tu kitni masoom hai episode 1 by aymen nauman
تو پھر کیا سوچا تو نے ؟
سمیر بشر کے آفس میں بیٹھا اس سے استفسار کر رہا تھا ۔۔
"میں تجھے بتا چکا ہوں "۔۔۔
بشر نے کہا ۔۔
"تو تیرا فیصلہ آج بھی وہی ہے "۔۔
سمیر کے لہجے میں کچھ سردمہری سی تھی ۔۔
"یار تو میرا دوست ہے میں تیری مدد کرنا چاہتا ہوں مگر "۔۔
بشر تھوڑا روکا ۔۔
"مگر کیا "
سمیر نے استہفامیہ نظروں سے بشر کو دیکھا ۔۔
"یار میں دو ایک دفعہ حجاب سے ملا ہو وہ بہت چھوٹی ہے اور پھر معصوم بھی "۔۔۔
بشر سمیر کو ہر پہلو سمجھانا چاہ رہا تھا ۔۔۔
"خیر سے وہ کالج میں ایڈمیشن لے چکی ہے "۔۔
"اور پھر جب ذمہ داری پڑے گی تو میچیور بھی ہوجائے گی "۔۔۔
بشر خاموش رہا ۔۔
"خیر میں نے تیرا جواب مانگا تھا "۔۔
"تجھے پورا اختیار ہے فیصلے کا "۔۔
سمیر تھوڑا رکا اور آگے کی طرف جھک کر میز پر دونوں ہاتھ رکھ دیئے اور پھر سے گویا ہوا ۔۔
"خیر حسن بھائی کے بارے میں کیا خیال ہے "۔۔
بشر نے ناسمجھی سے سمیر کو دیکھا ۔۔
"میں نے دوسرا آپشن یہ بھی رکھا تھا کہ اگر تیری کوئی مجبوری ہوئی تو پھر "۔۔
"پھر؟ کیا "
بشر بے چینی سے بولا ۔۔۔
"حسن بھائی "۔۔
آبھی سمیر کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ بشریقدم سے بولا ۔۔
"تیرا دماغ تو تھیک ہے "
"وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں "
بشر نے جیسے یاد دلانا چاہا ۔۔
"ان کی وائف کی ڈیتھ ہو چکی ہے "۔۔۔
سمیر بولا ۔۔
"تو یہ بھول رہا ہے کہ ان کی ایک بیٹی حجاب کی ہم عمر ہے"۔
بشر کو رہ رہ کر سمیر کی سوچ پر افسوس ہو رہا تھا وہ کیسے اپنے مفاد کے لئے اپنی بہن کو اندھی کھائی میں دھکیل سکتا تھا ۔۔۔
حجاب کا معصوم شرارتی سا چہرہ بشر کی آنکھوں میں گھوم سا گیا ۔۔
"یہ لاسٹ آپشن ہے میرے پاس اور پھر جب حسن بھائی کو میں نے اپنی پریشانی بتائی تو انہوں نے فوراً پرپوزل دے دیا "۔۔۔
بشر حسن کو اچھی طرح جانتا تھا۔۔ وہ سمیر کے کزن تھے ۔۔۔۔۔۔بشر کو وہ کچھ خاص پسند نہ تھے ان کی بیگم کی وفات کو ابھی پورا سال بھی نہیں ہوا تھا کہ ان کو دوسری شادی کی بھی لگ گئی ۔۔۔۔ان کا ایک بیٹا ہائر سٹڈیز کے لیے اب روڈ میں تھا ۔۔۔ اور بیٹی حجاب کی ہم عمر۔۔۔۔حسن بہت ہی رنگین فکر فطرت کا مالک تھا ۔۔۔
بشر کا دماغ گھوم گیا ۔۔۔
پھر لمحے بھر کو بشرنے سوچا ۔۔
ایک معصوم لڑکی کو جانتے بوجھتے اندھی کھائی میں نہیں دیکھی لے گا ۔۔۔۔
"اور بس پھر فیصلے کی گھڑی تھی اور فیصلہ ہوچکا تھا ۔۔۔۔!
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔💕💕💕💕💕💕💕💕۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
"ماما آج آپ آٹھ بجے تک ریڈی رہیے گا "۔۔
اسراء دوپٹہ سر پر سیٹ کرتے ہوئے بولی ۔۔
"کیوں بیٹا "۔۔کہیں دعوت میں جانا ہے ؟
"اوہو ماما میں جانتی تھی آپ یہی کہیں گی" ۔۔
"آپ کو موقع مل جائے گا مجھے مصروف دیکھ کر بد پر ہیزی کرنے کا "۔۔۔
وہ مصنوعی خوف گی سے بولی ۔۔
ماما چھینپ سی گئیں۔ ۔۔
"آپ کا میں نے آج ھارٹ اسپیشلسٹ سے اپوائنمنٹ لیا ہے "۔۔۔
"میں ٹھیک ہوںبیٹا اور جو دعوائی میں لے رہی ہو وہ بھی صحیح ہے"۔۔
ما معنی جیسے ٹالنا چاہا ۔۔
مگر سامنے بھی انہی کی بیٹی تھی ۔۔
"ماما میری کولیگ ہے اس نے مجھے ان کے بارے میں بتایا ہے یہ ملک کے بہت اچھے ہارٹ سرجن ہیں "۔۔
ڈاکٹر نے جلدازجلد قدسیہ بیگم کے بائپاس کا کہا تھا ۔۔۔اور جب سے ڈاکٹر نے اسراء کو یہ روح فرزا خبر سنائی تھی اس کی مانو راتوں کی نیند ہی فنا ہو گئی تھی۔۔۔
اسی سلسلے میں وہ آج کا فون منڈلی کرائی تھی ۔۔
"بس ماما مجھے دیر ہورہی ہے میں نکل رہی ہو "۔۔۔
"آپ بس رات آٹھ بجے تک تیار رہیے گا "۔۔۔
"اللہ حافظ "۔۔
وہ ماما کو جلدی سے ماتھے پر پیار کر کے باہر نکل گئی ۔۔
"خداحافظ "۔۔
ماما نے اپنی آنکھ میں آیا نناسا آنسو اپنی انگلیوں کی پوروں میں جبز کرلیا ۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 💕💕💕💕 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
"بشر بیٹا بات سنو میری"۔۔
سائرہ بیگم مصروف سے انداز میں بشر کو باہر جاتے دیکھ کر کہنے لگی ۔۔۔
"جی ماما" ۔۔۔۔
وہ ماما کے اردگرد پھیلی چیزوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالتا ہے ۔۔۔
"یہ دیکھو بشر "۔۔۔
"میں کچھ چیزیں لائی ہوئی حجاب کے لئے "۔۔
وہ چاروں طرف ڈریسز جیولری سینڈل وغیرہ پھیلا کر بیٹھی ہوئی تھیں۔ ۔
پورا ھال کمرہ حجاب ہی کی چیزوں سے بھرا ہوا تھا ۔۔۔
بشر نے ایک اچٹتی سی نظر ہر چیز پر ڈال کر کہا ۔۔۔۔
آپ یہ" شلوار سوٹ" کے بجائے" ٹراؤزر اور ٹی شرٹ لیتی "اور "سینڈل کے بجائے "ببل گمر " کے شوز ۔۔۔ہونے چاہیے تھے ۔۔۔۔
اور چوڑیوں چھور کر" بیٹ بال" کی ضرورت تھی ۔ ۔
وہ جل بھن کر بولا ۔۔۔
"بابا جو ابھی ہال کمرے میں داخل ہی ہو رہے تھے اس کی تمام باتیں سن کر زوردار کہکا لگائے بغیر نہیں رہ سکے"۔۔
"ٹھیک ہے بشر بیٹا یہ سب چیزیں میں حجاب کو ولیمے کے دوسرے دن بلا دوں گا "۔۔
بابا اب کچھ سیریس انداز اپناتے ہوئے بولے ۔۔۔۔
"آپ آنے تو دیں ذرا محترمہ کو اس گھر میں بہت ہی سیدھی ہے بالکل جلیبی کی طرح "۔۔۔
بشرتپ کر بولا ۔۔۔
"اور وہاں سے واک آؤٹ کر دیا "۔۔
وہ دونوں پیچھے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگے ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 💕💕💕💕💕۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
"فراہ میں تم سے بار بار کہہ رہی ہو اپنے فیصلے پر غور کرو "۔۔
فراہ کی موم نے سخت لہجے میں کہا ۔۔
"اومام وہ بہت اچھا ہے"۔/
"بیٹا تم مغرب کی پروردہ ہو تم کیسے اس مشرق کے ماحول میں پلنے والے شخص کے ساتھ رہ سکوں گی؟"۔۔
"مام سمیرے میرے لیے سب کچھ چھوڑ کر یہاں آسٹریلیا آ رہا ہے "۔۔۔
فرح نے سمیر کی وکالت کی ۔۔۔۔
"ہاں تو منع کر دو اس کو اور ویسے بھی کاشی تمہیں کئ دفعہ پرپوز کرچکا ہے "۔۔
ؓمام اپنی ہیرے کی انگوٹھی گھماتے ہوئے بولیں۔ ۔
"مام بس آپ نے کہا تھا کہ اگر وہ سب کچھ چھوڑ کر یہاں آئے گا تبھی آپ میری شادی اس سے کرائیں گی" ۔۔
فرح نے جیسے ان کواس سے کیا ہوا وعدہ یاد دلایا ۔۔۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 💕💕💕💕۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور پھر وہ دن بھی آن پہنچا جب حجاب ہمیشہ کے لئے بشر کے نام لکھ دی گئی ۔۔۔💗
ماما نے اس کو بڑے پیار سے پھولوں سے سجے سجائے کمرہ میں لا کر بٹھایا اور ڈھیر ساری دعائیں دے کر چلی گئیں۔ ۔۔
حجاب نے ان کے کمرے سے جانے کے بعد ۔۔۔۔کمرے کا جائزہ لینے کے لئے جیسے ہی نظر ادھر ادھر گھوم دھک سے رہ گئی ۔۔ ۔ ۔
"بچاو ۔۔۔۔۔۔۔بچاو ۔۔۔۔۔۔"
بشر نے ابھی کچن میں آکر پانی کا گلاس منہ سے لگایا ہی تھا کہ ۔۔۔۔۔ ۔
کمرے سے کسی کے چیخنے چلانے کی آوازیں سن کر پہلے تو وہ ناسمجھی سے دیکھتا ہے ۔
پھر یکدم دماغ میں ایک چھناکا سا ہوتا ہے۔ ۔
"ؓحجاب" ۔۔۔۔
وہ بھاگتا ہوا اندھا دھن کمرے کی طرف آتا ہے کمرے کا منظر دیکھ کر بھوچکا رہ جاتا ہے ۔۔
"ایک دن کی دلہن نہیں بلکہ یہ کہنا بہتر ہو گا محض دو گھنٹے کی دلہن"۔۔
بیڑ کے بیچوں بیچ کھڑی چلے پیر کی بلی کی طرح ادھر سے ادھر کود رہی تھی ۔۔
"کیا ہوا ہے "؟۔۔۔
بشر کی چنگھاڑتی ہوئی آواز نےحجاب کی چیخوں کا گلا گھونٹ دیا۔۔۔۔
"وہ ۔۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔۔وہاں چھ۔ ۔۔چھپکلی" ۔۔۔۔!
وہ سہمی ہوئی آواز میں بولتی بشر کو دیکھ کر مزید بوکھلا جاتی ہے ۔۔۔۔
وہ گھوم کر دیکھتا ھے سامنے دیوار پر چھپکلی کا چھوٹا سا بچہ نظر آتا ہے ۔۔۔۔۔۔
"تم ۔۔۔۔تم اس لئے اتنی عمر ڈھا رہی تھی "۔۔۔۔
بشر ایک جھٹکے سے اسکو بیڈ سے نیچے کھینچتا ہے ۔
وہ اس اچانک افتاد سے اپنا توازن کھو بیٹھتی ہے اور بشر ک چوڑے سینے سے الگتی ہے۔ ۔
جب کہ بشر اس کو خشمگیں نظروں سے گھور ر تا ہے ۔ ۔ ۔۔۔۔
"مم ۔۔۔۔۔۔۔ممم ۔۔۔۔مے ۔۔۔۔وہ چھپکلی "
وہ بشر سے مزید بوکھلا جاتی ہے ۔۔۔
"اوف"۔۔۔۔۔۔۔کہاں پھنس گیا ""۔۔۔
بشر اس کو ایک جھٹکے سے چھوڑ کر کمرے سے نکل جاتا ہے ۔۔۔۔
"ارے چھپکلی تو مار دیتے "۔۔۔۔
پیچھے سے حجاب کی آواز ای ۔۔۔۔۔
۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤❤❤❤❤❤۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment