Monday, December 10, 2018

tu kitni masoom hai episode 27 by aymen nauman

مگر بشریہ اس طرح کہا ں جائے گی ؟؟؟
اور اگر یہ واپس زوار کے ہتھے چڑھ گئی تو پھر تم خود بتاؤ کیا ہو گا ۔؟؟؟
۔
اسراء نے کمرے میں طاری سناٹے کو چیرتے ہوئے کہا ۔۔
ہاں بشر میں اریج کو یہاں سے کہیں نہیں جانے دوگی ۔۔۔
حجاب نے اریج کا ہاتھ سختی سے تھام لیا گویا بشر اس کو ابھی ہاتھ پکڑ کے ہی باہر نہ نکال کھڑا کرے۔۔۔
نہیں میں چلی جاتی ہوں بشر بھائی بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں مجھے یہاں سے چلے جانا چاہیے ۔۔۔۔۔

اور میں خود بھی نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے آپ سب لوگ کسی بھی پریشانی میں پڑھیں ۔۔
۔
وہ بے دردی سے اپنے گالوں پہ آئے ہوئے آنسو رگڑتے ہوئے بولی ۔۔۔

اریج نے غمگین لہجے میں کہا ۔۔۔
دکھ تکلیف کیا کچھ نہ تھا اس وقت اسکے اندر پنہاں۔ ۔۔۔

اندر سے وہ خود بھی خوفزدہ تھی کہ اب کیا کرے گی کہاں جائے گیآخر؟؟؟؟
اگر بالفرض واپس چلی بھی جاتی ہے تو وہاں کس نے اس کا انتظار کرنا ہے ؟؟؟؟؟
بلکہ اب تو ناجانے کیا سلوک اس کے ساتھ روا رکھا جائے گا ؟؟؟
۔۔
نہ جانے دلآویز اور زوار کیا کچھ بابا کے گوش گزار نہ کر چکے ہوں گے ۔؟؟؟

اس کا دل اندر سے لرز رہا تھا ۔۔۔
اس کو زندہ درگور ہونا آج پتہ لگا تھا۔ ۔

دیکھو اریج میری بات غور سے سنو۔۔
بشر اسے گویا ہوا ۔۔

اور جب تک میری بات ختم نہ ہوجائے تم تینوں میں سے کوئی بھی نہیں بولے گا ۔۔
بشر نے گویا یہ وارننگ حجاب کے لئے دی تھی ۔۔
کیوں اس کو حجاب کی کینچی کی طرح چلنے والی 
زبان کا بخوبی اندازہ تھا رہ گئی اسراءاس کی تو آوازہی بہت کم نکلتی تھی ۔۔

پر یہ دیکھو میرا مطلب تمہیں شرمندہ کرنے کا ہرگز نہیں ھے ۔
مگر کچھ باتیں ایسی ہیں جن کو تمھارے علم میں لانا بہت ضروری ہے اس وقت میرے لئے ۔۔۔

اریج حیران پریشان سی بشر کو سن رہی تھی نہ جانے وہ کیا انکشاف کرنے والا تھا ۔۔۔
جبکہ آسرا اور حجاب ابھی تک وہیں اٹکی ہوئی تھی کہ اریج کو کہیں نہیں جانے دیں گے ۔۔۔۔
جب سمیر نے مجھے حجاب کے لئے پرپوزل دیا تھا ۔۔۔
جو کہ کوئی بری بات نہیں ہوتی ہم اس دور سے نکل آئے ہیں جب صرف لڑکے والے ہی پرپوزل بھیجا کرتے تھے لڑکی والے اپنے منہ سے رشتہ مانگنا گناہ گردانتے تھے ۔۔۔۔۔
وہ اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز شریک حیات کو کسی بھی قسم کا دکھ نہیں دینا چاہ رہا تھا اس لئے مکمل وضاحت کے ساتھ بات شروع کی ۔۔۔۔
اس وقت سمیر نے مجھےحیدر صاحب کے بھیجے گئے خود کے پرپوزل کے بارے میں بتایا تھا ۔۔۔
حیدر صاحب چونکہ میرے بزنس پارٹنر بھی رہ چکے ہیں ۔۔۔
اس لیے میں ان کو بہت اچھے طریقے سے جانتاہوں۔ ۔
وہ ایک رنگین مزاج رکھنے والے مرد ہیں ،۔۔۔

آریج میں تم سے ایکسپیکٹ کرتا ہوں کہ تم ان سب باتوں کو سمجھو گی اور میری کسی بھی بات کا برا نہیں منائو گی ۔۔
حجاب کا چہرے کا رنگ اس انکشاف سے اڑ چکا تھا ۔۔
اریج تو اپنے باپ کو اب بہت اچھے طریقے سے پہچان چکی تھی ۔۔
ماں کے انتقال کے بعد سےہیجو روپ اسنے پاپ کا دیکھا تھا وہ لفظوں میں نہ قابل بیاں تھا۔ ۔۔

اسنے اسی دن یہ تصور کرلیا تھا کہ ماں کے بعد اسکا باپ بھی اسکیلئے انتقال کر گیا ہے۔ ۔۔
اور اس یقین پہ آخرح ظرب انکی دوسری شادی نے بھرپور طریقے سے لگائ تھی۔ ۔

مگر حجاب کے لئے یہ بات کسی بم کی طرح صابت ہوئی تھی ۔
۔جو بشر نے اس کی سماعتوں پہ آج پھوڑا تھا ۔۔۔۔

تو کہیں ۔۔
کیا بشرنے مجھ سے شادی محض ہمدردی کے لئے کی تھی ؟؟؟

کیا واقعی میں جو سوچ رہی تھی وہ ٹھیک تھا۔۔؟؟؟
بشر کو آسرا مجھ سے زیادہ اچھی لگتی ہے ۔۔۔؟؟؟؟
کیا وہ آسرا سے محبت ۔۔۔؟؟؟
حجاب کے دل و دماغ میں یہ بات کسی نوکیلی کیل کی طرح چبھ رہی تھی ۔۔۔۔
حجاب اپنے ہی خیالوں میں گم ۔۔۔
بشر نے مزید کہا ۔۔

پھر جب میری اور حجاب کی شادی کے دن وہ ایز آ گیسٹ ہماری شادی میں شریک بھی تھے مگر اوپری دل سے جو ان کے چہرے اور باتوں سے صاف ظاہر تھا ۔ ۔۔
آریج ہمیشہ یاد رکھنا انسان کی باڈی لینگوئج اس کے اندر کا حال بتا دیتی ہے ۔۔

مگر اس دن کے بعد سے اس شخص نے مجھے کئی طریقوں سے بزنس کے علاوہ بھی مات دینے کی کوشش کی ۔۔
اب جب کہ میں ان کی ہر کوشش کو ناکام بناتا گیا اور وہ ہمیشہ منہ کی کھا کے مزید دشمنی کے گھڑے میں گرتے چلے گئے ۔۔
بشر نہ جانے اور کیا کیا بول رہا تھا لیکن بشر کی بات سن کے اریج کے دماغ میں یکدم چھنا کہ ساہوا۔۔۔۔
جب ایک دفعہ ڈیڈی نے اس کو حجاب سے دوستی ختم کرنے کا کہا تھا تب وہ بہت حیران ہوئی تھی کیونکہ ڈیڈ تو کیا گھر میں باقی سب بھی یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ میری ایک ہی دوست ہے بچپن سے اور وہ ہے حجاب ۔۔
اور پھر ساری بات اریج نے حرف بہ حرف بشر کو بتائی کہ ۔۔
ڈیڈ نے جب اسے حجاب سے دوستی ختم کرنے کا کہا اور اس کے انکار کو سن کر انہوں نے اس کو پورے ایک مہینے کے لئے گھر میں قید کر دیا تھا گویا یہ اسکی سزا تھی ان سے نافرمانی کرنے کی ۔۔۔۔

ہنہہہہہ۔ ۔۔۔
بشرنے اریج کی پوری بات سن کر صرف فنکارہ بھرا۔۔۔
اور پھر کچھ لمحوں بعد اپنی بات دوبارہ سے جاری کرتے ہوئے گویا ہوا ۔۔

تمہیں یہ سب باتیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اب اگر وہ تمہیں ٹریس کرتے ہیں تو وہ سب سے پہلے ادھر ہی آئیں گے۔۔
وہ اپنی بات بہت طریقے سے سمجھانا چاہتا تھا ۔۔۔
کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ تمھاری یہاں حجاب کے علاوہ کوئی اور دوسری دوست نہیں ہے۔ ۔۔
چلو مانا کے بالفرض تمہاری اسٹیپ مدر نے یہ بھی کہہ دیا ہو کہ تم گھر سے بھاگ گئی ہو۔ ۔۔
مگر وہ تمہارے باپ سے یہ تو اگل و آ سکتی ہے نہ کہ تم کس کے گھر جاسکتی ہو اور کس کی نہیں ۔۔۔؟؟؟؟؟

بشر ہر ہر پہلو پر سوچ رہا تھا وہ کیسے ایک لڑکی کی زندگی کو داؤ پہ لگا سکتا تھا ۔۔
جی بھائی آپ صحیح کہہ رہے ہیں اور اگر وہ یہاں آئے تو پھر میں ان کے ہتے آرام سے چڑھ جاؤں گی۔۔۔۔
ریچھ ہو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا وہ ضپط کرکے بشر کو بولی ۔۔۔۔

اور میں تو کیا۔۔
ہم میں سے کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ وہ باپ ہیں تمہارے وہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ۔۔

بلکہ ہمارے اوپر بھی بہت آرام سےکیس تھوپ سکتے ہیں اغواہ کا۔ ۔۔۔
تو پھر بشر بھائی آپ ہی بتائیں میں کیا کروں ؟؟؟
کس سے مدد لو؟؟؟؟
کون کرے گا مجھ سے ہمدردی؟؟؟ ۔۔
کہاں ڈھونڈوں میں اپنے لئے پناہ؟ ؟؟

وہ بے بس و ہلکان سی ہو کر بولی ۔۔
بشر آپ کی بات ٹھیک ہے مگر آپ یہ بتائیں کہ پھر یہ کہاں جائے گی؟؟؟؟
خود کو کیسے پروٹیکٹ کرے گی ۔۔؟؟؟

اسراء اپنی آنکھوں میں آئ نمی کو واپس دھکیل کر بولی ۔۔
حجاب جب کہ خاموش تھی الفاظ شاید اس کے لبوں میں کہیں کھو چکے تھے ۔
یہ سمیر کے گھر جائے گی وہاں پر یہ زیادہ سیف رہے گی ۔۔
وہ بھی ٹھکانہ کوئی اتنا محفوظ نہیں ہے مگر فی الحال سب سے پہلا شک ان کا حجاب کے سسرال پہ ہی جائے گا ۔۔
اور پھر ان کی مجھ سے چلتی دشمنی ان کے شک کویقین میں بھی بدل سکتی ہے ۔۔

اس دوران میں اس مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل نکال ہی لونگا فلحال کچھ دنوں تک ان کا دماغ وہاں تک نہیں پہنچے گا ۔۔۔
💕💕💕
حمدان اپنے کمرے میں بیٹھا سگریٹ پر سگریٹ سلگا رہا تھا ۔۔
اس کو رہ رہ کر خود کی۔۔۔
کی گئ اسرا کے ساتھ انتہائی جنونیت پررہے رہے کہ غصہ آ رہا تھا ۔۔

وہ تو عورت ذات کو تکلیف دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔
یہ تو پھر اس کی شریک سفر تھی ۔
وہ جذبات میں آکر اسراء کو تکلیف دے بیٹھا تھا ۔۔۔
اس کی آنکھوں میں بار بار آسرا کا رویہ رویا اور ہونٹ سے رستہ ہوا خون آنکھوں میں گردش کر رہا تھا ۔
وہ خود کو بہت خالی خالی محسوس کرنے لگا ۔۔
وہ جب سوچ سوچ کر تھک گیا تو ۔۔
اس نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر آخر کار آ سرا کے نمبر پر کال ملالی ۔۔
اسرانی پہلی بیل پرہی فون ریسیو کر لیا تھا ۔۔
جیسے وہ انتظار بے ہو ہمدان کے فون کی شدت سے ۔۔۔

کیسی ہو ؟
ہمدان نے بے قراری کی انتہا کو چھوتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
جس حال میں آپنے چھوڑا تھا ویسی ہی ہو ۔۔
اسراء کا لہجہ تھوڑا خفا خفا سا تھا ۔۔
اس نے اپنے ہونٹ پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔۔

اسراء میں نے جان کر تمہیں تکلیف نہیں دی تھی۔۔۔
میں اس وقت تم سے دوری کا تصور کرکے بہت بے بس اور ٹوٹا بکھرا ساتھا ۔۔
وہ ٹہر ٹہرکے بولا ۔۔
اس کے لہجے میں دکھ کی واضح جھلک تھی ۔۔

میں جانتی ہوں آپ بھول جائیں اس بات کو ۔۔
اسراء کو اپنے شوہر کا اس کے سامنے شرمندہ ہونا بالکل بھی گوارا نہیں تھا ۔۔
وہ اس کی بات وہیں پہ کاٹ کر گویا ختم کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
نہیں اسر اءمیں نے غلط کیا ۔
"ایم سوری" ۔۔

یہ وہ لفظ تھا "ایم سوری" جو اس نے شاید ہی زندگی میں کسی کو کہاں ہو ۔۔
مگر اپنی محبت کے آگے ہار گیا تھا ۔۔
حمدان مجھے آپ کے لبوں سے یہ الفاظ بالکل اچھا نہیں لگا ۔۔
پلیز آج کے بعد یہ الفاظ نہ بولیے گا میرے سامنے ۔۔۔

وہ ایک جذب کے عالم میں بولی ۔
تم نے بات کی بشرکی امی سے ؟
وہ بے قراری سے بولا ۔
اس کے لہجے میں جذبات کا ٹھاٹھے مارتا سمندر پوری طرح سے شور کر رہا تھا ۔۔
نہیں میں نہیں کرسکی ابھی تک ۔۔
اسراء یہ ٹھیک نہیں ہے جو بھی کرو جلدی کرو ۔ ۔

جی آپ پریشان نہ ہوں میں بس کچھ ہی دنوں میں موقع دیکھ کے ان کو ہر چیز بتاؤں گی ۔۔
تمہارے اور اپنے رشتے کے بارے میں ہر ایک چیز واضح کردوں گی ۔۔

وہ حمدان کو دلاسہ دیتے ہوئے بولی ۔۔
مگر اس کی زبان کا ساتھ اسکالہجہ ہرگز نہیں دے پا رہا تھا ۔۔
ہمدان نے بہت اچھے طریقے سے یہ بات محسوس کی تھی ۔۔
میں تم سے ملنا چاہتا ہوں ۔۔

حمدان شدت جذبات سے مجبور ہو کر بولا ۔۔
پلیز حمدان ابھی نہیں تھوڑا صبر سے کام لیں ۔۔
میں خود آپ سے ملنے کے لئے آئونگی کچھ دن ٹھہریے پلیز ۔۔
اس کو ہمدان سے ہر قسم کی امید تھی کہ وہ ابھی اور اسی وقت بھی آ سکتا تھا ۔۔
اور اگر ایسا ہو جاتا تو پھر۔۔۔
وہ آگے کی سچویشن کو تصور کرکے سرخ پڑ گئی ۔۔

میں کچھ بھی نہیں جانتا آج پیر ہے اور میں تم سے ٹھیک ایک ہفتے بعد یعنی نیکسٹ منڈے کو ملوں گا ۔۔
کہاں کیسے اور کب یہ تم مجھے خود سوچ کے بتا دینا ۔۔۔
اور پھر کچھ بھی بغیر اسنے جھٹ سے موبائل بند کردیا ۔۔
اسرا کے تو گویا ہاتھ پاؤں ھی پھول گئے اس کو اپنا پورا وجود کپکپاتا ہوا محسوس ہوا ۔۔
مجھے منانے کے لئے فون کیا تھا اور الٹا حکم صادر کرکے خون ہی رکھ دیا ۔۔۔
وہ کنفیوز سی اپنی انگلیاں چٹخا تے ہوئے سوچ رہی تھی ۔۔
انوکھی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر رقصاں تھی ۔۔۔

💕💕💕
وہ دونوں اریج کو بہت خاموشی سے حجاب کے گھر چھوڑ آئے تھے ۔
حجاب وہاں موجود اپنے سبھی وفادار ملازمین کو ہوشیار کرکے آئی تھی ۔۔
خاص کر ان کے گھر میں ایک عرصے سے رہتی بوا کو جو کہ پہلے ماما کا کچن میں ہاتھ بٹایا کرتی تھی ۔
وہ عریج کو ان کے حوالے کر کے ۔۔
دونوں واپس آ رہے تھے جب گاڑی میں خاموشی کو بشر کی آواز نے توڑا ۔۔
اب اتنی اداس کیوں ہو؟؟!
کرتود یا تمہاری عزیز ازجان دوست کا مسئلہ حل فلحال کے لئے ۔۔۔

وہ اس کی شکل پہ بچھتے 12 دیکھ کر بولا ۔۔
مگر وہ اپنے دل کی حالت کیا بتاتی اسکو۔ ۔
اس کے دل میں تو ایک شک کی پھانس تھی۔۔
جو چبھ کے رہ گئی تھی ۔۔

شک ایک ایسی چیز ہے جو ایک دفعہ دل میں آجائے تو رشتوں کو جڑ سے اکھاڑ کے ختم کردیتا ہے ۔۔
اور وہ اس بیماری میں مبتلا ہوچکی تھی ۔۔
نہیں بس ویسے ہی بہت تھک گئی ہوں ۔۔

وہ کار سیٹ سے سر اٹھاتے ہوئے آنکھیں موندگئی ۔۔
اداسی اس کی آواز سے آیاں تھی۔ ۔
اچھا چلو تمہاری فیورٹ آئس کریم کھائیں۔ ۔

نہیں بشر گھر چلے میرا ابھی کوئی بھی چیز کھانے کا موڈ نہیں ہے ۔۔
وہ قطعی لہجے میں بولی ۔۔
بشر کو حیرت ہوئی آج سے پہلے اسنے کبھی حجاب کو اس قدر خاموش اور اکھڑا اکھڑا نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
ہوسکتا ہے ارید کی وجہ سے اپ سیٹ ہے ۔۔
تھوڑی دیر میں خودی سیٹ ہو جائے گی ۔۔

وہ اپنی سوچ پر مطمئن سا ہوکر گھر کے راستے پر گاڑی ٹرن کرتے ہوئے سوچ رہا تھا ۔۔۔
💕
جاری ہے ۔

0 comments:

Post a Comment