Monday, December 10, 2018

tu kitni masoom hai episode 28 by aymen nauman

حجاب سو گئی ہوکیا ؟؟؟
بشر بیڈ پہ اس کے برابر میں اپنا تکیہ درست کرتے ہوئے بولا ۔۔
نہیں آج ہی تو جاگی ہو ں۔ ۔۔
اس کی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹکے تکیے میں جذب ہوگئے ۔
وہ سختی سے بغیر کوئی جواب دیے دونوں آنکھیں موندے لیٹی رہی ۔۔
حیرت ہے آج ابھی سے سو گی ورنہ تو اس وقت پورا کمرہ سر پر اٹھائے رکھتی ہے۔ ۔۔
بشر کو شرارت سوجی ۔۔
وہ اس کے کان کے قریب جا کے آہستہ سے بولا ۔
بڑی نیندیں آرہی ہیں میری نیند اڑا کے ۔۔۔۔
بشر نے اس کا رخ نرمی سے اپنی طرف پھیرا ۔۔
آنسوؤں سے تر چہرہ سوجی ہوئی نشیلی آنکھیں اس بات کی چغلی کھا رہیں تھی کہ وہ یہ شغل کافی دیر سے فرما رہی ہے ۔۔
ارے کیا ہوا آج تو میں نے اپنا کوئی بدلہ بھی تم سے پورا نہیں کیا ۔۔
پھر یہ بن موسم برسات کیوں ۔۔؟؟؟
وہ اس کے گالوں پی چٹکی بھر کے بولا ۔۔
بن بتوڑی چلو اب بتا بھی دو یہ تمہاری آنکھوں میں دریائے نیلم کا پانی کہا سے بھر چکا ہے ۔۔؟؟

وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہنے لگا ۔
۔
نہیں کچھ نہیں آپ سو جائیں ۔۔
یہ کہہ کر ایک ہاتھ اس کے سینے پر رکھے بشر کو خود سے دور کرنے کی ناکام کوشش کی ۔۔۔

کاش آپ کی یہ محبت صرف میرے لیے ہوتی ہے مگر شاید صرف آپ مجبوری کے تحت اس رشتے کو نبھا رہے ہیں ۔۔۔
وہ بشر کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی ۔۔
حجاب کیا ہوا ہے یار اس طرح بیہیو کیوں کر رہی ہو؟؟؟
کیا مجھ سے کوئی کوتاہی ہو گئی ہے ؟؟؟
یہ میری کوئی بات تمہیں بری لگی ہے ؟؟؟
مجھے بتاؤ تو سہی آخر ایسا کیا ہوا ہے کیوں میرے ساتھ اس طرح سے ری-ایکٹ کر رہی ہوں ؟۔۔

وہ اب پریشان ہو چکا تھا ۔۔
اس کو حجاب کا اس طرح کا ایٹیٹیوٹ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا دوپہر تک تو وہ بالکل ٹھیک تھی نہ جانے اب ایسا کیا ہو گیا تھا جو وہ اس سے اتنا اکھڑی اکھڑی سی تھی ۔۔
میں نے کہا نہ ایسا کچھ نہیں ہوا پلیز تھوڑی دیر کے لئے مجھے میرے حال پہ چھوڑ دو ۔۔۔
وہ تھوڑا غصہ سے گویا ہوئی ۔۔

حجاب تم یہ بات اچھی طرح سے جانتی ہوں کو میں ایسا ہر گز نہیں کروں گا ۔۔
وہ اس کی ٹھوڑی کو اپنے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے پکڑ کرمحبت سے دباتے ہوئے بولا ۔
۔ 
اچھا یہ بتاؤ تمہیں آنٹی یاد آرہی ہیں کیا ۔؟؟؟

وہ اپنے طور پر یہی اخذ کر سکا کہ وہ اپنی ماں کو یاد کر کے رو رہی ہے ۔
حجاب اس بار کچھ نہیں بولی واقعی اس وقت اس کو اس موڑ پہ آکر اپنی ماں کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی ۔۔
دیکھو ادھر دیکھو میری طرف ۔
وہ اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپا چکی تھی جیسے ہمت ہار چکی ہو جب بشر نے تو اس کا چہرا اپنی طرف اٹھایا اور کہا ۔۔

دیکھو ہمیں زندگی میں بہت سارے ایسے تلخ واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ہمیں اندر سے توڑ کر رکھ دیتے ہیں اور ہمیں ایسا لگ رہا ہوتا ہے کہ بس اب زندگی یہی پر ختم ہے ہم حوصلہ ہار کے تھک کر بیٹھ جاتے ہیں اس وقت بھی ہمارا رب ہمیں کوئی نہ کوئی ایسی چیز میں الجھا دیتا ہے جو ہمیں زندگی کی رونقوں میں واپس لے آتی ہے اور ہم پھر آنے والی پریشانی کا ڈٹ کر سامنا کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں ۔۔
اور مایوسی تو ہمارے رب کو بھی نہیں پسند ۔۔

میں جانتا ہوں تم آنٹی کو یاد کر کے رو رہی ہو۔۔
اسی لیے میں نے تمہیں پہلے جب تم نے کہا تھا گھر جانے کے لیے تو میں نے تمہیں وہاں جانے نہیں دیا تھا ۔
وہ غلط فہمی کا شکار تھا کہ حجاب اپنے گھر جا کر بہت زیادہ ڈس ہارٹ ہوئی ہے 
۔
وہ اس کو کوئی بھی جواب دیے بغیر دوسری طرف رخ پھیر گئی اور کمبل سر تک تان لیا ۔۔

بشر اس کی پشت کو تاسف سے دیکھتا رہ گیا ۔۔
💔
وہ سب ناشتے کی ٹیبل پر اکٹھے تھے۔۔
جب بشر نے کہا ناشتہ کرتے ہوئے ۔۔۔

ماما میں سوچ رہا ہوں کیوں نہ ہمدان کو آج یاکل ڈنر پہ بلا لو؟؟؟ ۔۔
وہ سوالیہ نظروں سے ماں کو دیکھ رہا تھا ۔۔

اسراء کے نوالہ کا بناتے ہاتھ تھم سے گئے۔ ۔
اس کو سب کے سامنے ہمدان کے ذکر پر گھبراہٹ نیں آن گھیرا۔ ۔۔
ہاں بیٹا میں بھی سوچ رہی تھی اس کو انوائٹ کرنے کا اس نے ہماری اسراء کا اتنےدن کتنا خیال رکھا ہے ۔۔
اسراء کو ماما کی بات پہ ایک دم پھندالگ گیا ۔
وہ زور زور سے کھانسنے لگی آنکھوں میں پانی اتر آیا ۔۔۔

کیا ہوا نوالاپھنس گیا کیا حالت میں ؟؟؟؟
یہ لو پانی پیو بشر نہیں اس کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے گلاس میں پانی انڈیل کر دیا ۔۔

اسرا کو نہ جانے کیوں بشر کی آنکھیں اس لمحے بہت کچھ جتاتی ہوئی لگ رہی تھیں۔۔
اسرا مزید بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ۔۔
جب کہ حجاب بغیر کچھ کہے نظریں جھکائے اپنا ناشتہ کرنے میں مصروف تھی گویا اس سے کوئی بھی ضروری کام اور نہ لاہو ۔

اسرااچانک کرسی دھکیل کر اٹھی اس سے اب سب کے سامنے بیٹھنا دشوار سا ہو رہا تھا ۔۔ ۔۔
کہیں کوئی اس کے اندر کا بھید نہ جان جائیے ۔۔
جو وہ خود سے بھی چھپائے ہوئے تھی ۔۔
ارے لڑکی تم کہاں جا رہی ہو ؟؟؟
تم نے تو ابھی صرف ایک دو نیوالے ہی لئے ہیں ناشتہ تو کرو پورا بیٹھ کے ۔۔۔
بشر نے اپنی برابر کی کرسی سے اٹھتی آسرا کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا ۔۔
اس کو آسرا کی شکل میں ایک چھوٹی بہن اللہ تعالی نے عطا کی تھی جس کو تنگ کرتے ہوئے اس کو بہت مزہ آتا تھا ۔۔

وہ مجھے بھوک نہیں ہے تھوڑی دیر میں کر لونگی۔۔۔
یہ کہہ کر وہ روکی نہیں اور تیزی سے ہاتھ چھوڑا کر کمرے میں بھاگ گئی ۔
ارے ایک تو یہ لڑکی کچھ کھاتی پیتی ہی نہیں ابھی بس زر اسا پھندہ لگ گیا تو گھبراکر کھانا ہی چھوڑ کے اٹھ گئی ،۔۔
ماما نے تاسف سے کہا ۔۔
اسی لئے تو دن بدن اتنی صحت گرتی جارہی ہے اسکی ۔۔
بابا نے بھی تائید کی۔ ۔

حجاب نے بڑی مشکل سے اپنے آنسوؤں کو ضبط کیا اور زبردستی ناشتہ حلق میں زہر مار کرنے لگی ۔۔
کتنی مکمل ہیں۔۔۔ ماما، بابا، بشر اوراسرار ۔۔۔
چاروں ایک ساتھ میں کیوں ان لوگوں کی زندگی میں زبردستی تھوپ دی گئی ؟؟؟

سمیر بھائی میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی ۔۔
آپ نے اپنے لیے مجھے داؤ پر لگا دیا ۔۔

وہ ابھی مزید اور سوچتی کہ بابا کی آواز پہ چونکی ۔۔
دیکھو ہماری حجاب کو کتنے خاموشی سے بیٹھ کے اپنا پورا ناشتہ ختم کرتی ہے ۔۔
تبھی تو کھا کھا کے موٹی کپا ہو چکی ہے ۔۔
بشر نے آہستہ سے کہا حجاب کو سنانے کے لیے مگر بابا اور مما نے بھی سن لیا ۔۔
خبردار جو میری بچی کو موٹی کپا یا کچھ اور بھی کہا ہو تو۔ ۔۔
بابا نے دھمکایا ۔۔۔
اور نہیں تو کیا یہی تو دن ہے اس کے کھانے پینے کیے ابھی ایک دو بچے ہوگئے تو انہیں میں گھر جائے گی پھر اپنے آپ کا ہوش کہاں رہتا ہے ۔۔۔
ماما نے گویا بشر کو لتاڑا ۔۔
حجاب شرم سے سرخ پڑ گئی ۔۔

جب کہ بشر کھسیاہ کے اپنا کان کھجا کر رہ گیا ۔۔۔
💔
اسرا کیچن میں رات کے گخکے لیے سویٹ ڈش بنا رہی تھی۔۔
اس کو یاد تھا کہ جب ایک دفعہ وہ دونوں رات کے کھانے کے بعد لان میں بیٹھے تھے تب ہمدان کے ہاتھ میں ٹرائفل کا بائول تھا ۔۔
وہ کھاتے ہوئے اسراء کی طرف دیکھتے بولا ۔۔
یہ لو تم بھی کھاؤ۔۔

وہ اس کو دوسرے باؤل میں نکال کر دیتے ہوئے کہنے لگا ۔۔۔
یہ کوئی میں پور اکیلا تو کھاؤں گا نہیں ۔۔
نہیں میں میٹھا زیادہ شوق سے نہیں کھاتی اس وقت وہ ہمدان سے ناراض اوراکھڑی اکھڑی سی رہتی تھی ۔۔
یار تم تو بہت ہی بد ذوق ہو ۔۔
اسراء نے بس حمدان کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے پر اکتفا کیا جیسے کہہ رہی ہو کہ۔ ۔
اس میں بے ذوق ہونے والی کونسی بات ہے ۔۔
مگر اتنی ہمت نہ تھی کہ لبوں پر لا سکے ۔۔
ویسے میں اگر رات کے کھانے کے بعد میٹھا نہ کھاؤ تو میرا کھانا مکمل نہیں ہوتا ابھی سے اپنے ذہن میں بٹھا لو آگے کام آئے گا تمہارے۔ ۔

حمدان کا لہجہ ہمیشہ ایک سختی سی لیئے ہوئے ہوتا تھا وہ شاید ان لوگوں میں سے تھا جو مذاق بھی کرتے تو لگتا تھا سیریس بات کر رہے ہوں ۔۔
جی اچھا ۔۔۔
وہ محض اتنا ہی کہہ پائی لگتا تھا جیسے اس نے ان دو الفاظوں پر پی ایچ ڈی کر لی ہو ۔۔
یار تم کھایا پیا کرو اتنی دھان پان سی تو ہو ۔۔
تھوڑی تھوڑی دیر میں بے ہوش ہوجاتی ہوں ۔۔

ویسے رات کے کیا ارادے ہیں آج رات تو۔۔
بے۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ہوشششش۔ ۔۔۔

وہ اسکو پٹری سے اترتا دیکھ گھبرا کر بولی۔۔
ممممم۔ ۔۔۔۔۔۔مجھے بی اماں بلا رہی ہیں ۔۔۔۔
یہ کہہ کر یہ جا وہ جا ۔۔
غائب ہو چکی تھی ۔۔
ہمدان کا جاندار کہ کا اس کو اندر تک گونجھتا ہوا سنائی دیا کیونکہ بی اماں تو صبح ہی جاچکی تھی گاؤں واپس ۔۔

توبہ بدتمیز بے ہودہ انسان۔ ۔
وہ اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے اس سے ٹیک لگائے گہری گہری سانسیں لیتی ہمدان کو طرح طرح کے القابات سے نواز رہی تھی دھڑکنیں تھی جو بے قابو سی ہوچکیں تھیں۔ ۔ ْ
💕

اوہ ہیلو محترمہ اگر آپ کا مراقبہ پورا ہو گیا ہو تو ایک کپ چائے کا بنا دیں گی؟؟؟؟ ۔۔۔
بشر نے اسراکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجاتے ہوئے کہا وہ یکدم واپس ہوش کی دنیا میں لوٹی ۔۔
جج۔۔۔۔۔۔ جی وہ سٹپٹاسی گئی ۔۔۔
ویسے کیا سوچا جارہا تھا ہمیں بھی تو پتہ چلے وہ اس کو تنگ کرنے کے موڈ میں تھا ۔
بتاو نہ کیا سوچا جارہا تھا چوری چوری چپکے چپکے ؟؟؟؟
وہ شرارتی انداز میں گویا ہوا ۔۔

نہیں بھائی کچھ بھی نہیں تم جیسے آفت کے پرکالہ کے ہوتے ہوئے میں کچھ سوچ بھی نہیں سکتی ہوں" سوچنے "کا بھی ۔۔۔
وہ ہاتھ میں سامنے رکھا بیلن اٹھاتے ہوئے بولی ۔۔
اشارہ ایسا تھا کہ باز آ جاؤ ورنہ اس سے پٹو گے ۔۔
ان دونوں کی عمروں میں صرف 2 سے 3 سال کا گیپ تھا اس لئے وہ اس کو نام سے ہی پکارتی تھی ۔۔۔
وہ بشر سے ایک انوکھی سی انسیت اور پروٹیکشن محسوس کرنے لگی تھی جیسے ایک بھائی کا مضبوط سایہ اس کو مل گیا ہوں وہ بشر سے بہت اچھی طرح گھل مل گئی تھی اس میں کافی ہاتھ خود بشر کی کوششوں کا بھی تھا ۔۔

یار ایک تو تم تھوڑی تھوڑی دیر میں مراقبے میں پہنچ جاتی ہو ۔۔
کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ تم کبھی ورکنگ وومن رہ چکی ہوں ماضی میں ۔۔

وہ نادانستگی میں آسرا کے زخموں کو چھیڑ چکا تھا ۔۔۔
بشر جب حالات انسان کے بس سے باہر ہو جائیں ماں باپ کا سایہ نہ رہے اپنے پاس نہ ہو۔۔۔
تنہارہ جانے کا ڈر۔۔۔
اچھے اچھے انسان کی شخصیت کو بھی مسخ کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے ۔۔

میں بہت کونفیڈینٹ قسم کی لڑکی تھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والی۔۔
مگر وقت نے مجھے کہیں کا بھی نہیں چھوڑا میرا اعتماد میرا آپ ۔۔۔۔
مٹی میں ملا کے بالکل ختم کر ڈالا ۔۔

ارے یار میں بھی کس باتوں میں لگ گیا یہ بتاؤں سب چھوڑو بہت بھوک لگ رہی ہے یہ کیا بنا رہی ہوں اتنی محنت سے ۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں آئی ہوئی نمی کو دیکھ کر موضوع بدلا گیا۔ ۔۔
وہ جانے انجانے میں اس کو واپس ماضی کے اندھیروں میں لیے پہنچا تھا ۔۔

اسرا نے اپنے ہاتھ کی پشت سے آنسو پونچھے اور پھر آہستہ سے بشر کو بتانے لگی ۔۔
میٹھا بن رہا ہے وہ ماما نے کہا کہ رات میں گیسٹ آئینگے اور خانسامہ صاحب آج چھٹی پر ہے تو میں نے کہا کہ کھانا اور میٹھا میں بنا دوں گی ۔۔
وہ پریشان ہو رہی تھی تو بس پھر میں کچن میں آ گئی اور اب تمہارے سامنے کوکنگ کر رہی ہوں ۔۔
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اداسج اور آدھا جھوٹ ملاتے ہوئے بولی ۔۔
جلدی بناؤ سب سے پہلے میں کھاوں گا ۔۔
وہ اپنی نظریں ٹریفل کے اوپر جما کے بولا جیسے یہ صرف اور صرف اس کا ہی ہو ۔۔
ویسے یار ایک بات تو بتاؤ میرے لیے ہی منا رہی ہویا پھر ۔۔۔۔۔
وہ شرارتی لہجے میں بولتا آسرا کو ٹٹولتی ہوئ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔
اسراء نے اس کے شانے پہ ایک زور دار تھپر رسید کیا اور کہا ۔۔
چلو نکلو یہاں سے یہ میں تمہارے علاوہ باقی سب کے لئے بنا رہی ہوں ۔۔۔
خبردار تم اس کے قریب بھٹکے بھی پھٹکے یااس کو کھانے کی کوشش بھی کی تو ۔۔۔
وہ انگلی کے اشارے سے دھمکاتے ہوئے بولی ۔۔
چلو چلو محنت کرو ویسے آج جو گیسٹ آ رہا تھا نہیں آئیگا وہ کل آئیں گے آج وہ بہت مصروف ہے۔ ۔۔۔۔
بشرنے جان کر گیسٹ کا لفظ استعمال کیا ۔۔
اور اپنی پوری بتیسی کی نمائش کرنے لگا ۔۔
گیسٹ نہیں آ رہے تو کیا ہوا تمہیں بھی نہیں کھانے دوں گی میں۔۔۔

وہ دونوں کہکہ لکخگا کر ہنس رہے تھے یہ دیکھے بغیر کہ کوئی بڑی مشکل سے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو بےدردی سے صاف کرتا خاموشی سے واپس پلٹ چکا ہے ۔۔۔
💔

اریج پورے گھر میں بولا ئ بولائ ایزی پھر رہی تھی۔۔۔
رات کے دس بجے کا وقت تھا پورا گھر ابھی سے سناٹوں کی زد میں تھا ۔۔

بوا عشاء کی نماز پڑھ کر سو چکی تھی اپنے کواٹر میں جا کے ۔۔
اس نے پہلے سوچا کہ ان کو کہے کہ وہ یہی ادھر اس کے پاس ہی رک جائیں مگر پھر اس نے اپنے آرام کی خاطر ان کو پریشان کرنا مناسب نہ سمجھا اور اب وہ اپنے اس فیصلے پر پچھتارہی تھی ۔۔
پورا گھر سائیں سائیں کررہا تھا ۔۔
آریج کی آنکھوں سے نیند بھک سے اڑ چکی تھی ۔۔

ایک کام کرتی ہوں کچن میں جا کے کافی بنا لیتی ہوں ۔۔
پھر کوئی مووی لگا لو گی خود کو مصروف رکھوں گی تو وقت بھی جلدی گزرے گا ۔۔

وہ خود سے باتیں کرتی ہوئی کچن میں آگئی ۔۔
ابھی وہ کافی کوکپ میں نکال کر چینی کے ساتھ پھینٹ ہی رہی تھی جب کھٹکے کی آواز کے ساتھ لاؤنچ کا دروازہ کھلتا ہوا محسوس ہوا ۔۔
لگتا ہے مجھے اب ہر وقت بس خوف سوار رہتا ہے۔۔
زوار تم نے مجھے بہت تکلیف پہنچائی ہے مگر میں تمہیں کوئی بددعا نہیں دونگی نہ ہی اپنی دربدری پر کو سو نگی ۔
مگر میں نے اپنا معاملہ اپنے اللہ پر چھوڑ دیا ہے میں کیا تم سے کوئی انتقام لے سکتی ہوں مگر میرا اللہ تمہارے ساتھ میرے معاملے میں بہتر انصاف کرے گا ۔۔
اور جب انسان اپنے رب کے آگے اپنا مقدمہ رکھتا ہے تو پھر اس کا رب بھی انصاف بہت کڑا کرتا ہے ۔۔

جس میں پھر کوئی گنجائش نہیں نکلتی ۔۔
وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی جب کوئی حیرت سے کچن کی لائٹ کھولی دیکھ کر وہ بھی رات کے اس پہر جب گھڑی 11 بجا رہی تھی ۔۔
وہ کچن کی طرف بڑا خاموشی سے۔۔
کہ آیا دیکھےتو سہی کے گھر میں اس وقت کون آیا ہے۔۔
کیونکہ ملازموں کو صرف مہینے میں ایک دفعہ گھر کی صفائی کرنے کی اجازت تھی۔ ۔
باقی سب اپنے اپنے کوارٹرمیں رہتے تھے ۔۔
اور رات کے اس پہر کوئی ملازم تو اتنا اچھا نہیں تھا جو صفائیا ں کرے گا ۔۔

حیرت کی زیادتی سے اس کی آنکھیں پھٹی رہ گئی سامنے کھڑی اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھ کر ۔۔
💕
جاری ہے۔ ۔۔
💕💕💕

0 comments:

Post a Comment