tu kitni masoom hai episode 4 by aymen nauman
آج ولیمے کی تقریب اپنے عروج پر تھی حجاب آج برات سے بھی زیادہ حسین لگ رہی تھی گرین اور پنگ کے امتزاج کا غرارہ پہنے وہ بڑے مزے سے اسٹائل مار مار کر کیمرہ مین کو حیران اور" پریشان" بھی کر رہی تھی۔۔۔۔
بشر : "یہ اپنا چھچھور پن تھوڑا کم کرو "۔۔
حجاب :"2،3 پوز اور "۔۔۔۔
بشر کی گھوریاں بھی حجاب کو باز نہیں رکھ پائیں۔۔۔۔
"سر آپ تھوڑا قریب آئے "
"میم آپ سر کے سینے پر سر رکھئیے"
کیمرے مین نے کہا ۔۔۔۔
"ارے ایسے تھوڑی بشر آپ میرے شولڈرس پر ہاتھ رکھیں اور میں آپ کے سینے پر سر رکھوں گی"۔۔۔
حجاب نے جیسے فوٹوگرافی میں" پی ایچ ڈی" کر رکھی تھی ۔۔۔۔۔
بشرشرمندگی سے پانی پانی ہو رہا تھا بس نہیں چل رہا تھا حجاب کا سر ہی پھاڑ دے۔۔۔
یاچلوبھر پانی میں خود ہی ڈوب جائے۔۔۔
"حجاب کیمرہ مین کو زیادہ پتا ہے نہ کس طرح pics لینی ہوتی ہے "۔
بشر نے حجاب کو دانت پیستے ہوئے کہا ۔۔۔
وہ غصے سے حجاب کو کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا کہ سامنے سے سمیر کو آتا دیکھ کر چپ ہو گیا ۔۔۔
"چلیں بس بہت ہے یہ پکس بشر گویا صبر کا سانس لیتا ہے "۔۔۔
وہ حیران تھا اور آجز بھی حجاب کی ان اوٹ پٹانگ حرکتوں پر۔ ۔۔۔
ادھر حجاب جو کہ ابھی اور کوئی پوسز مارنے کے لیے تیار تھی ۔۔۔۔۔
سمیر کو آتا دیکھ کر دل مسوس کر رہ گئی ۔۔۔
سمیر اور بشر اب باتوں میں مصروف تھے۔۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 💓💓💓💓💓💓۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
"بیٹا حوصلہ رکھو بھرجائی بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گی "۔۔۔۔
مکیم صاحب نے اسراء کے سر پر ہاتھ پھیر کر گویا تسلی دینا چاہی ۔۔۔۔۔
وہ اپنے بھائی کی اکلوتی بیٹی کو یوں اس طرح روتے دیکھ کر خود بھی افسردہ ہو رہے تھے ۔۔۔بھتیجی بھی وہ جو بیس سال بعد ان کی نظروں کے سامنے آئی تھی ۔۔ ۔ جس کو انہوں نے اپنی نظروں کے سامنے رکھنے کے لئے اپنی محبت اور شفقت دینے کے لئے اپنے بیٹے سے محض اسراء کی سات سال کی عمر میں ہی نکاح کروا دیا تھا ۔۔۔
وہ آسرا کو ہر طرح کے سرد و گرم سے بچانا چاہتے تھے ۔۔۔
اسرا کو تو جیسے اردگرد کی کچھ خبر ہی نہیں تھی ۔۔
وہ اپنی ماں کی جلد صحت یابی کے لیے اپنے رب کے آگے گڑ گڑائے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
"اے میرے اللہ تو میری ماں کو زندگی دےدے" ۔۔۔
"بدلے میں مجھ سے میرا تو سب کچھ لے لے۔۔
اے میرے اللہ میاں جی میری ماں کے علاوہ کوئی رشتہ نہیں ہے میرا "
وہ اپنے حواس میں نہیں تھی جب سے ڈاکٹر نے اس کو بتایا تھا قدسیہ بیگم کو دوسرا ہاٹ اٹیک آیا ہے وہ گویا اپنے حواس کھو بیٹھی تھی اور جب سے رو رو کے بار بار یہی جملہ دہرا رہی تھی ۔۔۔۔
حمدان جو کب سے خاموشی سے آسرا کو روتا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ایک گلاس میں ٹھنڈا پانی انڈیل کر اسراء کے لئے لایا ۔۔۔
اسراء نے گلا س تھام لیا اور ایک ہی سانس میں پی گئی ۔۔۔
ایسا لگتا تھا جیسے بالکل ہی جان نکلنے کی ہو اس کی ۔۔۔
"رو نہیں چاچی بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گی "۔۔
ڈاکٹر سے میں نے پوچھا تھا ان کا کہنا ہے کہ کچھ ہی دیر میں چاچی کو ہوش آجائے گا"۔۔۔
اس نے بس خاموش نظر حمدان پر ڈالی اور واپس اپنے مشغلے میں مصروف ہوگئ۔۔۔
حمدان کو اپنے اور اسراء کے درمیان رشتے کے بارے میں علم تھا اور آج وہ اپنی ہم سفر کو سامنے دیکھ کر جہاں خوش ہوا تھا وہاں اس کا ہر آنسو اس کو اپنے دل پر گرتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔
جب اس کا نکاح اسراء سے ہوا وہ چودہ سال کا تھا۔۔
حمدان اچھی طرح اس رشتے کی اہمیت کو سمجھتا تھا ۔۔۔۔
دادی کے لاکھ کہنے پربھی وہ اسراء سے کبھی بھی بددل نہیں ہوا ۔۔۔۔
اس کو آج بھی یاد ہے وہ چھوٹی سی معصوم سی ہری آنکھوں والی بچی جو ہر وقت منہ بصورتی رہتی تھی ۔ ۔ ۔ ۔۔۔
اور جب بالکل ہی تھک جاتی تھی کوئی اس کی بات نہیں سنتا تھا تو احمد ان کی انگلی پکڑ کے اس کے ذریعے اپنی بات سب سے منواتی تھی ۔۔۔
گویا اس کو یہ یقین تھا کہ باباماما کے بعد بس وہی ہے جو اس کی ہر خواہش پوری کر سکتا ہے ۔۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔💕💕💕 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ولیمے کی تقریب ختم ہونے کے بعد وہ لوگ گھر آئے پھر ۔۔۔۔۔۔
ماما حجاب کو کمرے میں لے کر آئیں اور بہت نرمی سے بولی۔۔۔۔۔
"بیٹا میں بشر کی ماں ضرور ہوں مگر اب تمہاری بھی ماں ہوں۔ ۔۔۔ تم زندگی میں کبھی بھی مجھے اپنی ماں سے کم نہیں پاؤں گی"۔۔۔۔
حجاب کی آنکھیں ان کی اس بات سے جھلملا گئیں۔۔۔۔۔۔
"جی آنٹی "۔۔۔۔۔
حجاب بس اتنا ہی کہہ سکی۔ ۔۔
"ارے ابھی تو بتایا ہے کہ میں آپ کی مما ہو ں" ۔۔
انہوں نے پیار سے حجاب کے سر پر چپت رسید کری۔۔۔۔
"مما "۔۔۔۔وہ کتنے دن بعد یہ لفظ بول پائی تھی ضبط سے حجاب کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی ۔۔
ماما نے اس کو اپنے سینے میں بھینچھ لیا ۔۔۔
دو موتی ان کی آنکھوں سے بھی گر گئے ۔۔۔۔اور حجاب کے کامداد دوپٹے میں جزب ہوگئے ۔۔
۔
"نہ بچہ ایسے نہیں شاباش آج کے بعد میُں آنسو نہ دیکھو آپ کی ان پیاری سی آنکھوں میں "۔۔۔
ماما نے پیار بھری خفگی سے اس کو ڈانٹ پلائی ۔۔
ماما اس کی پیشانی پر پیار کر کے کمرے سے جانے لگیں کے کچھ یاد آنے پر واپس مڑیں اور بولیں۔۔۔
"اچھا گڑیا آپ کا "نائٹ ڈریس "واش روم میں ہے فریش ہو کے پہن لیے گا "۔۔۔۔
یہ کہہ کر وہ رکی نہیں کمرے سے نکل گئیں۔۔۔۔
حجاب نےشریف بچوں کی طرح گردن ہلا دی ۔۔💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
"باباآ پ جائیں میں ہوں ادھر "
حمدان نے بابا کو کہا ۔۔۔۔
بابا بضد تھے کہ وہ ھوسپٹل میں ہی رہیں گے ۔۔
۔
"نہیں بابا آپ جائیں آپ کا ویسے بھی بی پی کافی ہآئی ہے ڈاکٹر نے آپ کو آرام کے لئے کہا ہے "۔۔۔
بابا جو بار بار ضد کر رہے تھے اب خاموش ہوگئے وہ جانتے تھے ان کا بیٹا جو بات کہہ دے اس کو آخری فیصلہ سمجھتا ہے ۔۔۔۔
"ٹھیک ہے بیٹا جیسے تمہاری مرضی ۔۔۔میں پھرصبح آؤں گا "۔۔۔
یہ کہہ کر وہ ایک نظر اسرا ء اور قدسیہ پر ڈالتے اسراء کو تسلی دےکر ہسپتال کے کمرے سے باہر نکل گئے ۔۔۔۔۔
اسراءابھی بھی صوفے پر بیٹھی ہسپتال کےکمرے میں زاروقطار رو رہی تھی ۔۔۔
حمدان سے اس کا رونا برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔
حمدان اب دو زانو بیٹھ کر اس کے دونوں ہاتھوں کو محبت سے تھام لیتا ہے ۔۔۔
"اگر اب تم چپ نہیں ہوئی تو میں تمھیں گھر بھیج دوں گا "۔۔۔۔۔/
وہ تھوڑا دھمکی آمیز لہجے میں بولا ۔۔۔
اس کی یوں اس طرح ہاتھ پکڑنے سےوہ ایک دم ہوش کی دنیا میں آئی۔۔۔۔۔
اور اپنے ہاتھوں کو فورا اس کے مضبوط ہاتھوں کی گرفت سے کھیچنا چاہا ۔۔۔۔
حمدان جو اس کو ہی گہری نظروں سے گھور رہا ۔تھا۔ اسکی اس حرکت پر اتنی پریشانی کے عالم میں بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکا ۔۔۔۔۔
"آپ ۔۔۔آپکی ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی "۔۔
وہ اس کی گہری نظروں اور اس قدر قربت سے گھبراہٹ چھپاتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
اس کو پہلی دفعہ کسی مرد نے چھوا تھا ۔۔۔
حمدان کے چھونے سے اسراء کے پورے جسم میں جھرجھری سی پھیل گئی تھی ۔۔۔
حمدان اب مزید محضوض ہوا۔۔۔۔ا۔
اس کو وہ معصوم سی گھبراہٹ چھپاتی لڑکی بہت اچھی لگ رہی تھی سیدھا اس کے دل میں اتر کر گھر کر رہی تھی ۔۔۔۔
حمدان نے اس کا مزید دھیان بٹانے کے لئے کہا ۔۔
"ہمت تو میری اور بھی بہت سی چیزوں کی ہے "
وہ ا سکے کہ کان کے بہت قریب آ کرسرگوشیانہ انداز میں بولا۔۔۔۔۔
وہ اس کی اس حرکت پر سرخ پڑ گئی اور ایک جھٹکے سے اس کو پرے دھکیلا ۔۔۔
"آپ پلیز ایسا نہ کریں مجھ سے دور رہیں میں آپ کی تایا کی بیٹی ہوں بس اس لئے آپ کا احترام کر رہی ہو ں "۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی گھبراہٹ اس کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے تھوڑا اپنے آپ کو نڈر ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے الٹا ہی بول گئ ۔۔۔
"ارے ابھی سے آپ میرا احترام کرنا سیکھ گئی ہیں ۔۔اچھی بات ہے مستقبل قریب میں تمہیں پریشانی نہیں ہوگی "۔۔۔۔
وہ اس کے گالوں پہ آئ آوارہ لٹ کو اپنی شہادت کی انگلی پر لپیٹا معنی خیز انداز میں بولا ۔،۔
اس کی اس حرکت پر اسراء کی دھڑکن بہت تیز ہو گئی ۔۔۔۔
رات ایک بجے کا وقت تھا ماحول میں عجیب سی فسوں خیزی سی تھی ایک فریق بہت کچھ جانتا تھا اور دوسرا بہت کچھ باتوں سے بے خبر کچھ بھی نہیں۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ماما بہارا آ کر بشر کو ڈھونڈتی ہیں
"ارے تم یہاں ہو "۔۔
بشر لان میں بیٹھا کسی سے فون پرمحو گفتگو ان کو نظر آتا ہے ۔۔۔
ماما اس کے قریب آکر فون بند ہونے کا انتظار کرتی ہیں
جیسے ہی وہ فون بند کرتا ہے ماما اس کو کان سے پکڑ کر پوچھتی ہیں ۔۔۔۔۔
"بیٹا آپ کی ایک عدد نئ نویلی دلہن بھی ہے جو آپ کا کمرے میں انتظار کر رہی ہے اور آپ یہاں کس سے باتیں بھگار رہے تھے"۔۔۔۔۔
"کر ہی نا لیں ماما محترمہ میرا انتظار "۔۔۔۔۔۔
"اور رہی بات دلہن کی تو وہ نئی نویلی دلہن نہیں بلکہ نئی نویلی "چڑن" ہے میرے لئے "۔۔۔۔
اسنے جل کے سوچا ۔۔
مگر ماما کے سامنے ظاہر یہی کیا کہ مذاق میں کہہ رہا ہے ۔۔۔۔
"رہنے دو پتا ہے مجھے دل میں تو تمہارے لڈو پھوٹ رہے ہونگے "۔۔۔
ماما نے ہلکی سی دھپ لگاتے ہوئے چھیڑا ۔۔۔
"اچھا چلو بس اب اپنے کمرے میں جاؤ "
ماما نے کچھ ایسے لہجے میں بولا کے بشر کی ہمت ہی نہیں ہوئی کچھ اور کہنے کی ۔۔۔
"جی جا رہا ہوں"۔۔
اس نے منہ بسورا
"دعا کیجئے گا میری عافیت رہے آپ کی بہو چوڑیل سے"۔۔۔۔۔
وہ چڑھ کر بولا ۔۔۔اور چاروناچار اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
پھر جب تک وہ کمرے میں نہیں چلا گیا ماما وہی کھڑی رہیں۔ ۔۔۔
۔"شکر بس اللہ پاک بس تو ان دونوں کے رشتے میں صبر اور برداشت پیدا کردے۔ ۔۔ ایک مشرق تو دوسرا مغرب "۔۔۔
انہوں نے دل میں کہاں وہ جانتی تھیں کہ دونوں ہی بہت ضدی ہے ایک سیر ہے تو دوسرا سوا سیر ۔۔۔
💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗💗
ماما کے کمرےجانے سے بعد وہ اٹھ کر شیشے کے سامنے کھڑی ہوجاتی ہیں اور گھوم گھوم کر خود کو دیکھ رہی ہوتی ہے ۔۔۔
"
"کتنا حسین میک اپ کیا ہےاس میک اپ آرٹسٹ نے "
حجاب اب شیشے کے سامنے اپنا جائزہ لینے میں مصروف تھی ۔۔۔!
آج وہ اپنے ریسپشن (walima) میں لگ بھی اپسرا رہی تھی ۔۔۔
"پھر اپنا موبائل اٹھا کر کھٹا کھٹ پندرہ ،بیس سلفی لے ڈالیں "۔۔۔۔۔
"آرے وہ اب تو اور زبردست پوز بنے گا"
حجاب کی نظر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے بشر کے بلیک سن گلاسس پر پڑھی ۔۔۔۔
وہ جلدی سے گلآ سسس اٹھا کر لگاتی ہے ۔۔
"ہونٹوں کو گول گول کر کے چونچ بنا کر وo جیسے ہی کلک کرتی ہے ۔۔۔۔۔"
این اسی وقت بشر کمرے کا دروازہ کھول کر اندر ا
آتا ،۔۔
"کلک" ۔۔۔۔(دروازے ک بلکل سامنے چونکے ڈریسنگ ٹیبل تھی )دروازے سے اندر آ تے بشر اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی حجاب دونو اس تصویر مے قید ہوجاتے ہے "۔۔۔۔💕
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
حجاب جیسے ہی باتھ روم میں جاتی ہے اس کی نظر ماما کے لٹکائے ہوئے """نائٹ ڈریس"""" پر پڑتی ہے ۔۔۔
"ارے یہ کچھ زیادہ ہی چھوٹا نہیں ہے "
وہ بلیک نائیٹی کو دیکھ کر بڑبڑاتی ہے
"کبھی تو پاس میرے آءو"
"کبھی تو نظر مجھ سے ملاو"۔۔۔۔۔۔۔!
وہ واش روم سے فریش ہو کر اپنی ہی دھن میں گنگناتی ہوئی باہر نکلتی ہے ۔۔۔
بشر جو کہ فریش ہونے کے چکر میں بیٹھا اس کےباہرآنے کا ویٹ کر رہا تھا اس کی گنگناہٹ پہ یکدم چوک تا ہے ۔۔۔
پھر جیسے ہی نظر اٹھا کر دیکھتا ہے مدھوش سا ہوجاتا ہے ۔۔۔
وہ بال کھولے بلیک نائٹی میں باتھ روم سے باہر آتی ہے ۔۔۔۔۔
حجاب اس کے حواس پر طاری ہو رہی ہوتی ہے ۔۔۔وہ آہستہ سے اس کے قریب جاتا ہے اور اس کے کمر کے گرد اپنا ایک بازو حائل کر دیتا ہے
اور دوسرے ہاتھ سے اس کے لمبے بالوں کو پکڑ کر ان کی خوشبو اپنے اندر اتار رہا ہی ہوتا ہے کہ ۔۔۔
چھوڑے میرے بالوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔
حجاب تھوڑا چیخ کے بولتی ہے
وہ اس کے مزید قریب ہوتا ہے اور آپنے لب اس کی گردن پر رکھ دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔
حجاب پہلے تو نہ سمجھیں کے عالم میں اسکو دیکھتی ہے نہ جانے کیوں اس کی اتنی قربت سے اس کی دھڑکن تیز ہونا شروع ہوجاتی ہے ۔۔۔۔
ابھی بشر مزید کوئی پیشقدمی ہی کرتا کرتاکہ ۔۔۔۔
"چھوڑیں مجھے گد گددی ہو رہی ہے یہ کیا کر رہے ہو مسٹر ہٹلر "۔۔۔/
"میں ماما کو بتاؤں گی آپ نے میرے بال پکڑے تھے زور سے "۔۔۔
بشر یکدم سٹپٹا کر اپنے حواسوں میں واپس لوٹتا ہے۔۔۔۔۔
"یہ۔۔۔۔۔ یہ کیا بیہودہ قسم کا لباس پہن رکھا ہے تم نے "۔۔۔۔
اب وہ کافی حد تک اپنے آپ کو سنبھال چکا ہوتا ہے
اور غصے میں اس سے کہتا ہے ۔۔۔
"ارے واش روم میں یہی ڈریس تھا "۔۔۔
"ماما نے کہا تھا یہی ڈریس پہننا ""۔۔۔۔۔
بشراس کی بات سن کر مزیسٹپٹا جاتا ہے ۔۔۔
"مجھے بھی لگا تھا کہ نائٹ ڈریس تھوڑا چھوٹا ہے مگر پھر بھی ماما نے کہا تھا تو میں نے پہن لیا ۔۔۔
حجاب اپنی گول گول آنکھیں پٹ پٹا پٹ پٹا کر کہتی ہے ۔۔۔
"میں تو سمجھا تھا شاید محترمہ آج کے موقع کی نزاکت کو سمجھ کر پہن کر آئی ہو ں گی "۔۔۔وہ خود سے کہتا ہے اور پھر مٹھیاں بھیجتا اپنی قسمت پر لعن طعن بھیتا باتھ روم کی طرف بڑھ جاتا ہے ۔۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment