دیے۔۔۔۔
" چھوڑئے مجھے "۔
حجاب نے بشر کی سانسیں اپنے چہرے کو جھلسا تی محسوس کیں۔ ۔۔۔
" اور اگر نہ چھوڑوں تو"؟؟؟؟۔
بشر نے ایک ہاتھ اس کی کمر پر جب کہ دوسرا اس کے بالوں میں نرمی سے پھیر رہا تھا۔۔۔
اور پھر آہستہ سے وہ حجاب کو اپنے چہرے کے اوپر جھکا لیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"اوآوچچچچچ "۔
بشر نے حجاب کو ایک جھٹکے سے خود سے دور کیا حجاب نیں گھبرا کر بشر کے کان پر اپنے دانت گھاڑھ دیئے تھے۔۔۔
بشر اپنا سرخ کان پکڑ کر تلملا کر رہے گیا۔۔۔
حجاب موقع کا فائدہ اٹھا کر ڈریسنگ روم میں بند ہو گئی۔۔۔
" جنگلی بلی نہ ہوتو"۔۔
بشر بڑھایا"۔۔
" میں بھی دیکھتا ہوں کب تک مجھ سے دامن بچا ؤ گئی"؟؟؟؟۔۔
بشر کے لبوں پر بڑی دلفریب مسکراہٹ تھی۔۔۔
" اب منزل دور نہیں "
وہ اچھی طرح حجاب کی بدلتی ہوئی کیفیات نوٹ کر رہا تھا یہی وجہ تھی جو وہ اس کو ٹائم دے رہا تھا۔۔۔
اب اس کے دل میں ایک خواہش ابھر رہی تھی کہ حجاب خود اس کی طرف بڑھے پہلے کی بات اور تھی جب وہ اپنے اور بشر کے رشتے اور حقوق نہیں سمجھتی تھی مگر اب وہ اس میں بہت کچھ تبدیلیاں دیکھ رہا تھا وہ بھی ایک محبت کرنے والا دل رکھتا تھا اور محبت کا جواب محبت سے ہی چاہتا تھا مگر اب حجاب کی دوری وہ زیادہ دن نہیں سہہ پائے گا یہ وہ بہت اچھے سے سمجھ رہا تھا۔ ۔۔
💓💓💓💓💓💓
جاری ہے ۔۔۔۔💕

0 comments:
Post a Comment