Monday, December 10, 2018

tu kitni masoom hai episode 3 by aymen nauman

tu kitni masoom hai episode 3 by aymen nauman

بشر جیسے ہی کمرے سے باہر نکلتا ہے۔۔
سامنے ماما اور بابا کمرے کے دروازے کے باہر کھڑے ہوتے ہیں ۔۔۔
بشر شرمندہ سا آگے بڑھتا ہے ۔۔
بابا کچھ بھی بولے بغیر خاموشی سے واپس ہو جاتے ہیں ۔۔۔
البتہ ماما اس کا راستہ روکے کھڑی رہیں۔ ۔۔۔

"کیا ہوا بیٹا سب خیریت تو ہے "۔۔؟
ماما کچھ جاتے ہوئے استفسار کرتی ہیں ۔۔
مگر کڑی نظروں سے بشر کو بھولنا نہیں بھولتیں۔ ۔

"جج ۔۔۔۔جج۔ ۔۔جی ماما سب ٹھیک  ہے "۔۔۔
بشر خامخا نظریں چراتا آگے بڑھ جاتا ہے ۔۔۔

"کچھ نہ کرنے پر یہ حال ہے کچھ ہوجائے تو پتا نہیں کیا کریں گے "۔۔
بشر منہ ہی منہ  میں بر بڑھاتا ہے ۔۔۔۔
اس کو رہ رہ کر ماما کی لاڈلی بہو کے اپر  تاؤ  آتا ہے۔۔۔
مامااس کو  گھورتے ہوئے کہتی ہیں ۔
 ۔ "بشر ر کو "
بشر  جانے کے لئے پر تول رہا ہوتا ہے ماما  کی آواز پر پلٹتا ہے ۔
"جی"
"حجاب ابھی بہت معصوم ہے اور نہ سمجھ بھی  اس کا خیال رکھنا" ۔۔۔
ماما کی بات پر وہ مزید شرمندگی سے لال ٹماٹر ہو  جاتا ہے  ۔۔۔۔
بشر کا بس نہیں  چل رہا ہوتا کے  حجاب  کا سر ہی پھاڑ دے ۔۔۔
ماما کچھ بھی کہے بغیر مشرقی کمرے کی طرف رخ کرتی ہیں۔ ۔۔۔
 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 💖💖💖💖💖 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

"بیٹا اب کچھ سوچ لے "
"کب تک تم باپ بیٹے اس کلمو ہی  عورت کا انتظار کرتے رہو گے ؟"
دادی پاندان بند کرتے ہوئے کچھ تنفر سے گویا ہوئیں۔

"اما تو اتنی بڑی بڑی باتیں نہ کیا کر"۔۔۔
"بھر جائی بہت اچھی تھی "
"ہوسکتا ہے اس رات کچھ ایسا ہوا ہو جو ہمارے علم میں ہی نہ ہو "۔۔
مقیم صاحب جیسے ماں کو سمجھانا چاہتے تھے ۔۔

" اے بچے مجھے سب پتا ہے کون صحیح تھا کو ن نہیں "۔۔
"ماں جی جب ہمدان کا نکاح ہوا تھا وہ پورا چودہ سال کا تھا وہ کوئی بچہ نہیں تھا میں نے اسے ایک دوبارکہا تھا کہ تم شادی کر لو پتہ نہیں اب  lسرا کہاں ہے"؟
ما ں جی ہم تم گوشی سے مقیم صاحب کی بات پوری  سن رہی تھیں۔
"مگر وہ کہتا ہے کہ میں اپنی منکوحہ کو کہیں نہ کہیں سے ڈھونڈ کے رہوں گا"۔۔۔
"بڑا آیا ۔۔۔پتا نہیں میں اپنے پوتے کے بچے دیکھ سکوں گی یا نہیں"  ۔۔۔
"تو یہ سمجھ لے جیسی ماں تھی ویسی ہی بیٹی بھی ہوگی "۔۔
"ما ں جی بھرجائی  بہت نیک سیرت تھی "
"ہنہ۔۔۔۔  نیک سیرت "۔۔۔
اماں نے ہنکارا بھرا
"بڑی آئ نیک سیرت پہلے میرے سونے لال کو اس کی نحوست کھا گئی اور اب میرے پوتے کو میں کسی صورت قربان نہیں ہونے دوں گی "۔۔۔

ماں جی کے لہجے میں حقارت ہی حقارت تھی ۔۔
""نہ کیا کر مجھ سے ایسی باتیں اماں مجھے بہت چھپتی ہیں مجھے بھر جائیں کبھی بھی غلط یا کسی بھی صورت قصوروار نہیں لگی "۔۔۔
"چلیں بابا "۔۔۔
حمدان جو اندر آ رہا تھا تمام باتیں سن لیں ۔۔
مگر خاموش رہا
"اے میاں کہاں نا سلام نا دعا "۔۔۔۔
دا دی نے لتاڑا ۔۔
ہمد  ان کو بالکل بھی پسند نہیں تھا کہ کوئی کسی کے کردار کی دھجیاں اڑائے ۔۔
"السلام علیکم دادو آج بابا پروٹین چیک اپ ہے میں شہر سے اسی لیے آیا ہوں بابا بہت دنوں سے خود سے نہیں جا رہے "۔۔۔
ہمدان جیسے جلدازجلد ان کے سامنے سے ہٹ نہ چاہ  رہا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 💕💕💕💕💕۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔
ماما  دو تین دفعہ نوک کرتی ہیں بشر ک  کمرے کا دروازہ ۔۔۔۔
مگر جب کوئی آواز نہیں آتی تو آہستہ سے دروازہ وا کرتی اندر جاتی ہیں ۔۔۔
مگر یہ کیا ۔۔۔۔۔
کمرے کی حالت دیکھ کر چکرا  سی جاتی  ہیں   ۔۔
سامنے دیوار پر طرح طرح کے نقش و نگار بنے ہوتے ہیں (شاید چھپکلی کا کر یہ کرم کیا گیا تھا )۔۔۔۔۔
سینڈل ۔۔۔۔برش ۔۔۔ریموٹ ۔ ۔حد یہ کہ ہر وہ چیز جس سے دیوار پر بےدردی سے کسی کی جان لینے کی کوشش کی گئی تھی ۔۔۔۔۔

"البتہ جیسے ہی ماما کی نظر حجاب پر پڑتی ہے۔۔۔ جو بالکل معصوم سی بغیر اپنا لباس اور جیولری اتارے مدہوش نیند کے مزے لوٹ رہی تھی۔۔۔۔
 ماما آگے بڑھ کر اس پر کمفٹر  ڈال کر اور محبت بہت آہستہ اس کا آدھا زمین پر گرا ہوا ہاتھ اس کے سینے پر پر احتیاط سے رکھ کر بار چلی جاتی ہے ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 💓💓💓💓💓 💓💓💓💓💓 ۔ ۔ ۔  ۔

وہ اور ما ماجیسی ہی ڈاکٹر کے کمرے سے باہر نکلی سامنے رے  سیپشن سے مرتے شخص کی آنکھیں پتھرا گئیں جیسے۔۔۔۔۔
دوسری طرف کچھ ایسا ہی حال قدسیہ بیگم   کا بھی تھا  ۔۔۔۔
پورے بیس سال کے طویل عرصے کے بعد وہ اس چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💗💗💗💗💗💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بہت جلد میں تمہارے سامنے ہونگا "
سمیر بے خودی سے بولا ۔۔
"ہاں مجھے بھی بہت انتظار ہے اب یہ لمحےگزرتے  نہیں ہیں"۔۔۔//
فرح نے کہا  ۔۔۔۔
"بس میرے آتے ہی ۔۔۔جو ہے ہم شاپنگ کریں گے شادی کی اور ایک دو دن میں نکاح" ۔۔۔۔۔
"‏اف لگتا ہے بڑی مشکل سے میری بیوی تم سے برداشت ہو رہی ہے "۔۔۔۔۔۔
"اپنی شادی کے دن اب نہیں دور ہے ۔۔۔۔ تو بھی تڑپآ کرے میں بھی تڑپاکروں۔ ۔۔"
سمیراب باقاعدہ گنگنا رہا تھا ۔۔ ۔
 

 ۔ ۔ ۔ 💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

اگلے دن صبح وہ فریش ہونے کمرے میں آتا ہے پہلی نظر اس کی حجاب پر پڑتی ہے ۔۔۔۔
وہ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی ۔۔۔۔
حجاب ابھی تک شرارے میں ہی تھی ۔۔۔۔
ایک پاؤں زمین پر لٹک رہا تھا ۔۔۔۔
بندیا   ماتھے سے بالوں میں الجھ  چکی تھی
  1پاؤ شرارے میں سے تھوڑا بہار تھا ۔۔۔

ھاتھ بیڈ کے نیچے لٹک رہا تھا
کمفٹر آدھا بیڑ پر تو آدھا زمین کی زینت بنا ہوا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔
عجیب وغریب طریقے سےمحترما بڑے مزے سے سو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
بشر سلگتی ہوئی نظر حجاب پر ڈالتا باتھ روم کی طرف بڑھ جاتا ہے۔۔۔۔
بڑبڑاتے ہوئے اس کو اپنی  قسمت پر رہ رہ کر غصہ آ رہا ہوتا ہے ۔۔۔
ا"ووں۔ ۔۔۔۔۔اووووں۔ ۔۔۔"
بشرابھی برش بی کر رہا ہوتا ہے کہ جب عجیب و غریب آوازیں سن کر باتھ روم کا دروازہ تھوڑا سا کھول کر اپنی گردن باہر نکال کر دیکھتا ہے تو مزید بھنوٹ ہو جاتا ہے ۔

حجاب صاحبہ اٹھ چکی تھیں ۔۔۔
دونوں ہاتھ ہوا مے  تھے اور مزے سے انگڑائیاں لی جا رہی تھیں  ۔۔۔

"پہلی دلہن ہو گی جو اس قسم کی انگڑائیوں سے صبح کا آغاز کر رہی ہے۔ ۔""

"بشر جل بھن کر سوچتا ہے اور زور سے باتھروم  کا دروازہ بند کرتا ہے"۔۔
حجاب  ایک دم چونک کر اپنی موندی موندی آنکھوں سے باتھ روم کی طرف دیکھتی ہے اور برا سا منہ بنا کر کہتی ہے۔۔۔
" ہٹلر نہ ہو تو "۔۔۔۔
اب وہ مکمل طور پر کمرے کا جائزہ لیتی ہے خوبصورتی سے سجے سجائے گلابوں پے نظر پڑتے ہی وہ ادھر ادھر دیکھتی   ہے مطلوبہ شہ hمل  ہی جاتی ہے ۔۔۔
وہ فولڈنگ چیر  کو کھول کر اب اس پر چڑھ کر پھول اتار رہی تھی ۔۔

"اماں کہتی تھی پھولوں کو نہیں توڑا  کرو جن بھوت پیچھے پڈ  جاتے ہیں اور یہاں تو ہر طرف بس یہی ہیں "۔۔۔۔۔
"پتہ نہیں کتنے جن بھوت اب تک جمٹ چکے ہوں گے مجھ سے "۔۔۔
وہ خود پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونک مارتی ہے ۔۔۔

بشر  زور سے bathroom کا دروازہ کھول کر فریش ہو کے نکلتا ہے ۔۔۔۔
لمحے بھر کو مبہوت سارہے جاتا ہے ۔۔۔
ؤ زنی شرارہ کا دوپٹہ lتر چکا تھالمبے سلکے  بال پورے اس کی پشت پر بکھرے ہوئے تھے ۔n
وہ ایک مکمل خوبصورتی کا پیکر تھیں کمر سے نیچے آتے بال دودھ ملائی جیسی رنگت

سمارٹ  فگر ۔۔اس پے تضاد کے معصوم اور کمسن حسن بشر کو جیسے مدہوش سا کر رہا تھا ۔۔۔
وہ ساقط سا کھڑا ہی تھا کہ ایک۔۔۔۔۔۔۔
 چر ر ۔۔۔۔۔۔
 کی آواز پے وہ یکدم  حواسوں  مے لوٹ تا  ہے ۔۔

 جیسے ہی اس کی نظر چیئر پر پڑتی جو بیلنس وٹ ہونے کی وجہ سے  واپس fold ہوری تھی۔۔
  بشر فورا بھاگتا ہوا ہجاب کی  طرف آتا ہے اور اس کو زمین بوس ہونے سے پہلے ہی اپنی مضبوط  باہوں میں بھر لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"۔گر گئی۔۔۔۔۔ گر گئی"۔
 وہ زور زور سے چیخ رہی تھی۔۔۔

 یہ محسوس کیے بغیر کے وہ اپنے  شوہر کی مضبوط باہو کے حصار میں قید ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔
اس کے زور زور سے چیخنے چلانے پے  بشر ایک دم گھبرا جاتا ہے ۔۔
"
کیا ہے چپ ہو جاؤ"
 جنگلیو  کی طرح مت چیخو ۔۔۔۔
وو حجاب کے لبوں پے اپنا ہاتھ رک دیتا ہے۔ ۔  آوچ ۔۔۔۔
حجاب اس کے ہاتھ  پےاپنے دانت گڑھا دیتی ہے ۔۔
بشر بل بلاتا ہوا اس کو چھوڑ دیتا ہے ۔۔۔
 حجاب جواب ابھی بھی آنکھیں بند کئے چیکھنے میں مصروف تھی ۔۔
 وہ اب دھڑام سے زمین پر گر چکی تھی۔ 
"گر گئی۔۔۔۔ گرگئی۔۔۔۔۔
حجاب  جیسے ہوش کی دنیا میں واپس آتی ہے مگر اب کیا دلہن ساہبا زمین بوس ہو چکی تھی ۔۔ ۔
"کیوں گرایا؟ "۔۔۔۔۔۔
 وہ غصے سے بشر کو بولتی ہے۔۔۔
 اوربشر ایک جلانے والے مسکراہٹ اس پر اچھالتا ،۔

"گڈ مارننگ"۔
 کہتا باہر نکل جاتا ہے۔۔۔۔
حجاب  اپنی کمر پہ ہاتھ رکھ kr اب اٹھنے کی کوششوں میں تھی ۔۔۔💕💕💕💕💕💕
جاری ہے

0 comments:

Post a Comment