tu kitni masoom hai episode 6 by aymen nauman
بشر آج اپنے بچپن کے دوست کے ساتھ بیٹھاریسٹورنٹ میں ڈنر کر رہا تھا بہت عرصے بعد ۔۔۔
علی کافی عرصے بعد اپنی فیملی کے ساتھ مستقل طور پر پاکستان شفٹ ہو گیا تھا ۔۔۔
پاکستان آتے ہی پہلی فرصت میں اس نے بشر کو اپنے یہاں آنے کی خبر سنائی ۔۔۔
"یار میرا تو سب سے انٹریکشن ختم ہونے کے برابر ہو گیا ہے بس ایک تیرے سے تھا دانی کا تو پتہ ہی نہیں وہ کہاں ہے کہاں نہیں ہے ایسا مصروف ہوا وہ اپنی زندگی میں اپنے دوستوں کوہی بھول گیا "۔۔۔
بشر نے کہا۔ ۔۔
"دانی تو یہی ہے میری اکثراس سے بات ہوتی رہی ہے تو ہی بہت بزی ہو گیا ہے"۔۔۔۔
علی کچھ تنک کر بولا ۔۔۔
یار بات یہ نہی ہےبس سب اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئےہیں۔ ۔۔۔
" اس کے تو میرے خیال سے اب تک تو دو تین بچے بھی ہو گئے ہونگے" ۔۔۔۔۔
بشر نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔
"اور بتہ بھابھی کیسی ہیں اور میرا بھتیجا مصطفی کیسا ہے "۔۔۔۔
"ثنا بھی ٹھیک ہے اور مصطفی ماشاءاللہ سے اب اگلے مہینے ایک سال کا ہو جائے گا "۔۔۔۔
مصطفی کے بارے میں بتاتے ہوئے علی کے چہرے پر اتنے پیارے محبت کے رنگ تھے ۔۔۔
بشر نے فوراً "ماشاء اللہ" کہاں ۔۔۔
"تو اس کو لے کے آتا نہ میں ملتا اپنے بھتیجے سے"۔۔۔
بشر کے لہجے میں اشتیاق تھا ۔۔۔
"نہیں میں اس کی برتھ ڈے کروں گا "۔۔۔۔
اورتو نے سب گھروالوں کو بھی لے کے آنا ہے اپنے ساتھ ۔۔۔۔
"کیا ہوا پیناڈول کیوں کھا رہا ہے طبیعت تو ٹھیک ہے نہ تیری "۔۔۔۔
علی نے پریشانی سے پوچھا۔ ۔۔۔
بشر کے سر میں درد اٹھ رہا تھا وہ اپنی پاکٹ میں سے پیناڈول نکال کر کھانے لگا ۔۔۔
"بس علی یہ درد تو اب میری زندگی کا حصہ بن چکا ہے اور پچھلے ایک مہینے میں میری بہترین ساتھی یہ ٹیبلٹ رہی ہے "۔۔۔
بشر ٹھنڈی آہ بھر کے بولا ۔۔۔۔۔۔
"کمینے تیرے اور میرے درمیان یہ اجنبیت کب سے آ گئی بتہ مجھے کیا ہوا ہے"۔۔۔
علی نے جھرکہ اسکو۔ ۔۔
" شادی"۔۔۔۔۔
بشر یہ کہہ کر لب بیھنچ کے رہ گیا۔۔۔۔۔
"اور یہ معرکہ کب سر کیا تو نے اورتو بہت ہی خبیث ہے اپنے لنگوٹیہ یار کو ہی نہیں خبر کی لعنت ہے تجھ پر "۔۔۔
علی نے مصنوعی خفگی سے اسکو جھاڑ پلائی ۔۔۔
بشر نے علی کو گھرا پھر بولا۔ ۔۔۔
" یہ عظیم کارنامہ بس ایک مہینے پہلے ہی سر انجام پایا ہے"۔۔۔۔
"اس کا مطلب ہے بھابھی سے جھڑپ ہوئی ہے تیری"۔۔۔
" شرافت سے پھوٹ کیا ہوا ہے "۔۔۔۔
"مابدولت کا تین سالہ تجربہ ہوسکتا ہے تیری نیا پار لگا دے"۔۔۔۔
علی بھی بخشنے کے موڈ کے موڈ میں نہیں تھا۔ ۔
پھر وہ اپنی پیار بھری زندگی کے ایک ایک خوشگوار لمحے کو علی کے گوش گزارتا ہے ۔۔۔۔
"ہا۔۔۔۔ہا۔۔۔۔۔۔ہا"۔۔۔۔۔
اس کی" ہیپی لی میرڈ لائف" کے بارے میں جان کر علی کا فلک شگاف کہکہ مو صول ہوتا ہے ۔۔۔
"ہنسلے، ہنسلے جتنا ہنسنا ہے ہنس لے "۔۔۔۔۔
بشر اس کے ہنسنے پر برا مان گیا۔۔۔
" یار اپنے ریلیشن کو تھوڑا ٹائم دو"۔۔۔۔۔
اب علی تھوڑا سیریس ہو کر اس کو سمجھاتا ہے"۔۔
علی میں اس کی اوٹ پٹانگ حرکتوں سے عاجز آچکا ہوں فزیکل ریلیشن کی مجھے کوئ اتنی جلدی نہیں ہے مگر میچیورٹی تو ہوتھوڑی" ۔
" یار بشر دیکھ میری ایک بات سن توہ بہت خوش نصیب ہے جو تجھے حجاب جیسی معصوم شریک حیات نصیب ہوئی ہے "۔۔۔۔
"اس دور میں تو لڑکیاں وقت سے پہلے ہی بہت کچھ جان جاتی ہیں اور وہ بہت کچھ انکی معصومیت کو وقت سے پہلے ختم کردیتا ہے۔۔۔۔
علی اس تھوڑی سی بات میں بہت کچھ واضح کر گیا۔ ۔۔۔
"یار مگر علی 16سالہ لڑکی کوئی بچی نہیں ہوتی کہ وہ اس ریلیشن کی اہمیت ہی نہ سمجھ سکے" ۔۔۔۔
"یار مطلب اتنا بچپنا بھی نہیں ہونا چاہیے "۔۔۔۔۔
"دیکھ بشر میری بات بہت غور سے سن او سمجھنے کی کوشش کر "۔۔۔۔
تو نے جیسے تمام حالات مجھے بتائے حجاب کے بارے میں باپ کی شفقت سے وہ بچپن سے ہی محروم رہی ۔۔۔۔رشتے داروں نے بس سلام دعا کی حد تک تعلق رکھا۔ ۔۔
بھائی تھا تو وہ بھی سوتیلا۔۔۔۔
اب جب بڑھی ہوئی محض 15 سال کی تو ماں گزر گئی ۔۔۔۔۔۔
اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ایک ماں اپنی بیٹی کو بہت ساری چیزوں کی اہمیت اور ان کے تقاضے آہستہ آہستہ سمجھآتی ہے ۔۔۔
۔ ۔۔
حجاب کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے اس کی ماں نے اس کو فضولیات سے بچا کر رکھا وقت سے پہلے اس کی معصومیت کو تباہ نہیں ہونے دیا "۔۔۔۔۔
بشر خاموشی سے اس کی تمام گفتگو سن رہا تھا۔۔
علی اس کو خاموش دیکھ کے مزید گویا ہوا۔
"اور پھر جب عقل دینے کا وقت آیا تو ماں اس دنیا سے رخصت ہو گئی"
ہوں بشر نے بس سر ہلایا جیسے اس کی تمام باتیں اس کو اپنے دل پر لگی ہوں۔ ۔۔۔
"علی ایسا نہیں ہے کہ وہ مجھے اچھی نہیں لگتی ہےیا میں کسی اور میں انوولو رہاہوں،
مگر میں ایک میںچور لائف پارٹنر چاہتا تھا ۔"۔
"اچھا چل اب وہ تیری بیوی ہے اور شوہر کے پاس ہزاروں طریقے ہوتے ہیں، تو حجاب کو اپنے رویے سے اپنی محبت سے ، اس خوبصورت رشتے کے تقاضے سمجھا" ۔۔۔۔
"بیوی ہے تیری بہت پیار سے ہنڈل کرنا "
"نہ سمجھ ضرور ہے مگر ہے تو لڑکی ہی اور رہی بات چھوٹی ہونے کی تو جب وہ ایک دفعہ اس خوبورت رشتہ کے تکازےسمجھ جائے گی تو یہ بچپنا بھی نہیں رہے گا ۔۔۔۔
💓💓💓
"انتقال سے کچھ دن پہلے "۔۔۔۔۔۔۔۔
"آؤ ادھر میرے پاس"۔۔۔
قدسیہ بیگم نے اسراء کو پیار سے اپنے پاس بلایا۔ ۔
آج میں تمہیں تمہارے بابا اور اپنے بارے میں بہت ساری باتیں بتائونگی۔ ۔۔۔
"سچی ماما تو پھر جلدی سے بتائیں نا "۔۔۔
آج پہلی بار ماما اس کو خود سے کچھ بتا رہی تھیں
پڑھنا ہو جاتی کبھی پوچھتی تو کچھ یا بیگم کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کے جاتیں،انہوں نے کبھی بھی اس کو اپنے سسرال والوں کے رویے کے بارے میں نہیں بتایا وہ اس کو متنفر نہیں کرنا چاہتی تھیں۔۔۔۔
میں نے تمہارے بابا کےساتھ لو میرج کی تھی اپنے ماں باپ کے خلاف جاکر مگر تمہارے نانا نانی میری ضد کے آگے ہار مان گئے ۔۔۔۔انہوں نے میری شادی خوشی سے میری پسند کردہ جگہ پر گرا دی۔۔۔۔
شادی کے بعد جو تمہاری دادی کے طعنے اور بے رخی جب مجھے اندر تک چھلنی کرتی تو میں بس یہ سوچ لیتی کہ یہ سب کچھ میرا ہی انتخاب ہے اور مجھے آخر تک نبھانا ہے جب تک تمہارے بابا تھے تب تک تمہاری دادی میرے سال
تھ تھوڑا لحاظ کر لیتی تھی پھر جب تمہارے بابا کا سایہ میرے سر سے اٹھا توتمہاری دادی نے وہ لحاظ بھی کرنا چھوڑ دیا ۔۔۔۔
البتہ تمہارے تایا میری بہت عزت کرتے تھے ہمیشہ احترام کیا۔۔۔۔
مگر پھر تمہاری دادی نے مجھے اور تمہیں گھر سے ایک رات نکال دیا جب تمہارے تایا اور سب ایک شادی میں شہر گئے ہوئے تھے۔۔۔۔
تمہارے بابا نے مجھے ہماری پہلی اینیورسری پر یہ گھر گفٹ کیا تھا اور رفتہ رفتہ وہ اکاؤنٹ میں بھی بھاری رقم میرے لئے جمع کرواتے رہتے تھے۔۔۔
اس وقت میں یہ کہتی تھی کیا ضروت ہے مجھے ان سب چیزوں کی آپ ہے نہ ۔۔۔
بعد میں، میں بہت روئ جب تمہاری بابا کے دنیا سے جانے کے بعد مجھے تمہارے بابا کی دور اندیشی کا احساس ہوا ۔۔۔۔
پھر اس رات بس شکر ہے کہ اماں نے اتنی مہلت دی تھی کہ میں تمہاری ضروری چیزیں لے لوں۔۔ میں جلدی جلدی اس گھر کے پیپر چھپا کر لے آئیں اور پھر میں نے سوچ لیا کہ میں اپنے ماں باپ کے در پر نہیں جاونگی حد یہ کہ میں نے اپنے میکے کےکسی رشتے سے تعلق نہ رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ ۔ محبت کی شادی کا فیصلہ میرا تھا اور مجھےاس پر پوری زندگی قائم رہنا تھا۔۔۔
💖💖💖💖
علی کے ساتھ باتیں کرتے اس کو وقت کا پتا ہی نہیں چلا وہ کافی لیٹ گھر آیا گھڑی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔
جو ایک بجا رہی تھی ۔۔۔
گھر میں سناٹا تھا اس کا مطلب سب اپنے اپنے کمروں میں تھے وہ کچن سے پانی کی بوتل لے کر کمرے میں آیا حجاب پرایک نظر ڈالی جو صوفے پر ٹی۔۔ وی دیکھتے دیکھتے بیٹھے بیٹھے ہی سو گئ تھی۔ ۔۔
نائٹ ڈریس پہنے وہ سرخ اور سفید سی گڑیا لگ رہی تھی ۔ ۔۔
بشر کو تو وہ اس وقت ایک پیاری سی چھوٹی سی باربی ہی لگی ۔۔۔
ویسے تو وہ ڈائن بدوح ہوتی تھی۔۔۔
فریش ہو کر وہ بیڈ کی طرف آیا ہیٹر آن کر کے ٹمپریچر ٹھیک کرنے کے بعد ٹی وی بند کرکے اسنے اپنا اور حجاب کے بیڈ کا تکھیہ درست کیا نائٹ بالب آن کرنے کے بید حجاب کی طرف بڑھاجو بیٹھے بیٹھے سو رہی تھی ۔۔۔
اس کو بہت احتیاط سے اپنے بانہوں میں اٹھا کر بیڈ پر اسکی جگہ پہ لٹا دیتا ہےدیتا ہے۔۔۔۔
اور پھر خود بھی دوسری طرف اپنی جگہ پر آ کر لیٹ جاتا ہے اور آئندہ کے بارے لا حہ عمل کے بارے میں سوچنے لگتا ہے ۔۔۔
💔💔💔
ماما پریشان سی لاؤنج میں ٹہل رہی تھیں۔ ۔۔۔۔۔
" کیا ہوا ماما سب خیریت تو ہے؟ "۔۔
"آپ نے اتنی ایمرجنسی میں بلایا؟ "۔۔۔
ماما کی فون پر بشر پریشانی سے گھر آتا ہے۔۔۔۔
" بیٹا خیریت نہیں ہے "۔
"ہوا کیا ہے بتائیں تو سہی کچھ ؟"۔۔
"بس اسلام آباد کے لئے نکلنا ہے میرا اور اپنا ٹکٹ بک کر و آؤ"۔۔۔۔
اس نے ایک نظر ماما کو دیکھا ان کی آنکھیں رونے سے بہت زیادہ سوج چکی تھیں۔ ۔۔۔۔
"ماما میں شام تک ٹکٹ بک کرواتا ہوں "۔۔۔۔
اس نے ایک نظر ماما کو دیکھااور کچھ بھی پوچھنے کا ارادہ ترک کر کے بغیر کچھ بولے وہاں سے اوپر آ گیا ۔۔۔۔
💖💖💖💖💖
۔۔۔۔۔۔۔
حجاب حجاب وہ کمرے میں آکر اس کو ڈھونڈتا ہے
۔۔۔۔
"جی مسٹر ہٹلر"۔۔۔۔۔
وہ واش روم میں سے ہی آواز دیتی ہے۔ ۔۔
"اچھا ٹھیک"۔۔۔
" جلدی باہر نکلو "۔۔۔۔
وہ اس وقت کسی بھی بحث کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔۔۔
"اف۔ ۔۔۔ موتی(بلی کا بچہ) تم بہت ہی گندے بچے ہو گئے ہو" ۔۔۔۔۔
محترمہ باتھ روم سے موتی کے ساتھ برآمد ہوئیں۔ ۔
سر سے پیر تک بھیگی ہوئ۔ ۔۔
" جی فرماؤ اب مابدولت حاضر ہے"۔۔۔۔
بشر اس کی آواز سن کر مڑ کر جیسے ہی دیکھتا ہے اس کا پارہ سوا نیزے پہ جا پہنچتا ہے۔۔۔۔
" تمہارا دماغ تو ٹھیک ہےسردی دیکھی ہے تم نے اور اتنے سرد موسم میں تم نے موتی کو کیوں نہلایا؟؟؟؟"۔۔۔
"اس کو تو نہلایا ہی نہلایا خود کو دیکھو تم خود بھی کتنی بھیگ چکی ہو "۔۔۔۔۔
بشرکا غصے سے برا حال تھا ۔۔۔۔
"ٹھنڈ میں تو پانی کا میں مزہ آتا ہے"۔
حجاب کی منطق کی نرالی تھی ۔۔۔۔
"اچھوں ۔۔۔۔۔۔اچھوں۔۔۔۔۔
حجاب کوٹھنڈ سے چھینکے شروع ہوگیئں ۔۔۔۔۔
"شاباش بجا فرمایا تم نے چلو فورا جاؤ چینج کرکےآو"۔۔۔۔۔
حجاب اچھی کے مارتی ڈریسنگ کخروم کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔ ۔
حجاب جب چینج کرکے واپس آئی اس وقت بشر موبائل پر موبائل پر کسی سے بات کر رہا تھا۔۔۔۔
حجاب کو دیکھ کر خدا حافظ کہہ کے فون رکھا۔۔۔
"بات سنو حجاب میری"۔۔۔۔
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے اپنے بال سلجھانے لگی
جب بشر نے کہا ۔۔۔۔
"آپ کی معلومات کے اضافے کے لیے عرض ہے کہ میں کانوں سے سنتی ہوں "۔۔۔۔
حجاب کا الٹا ہی جواب ملا۔ ۔۔
بشرا گنور کر کے بولا ۔۔۔۔
میں اور ماما اسلام آباد جارہے ہیں تم پیچھے اپنا اور بابا کا خیال رکھنا "۔۔۔۔۔
" ویسے تو ایک سے دو دن میں واپس آ جائیں گے "۔۔۔۔۔
بشر نے اپنی بات مکمل بھی نہ کی تھی کہ وہ بول پڑی۔۔۔۔
"میں بھی ساتھ چلوں پلیز میرے پیارے ہٹلر"۔۔۔
حجاب اسکو جانے کے لئے بٹ رنگ کرنے لگی۔ ۔۔
" نہیں بالکل نہیں ،تمہیں لے جاو تاکہ دو پل وہاں بھی سکون نہ مل سکے نونیور" ۔۔۔
بشر کا لہجہ قطعی تھا۔۔۔۔۔
" اچھا میرا ایک کام کرو "۔۔۔۔۔
"بیگ ریڈی کر دو میرا جانے کے لئے "۔۔۔۔۔
"میں کیوں کروں جب مجھے لے کر نہیں جا رہے"۔۔۔
و ہ یہ کہنے ہی والی تھی جب اس کے شیطانی دماغ نے ایک دم کام کرنا شروع کیا ۔۔۔۔۔
"ٹھیک ہے کرتی ہوں "۔۔۔۔
پہلے جاوُگرم کافی پیو۔۔ ۔۔۔
بشر اس کی چھوٹی سی ناک جو کہ نزلے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی ، کو دیکھ کر بے سا ختہ بولا۔ ۔۔
حجاب نیں جیسے اس کی بات سنی ہی نہیں ۔۔۔۔اسکا دماغ اپنے آگے کے لائحہ عمل طے کر رہا تھا۔۔۔
" آج تو بن بتوڑی بڑی شرافت سے مان گئی بشر تھوڑا حیران ہوا "۔۔۔
"پیکنگ تو میں بہت اچھی کروں گی زندگی میں کبھی کسی نے پیکنگ نہیں کی ہوگی ایسی"۔ ۔۔۔۔
دونوں اپنی اپنی سوچوں میں گم ایک دوسرے کے بارے میں ہی سوچ رہے تھے محبت اپنی جگہ خود بنا لیتی ہے نکاح کے صرف تین بول دو فریقوں کے بیچ محبت کے لیے کافی ہوتے ہیں ۔۔۔۔
💓💓
💓
"ہو گیا میرا کام کردی مسٹر ہٹلر میں نیں پیکنگ"۔۔
حجاب بڑی تمیز سے بشر کو آکربتاتی ہے ۔۔۔
بشر اور ماما بابا نیچے ہال کمرے میں اسلام آباد والے مسئلے پر بات کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
بابا حجاب کو دیکھ کر اپنے برابر میں جگہ بناتے ہیں اور وہ بڑے لاڈ سے ان کے پاس بیٹھ جاتی ہے ۔۔۔۔
"بیٹا میں اور آپ کی ماما کراچی جا رہے ہیں"۔۔۔۔
"اب بشر یہیں ہے کیونکہ آج رات کو اس کے بہت اچھے دوست کے بیٹے کی پہلی سالگرہ ہے "۔۔۔۔۔
"ہیں""۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حجاب کامنہ کچھ اتر سا گیا ۔۔۔۔۔
اس کا پلان جو فیل ہو گیا ۔۔۔۔۔
بشر ایک نظر اس کے تاثرات دیکھتا ہے۔۔۔
"کہاں تو میرے ساتھ جانے کی ضد کر رہی تھی بن بتوڑی اور اب منہ کیوں لٹک گیا بشر کچھ شک کی نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگتا ہے"۔۔۔
" کچھ تو گڑبڑ ہے"۔۔۔۔
وہ بھی بشر تھا اتنا تو وہ حجاب کو سمجھ ہی چکا تھا ۔۔۔۔
ما تھا تو اس کا اس وقت بھی ٹھنکا تھا جب اس کے ساتھ نہ جانے کے باوجود کھلے دل سے تیار ہو گئی تھی فوراً اس کی پیکنگ کے لیے ۔۔۔۔۔۔
ماما میرے سر میں تھوڑا درد ہے میں اپنے روم میں ہوں آپ پلیز ایک چائے کا بھجوادیں۔ ۔۔۔
بشر بہانے سے اٹھ تا ہے۔ ۔
حجاب ایک دم سٹپٹا جآتی ہے اس کو یادآتاہےاس نے ہینڈ کیری بند نہیں کیا ۔۔۔۔
"اوئے تیری مارے گئے"۔۔۔
بشر کو حجاب کی اڑی رنگت دیکھ کر مزید پختہ یقین ہو جاتا ہے ۔۔۔۔
وہ تیزی سے کمرے کی طرف بڑھتی ہے تکےبشر سے پہلے کمرے میں پہنچھ سکے۔ ۔۔۔
"ارے بیٹا حجاب تم روکو زدا چائے لے کر جانا"۔۔۔۔
اور حجاب ماما کی بات سن کر دل مسوس کر رہ۔۔
" جاتی ہے جی ماما "۔۔۔
بشر سیٹی بجاتا کمرے میں آتا ہے پہلی نظر اس کی آپنے ہینڈ کیری پر پڑتی ہے وہ فوراً اس کے اندر موجود کپڑوں کو دیکھتا ہے۔۔۔۔
پہلے وہ کُرتا شلوار نکالتا ہے ۔۔۔
کُرتے کی تہ جیسے ہی کھولتا ہے چکرا کر رہے جاتا ہے۔ ۔۔
اس کے پسندیدہ کُرتے کےاوپر انک کا بڑا سارا لال رنگ کا نشان اس کا منہ چڑا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
جب کہ شلوار ندارد تھی۔ ۔۔
وہ اب تیزی سے دوسری شرٹ کو کھولتا ہے تو اس پر استری کا بڑا عظیم اور شاندار نقش و نگار بڑی آب و تاب سے چمک رہا ہوتا ہے۔ ۔۔۔
البتہ پینٹ کے بجائے شارٹ رکھا گیا تھا۔۔۔۔۔
اتنی" پرفیکٹ پیکنگ "دیکھ کر بشر کا دل مزید باغ باغ ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔
"اب دیکھ بن بتوڑی میں کیا کرتا ہوں"۔۔۔
بہت ہلکا لیا ہے تم نے اپنے شوہر کو "۔۔۔۔
بشر اس کی وارڈ روب کو کھول کر جتنی بھی ٹی شرٹس تھیں حجاب کی سب چن چن کر جلدی جلدی قینچی سے تھوڑا تھوڑا کاٹ دیتا ہے ۔۔۔۔۔
"بلکل ایسا لگتا ہے سدیوں سے ایک بھوکا چوہا حجاب کی ٹی شرٹس پنیر سمجھ کے کتر گیا ہو"۔۔۔
ایسے کہ وہ اب پہننے کے قابل نہیں رہتیں۔ ۔۔
"بن بتوڑی کو شلوار قمیض پہننا بالکل پسند نہیں اب آئے گا مزا "۔۔۔۔۔
چچ ۔۔۔۔چچ ۔۔۔چچچچچچ ۔۔۔
بشر جلدی جلدی اپنا ہینڈ کیری اسی ترتیب سے رکھ دیتا ہے کیسے حجاب نے رکھا ہوا تھا اور ٹی وی لگا کر نیوز دیکھنے میں خود کو مصروف ظاہر کرتا ہے ۔۔۔۔۔
حجاب ڈرتے ڈرتے کمرے میں آتی ہے اور پھر چپکے سے بشر کو دیکھتی ہے بشر اس کی ہر ہر حرکت کو نوٹ کر رہا ہوتا ہے بظاہر اس کا دھیان ٹی وی پر تھا ۔۔۔
حجاب اس کو چائے دینے کے لیے اس کے قریب آتی ہے۔۔۔۔۔۔
بشر چائے کا کپ تھامنے کے بجائے حجاب کا ہاتھ کلاِئ سے پکڑ لیتا ہے ۔۔۔۔ ۔ ۔
"کیا ہوا اتنا گھبرا کیوں رہی ہو طبیعت تو ٹھیک ہے نا"۔۔۔
وہ بہت گہری نظروں سے اس کا جائزہ لے رہا تھا ۔۔۔۔
حجاب اس دن والے واقعے کے بعد سے بشر کی قربت سے کچھ گھبرانے لگی تھی ۔۔۔
ابھی بھی ایسا ہی ہوا تھا اب بشرنے جیسے ہی اس کی کلائی اپنے ہاتھ میں لی حجاب کے ماتھے پر ننہے ننہے تی چمکنے لگے ۔۔۔۔۔۔
بشراسکی گھبراہٹ دیکھ کر بہت محضوض ہوا ۔۔۔
اس کو حجاب کو تنگ کرنے میں مزا آنے لگا ۔۔۔۔۔
"وہ یہ۔۔۔۔ یہ۔۔۔ چائے"۔۔ ن
حجاب کے ہاتھوں کی کپکپی کی وجہ سے چائے بشر کے سینے پرجاگری۔۔۔۔
"آوچ"۔ ۔۔۔۔۔
" گرم چائے میرے سینے پر گرا دی"۔۔۔
وہ الگ بات تھی چائے اتنی دیر میں بلکل برف ہو چکی تھی۔۔۔۔
بشر مصنوئی وہ غصے سے اس کو ڈانٹ پلاتا ہے ۔۔۔
لا ئیں دیں میں واش کر دیتی ہوں۔ ۔
بشر شرٹ اتار کر دیتا ہے۔۔۔
حجاب اس کے چوڑے سینے کو دیکھ کر ایک دم نظریں جھکا لیتی ہے ۔۔ن۔
بشر اس کی پلکوں کی کپکپاہٹ کو دیکھ کر مسہور سا رہ جاتا آتا ہے ۔۔۔۔
پھر تھوڑا ایسے ایکسپریشن چہرے پر سجاتا ہے جیسے چائے گرنے سے بہ جلن ہوئی ہو ۔۔۔
حجاب جلدی سے اٹھ کر کوئی کریم ڈھونڈتی ہے۔۔۔
اس کی اتنی تکلیف پہ حجاب کی آنکھوں میں پانی سے بھر جاتا ہے ۔۔۔۔
"کہا جلن ہو رہی ہے آپ کو" ۔۔۔۔۔
اس کی گھبراہٹ دیکھ کر بشرکومزید شرارت سوجھتی ہے ۔۔۔۔
گھبرائی شرمائی حجاب کا یہ روپ بہت نیا سا تھا۔ ۔
بشر آہستہ سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل پر رکھتا ہے ۔۔۔
یہاں بہت تکلیف ہے۔ ۔۔
ہجاب اس کو نظر ٹھا کر جیسے ہی دیکھتی ہے ۔۔۔۔
بشر کی آنکھو ں میں ایسا ضرور ہوتا ہے کہ حجاب اپنی پلکوں کی چلمن جھکا کر اپنا ہاتھ ہ کھینچنے کی کوشش کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔
بشراور مضبوطی سے تھام لیتا ہے ۔۔۔۔
حجاب کا بشر کے سامنے بیٹھنا دوبھر ہو رہا ہوتا ہے
وہ بہت تیزی سے جھٹکے سے اپنا ہاتھ کھینچ کر کہتی ہے۔۔۔۔
" ارے ماما نے مجھے اپنی پیکنگ کے لیے کہا تھا اور یہ کہہ کر وہ کمرہ کے باہر چھلانگ لگا دیتی ہے ۔۔۔۔
عشر کا فلک شگاف کہکا کمرے کے باہر تک گونجتا ہے
وہ ٹھنڈی آہ بھر کر کہتا ہے ۔۔۔۔
"ہائے تو کتنی معصوم ہے"
💓💓💓💓
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment