Monday, December 10, 2018

tu kitni masoom hai episode 5 by aymen nauman

tu kitni masoom hai episode 5 by aymen nauman

رات کا نا جانے کونسا پہر تھا جب بشر کو اپنی ناک میں شدید درد کا احساس ہوتا ہے ایسے جیسے کوئی چیز اچانک  زور سے اس کی ناک کی ہڈی سے ٹکرائی ہو. .  ۔۔۔۔

بشر کی آنکھوں میں تارے ناچنے لگتے ہیں اب وہ مکمل طور پر حواسوں  کی دنیا میں واپس آتا ہے ۔۔۔۔

"ہٹاؤ یہ اپنا 20 کلو کا ہاتھ" ۔۔۔۔
وہ دھاڑا
حجاب تھوڑا کلبلائی اور پھر آڑی ترچھی ہو کر دوبارہ سو گئی ۔۔۔۔

سوتی ہوئی حجاب کا انگوٹھی والا ہاتھ نیند میں سوتے بشر کی ناک پر مکے کی صورت میں لگتا ہے۔۔۔

بشر اب دوبارہ سونے کی کوشش کرتا۔۔ سو،دوسولعن طعن دے کر وہ ابھی نیند کی وادی میں دوبارہ اترا ہی ہوتا ہے جب ۔۔۔۔۔

.آ . .آ .  "آوچ". . .

شدید درد سے وہ اپنا پیٹ پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے
اب کی دفعہ حجاب کا پیر اس کے پیٹ پر اپنی محبت کی نشانی نشر کر دیتا ہے ۔۔۔۔
۔
"اٹھو فوراً"۔۔۔۔
"نہیں تو اٹھا کے زمین پر پھینک دونگا"۔۔

وہ باقاعدہ حجاب کو کندھے سے پکڑ کر بٹھا دیتا ہے۔

"ڈائن۔۔۔۔ بدرو ح مجھ ہی سےچمٹنا تھا"۔۔

"کیا کہا "۔۔

نیند ویند حجاب کی ایک طرف وہ اب اپنی استین لڑنے کے لئے چڑھاتی ہے جیسے ہی کونی پردوسرے ہاتھ سے چھوتی ہے تو حجاب کا زہن بے دار ہے۔۔۔ پھر ایک نظر خود پر ڈالتی ہے۔۔
" او۔۔۔۔ تو میں ماما کے دیے ہوئے" نائٹ ڈریس" میں ہوں" ۔۔۔
"میں ڈائن اور بدروح"۔۔۔۔ اب وہ آستین چھوڑ کر کمر پر ہاتھ رکھے فل لڑنے والے موڈ میں جا گ چکی تھی ۔۔۔
"تم ۔۔۔۔تم کیا ہو مجھے تو پورے اینک والے جن ہی گتے ہو۔ ۔۔"
حجاب نے گویا حساب برابر کیا۔ ۔۔۔
"ہاں ہاں تمہی چڑیل ڈائن بدرو ح سب ہو"۔ ۔۔۔

غصے سے بشر کے دماغ کی رگیں تن سی گئیں۔"

"اب تم میرے بیڈ پر نہیں سو گئی"

،بشر کے اگر اختیار میں ہوتا تو وہ ایک سیکنڈ بھی حجاب کو اپنے کمرے میں ٹھہرنا تو دور کی بات پھٹکنے بھی نہیں دیتا اس کی حرکتیں اس کو طیش دلاتی تھی ۔۔
وہ بیچ میں تکیہ پھینک کر بولی ۔۔۔

"یہ اب میرا بیڈ بھی ہے"۔۔
" اور میں بھی اسی پر سو کر دکھاؤں گی """۔۔۔۔

"بس میں نے کہہ دیا تم صوفے پر سُو گی "۔۔۔
"اور صوفے پے  نہیں سونا تو میری بلا سے بھلے کوہ کاف جا کے سو جاؤ"  ۔۔۔

"میں اور صوفہ ناممکن وہ دونوں ہاتھ جھاڑ کر بولی"۔۔۔۔
"تو تم ایسے نہیں مانو گی" ؟!؟

"ٹھیک ہے" ۔۔
وہ خون خوار لہجے میں بولا ۔

"کیوں مانو اب یہ روم میرا بھی ہے "
"تم سو جاؤ مسٹر عینک والے جن "۔۔۔
 صوفی پر۔۔۔۔۔
وہ بڑے مزے سے آپ سے تم تک کا فاصلہ طے کر گئی
"اے مجھے آپ کہاں کر بات کرنا آئندہ "
بشر بھی کسی ٹین ایجر کی طرح اس سے دوبدو دودوہاتھ کے لئے تیار ہو گیا ۔۔۔
"عینک والاجن تم نے کس کو کہا کبھی خود کو دیکھا ہے بلکل بل بتوڑی ناساں چوڑی جیسی ہو "۔۔۔
بشر کا تو جیسے خون کھول رہا تھا ۔۔۔

"اچھی ہمدردی کی جوگلےہی پڑ گئی "۔۔
بشربڑبڑھایا ۔
اس کو مزید چڑھا کر وہ واپس بیڈ پر لیٹ گئی اور ایسے لیٹی کے بشرجہازی سائز بیڈ  پر لیٹ ہی نہیں سکتا تھا ۔۔

"بس اگر تم خود نہیں جا رہیں تو اب دیکھو"۔۔۔
 یہ کہہ کر اس نے حجاب کو اٹھا کر بازوُں  سے اپنے کندھے پر ڈالا۔۔۔۔۔۔
 "نہیں چھوڑوں گی تمہیں عینک والے جن"۔

 وہ اب اوندھی اس کے   کندھے کےاوپر مکہے برسا رہی تھی۔۔۔
بشر نے اس کو صوفے پر پھینکنے والے انداز میں پٹخا۔
"خبردار اب اگر میرے قریب یا میرے بیٹھ کے قریب بھی پھٹکیں تو۔"
۔
وہ تھوڑا حجاب کے اوپر جھک کر بولا ۔۔۔

"او مسٹر اینگری""۔۔
 حجاب نے اپنی شہادت کی انگلی اس کے ماتھے پر سیدھی رکھ کر اس کا خود پر جھکا ہوا سر پیچھے کیا ۔۔
"سوکر تو میں بھی تم کو وہی دکھاؤں گی ""
حجاب کا انداز چیلنجنگ تھا ۔۔۔۔۔

وہ جو سمجھ رہا تھا کہ وہ اس کے اتنا قریب آنے پر بوکھلا کر مان جائے گی۔۔۔۔

اچھی طرح سمجھ چکا تھا سامنے والی ہستی بھی ٹلر  کے ہی خاندان کی ہے ۔۔
"دیکھتے ہییں" ۔
وہ بھی معنی خیزی سے بول فا تحانا چال چل کر اپنے پیٹ پر چلا گیا ۔۔۔۔۔

بشر تیس سالہ مرد اس لڑکی سے دوبدو لڑھ رہا تھا وجہ صرف اور صرف  ضد اور انا تھی وہ دونوں میں ہی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی وہ اپنی لائف پارٹنر میچور جاہتا تھا اس لئے حجاب کی اوں پٹانگ حرکتیں اس کو عاجز کر رہی تھیں۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖
++++++++
صبح وہ کافی دیر سے اٹھا اور جب پوری طرح نیند کی وادی سے جاگا تو اپنے ارد گرد نظریں دوڑائیں   سب سے پہلا خیال اپنی نئی نویلی دلہن صاحبہ کا آیا ۔۔۔۔
اس نے ادھر ادھر دیکھا وہ کمرے میں کہیں پر بھی نظر نہیں آئی وہ جلدی جلدی فریش ہو کر نیچے ڈائننگ ہال  میں آیا ۔۔۔۔
سب لوگ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے اسی کا انتظار کر رہے تھے البتہ بابا چائے پی رہے تھے اس کا مطلب وہ ناشتہ کر چکے تھے۔

"اسلام علیکم"!
بشر نے سب کو سلام کیااورکرسی کھسکا کر بیٹھ گیا
" وعلیکم السلام "۔
"بیٹا کیا لو گے "
ماما نے پوچھا
"ماما پلیز پہلے ایک گلاس پانی دے دیں""
بابا نے سلام کا جواب دے کر چھیڑنے والے انداز میں کہا  ۔۔۔
" بیٹا جی آج زیادہ جلدی نہیں اٹھگئے کافی "

بشر  نے گھڑی کی طرف دیکھا جو 11 بجا رہی تھی
"جی بابابس وہ "۔۔۔
بشر نے ہلکا خسیا کر کان کھجایا۔۔۔
"ارے بابا میں بتاتی ہوں " ۔۔
بشر کی بات بیچ میں ہی رہ گئی اور وہ بن بتوڑی فورا بول پڑی۔۔
 "جی بیٹا بتائے ہمیں بھی تو پتہ چلے ذرا "۔۔۔۔
بابا پوری توجہ سے مسکراہٹ چھپائے حجاب کی طرف ہم تن گوش تھے ۔۔۔۔۔وہ آج جیسے بخشنے والے موڈ میں نا تھے ۔۔۔
"بابا ماما آپ کو پتہ ہے یہ عینک والے جن مجھ سے پوری رات لڑتے رہے ہیں ایک لمحہ بھی مجھ کو سونے نہیں دیا  "
بشر نے پانی کا گلاس منہ سے لگایا ہی تھا اس کی بات سن کر پانی کا فوارہ ایکدام اس کے منہ سے باہر نکلا اور وہ زور زور سے کھانسنے لگا لگا  منہ۔ 
بشر کو تو اس کی بات پہ اچھو ہی لگ گیا ۔۔

سامنے سے چائے کے کپ لاتی بوا (کام والی) کی بھی ہنسی چھوٹ گئی ۔۔۔۔

ماما البتہ اپنے آپ کو تھوڑا مصروف ظاہر کرہی تھیں جیسے ناشتے سے کوئی اہم کام دنیا میں نہ ہو
مگر بشر ان کی آنکھوں میں شرارت دیکھ چکا تھا ۔۔

بابا نے فوراً اخبار اپنے منہ کے آگے کرلیا
اس کی بات پر بشر سن کراس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ حجاب کے منہ میں ساری ڈبل روٹی بھر کر اس کا کسی طرح مونہ بند کرادے۔ ۔
"اور پتہ ہے ماما آپ کو "۔۔۔۔۔
"بیٹا یہ لونا یہ پر اٹھا لو نہ شاباش یہ سب چھوڑو ناشتہ کرو  "۔۔۔۔
وہ ابھی مزید کوئی گوہر افشانی کرتی کے
ماما سٹپٹا کر ایک دم حجاب کو کہنےلگیں ۔۔۔۔

ماما باباکو اپنی ہنسی روکنا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگ رہا تھا بابا تو فورااخبار  بند کرکے اٹھ گئے۔۔
بشر مزید شرمندگی سے پانی پانی ہو جاتا ہے
اور بوا جو چائےرکھنے آئ تھی ابھی تک کھڑی ہنس رہی تھی۔ ۔
تم تو اپنی 32 داتوں کی نمائش بندکرو او رجاوُ اپنا کام کرو ۔
و ہ کھی کھی کرتی چلی جاتی ہے۔۔
"ارے ناشتہ تو پورا کرو"۔۔۔

 بشر کو ادھورا ناشتہ چھوڑ کر آٹھتا دیکھ کر فوراً ٹوکتی ہیں ۔۔۔۔
"نہیں بھر گیا میرا پیٹ بہت اچھی طرح "

خونخوار نظر حجاب پہ ڈالتاکر کہتا ہے۔

" آپ اپنی چہیتی بہو کو کھلائیں"۔۔

"اور یہ بھی کم پڑ ے آپ کی بہو صاحبہ کے لئے تو  کرسی ٹیبل پر دےسب کچھ کھلا دئیےگابس اس کا منہ بند کر دیےگا" ۔۔
   وہ  سلگتی ہوئ نظر سے حجاب کو دیکھتا  سے واک آوٹ کر جاتا ہے۔
💕💕💕💕💕💕💖💖💖💖💖💖💖

ناشتے کے بعد حجاب لان کی طرف نکل جاتی ہے۔۔۔ "اوووو۔ ۔۔۔۔۔تم کتنے پیارے ہو "۔۔

حجاب کی نظر کیاری میں چھپے بلی کے بچے پر پڑتی ہے سفید رنگ کا وہ  بچہ ہے حجاب کو اتنا اچھا لگتا ہے کہ محترمہ کھڑے کھڑےاس کوگود لینے کا فیصلہ کرلیتی ہیں"۔۔۔۔۔
میرا پالا موتی وہ اب اس کا نام بھی رکھ چکی تھی
بشر: آج نہیں چھوڑوں گا"
 وہ اس کو ڈھونڈتا لان میں آتا ہے ۔
"ارے۔۔۔۔۔ ارے مسٹر ہٹلرآہستہ چلیے گر گئے تو بلڈوزر بھی نہیں اٹھا سکے گا آپکو "۔۔۔۔

"بلڈوزر کے نیچے تو اب تم اوُگی "
وہ اس کی فضول گوئی سے مزید چڑھ کر بولا ۔۔۔

"کیا بکواس کی ہے تم نے ابھی اندر"؟"

 حجاب :"میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا بس ناشتہ۔۔"
وہ حجاب کی بات کاٹ کر بولا  ۔۔

تم میں سینس نہیں ہے بات کرنے کا" ۔۔۔
"سینس  وہ تو میں اپنے گھر چھوڑ آئی تھی بھائی نے کہا ڈوگی آپ لوگ پسند نہیں کرتے "۔۔۔۔۔
اس کی بات سن کر بشر مزیدسلگ جاتا ہے اور حجاب کے غصہ میں دونوں بازوؤں کو  زور سے پکڑ کر سختی  سے تھوڑا خود سے قریب کرتا ہے ۔

"کس نے کہا تھا کہنے کو یہ کہ پوری  رات میں نے تمہیں سونے نہیں دیا "۔۔
حجاب :"""""اچھا وہ خیر میں نے صحیح تو کہاں تھا پوری رات آپ نے مجھ سے جنگ عظیم جاری رکھی نہ خود سوئے نا مجھے سونے دیا اتنا لڑے  مجھ سے "۔۔۔۔۔

بشر :آ"ئندہ اپنی زبان بند رکھنا ورنہ حشر کردوں گا"۔۔۔۔

حجاب :"چھوڑو مجھے درد ہو رہا ہے بہت"۔۔۔
" ممامما بچاؤ بچاؤ """
بشر: "چپ کرو ور نہ لگاؤں گا الٹے ہاتھ کا"
مما حجاب کی چیخ و پکار سن کر  اندر سے گھبرا کر باہر آئیں دونوں کو لڑتا دیکھ کر فورا ًان کی طرف تیزی سے بڑھیں ۔۔۔

"مامایہ مجھے بہت زور زور سے ڈانٹ رہے ہیں "
حجاب کچھ روہانسی ہو کر بولی ۔۔۔۔

"بشر کیا ہوا ہے"

بشر:"کچھ نہیں ماما "

حجاب: "ماما انہوں نے ابھی مجھے بہت زورسے کھینچا ہے  اتنا زور سے کی انکاسینہ میرے ماتھے پر زور سے لگاہے اور پتا ہے رات میں انہوں نے مجھے زبردستی بیڈ سے اٹھا کر صوفے پر اچھال۔۔۔۔۔
 "بس بشری آئندہ ایسا نہ ہو وہ کوئی اورگوہر افشانی کرتی ماما نے بات ہی ختم کردی۔۔۔۔
" بشر اپنا سر پکڑ کر رہ گیا ہے "
اس کا بس نہیں چل رہا تھا اپنا سر دیوار  میں دے مارے



قدسیہ بیگم کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا اور اب وہ پہلے سے بہت بہترتھیں۔۔۔
 اسراء ان سے بہت کچھ پوچھنا چاہتی تھیں مگر ان کی طبیعت کے پیش نظر خاموش رہی تھی ۔۔۔
مکیم صاحب نے بولا بھی اپنے ساتھ لے جانے کو مگراسراء نہیں مانی۔۔۔
 وہ دونوں باپ بیٹے تقریبا ہر دوسرے دن ان کی طبیعت پوچھنے آتے رہتے تھے۔۔۔
 حمدان اسراءکی نظروں میں ایک دلپھینک  اور اوباش  قسم کا وڈیرا تھا۔۔۔۔
 وہ جب بھی گھر آتا اسراء اس کی نظروں سے   زیارہ سے زیادہ ۔خود کو چھپانے کی کوشش کرتی۔۔

دوسری طرف حمدان تھا جو اپنی شریک حیات کو دیوانگی کی حد تک چاہنے لگا تھا ۔۔۔۔۔!
💖💖💖💖
"اب کیسی طبیعت ہے بھر جائیں آپ کی"؟ ۔۔۔۔
مقیم صاحب قدسیہ بیگم کی خیریت پوچھنے  آتے ہیں ۔۔۔
"جی بھائی صاحب بہت بہتر ہو ں "۔۔۔
قدسیہ بیگم نقاہت زدہ آواز میں کہتی ہیں ۔۔

" آپ کیوں چلی گئی تھی بھر جائ ؟۔۔۔"

" آپ لوگ سب جس رات  شہر گئے تھے شادی میں تب میں اور اماں اکیلے تھے تب اماں نے مجھے زبردستی دھکے دے کر نکال دیا یہ کہہ کر جیسی میں خود ہوں ویسے ہی میری بیٹی بھی نکلے گی"
 ۔۔۔
" اور اسرء کا سایہ بھی وہ حمدان بیٹے پر نہیں پڑنے دینگی گیں""۔۔
 اندھیری رات میں۔۔۔۔
میں  خاموشی سے نکل گئی اور پھر واپس  کبھی میں نے حویلی کو دوبارہ مڑ کر نہیں دیکھا ۔۔۔۔
وہ دونوں اپنی باتوں میں مشغول یہ نہیں جانتے تھے کہ دروازے کے باھر  اسرا ء ان دونوں  کی تمام باتیں سن چکی ہے
💔💔💔💔💔💔💔

ماما کو دوا دےکر اس نے زبردستی سلایا تھا وہ سونے کے بالکل بھی موڈ میں نہیں تھیں۔ ۔۔

 وہ ا بھی لاؤنج میں آکر اپنا کچھ آفس کا کام کرنے ہی لگی تھی کہ دروازے پر بیل ہوئی اس نے گھڑی میں دیکھا جو دس بجا رہی تھی۔۔۔۔

 "اس وقت کون ہوسکتا ہے"

"جی کون"
وہ دروازے کے قریب جاکر پوچھتی ہے۔ ۔۔

 "حمدان"۔۔۔۔
اسراء اس کی بھاری آواز سن کر تھوڑا گھبرا جاتی ۔ ۔
"کھو لو یار"
اب وہ باہر کھڑا جھنجھلا کر کہتا ہے 

 وہ شش وپنج میں پڑ جاتی ہے کہ آیا کہ دروازہ کھولے  یا نہیں کھولے۔۔۔۔۔۔

کھول  ہی دیتی ہوں  ۔۔۔۔۔
" ہو سکتا ہے تایا نے کسی کام سے بھیجا ہو "۔۔۔۔

 وہ دروازہ کھول کر سائیڈ پر ہو جاتی ہے۔۔۔
وہ جیسے ہی اندر کی طرف برھتا ہے ۔۔۔

"آپ کو جو بھی کھنا ہے پلیز یہیں کہیے "۔۔۔
وہ اس کو اندر جاتا دیکھ گھبرا کر  فوراً کہتی ہے۔ ۔۔

"کیوں ںیہا بات کرنے سے بات جلدی عقلِ شریف میں گھسے گی؟
"وہ ماما سو رہی ہیں اور میں اس وقت گھر میں اکیلی ہوں"۔۔۔
" ماما  جب جاگ جائیں گی پھر آپ آیئےگا"۔۔
وہ تھوڑا گھبراہ کر بولی ۔۔۔۔۔
حمدان نے جیسے اسراء کی بات سنی ہی نہیں اور وہ جا کر سیدھا لاونج میں بیٹھ گیا اور اپنے پیر ٹیبل پر رکھ دئیے دونوں ۔۔۔۔۔
"تم فوراً سے پہلے جوب چھوڑ دو "
"ًمیں یہ جوب نہیں چھوڑوں گی "۔
وہ لہجے کو نیڈر بنا کر بولتی ہے۔ ۔۔
 اندر سے وہ حمدان کو دیکھ کر  ڈر سی جاتی ہے۔۔۔

" میں تمہارے ہر ہر لمحے کی خبر رکھتا ہوں اور یہ سمجھ لو کے کل سے تم جوب پر نہیں جاؤں گی"۔۔۔

"مجھے میرے گھر کی عورتوں کا یوں اس طرح غیر مردوں کے ساتھ کام کرنا بالکل پسند نہیں ہے "۔۔۔۔

حمدان تھوڑا طیش میں آکر غصے سے دھاڑا۔ ۔

 "اس کی آنکھوں میں ایسا کچھ ضرور تھا کہ وہ اس سے نظریں چرا گئ مگر اس پر ظاہر کیے بغیر بولی۔۔۔۔۔۔
" یہ میری زندگی ہے اور آپ اپنی حد میں رہیں "

وہ خود کو اس کے سامنے کمزور ثابت نہیں کرنا چاہتی تھی"۔۔۔۔۔
جبکہ اس کے دھاڑنے پر اس  کا دل اندر سے بری طرح کانپ جاتا ہے ۔۔۔۔۔

حمدان اس کا ہاتھ پکڑ کر سیدھا اس کے کمرے کی طرف کھینچتا ہوا لے جاتا ہے 
"چھوڑیے میرا ہاتھ چھوڑے "
اسراء ہر طریقے سے اس سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتی ہے ۔۔۔۔
مگر وہ اس کے سامنے ایک موم کی گڑیا ہی تھی وہ کیسے اس مضبوط اور توانا مرد کا مقابلہ کر پاتی ۔۔۔۔

اندر آکر اس کو ایک ہاتھ سے بیڈ کی طرف دھکیلتا ہے اور پھر کمرے کا دروازہ اندر سے لاک کر دیتا ہے۔۔۔۔
" ہاں اب بولو کیا فرما رہی تھی "۔۔۔۔
وہ خوفزدہ نظروں سے ہمدان کو دیکھ رہی تھی ۔۔
وہ بیڈ پہ اوندھی جا کے گرتی ہے ۔۔۔۔
حمدان ایک جھٹکے سے اس کو سیدھا کرتا ہے ۔۔۔۔

"آپ چاہتے کیاہیں"؟؟؟؟؟
وہ روتے ہوئے بولتی ہے
تمہیں "
حمدان اس کے اوپر جھکتا ہے
بیڈ پے گری اسراءکے آس پاس دونوں بازو رکھ کر اس کے اوپر مزید جھکتا ہے اور اس کی تمام فرار کی راہیں مسدود کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔

   اور  آہستہ سے اس کے ماتھے پر اپنی محبت کی مہر ثبت کرکے کہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

"تین دفعہ قبول ہے قبول ہے قبول ہے۔۔۔۔
 تم نےہی کہا تھا نا" ۔۔۔۔۔
 حمدان کے اس انکشاف پر اسراء  کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں وہ اس صفاک سچائ  پر دنگ رہ جاتی ہے۔۔۔۔۔
وہ ابھی بھی اس پر جھکا اس کو ہی دیکھ رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
اسراء کی آنکھوں میں بچپن کا ایک حلقہ سا سایالہراتا ہے ۔۔۔۔۔
  اس کے دل کی دھڑکن مزید تیز ہوجاتی ہے
پہلے ہی وہ ہمدان کی اتنی قربت سے خائف تھی مگر اب تو وہ اس سے نظریں ہی  نہی ملا پا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
"  آج کے بعد مجھ سے یہ مت کہنا میں کیا کرسکتا ہوں کیانہیں"۔۔۔۔
"اور رہی حقوق کی بات تو چاچی سے پوچھ لینا اور اگر پھر بھی نہ پتا چلے تو میں بتاؤں گااپنے طریقے سے "۔۔۔۔
 وہ  اس کی لٹ کو اپنی انگلیوں پر لپیٹ کر زور سے کھینچ کر چھوڑ دیتا ہے ۔۔۔۔
"اور یاد رکھنا صرف تمہارے پاس ایک ہفتہ ہے اس ایک ہفتے میں تم خود کو میری سیج سجانے کے لئے تیار کرلو" ۔۔۔۔
اتوار کو تمہاری رخصتی ہے یاد رکھنا ۔۔۔۔
اسراء کی بولتی تو اسی وقت ہی بند ہو گئی تھی جب اس کو اپنے اور ہمدان کے رشتے کے بارے میں علم ہوا تھا۔۔۔۔
وہ اب خالی خالی نظروں سے ہمدان کو کمرے سے باہر جا جاتا دیکھتی رہ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔

 💖💖💖💖💖💖💖💖
سمیر آسٹریلیا پہنچ چکا ہوتا ہے ۔۔۔۔
اور اب ایئرپورٹ پر باہر کھڑا فرح کا انتظار کررہا تھا۔ ۔۔
سامنے ہی اس کو فرح  نظر آ جاتی ہے جو کسی لڑکے کے ساتھ اس کو لے جانے کے لئے آئی ہوتی ہے۔۔۔۔

 ٹائٹ جینز کے ساتھ اسکنی اسٹیپس والی ٹائٹ ٹی شرٹ اس کے جسم  کے خدوخال کو مزید نمایاں کر رہی تھی۔۔۔۔۔
سمیرا سکا ہولیہ دیکھ کر تھوڑا عجیب سامحسوس کرتا ہے ۔۔

 "ہیلو سویٹ ہارٹ "۔۔۔۔
فرح جیسے ہی سمیر کو ائیرپورٹ سے باہر آتا دیکھتی ہے کہ گلے کا ہار بن کر اس سے چمٹ جاتی ہے اور اس کے گال  پہ کس کرتی ہے ۔۔۔۔۔
سمیرتھوڑا بوکھلا کر  ادھر ادھر دیکھتا ہے اور اس لڑکے کے سامنے تھوڑا شرمندہ سا ہو جاتا ہے جو ان دونوں کو دیکھ کرڈھیٹوں کی  مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔ ۔۔
 وہ فرح کو نہ محسوس طریقے سے تھوڑا سا  خود سے دور کردتا ہے۔۔۔

"او ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔ڈارلنگ میں نے تمہارا کتنا انتظار کیا""""

" چلو آج وہ دن آ ہی گیا جب تم میرے پاس ہو "
وہ سمیر کو کچھ بولنے کا موقع ہی نہیں دے رہی ہوتی اور بڑی بے باکی سے کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔
بس اب اپنے ملن کےدن دور نہیں ۔۔۔

"ہاں فرح میں  بھی  تمہارے لیے سب کچھ چھوڑ کر یہاں آگیا ہوں"۔۔۔۔/
 بس اب یہ ہے کہ باقی شادی  کےدن کے  بارے میں سوچیں گے "۔۔۔۔
"ارے یہ سب چھوڑو پہلے گھر تو لے چلو"۔۔۔
 کاشی ان دونوں کو باتیں کرتے دیکھ کر اپنی خدمات پہلے پیش  کرتا ہے ۔
سمیر کاشی کی طرف بڑھ کے ہیلو ہائے کرتا ہے اور بہت اچھے طریقے سے ملتا ہے پھر وہ تینو فراح کے گھر کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔

💕💕💕💕💕💕

دوپہر کے وقت بشر t.v دیکھ رہا ہوتا ہے جب حجاب کمرے میں آتی ہے
کیا ہوا منہ کیوں سو جاہوا ہےاتنا ؟
حجاب اندر آتی ہے تو بشر ایک نظر اس پر ڈالتا ہے اس کے چہرے پر عجیب سی تکلیف ہوتی ہے ۔۔

وہ  رونا شروع کردیتی ہے بشر کے پوچھنے کی دیر تھی بس ۔۔۔۔
" میں گر گئی میرے  ہاتھ چوٹ میں لگی ہے "۔۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے کہتی ہے۔۔۔
"ادھر دکھاؤ کہاں چوٹ لگی ہے"
یہ کہہ کر بشر اس کودونوں کندھوں سے تھام کر  بیڈ پر بٹھا تا ہے ۔۔۔
"آؤچ"
حجاب ایک دم درد سے چلاتی ہے
بشر آہستہ سےاس کی آستین کو کندھے تک اوپر کرتا ہے اور چوٹ دیکھ کے تھوڑا گھبرا جاتا ہے زخم  تھوڑا گہرا تھا جیسے کوئی نوکیلی چیز کندھے میں گڑھی ہو ۔۔
"کیسے لگی ہے یہ چوٹ کہا کے نہیں ہو تم "
بشر تھوڑا غصہ میں پوچھتا ہے ۔۔۔۔
وہ اس کے ڈانٹنے  پر مزید رونا شروع کردیتی ہے ۔۔۔

میں موتی (بلی )کونہلانے کے لئے پکڑ رہی تھی جب موتی اچانک ٹیبل کے اوپر سے کودگیا اور میں اس کے پیچھے بھاگی تو ٹیبل کا کونا میرے  شولڈرز میں  گھس گیا ۔۔۔
چوٹ میں سے اب خون رس رہا ہوتا ہے ۔۔۔
 " بہت زور سے چوٹ لگی ہے "۔۔۔

بشر اس کو بچوں کی طرح روتا دیکھ کر اپنے غصے کو ضبط کرلیتا ہے ۔۔۔
فرسٹ ایڈ باکس لے کر حجاب کے برابر میں بیٹھتا ہے
بشر چوٹ پر سے خون صاف کرکے آہستہ آہستہ دوا لگاتا ہے ۔۔۔۔
  حجاب شدید جلن  سے چیختی ہے
 " بشر نہیں مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے اس سے "۔۔۔
"پلیز آپ یہ آئنمنٹ نہ لگائیں بس بینڈ یج کردیں"۔۔۔

"کچھ نہیں ہوتا میں ہوں نہ"۔۔۔
بشر اس کو بہت پیار سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے ۔۔۔
 وہ بشر کی شرٹ کو   زور سے  پکڑ لیتی ہے اور  اپنا منہ اور اس کے چوڑے سینے میں چھپا لیتی ہے۔۔۔۔
جیسے اس کے سینے میں اس کی  ہر تکلیف کی نجات ہو۔۔۔۔ 
بشر اس کے اتنا قریب ہونے پر اس کی کمر پہ ہاتھ رکھے آہستہ آہستہ سہلاتا ہے ۔۔۔
 کچھ نہیں ہوگا بس  میں بینڈج کر دیتا ہوں اور تم اس طرح رو نہیں "۔۔۔۔
بشر اس کو باتوں میں لگا کر  آہستہ آہستہ اس کے بازو کی بینڈیج کرتا ہے ۔۔۔۔

حجاب  تھوڑا سا رونا کم کردتی ہے مگر ہنوز اس کی ٹی شرٹ کو سختی سے پکڑی ہوئی ہوتی ہے ۔۔۔۔

بشر کوحجاب  کا اس انداز میں اس کے اتنا قریب آنا بہت خوبصورت احساس بخش رہا ہوتا ہے ۔۔ ۔

اور وہ اسی احساس کے زیر اثر آہستہ سے اس کی تھوڑی اوپر کی طرف اٹھاتا ہے اور اس  کی روئی  روئی سی آنکھیں۔۔۔۔۔۔میٹا میٹا سا کاجل ۔۔۔۔۔درد سے  پھڑپھڑاتے گلابی ہونٹ ۔۔۔۔۔
 وہ بے ساختہ اس لبوں پر   اپنے لب  رکھ دیتا ہے۔۔۔۔
حجاب اس کی اس قدر قربت پے  جیسے ایک دم ہوش کی دنیا میں واپس لوٹتی ہے اور اس کو ایک قدم پیچھے دھکیلتی ہے۔۔۔۔۔
" پلیز بشر  مجھے کچھ عجیب سا لگ رہا ہے ۔ "

حجاب بشر سے الگ ہو کر گہری گہری سانسیں لیتے ہوئے کہتی ہے ۔۔۔۔
 وہ اس کی حالت دیکھ کر ایک دم خود بھی عجیب سا ہوجاتا ہے اور ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی سگریٹ اٹھاکر ٹیرس میں کچھ بھی کہے بغیر چلا جاتا ہے جاتا ہے 
💕💕💕💕💕💕💕

" ماما پلیز ماما آنکھیں کھولئے نا ماما"
قدسیہ بیگم نماز پڑھ رہی تھی عشاء کی  آسراء  بیٹھی موبائل حمدان کی دی ہوئی دھمکی کے بارے میں سوچنے میں  مصروف تھی ۔۔۔۔۔
جب اچانک دھپ کی آواز آتی ہے۔ ۔۔
وہ فوراً ماں کی طرف بڑھتی ہے اور زمین پر گری قدسیہ بیگم کو روتے ہوئے اٹھانے کی کوشش کرتی ہے ۔۔۔۔
قدسیہ بیگم کے جسم میں زندگی کی حرارت دم توڑ چکی تھی ۔۔۔
وہ بھاگ کر پڑوس میں سے ماما کی دوست اور ان کے شوہر کو بلا کر لاتی  ہے اور پھر دونوں ہی اسرا کے ساتھ  قدسیہ بیگم کو ہاسپٹل لے کرجاتے ہیں۔۔۔۔۔
ھاسپٹل پہنچ کر پتہ چلتا ہے کہ قدسیہ بیگم کا ہاٹ فیل  ہوچکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اسراء کا سب کچھ یہ طوفان  اپنے ساتھ اڑا کر لے گیا۔۔۔۔۔۔۔
 آخری رسومات بھی محلے والوں نے ہی ادا کیں۔ ۔۔  آسرا کو ہوش ہی نہیں تھا کہ تایا  کو ہی فون کر دیتی۔۔۔۔۔۔ پڑوس کی آنٹی ابھی اس کے پاس ہی بیٹھی تھیں۔۔۔۔
"بیٹا تم آب اس گھر  میں اکیلے کیسے رہوں گی؟"۔۔۔ کوئی رشتہ دار وغیرہ ہے تمہارا وہ نفی میں سر ہلاتی ہے۔۔۔۔۔۔
 پھر اچانک سے اس کے ذہن میں چھناکہ  ہوتا ہے ۔۔۔۔
"مما نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ کوئی بھی ایمرجنسی ہو تو الماری میں ایک نمبر ہے وہ تمہاری خالہ کا ہے بیٹا کبھی ایسا وقت آئے جب تم کسی مصیبت میں ہو تو خالہ سے رابطہ کر لینا "۔۔۔

اس وقت تو وہ ماما کی بات کو ہنسی میں اڑا دیتی ہے۔۔۔۔۔
" ارے ماما کیا ضرورت ہوگی خالہ سے بات کرنے کی اور آپ نے کبھی بتایا نہیں میری خالہ بھی ہے کوئ۔ "

💖💖💖💖💖💖

جاری ہے۔ ۔

0 comments:

Post a Comment