tu kitni masoom hai episode 7 by aymen nauman
ڈرائنگ روم میں صرف چار نفوس موجود تھے کمرے میں موت جیسا سناٹا طاری تھا ۔۔۔۔
اپنی خالہ کو دیکھ کر آسرا کے رونے میں مزید روانی آ گئی ۔۔۔
آج وہ اپنی زندگی میں پہلی دفعہاپنے کسی ننھیالی رشتے کو دیکھ اور محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
خالہ کا بھی بالکل اسراء آجیسا ہی حال تھا ۔۔۔
وہ رات دن اپنی بہن کے بارے میں سوچتی کہ کہاں ہوگی، کیسی ہوگی، کس حال میں ہو گی ؟۔۔
انہوں نے کئی دفعہ حویلی بھی فون کیا مگر ایک ہی جواب ہمیشہ موصول ہوتا کہ یہاں کوئی قدسیہ بیگم نہیں رہتیں اور فون بند کردیا جاتا بغیر کوئی بات سنی اور کہے ۔۔۔
وہ اپنی بہن کی آخری نشانی کو آج پہلی دفعہ دیکھ رہی تھیں۔ ۔۔
خالہ کی جیسے ہی آسرا پر نظر پڑی وہ ان کو قدسیہ ہی کی پرچھائیں لگی ۔۔۔
اسراء بالکل اپنی ماں کی شکل تھی ۔۔
خالا نے آگے بڑھ کر اسرا کو خود میں ایک ماں کی طرح چھپا لیا ۔۔۔۔
جیسے انہوں نے روتی ہوئی قدسیہ کو اپنے گلے لگا لیا ہو ۔۔۔
خالو بھی آبدیدہ ہوگئے ۔۔
انہوں نے ہاتھ آگے بڑھ کر اسراکے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا۔۔۔
"بیٹا جس کا جتنا وقت مقرر ہے اس کی سانسیں اتنی ہی دیر چل سکتی ہیں"۔۔۔
انہوں نے اسراکو بہت پیار سے سمجھایا ۔۔۔
ہم بس انسان صبر ہی کر سکتے ہیں اپنے پیاروں کو یاد کر کے ۔۔
خالوا سرا کو گلے سے لگائے سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔
اسراء کو ایسا لگا جیسے اس کے باپ نے آج پہلی دفعہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ہو ۔۔۔
"اچھا اب آپ لوگوں کی امانت آپ کے پاس ہے مجھے اب اجازت دیں "۔۔۔
ماحول میں تاری سناٹے کو خالدہ انٹی( پڑوسی) کی آواز نے توڑا ۔۔۔
خالہ ان کی آواز سن کر چونکی اور پھر کہنے لگیں ۔۔
"آپ کا بہت بہت شکریہ اس مشکل وقت میں آپ نے ہماری بچی کو تنہا نہیں چھوڑا "۔۔۔
"شکریہ کیسا اسرار جب سات سال کی تھیں تو کچھ سیاہ اس کو یہاں لے کر آئی تھی ۔۔
یہ میرے لئے بالکل میری بیٹی کی ہی طرح ہے "۔۔
خالدہ آنٹی نے اپنے آنسو پونچھ کر کہا ۔۔۔
خالا ان کی دل سے مشکور ہوئیں۔ ۔۔
"اللہ آپ کو جزا دے "
خالہ نے دل سے کہا ۔۔۔
"آپ لوگ کب تک ہیں یہاں ؟"
خالدہ نے دریافت کیا ۔۔۔
"بس بہن ہم کل صبح واپس چلے جائیں گے "۔۔
خالو نے کہا ۔۔
"اچھا آسرا بیٹا میں کل صبح آوگی تمہارے جانے سے پہلے تم سے ملنے پتہ نہیں پھر کب ملاقات ہو سکے گی"۔ ۔
خالدہ نرم لہجے میں بولیں۔۔۔
"جی آنٹی "۔۔۔
اسراء روتے ہوئے ان کے گلے سے لگ گئی ۔۔۔۔
"اللہ تمہیں صبر دے میری بچی اپنا بہت خیال رکھنا اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو "۔۔۔
اور پھر خالدہ اسرا کے سر پہ ہاتھ رکھ کر دعائیں دے کےخدا حافظ کہہ کر چلیں گئی سب کو ۔۔
۔
"چلئے اب آپ دونوں بھی رونا بند کریں اور مرحومہ کے ایصال ثواب کے لئے قران پاک پڑھیں ۔۔۔
خالہ اسر کو لے کر وضو کرنے چلی گئیں۔ ۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💕
پخ۔ ۔۔۔پخ۔ ۔۔پخ۔ ۔۔
بشر ماما بابا کو چھوڑ کر ایئرپورٹ سے گھر واپس آیا ہی تھاجب لان سے گزرتے وقت بشرکی نظر حجاب پہ پڑھی۔۔۔
بشر کا دماغ گھوم گیا حجاب کو دیکھ کے ۔۔ ۔ ۔
تمام بطخیں اور مور پورے لان میں" ڈسکو ڈانس" کرنے میں مصروف تھے ۔۔
جب کہ وہ بن بتوڑی کبھی ایک کو پنجرے میں بند کرتی تو دوسرا باہر نکل آتا دوسروں کو تو پہلا واپس باہر کود آتا ۔۔۔
البتہ مور اپنے پر کھولے بڑے مزے سے ڈانس کرنے میں مصروف تھے دونوں ۔۔۔
"ارے رکوع کو جلدی جلدی اپنے گھر میں چلی جاؤ تم سب" ۔
حجاب غصے سے لال پیلی ہوتی ان کے پیچھے بھاگ رہی تھی ۔۔۔
"اگر ہٹلر آگیا تو میرے ساتھ ساتھ تم لوگوں کو بھی بے گھر ہونا پڑے گا "۔
اب وہ بطخوں کو چھوڑ پہلے موروں کو بند کرنے ان کی طرف بھاگی ۔۔۔۔
"ہائے اللہ جی آج تو ماما بابا بھی نہیں ہے کون بچائے گا مجھ پہ جاری کو "۔۔۔
وہ اب زور زور سے بولتی جا رہی تھی اور ساتھ ساتھ بطخوں اور موروں کو پکڑنے کی بھی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔
یہ جانے بغیر کے بشر اس کی تمام حرکات کو ملاحظہ کر رہا ہے ۔۔۔
بشر کو حجاب کیوں پر اس لئے غصہ تھا کہ یہ بطخیں کافی خطرناک تھیں۔۔
دو ایک دفعہ کھولنے پر مالی بابا کو بھی کاٹ چکی تھیں۔۔۔
"حجاب"۔۔۔
بشر کی کاٹ دار آواز نکلی۔ ۔۔
حجاب نیں آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھا تو ہٹلرکو دیکھ کر اچھل ہی پڑھی۔۔۔
"کس خوشی میں ان کو کھولا ہے پتہ بھی ہے تمہیں یہ کتنی خطرناک ہیں؟"۔ ۔۔
"میری بال اندر چلی گئی تھی پنجرے میں وہی نکالنے کے لئے پنجرے کا دروازہ کھولا تھا اور یہ سب بہار "۔۔۔
"سوال ہی نہیں پیدا ہوتا لا ک بہت مضبوط ہے پنجرے کا کھل ہی نہیں سکتا "۔۔
حجام نے چیونگم چباتے ہوئے کہا ۔۔
"جی۔۔ جی لاک تو بہت مضبوط ہے اگر لگایا جائے تو"۔۔۔۔
اور یہ کہتے ہی زور سے اندر جانے کے لیےقدم بڑھایا ۔۔۔
وہ جلدازجلد لان سے بھاگنا چاہ رہی تھی بشیر کے عتاب کو جو آواز دے چکی تھی اس لیے بھاگنہ ہی اس کو سب سے بہترین آپشن لگا ۔۔۔
اورجیسے ہی اس نے بھاگنے کیلئے پہلا قدم بڑھایا
پیر کے آگے پڑھی کر مچ کی بال تیزی سے اڑ ھ کر بشر کے ماتھے پر پیار بھری "پپی "دے گئ۔ ۔۔
وہ اپنا سر تھام کر وہیں زمین پر بیٹھ گیا ۔۔۔
حجاب کے تو یہ دیکھ کر ہاتھ پیر ہی بھول گئے ۔۔۔
"اوئے تیری مارے گی آج تو "
پنجاب نیں اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کے کہا۔ ۔۔
"آج نہیں چھوڑوں گا میں تمہیں تم نے اپنی شامت کو خود آواز دی ہے"۔۔۔
بشر اپنا سر پکڑےغصے سے دھاڑا۔ ۔۔
"اور میں بھی دیکھتی ہوں آپ مجھے کیسے پکڑتے ہیں "۔۔
تجارت میں زبان چڑائی اور ٹھنگا بھی دکھایا ۔۔۔
حجاب بھی اپنے نام کی تھی وہ بس تنہائی کی وجہ سے کمرے کی حد تک ہی بشر سے کنفیوزڈ ہوتی تھی۔۔۔
ورنہ تو پورے گھر میں وہ شیرنی بن کر گھومتی تھی ۔۔۔
وہ اب چھلانگ لگا کر اندر غائب ہو چکی تھی۔ ۔۔
حجاب نیں اب پورا دن ماما کے کمرے میں بند رہنا تھا ۔۔۔
وہ دل ہی دل میں تہیہ کر چکی تھی کہ وہ اب رات میں صرف برتھ ڈے میں جانے کے لئے تیار ہونے ہی نکلے گی بس۔ ۔۔
یہ بھی مجبوری تھی کیونکہ اس کو تیار اپنے کمرے میں ہی ہونا تھا ۔۔۔۔
💖💖💖💖💖💖💖
"حمدان بیٹا پس عقل کی ٹکٹ کنفرم کرالو"۔۔
"جی بابا میں آج ہی کی کرا لیتا جو اگر مجھے آج ایک دوست کی طرف بہت ضروری نا جانا ہوتا "۔۔۔
"چلو خیر ہے بس کل کی یاد سے کروا لینا "۔۔
"نہ جانے کیوں اندر سے میرا دل گھبرا رہا ہے جسے کچھ ہو چکا ہو یا کچھ ہونے والا ہو"۔ ۔۔
بابا لیتٹے ہوئے حمدان سے اپنی دوا اور پانی کا گلاس لیتے ہوئے بولے ۔۔۔
حمدان اور بابا کراچی آئے ہوئے تھے ایک اہم ڈیل فائنل کرنا تھی جو وہ اکیلے نہیں کرسکتا تھا بابا کی موجودگی بہت ضروری تھی ۔۔۔
"بیٹا میں نے تمھاری بات پر غور کیا ہے "۔۔
"کس بات پہ بابا ؟"۔۔۔
وہ یہی سمجھا کہ شاید آج کی ڈیل کے حوالے سے کوئی اہم بات ہو ۔۔
وہ بابا کے بیڈ کے پاس چیئر گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔۔
"بیٹا تم نے جو رخصتی کی بات کی تھی اسی سلسلے میں "۔۔
"اگرم تمہاری ماما پیرالائز نہ ہوتیں تو وہ خود بھر جائی سے جا کے سارے معاملات طے کرتیں"۔ ۔
"ماضی میں دونوں کی بہت اچھی دوستی رہی ہے"۔۔
"جی اگر آپ کہیں تو میں کل اسلام آباد پہنچ کر اماں کو لے آؤں پہلے؟ "۔۔۔
"نہیں بیٹا میں ابھی تمہاری دادی کے علم میں کوئی بات نہیں آنا چاہتا "۔۔۔
"ٹھیک بابا جیسا آپ بہتر سمجھیں"۔ ۔۔۔
بابا کوشش کیجئے گا چاچی کو بھی ساتھ ہی حویلی جانے کے لئے راضی کر لیں"۔ ۔۔
"میں ان کو بھی وہاں تنہا نہیں چھوڑنا چاہتا ہوں"۔
۔۔
"وہ اس گھر میں اسرا کے بعد بالکل تنہا ہو جائیں گی" ۔۔۔
"نہیں ابھی تو مصرع کو لے کر حویلی نہیں پاؤ گے "۔۔
"بلکہ یہیں اس گھر میں بھرجائی اور اسراء کے ساتھ کچھ اور عرصہ رہوگے"۔۔
بابا کراچی میں قائم اپنے اسی بنگلے کی بات کر رہے تھے جس میں وہ لوگ ابھی ٹھیرےہوئے تھے ۔۔۔
"جی بابا جیسا آپ بہتر سمجھیں "۔۔
"اس دوران میں کچھ باتیں تمہاری دادی سے ایک ہی دفعہ کر کے ختم کر دینا چاہتا ہوں"۔۔۔
"بہتر بابا یہاں کراچی میں میرے کچھ دوست بھی رہائش پذیر ہیں آس پاس ہی چاچی اور اسرا کو تنہا شہر میں رہنا نہیں پڑے گا" ۔۔
💓💓💓💓💓💓
"حسین بچپن میرا اس گھر میں گزرا ہے "۔۔
"ادھر میری ماں کے ساتھ میری پیاری پیاری یادیں وابستہ ہیں "۔۔۔
"اور آج اسی گھر میں میری آخری رات بھی ہے "۔۔
اسراء ماما کے کمرے کی ایک ایک چیز کو جو چھو کر دیکھ رہی تھی ۔۔۔
ماما کی ہر ہر چیز کی خوشبو وہ اپنے اندر بسا رہی تھی ۔۔۔
"ماما آپ مجھے کیوں تنہا کر گئیں؟ "۔۔۔
"ماما لوٹ آئیں نہ واپس "۔۔۔
"دیکھیں آپ کی آسرا آپ کو بلا رہی ہے رو رہی ہے فریاد کر رہی ہے "۔۔۔
اسرا فرش پہ بیٹھی اپنی ماں کو یاد کر کے زاروقطار رو رہی تھی۔۔۔
"حمدان شاہ اگر میرے سر پہ تمہارے نام کی تلوار نہ لٹک رہی ہوتی تو میں کبھی بھی اپنا گھر اور یہ شہر چھوڑ کر نہ جاتی ۔۔
یہاں میری ماں کی خوشبو بستی ہے۔۔۔
میرا بچپن بچپن بستہ ہے ۔۔۔
مگر میں اپنی ماں کی طرح ایک اور قدسیہ نہیں بن سکتی ۔۔۔
تم وڈیرے لوگ عورت کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتے ہو میں کبھی بھی خود کو تمہاری فرسودہ روایات کی بھینٹ نہیں چڑھنے دونگی۔۔۔
اور اگر میں ان کی لیتی ہوں اس رشتے کو تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ تمہاری ماں یا دادی یا تو خود بھی ۔۔۔
اگر میری بھی اولاد پہلی بیٹی ہوئی تو اگر میرے ساتھ بھی تم لوگوں نے وہی کیا جو میری ماں
نے پوری زندگی جھیلا تو میں اپنی اولاد کے آگے کیا منہ دکھاؤں گی؟؟؟؟
کہ میں نے بھی ایک اور آسرا پیدا کی ہے۔۔۔
نہیں نہیں میں اسے ہرگز بھی نہیں ہونے دوں گی ۔۔۔
وہ اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر چلائی ۔۔
اس رشتے کو ہی حمدان شاہ ختم کر دوں گی میں۔ ۔
صفحہ ہستی سے مٹا دوں گی میں اپنا اور تمہارا یہ رشتہ ۔۔۔
ماما کی الماری سے نکاح نامہ نکالے وہ ہاتھ میں لئے خود سے باتیں کرتی زاروقطار رو رہی تھی ۔۔۔
خالہ کے گھر جانے کی کچھ دن بعد ہی خالو اور خالہ سے اپنے خلع کی بات کرونگی ۔۔
وہ سوچتے اور روتے روتے نہ جانے کب وہیں زمین پر ہی سو گئی ۔۔۔
اور یوں اس طرح بھی اسلام آباد میں اسکی آخری رات بھی آہستہ آہستہ سر دی گئی ۔۔۔
💔💔💔💔💔💔💔💔💔
سمیر کی رہائش ابھی فی الحال فرح کے گھر میں ہی تھی ۔۔۔
فرح کی ماں کا راویہ سمیر کے ساتھ بہت زیادہ اچھا نہیں تھا تو بہت زیادہ برا بھی نہیں تھا ۔۔
وہ رسمی طور پر سمیر کے ساتھ بات چیت کرلیا کرتی تھیں۔۔۔
مگر سمیر کو فرح کے گھر کا ماحول کچھ زیادہ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔
کاشف کا ہر وقت گھر پہ ڈیرہ جمائے رکھنا ۔۔۔
اس پے تضاد فرح کا ہو لیہ اور بے باکی ۔۔۔
سمیر کو اندر ہی اندر بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہی تھی ۔۔۔۔
سمیر کے دل میں خوشی کے بجائے ایک افسردگی سی اپنے پر پھیلا رہی تھی ۔۔۔
فراح نے کئی دفعہ کہا کہ ماما سے بات کرو شادی کی ڈیٹ فکس کریں تاکہ۔۔۔
مگر سمیر ہر دفعہ یہ کہہ کر ٹال رہا تھا کہ ۔۔۔
پہلے میں اپنی رہائش کا بندوبست کر لو ں۔۔۔
اور فرح ہمیشہ یہ سن کر ایز یو وش کہہ کر کندھے اچکا دیتی ۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕💗
[11/14, 11:39 PM] Aymen: "آج میں یہ ساڑھی پہن کر ہی رہوں گی "
حجاب بڑے مزے سے ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی خود سے باتیں کرنے میں مصروف تھی یہ جانے بغیر کہ بشر کمرے میں آ چکا ہے ۔۔۔
" میں کچھ مدد کر سکتا ہوں میں بتاؤ؟
"۔۔۔
"کیونکہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو میدان چھوڑ کر کسی کو تکلیف یا پریشانی میں اکیلا دیکھ کر ایک کمرے میں چوروں کی طرح چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں "۔۔۔
بشر نے دوپہر والی بات پر حجاب پہ چوٹ کی ۔۔۔
حجاب جو کہ یہ سمجھ رہی تھی کہ بشر تیار ہو کے نیچے چلا گیا ہے ۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ خاموشی سے کمرے میں آکر تیار ہو رہی تھی ۔۔۔
کہ بشر کی آواز اتنے قریب سے سن کر ایک دم ڈر کے اچھل ہی پڑھی۔۔۔۔
اس اچانک افتا د پہ حجاب کے ہاتھوں سے ساڑی کا پلو نیچے زمین پر گر گیا ۔۔۔
فل آستین ،گول گہرے گلے والا وائٹ بلاؤز پہنے۔۔
وہ تمام حشر سامانیوں کے ساتھ ۔۔
بشر کے سامنے سراپا امتحان بنی ہوئی تھی ۔۔۔
بشر لمحے بھر کے لیے ساکت سا ہو گیا ۔۔۔
لیکن پھر یاد آیا کہ وہ پہلے ہی بہت لیٹ ہو چکے ہیں مزید دیر علی کے غصے کو اور ہوا دے گی یہ سوچ کر وہ دل مسوس کر رہ گیا ۔۔۔
"جی نہیں سٹر ہٹلر آپ ساڑھی باندھنے کے بجائے کھول ہی دیں گے پوری "۔۔۔
حجاب بےساختگی میں بہت معنی خیز بات کہہ گئی تھی اگر اس کو علم ہوتا کہ وہ کیا کہہ گئی ہے تو وہ یوں اس طرح بشر کے سامنے ایک لمحہ بھی کھڑی نہ رہ پاتی ۔۔۔۔
اس کی نظر نیچے اپنی ساڑھی پر تھی وہ بشر کی آنکھوں میں چمکنے والے حسین رنگ نہیں دیکھ پائی۔۔۔
جو حجاب کی اس ایک بات پر بشر کی آنکھوں میں بھر گئے تھے ۔۔۔
"اچھا محترمہ بہت جان گۓ ہو تم تو اپنی شوہر کو"۔۔۔۔
حجاب جو ساڑھی کا پلو اٹھانے کے لئے نیچے جھک رہی تھی بشر نے اس کو دونوں کندھوں سے تھام کر اپنے سامنے کھڑا کیا ۔۔۔
حجاب ساڑھی کی وجہ سے ویسے ہی بہت جھن جھلا رہی تھی ۔۔۔
اس پے تضاد بشر کی ذومعنی باتیں اس کے سر پر سے گزرتی اس کو مزید کنفیوز کر رہی تھیں۔ ۔۔
پٹیں یہاں سے مجھے تیار ۔۔۔
وہ جیسے ہی بشر کو نظریں اٹھا کر دیکھتی ہے حجاب کو اپنے دل کی دھڑکن مزید تیز ہوتی محسوس ہونے لگتی ہے۔۔۔۔
بشر نے ابھی بھی اس کو مضبوطی سے تھام رکھا تھا ۔۔۔
بشرایک جھٹکے سےحجاب کو خود سے قریب کرتا ہے ۔۔۔
گھبرائی کنفیوز سی حجاب کسی ان چھوئی کلی کی طرح اس کی باہوں میں کھنچی چلی آتی ہے ۔۔۔
وہ اس کے اتنے قریب تھا کہ حجاب اس کی دھڑکنیں تک محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔
" تو میں کچھ مدد کر سکتا ہوں "
؟؟؟؟
"ج۔۔ جج۔۔۔ نہیں مجھے چھوڑیے میں نے تیار ہونا ہے"۔۔
حجاب کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا وہ اب باقاعدہ کانپ رہی تھی ۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓
جاری ہے
"

0 comments:
Post a Comment