کاش بشر میں آپ پر مسلط نہ کی گئی ہوتی میں نے شاید آپ کی زندگی میں زبردستی اکر آپ سے آپ کی خوشیاں چھین لی ۔۔۔۔
جس کے آپ جائز حقدار تھے ۔۔
مگر اسراہ آب جو بھی ہے ۔۔۔
۔ وہ میرا شوہر ہے اور میں اس کو مجھ سے تمہیں ہرگز بھی چھیننے نہیں دوں گی ۔۔۔
وہ صرف میرے ہیں اور ہمیشہ میرے ہی رہیں گے ۔۔۔۔۔۔
وہ خود غرضی کی انتہاؤں کو چھو رہی تھی ۔۔
۔۔
مجھے جلدازجلد تمہارے بارے میں کچھ سوچنا ہو گا میں تمھیں بشر کی آنکھوں کے سامنے سے جلد از جلد دور کردوں گی ۔۔
۔
وہ اپنی عمر کے حساب سے ہی سوچ کے تانے بانے بن رہی تھی ۔۔
یہ عمر کا وہ حصہ ہوتا ہے جب اکثر لڑکیاں جذباتیت سے کام لے کر اپنا خود ہی کا ذاتی نقصان کر بیٹھتی ہیں۔ ۔
اور میں اب تمہاری وجہ سے اپنے بشر سے بالکل بھی ناراض نہیں رہوں گی۔۔۔
اس طرح تو وہ مجھ سے خفا ہو جائیں گے اور اریج کے قریب تر ہوتے چلے جائیں گے ۔۔۔
اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر عورت شوہر کے پیار کا جواب بار بار نفرت سے دے تو پھر آدمی ایک حد تک ہی برداشت کرتا ہے۔۔۔
پھر وہ اپنی خوشی کہیں اور تلاشنے میں لگ جاتا ہے اسی لیے عورت کو مرد کی ناراضگی زیادہ دیر برقرار نہیں رکھنی چاہیے ۔۔۔
ابھی تک نہیں آئے کمرے میں بیٹھے ہونگے اسی چڑیل کے ساتھ گپیں ہانک رہے ہوں گے ۔۔
وہ اوٹ پٹانگ باتیں سوچتی نہ جانے کب نیند کی وادی میں اتر چکی تھی ۔۔۔۔
رات کا نہ جانے کونسا پہر تھا جب اس کی آنکھ خود پہ ہلکا سا دباؤ محسوس کرکے کھلی ۔۔
بشر کو خود پہ جھکا دیکھ کر پہلے تو وہ کچھ سمجھ نہ پائی صورتحال کو۔۔۔
مگر جیسے ہی تھوڑا دماغ جاگا تو وہ بشر کو اتنا قریب دیکھ کر کنفیوز سی ہو گئی۔۔
وہ بولڈ ضرور تھی مگر بشر کی جسارتوں کے آگے اس کی ساری بولڈ نیس ہوا ہوجاتی تھی ۔
ابھی بھی یہی ہوا تھا وہ بشر کی خود پہ جمیں نظریں دیکھ کر یکدم بوکھلا سی گئی تھی ۔۔۔
مجھے سونے دیں پلیز میرے سر میں درد ہے ۔۔
اوہ اچھا ویسے یہ درد کس وجہ سے ہے جو کم ہونے میں ہی نہیں آ رہا ؟؟؟
بشر اس کے ماتھے سے گلابی لبوں تک شہادت کی انگلی کی مدد پیشانی سےلکیر کھینچتا لبوں پر انگلی ٹھراتے ہوئے بولا ۔۔
وہ بس کچھ بھی تو نہیں ایسے ہی ۔۔
وہ اس کی بڑھتی ہوئی جسارتوں پر جو بھی بن پڑا سکا اس لمحے بول گئی ۔۔
کیا ایسے ہی؟؟؟؟؟
بشر کو اس کا کنفیوز ہونا مزید شرارتیں کرنے پر اکسا رہا تھا ۔۔۔
مجھے پلیز تنگ نہ کریں مجھے سونا ہے ۔۔
نہیں تو میں ابھی اور اسی وقت ماما کو جا کر سب بتا دوں گی ۔۔
وہ روہانسی ہو کر بولی ۔۔
اوہ اچھا ویسے کیا بتاؤ گی ماما کو وہ اس کے گلے میں ڈلے ہوئے پینڈنٹ کی چین کو اپنی انگلی میں لپیٹتے ہوئے گویا ہوا ۔۔
انداز ایسا تھا کہ جیسے کہہ رہا ہو ہمت ہو تو بچ جاؤ ۔۔
میں ماما کو بتاؤں گی کہ آپ مجھے رات میں تنگ کرتے ہیں اور سونے بھی نہیں دیتے ۔۔
وہ جلد بازی میں بول تو گئی مگر بولنے کے بعد پچھتائی اور زبان دانتوں تلے دبا گئی اپنی ۔۔
بشر کا ایک جاندار کہکا نکلا ۔۔
بیٹا ماماںخمجھے کہیں گی کوئی بات نہیں بیٹا اور تنگ کرو بس ہمیں جلدی سے چنو منو دے کر دادادادی بنا دو پھر چاہے تم دونوں ایک دوسرے سےکُشتیاں لڑو یا سر پھاڑو جو دل چائے کرو بس ہمیں دادادادی بنا دو ۔۔۔
وہ شرارتی انداز اپناتے ہوئے بولا ۔۔
حجاب بشر کی بات سن کر حیا سے اپنی پلکوں کی جھالر یں گر آگئی ۔۔
بشر کی بات پر اس کے چہرے پر قوس و فضا کے حسین رنگ بکھر سے گئے تھے ۔۔
وہ اس کے چہرے پر رقصاں انوکھی سی حیا اور معصومیت کے ملے جھلے رنگوں کو دیکھ کر مبہوت سا رہ گیا تھا ۔۔
بشر مجھے ۔۔۔۔
شش۔ ۔ششششششش۔ ۔۔۔بس اب میں کہوں گا اور تم سنو گی ۔۔
بس ان لمحوں کو خود میں سمیٹ لو اور مجھے تم اپنےوجود کی خوشبو لکوخود میں اتارلینے دو مجھے اپنے اندر بسادینے دو ۔۔
و ہ اس کے گال پر اپنے دہکتے ہوئے لب رکھ کر بولا ۔۔
حجاب نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔ ۔۔
💕💕💕
تیسری دفعہ کال پے اسراہ نیں آخر کار ہمدان کی کال ریسیو کر ہی لی ۔۔
یار کب سے کر رہا ہوں فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں؟؟؟؟
وہ بھنا کربولا ۔۔
بزی تھی اس لیے۔ ۔ ۔۔
وہ منہ پھلا کر کہنے لگی ۔۔
کیا ہوا اس طرح کیوں بات کر رہی ہوں ۔۔؟!!
وہ اس کے اکھڑے اکھڑے لہجے پہ چوٹ کرتے ہوئے بولا ۔۔
جیسے آپ بزی تھے آج ۔۔
ویسے ہی میں بھی ہوں ۔۔۔
اؤ اب سمجھا۔۔۔۔
تو محترمہ میرے نا آنے پر خفا ہیں ۔۔۔۔
خوش فہمی ہے آپ کی وہ بر بڑھائی ۔۔
جناب خوش فہمی نہیں ہے یہ میری آپ کے لہجے میں بولتا یقین اس بات کا مکمل طور پر گواہ ہے کہ آگ دونوں طرف برابر کی لگی ہے۔۔
اف یہ بندہ پھر شروع ہو گیا ۔۔
ارے ابھی تو میں شروع ہی نہیں ہوا ؟؟؟؟
تم ابھی سے گھبرا گئیں ؟؟!!۔۔
وہ ذومعنی لہجے میں سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے بولا ۔۔۔
اس پر آج ضرورت سے زیادہ شوخی سوار تھی ۔۔
کوئی بات کرنی ہے تو بولیں نہیں تو میں فون بند کر رہی ہوں۔۔۔
مجھے اور بھی بہت سے کام ہیں ۔۔
ارے میری معصوم سی بیوی یار ناراض نہ ہو بزی تھا اس لئے نہیں آسکا ۔۔۔۔
کل آو نگا نا شام کو پھر میں تم اور تنہائی ۔۔۔
اور اگر کہوں گی تو کل ہی رخصت کروا کے لے جاؤں گا ۔۔۔
یار ویسے میں تمہیں دلہن کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہوں تم میری سیج سجائے بیٹھواور میرا انتظار کرو ۔۔
اس کی آواز میں جذبات بول رہے تھے ۔۔
وہ اس کی باتوں پے کان کی لوہ تک سرخ ہو چکی تھی ۔۔
میں فون بند کر رہی ہوں ۔۔
اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا گویا اپنی دھڑکن حمدان کو سنا دینا چاہتا ہو۔۔
یار یہ شرما نہ بند کروں میں سامنے تھوڑی ہوں کوئی جو تم اس طرح کانپ رہی ہوں ۔۔
۔
اسراء حیران سی اسکو سن رہی تھی۔۔
وہ اس کی بالکل صحیح کیفیات بیان کر رہا تھا ۔ ۔۔
اس نے نظر گھما کر آس پاس کا جائزہ لیا کہ کہیں وہ تو نہیں کمرے میں موجود ۔۔
مگر پھر اطمینان کر لینے کے بعد دوبارہ فون پر متوجہ ہوئی ۔۔
جی نہیں میں تو نہیں شرما رہی ۔۔
وہ بڑے مزے سے بولی ۔۔
اچھا کیا واقعی ایسا ہے ۔۔؟؟؟؟
چلو پھر دروازہ کھولو میں باہر کھڑا ہوں ۔
۔
اسراء اسکی اگلی بات سن کر بے ہوش ہونے کو تھی ۔۔۔
💕💕💕
وہ کچن میں کھڑی کافی پھینٹ رہی تھی جب اس کو کچن میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا وہ یکدم ایڑھی کے بل الٹی گھومی۔ ۔
اپنے سامنے موجود سمیر کو دیکھ کر کافی کا مگ اس کے ہاتھ سے چھوٹتےچھوٹتے بچا تھا ۔۔
سمیر کی بھی حالت اسراء سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھی۔۔۔
وہ ننھی آرزو کو گود میں لئے حیران پریشان سا کچن کے بیچ و بیچ کھڑا تھا ۔۔
سمیر اور عریج کے سکتےکو آرزو کے زور زور سے رونے نے توڑا ۔۔
اریج سمیر کے بولنے سے پہلے بول پڑی ۔۔
سمیر چاچو آپ یہاں کیسے؟؟!!
وہ گھبراہٹ میں اتنا ہی کہہ پائی ۔۔
ننھی سی گلگو تھنی کو دیکھ کر اس کا دل چاہا کہ اس اس کو اپنی بانہوں میں بھر کر خود میں سمیٹ کے خوب چومے ۔۔
بچے اس کی کمزوری تھے وہ اگر باہر بھی کوئی بچہ چھوٹا سا دیکھتیں تو زور زور سے اس کو گالوں پہ چٹکی بھرتی جس سے بچہ گھبرا کر گلا پھاڑ کے رونے لگتا ۔۔
آرزو زاروقطار رو رہی تھی اریج سے اس کا رونا مزید برداشت نہیں ہوا اور اسنےبے ساختہ آگے بڑھ کر اس ننھے وجود کو اپنی بازوُوں میں بھر لیا ۔۔
سمیر نے بھی چپ چاپ اس کو تھما دیا پورے راستے وہ نہ جانے کیوں روتی ہوئی آئی تھی وہ شدید تھکن کا شکار تھا ۔۔
مگر سامنے کھڑی اریج نیں اس کو برے طریقے سے پریشان کر چھوڑا تھا ۔۔
وہ پانی پی کر خود کو ریلیکس کرنے کے بعد واپس پلٹا آرزو کو سلاتی اریج پے ایک نظر ڈالی اور سامنے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔۔
البتہ آرزو اریج کی محبت بھری پناہوں میں آکر تھوڑی ہی دیر میں نیند کی وادی میں اتر چکی تھی ۔۔
لگتا ہے اب امتحان کا وقت نزدیک آچکا ہے ۔۔
کہیں مجھے سمیرچاچو زبردستی واپس چھوڑ تو نہیں آئیں گے ؟؟؟؟۔۔
اس سوچ کے آتے ہی اریج کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا ۔۔
خوف کے سائے واضح طور پر اس کے چہرے پر منڈلاتے نظر آ رہے تھے ۔۔
وہ دونوں بالکل آمنے سامنے بیٹھے تھے ایک دوسرے کے اور بیچ میں ٹیبل پر وہ ننھی پری ہر قسم کی پریشانیوں سے دور گہری نیند میں پریوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کر رہی تھی ۔۔
بیٹا یہ سب کیا ہے اور تم مجھے ٹھیک سے بتاؤ تم یہاں اکیلی اس وقت آخر کیا کر رہی ہو ۔۔؟؟؟
سوال تو کئ ا ریج کے دماغ میں بھی دستک دے راہی تھے کہ۔ ۔۔
سمیر چاچو بغیر اپنی وائف کے صرف اپنی بیٹی کو ساتھ لیے یہاں کیا کر رہے ہیں ؟؟؟
اس کو دال میں کچھ کالا سا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
۔
مگر وہ فی الحال اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ کچھ بھی سوال کر سکتی اس لئے خاموشی رہی ۔۔۔
اریج میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہومتو یہاں رات کے اس پہر کیا کر رہی ہو آخر ؟؟؟
اب کی دفعہ سمیر کا لہجہ کافی سختی لیے ہوئے تھا ۔۔
وہ ڈر سی گئی اور خوف سے کچھ ہی سیکنڈ میں اپنے اوپر گزری تمام داستان حرف بہ حرف اس کے گوش گزار تی گئی ۔۔
سمیر خاموشی سے سنتا رہا اور پھر کچھ ہی لمحوں بعد جب وہ سب کچھ کہہ چکی تھی تب وہ تحمل سے عریج کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔
تم آج کی رات یہاں رہ سکتی ہو مگر تمھیں کل صبح ہی فوری میں حسن بھائی کے حوالے کر آؤں گا۔۔۔
سمیر کے لہجے میں قطیعت تھی ۔۔
اس کو وحشت سی ہونے لگی تھی ۔۔
پلیزچاچو مجھے واپس نہ چھوڑیں وہ لوگ مجھے ختم کردینگےزوارکسی نہ کسی طرح مجھے ۔۔۔۔
اس سے آگے اسے بولا نہ گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر زاروقطار رو دیں ۔۔
سمیرا سکے اس طرح رونے سے گھبرا کر اس کے پاس آیا اور تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر وہیں کھڑا ہو گیا ۔۔
دیکھو اریج اگر فرح میرے ساتھ ہوتی تو الگ بات تھی مگر وہ شاید کبھی میرے ساتھ یہاں ہوتی ہی نہیں۔۔۔
وہ نفرت سے بولا فرح کے نام پر اس کے منہ میں کڑواہٹ سیکھ گئی تھی ۔۔
مگر تمہارا یہاں میرے ساتھ تنہا رہنا کسی طور بھی مناسب نہیں ہے ۔۔
مگر چاچو ۔۔
اگر مگر کچھ بھی نہیں تم بچی نہیں ہو خیر سے بڑی ہو چکی ہو اور ہرچیز کو بخوبی سمجھتی ہوں ۔۔
اس لئے پلیز مزید کوئی آرگیو مت کرنا ۔۔۔
وہ کہہ کر آرزو کو اٹھا کے واپس پلٹ ہی رہا تھا جب عریج کی آواز نے اس کے پاؤں کو جکڑ لیا۔۔
"آپ مجھ سے نکاح کرلیں" ۔۔۔
اریج کو اپنی خود کی آواز کسی گہری کھائی میں سے آتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔
💕💕💕
فرح نے زبردستی سمیر سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور وہاں کے قانون کے مطابق وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا وہاں عورتوں کے پاس مرد سے زیادہ اختیارات حاصل ہوتے ہیں ۔۔
فرح نے اپنی بچی کی بھی پرواہ نہیں کی اور کاغذات بنوا کر بچی کی پوری کسٹڈی سمیر کے حوالے کردی ۔۔۔
اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ سمیر نیں آخری کوشش کے طور پر یہ کہا تھا کہ ۔۔
اگر تم بچی سے مکمل طور پر قطع تعلق کر لیتی ہوں آفیشیلی طریقے سے تو میں بھی اس رشتے کو ختم کرنے کے لئے تیار ہوں ۔۔
اس کو لگا تھا کہ شاید فرح اپنی بچی کی خاطر کمپرومائز کر لے مگر وہ یہ آخری بازی بھی ہار گیا ۔۔۔۔
دوسری طرف بھی فرح تھی جس کو کاشف نے سبز باغ دکھائے ہوئے تھے ۔۔۔
وہ اس کی پیش کی ہوئی تجویز پرفوری راضی ہو گئی۔۔
اس کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ اس کو اتنی آسانی سے رہائی مل رہی ہے اس قیدبھرے تعلق سے ۔۔
۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔💕
۔۔۔۔

0 comments:
Post a Comment