Monday, December 10, 2018

tu kitni masoom hai episode 26 by aymen nauman

پلیز حمدان یہ میرے لئے اس لئے ضروری ہے کہ میں اپنی ماں کی تربیت کے اوپر کوئی حرف نہیں آنے دینا چاہتی ۔۔
میں یہ نہیں چاہتی کہ بعد میں لوگ کہیں کہ دیکھو کیسی لڑکی تھی کہ ۔۔۔۔
میں لوگوں کی زبانیں نہیں روک سکتی مگر خود اپنے عمل سے آپنا آپ تو منواہی سکتی ہوں نا؟ ؟؟؟؟

بس کرو آسرا تم ایسی فرمائش کر رہی ہوں جو میرے لیے پوری کرنا ناممکن سی بات ہے ۔۔۔
یہ میرے اختیار سے باہر ہے۔ ۔۔

وہ اس کی بات بیچ میں سے کاٹ کر بولا ۔۔
حمدان۔۔۔۔
وہ اسکو پاس سے اپنے پاس سے اٹھتے دیکھ کر بولی۔ ۔۔
حمدان کھڑا ہو چکا تھا اور اب اس کی پشت اسراہ کی طرف تھی ۔۔

پلیز مجھے ایک موقع تو دیں۔ ۔
کہ میں خود کو منواسکوں۔ ۔۔
مجھے خود کو ڈیفینڈ کرنے کا صرف ایک موقع ۔۔۔۔۔۔
اور میں آپ کو اس بات کا یقین دلاتی ہوں کہ بہت جلد ہم دونوں دوبارہ سے ایک ساتھ ہوں گے ۔۔۔

وہ چین سی اٹھ کر اس کی پشت سےسر ٹکا کر بولی ۔۔۔
جائوا سرا چلی جاؤ ۔۔۔

وہ جذبات سے عاری لہجے میں گویا ہوا اس سے ۔۔۔
حمدان پلیز ایک دفعہ مجھے مڑ کر تو دیکھلیں۔ ۔۔۔
صمجھے اسطرح سولی پہ تو نہ لٹکائیں۔

آسرا میرا ضبط مزید مت آزماؤ ۔۔
وہ شدت غم سے نڈھال سہ ہو کر بولا۔۔
چلی جاؤ اسرا ایسا نہ ہو کہ میں تمھاری جانے کی تمام راہیں مسدود کر دو ۔۔۔۔
وہ غصے سے زور سے چیخ کر بولا ۔
اسراء خوف سے دو قدم پیچھے ہوئی ۔۔
حمدان ایک ہی جست میں مڑا اور اپنے پیچھے کھڑی آسرا کودیوار سے لگا کر گویا ہوا ۔۔
میں تم سے کتنی دفعہ کہہ چکا ہوں چلی جاؤ ۔۔۔
کیوں مجھے میرا فیصلہ بدلنے پر اکسا رہی ہوں؟؟؟ کیوں مجبور کر رہی ہو مجھے ۔؟؟؟؟
وہ اسکو دونوں شانوں سے جھنجھوڑتتے ہوئے بولا۔ ۔ 
ضبط سے اسکا چہرہ آگ کی طرح دہک اٹھا تھا۔ ۔۔

جبکہ جانے کا فیصلہ تم پہلے ہی لے چکی ہو ۔۔۔
حمدان کی آنکھیں غصے کی شدت سے سرخ ہو رہی تھی ۔۔
اسراء کو وہ آج وہی والا حمدان لگا جو اس اس رات اس کو اسی کے گھر پہ دھمکا کر گیا تھا ۔۔۔
میں آپ کی خفگی نہیں برداشت کر سکتی میں جی نہیں سکو گی ۔۔۔
وہ اب رورو کے ہلکان سی ہوکر کانپنے لگی تھی۔ ۔۔
حمدان نے بے طرح کانپتی اپنی بیوی کو دیک ھا۔ ۔

اسکو آج سے پہلے اپنی 36 سالہ زندگی میں اپنا آپ کبھی اتنا شدید بے بس نہ محسوس ہوا تھا۔۔
آج وہ خود کو بے بسی کی انتہا کو چھوتا محسوس کر رہا تھا۔ ۔
اس نے اسراء کی کمر کے گرد بازوؤں کی مدد سے گھیرا تنگ کرتے ہوئے اس کے کپکپاتے ہونٹوں پر اپنے لب رکھ دیے ۔۔۔۔
اور دوسرے ہاتھ سے اسکے بال اپنی مٹھی میں بھر کر اپنی جزبات کی اگ سے جھلسا گیا۔ ۔

جیسے ۔ کہے رہا ہو کہ میری امانت میں خیانت نہ ہو۔ ۔
اسراء نے اسکی شرٹ کو اپنی مٹھیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ ۔۔
تکلیف سے اسکی آنکھوں سے بھر بھر آشک رواں ہورہے تھے۔ ۔
اسکا ناشک سہ سراپہ پوری طرح حمدان کی گرفت میی تھا۔ ۔۔
وہ سسسک رہی تھی۔ ۔
کانپ اٹھی تھی۔ ۔

درد کا احساس مزید ہاوی ہورہا تھا۔ ۔
اور پھر کچھ ہی لمحوں بعد ہی کا نپتی لرزتی اپنی بیوی کو ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر نکال کر کھڑا کیا اور اس کے ہونٹوں سے رستے خون کو بے دردی سے اپنے ہاتھ کے انگوٹھے صاف کیا۔ ۔
صرف ایک مہینہ اس ایک مہینے میں 
جو کرنا چاہتی ہو کرو ۔۔
اس کے بعد وہی ہوگا جو میں جاؤں گا ۔۔۔

یہ کہہ کر اس نے دھاڑ سے دروازہ دہر اسراءکے منہ پہ بند کردیا ۔۔۔
🍁🍁اس نے مانگی بھی تو جدائی مانگی🍁🍁
🍁🍁اور ہم تھے کے انکار بھی نہ کر نا آیا🍁🍁

اسرار اس کی اس قدر سفاکی سے دنگ رہ گئی تھتی۔ ۔۔
وہ اپنا ٹوٹا بکھرا وجود لے کر خود کو ہتہ امکان ہ کمپوز کرکے خالہ اور خالو کے ساتھ ان کے گھر آ گئی ۔۔۔۔۔

🌹
ماما بابا اور وہ تینوں لا ن میں بیٹھے شام کی چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔۔۔
اور بھئی حجاب اس نالائق نے تمہیں تنگ تو نہیں کیا نا ۔؟؟؟؟؟

بابا حجاب کو چھیڑتے ہوئے بولے ۔۔۔
بابا بس کیا بتاؤں آپ کو آپ لوگوں کے جانے کے بعد کیا کیا نہیں گزری مجھ پہ جاری پہ۔ ۔
۔وہ افسردگی سے کہتی بشر کی طرف ایک جاتی اور شرارتی نظر ڈال کر دوبارہ بابا کی طرف متوجہ ہوگئی ۔۔
بشر نے اس کی آنکھوں میں ناچتی شرارت دیکھ لی تھی ۔۔۔
بشرنے جواباًاس کو ایسی نظروں سے گھورا کے جیسے کہہ رہا ہو کہ۔۔
بیٹا کمرے میں تو چلو پھر بتاؤں گا ۔۔۔
ماما ان دونوں کو اس انداز میں دیکھ کر دل ہی دل میں ماشاءاللہ بولے بغیر نہ رہ سکیں ۔۔
آج اپنے دونوں بچوں کو کتنے عرصے بعد وہ ایک دوسرے کے ساتھ کتنا خوش اور مطمعین دیکھ رہی تھیں ۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کتنے خوش اور مکمل لگ رہے تھے ۔۔۔
خدا کرے تم لوگوں کی جوڑی سلامت رہے۔ ۔
آمین۔ ۔۔

دونوں کے چہروں پر پھوٹتی ہوئی خوشی ان دونوں کے بیچ بنے اس نئے رشتے کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہی تھی ۔۔۔
ماما کی محویت کوبشر کی آواز نے توڑا تھا۔ ۔
باباجبکے کسی ضروری کام کا کہہ کر جاچکے تھے ۔

اور آسرا تم بتاؤ کیسی ہو؟؟ یار میں تمہیں لینے بھی آیا مگر تم آئی ہی نہیں ۔۔۔
اور یہ تمہارے ہونٹ کو کیا ہوا؟ ؟؟
اسراء بشر کی بات پہ سٹپٹا گئ۔

وہ۔ ۔وہ۔ ۔۔یہ باتھروم میں میں سلپ ہوگئ تھی۔ ۔۔
وہ اٹکتے ہوئےگویاہوئی۔ ۔

دل ہی دل میں حمدان کو کوستے ہوئے بولی۔ ۔۔
زور تو نہیں لگی تھی۔ ۔؟؟؟
بشر کے ماما نے پوچھا۔ ۔

ماما کی ماحولیت بشر کی آواز نے توڑی تھی باباجبکے کسی ضروری کام کا کہہ کر جاچکے تھے ۔
ہاں بیٹا بس ایک ہی دفع تم سے فون پر بات ہو سکی اس کے بعد جب بھی میں نے تمہیں فون کیا تمہارا نمبر ہی مل کے نہ دیا ۔۔
ماما نے بھی گفتگو میں حصہ لیا ۔۔۔
جی ہو سکتا ہے کچھ پرابلم ہو گئی ہوں موبائل میں ۔۔۔
وہ کمرور سہ۔ ازر تلا شہ۔ ۔

اب وہ کیا بتاتی کہ کس طرح حمدان نے 
ان تھوڑے سے دنوں میں اس کو کسی اور طرف متوجہ ہونے ہی نہیں دیا ۔۔

وہ بس اس کو خود میں ہی الجھائے رکھتا۔۔
اپنی محبت اور قربت کے نشے میں اس کو چور کر کے رکھ دیا تھا ۔۔ 
ادھر ادھر تو گویا وہ یہ بھول ہی گئی تھی اس کے ساتھ گزارے ہوئے ایک ایک حسین لمحات کی قید میں کہ باہر بھی کوئی دنیا نھی موجود ہے ۔۔۔

بشر اس کو فضاؤں میں گم دیکھ کر بہت گہری نظروں سے اس کا جائزہ لے رہا تھنن۔؟ا ۔
جیسے اس کے چہرے پر کچھ تول رہا ہوں 
حجاب کی ماما سے باتیں کرتی ہوئی نظر جیسے ہی بشر کو آسرا کو دیکھتے ہوئے پڑی ۔۔۔

حجاب نے آو دیکھا نہ تائو اور ۔ ۔۔
اوچ ۔۔۔۔۔۔
بشر کی ہلکی سی چیخ نمودار ہوتی ہے حجاب نے اپنا غصہ آسرا اور ماما کے سامنے ظاہر کیے بغیر اپنی سینڈل والا پاوں ۔۔
بشراپنا پائو ں پکڑے بری طرح سہلا رہا تھا ۔۔

💕
حجاب ٹیرس میں کھڑی تھی جب بشر پیچھے سے آیا ۔۔
اور اسکے شانہ پہ اپنی تھوڑی ٹکا کے بولا ۔۔
کیا کہا جا رہا تھا نیچے ؟؟؟۔

بہت ظلم کیا ہے نہ میں نے تم پر بہت ستایا ہے نہ میں نے تمہیں ۔۔۔
وہ اس کو گھیرے میں لیتے ہوئے پیچھے اس کی گردن پر ہلکا سہ کاٹتے ہوئے بولا ۔۔

وہ بشر میں نے ایسے ہی مذاق کیا تھا معاف کر دینا پلیز جانے دینا نا۔ ۔
ابھی نہیں پلیز ابھی نہیں۔ 
وہ بشر کے ہاتھ اپنے بازوؤں پر گھڑتےمحسوس کرکے بولی ۔۔
نہیں میرا تو ابھی بدلا لینے کا دل چاہ رہا ہے اور میں ابھی ھی لوں گا ۔۔۔
اف بشراب بھی نہ کیسے ہیں ۔۔۔۔
وہ اس سے اپنا آپ چھڑا نےکی کوشش کرتے ہوئے ہوئے ۔۔۔۔
بشرنے اس کی ایک نہ سنی اور اس کو اٹھا کر کمرے میں لے آیا ۔۔
کتنی دفعہ کہا ہے کہ مجھ سے پنگا نہ لیا کرو اس کی سزا تمہیں بھاری پڑے گی ۔ ۔ 
وہ اس کی گردن پہ جھکے ہوئے بولا ۔۔۔
💕

اریج کو ہوش آ چکا تھا رات کا وقت تھا جب اسراہ کی آنکھ کسی کی سرگوشی اور ہلکی کھٹ پٹ کی آواز پہ کھلی وہ ایک دم ہر بڑا کر اٹھ بیٹھی ۔۔
اس کے برابر میں بیٹھی اریج پانی کا گلاس اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔
آپ رو کئیے میں دیتی ہوں ۔۔۔

اسراء نے اس کو گلاس میں پانی انڈیل کر دیا جلدی سے۔ ۔۔
وہ بشر سے جان چکی تھی کہ وہ حجاب کی دوست ہے اور کسی وجہ سے وہ اس حالت میں ہے ۔۔
وجہ پوچھنے پر۔۔۔۔
بشر نے اسکوکہاکہابھی تو میں خود بھی نہیں جانتا۔ ۔۔
اس لئے اب وہ تینوںبے صبری سے اریج کے جاگنے کے انتظار میں تھے ۔

وہ اس کو پانی دے کر شر اورحجاب کے کمرےکی طرف آئی اور ان دونوں کو اریج کے ہوش میں آنے کا بتا کر واپس اسکے پاس آکر اس کو سہارے سے بٹھا کر خود بھی اس کے پاس ہی بیٹھ گئی ۔۔۔
اسراء اسسے بہت کچھ پوچھنا چاہتی تھی ۔۔
جب دروازے کو ہلکا سا نوک کر کے پہلے حجاب اندر آئی پھر کچھ لمحوں کے بعد باہر کھڑا بشر بھی کھنکار کر اندر آیا ۔۔
حجاب کو سامنے دیکھ کر اریج کو اللہ کی قدرت پریقین مزید پختہ ہو گیا ۔
ہمادا رب کسی کو بھی بے یارومددگار نہیں چھوڑتا ۔۔۔

وہ کوئی نہ کوئی ایسا وسیلہ یا راستہ ضرور پیدا کرتا ہے جس سے اس کا بندہ کسی بھی پریشانی سے نکل سکے ۔۔
وہ حجاب کو اپنے قریب دیکھ کر رو پڑی اور پھر خدا کا شکر ادا کر کے حجاب کے پوچھنے پر خود پہ گزری ایک ایک داستان سسکیوں کے درمیان ان تینوں نفوس کے گوش گزار کردی گئی ۔۔
۔
حجاب دم بخود سی اس کو سن رہی تھی حجاب کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کی دوست پر اتنی بڑی قیامت گزر چکی ہے ۔۔۔

اسراء کی بھی حالت حجاب سے مختلف نہ تھی وہ نم آنکھوں سے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھ رہی تھی جس کی عمر اس کے اندازے کے مطابق 17 سے 18 سال کے درمیان ہی تھیں ۔۔
اس کو شدید دکھ اورافسوس نے گھیر لیا تھا ۔
میں تو اپنے رب سے شکوہ کرتی تھی مگر اس کو دیکھ کر مجھے اپنے دکھ تو آج بہت ہی معمولی لگ رہے تھے۔۔
کیا وہ دکھ تھے ؟؟؟
یا پھر میرے خودساختہ پیدا کئے حالات ؟؟؟
وہ سوچ کے رہے گی۔۔
۔
جب کہ بشر کی آنکھوں میں سر خی اتر آئی تھی ۔۔

اریج بس اب تم یہیں رہوں گی میں تمہیں کہیں بھی نہیں جانے دوں گی ۔۔۔
حجاب اپنء عزیز ترین دوسکو خود سے لگاتے ہوئے آنسو صاف کر کے بولی ۔۔۔
اریج خالی خالی نظروں سے ان تینوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اریج آپ کو یہاں سے جانا ہوگا۔۔۔
میں آپ کو یہاں رہنے کی اجازت نہیں دے سکتا ۔۔۔
بشر نے گویا سب کے سروں پر بم پھوڑا تھا ۔۔
اسرا اور حجاب دونوں کی آنکھیں حیرت کی زیادتی سے پھٹی رہ گئی ۔۔۔۔
جیسے دونوں نے کچھ غلط سن لیا ہو۔ ۔
بے یقینی سے حجاب نے اپنے شوہر کو دیکھا۔ ۔۔

💕
کہاں ہیں اریج دلآویز شاپنگ کر لی اس نے ۔؟؟
حیدر صاحب اپنی گھڑی اتارتے ہوئے دلآویز سے پوچھنے لگے۔ ۔
آپ پہلے فریش ہولیں پھر بات کرتے ہیں ۔
حیدر صاحب نے ایک نظر اپنی حسین و جمیل بیوی پر ڈالی اور فریش ہونے چل دیے ۔۔
اس دوران دلآویز اپنا اگلا لائحہ عمل ترتیب دے چکی تھی پوری پلاننگ اس کے دماغ میں ہو چکی تھی کہ کیسے حیدر صاحب کو شیشے میں اتارنا ہے ۔
ہاں بلائواب زرا اریج کو ہم بھی تو دیکھیں کیا شاپنگ کی ہے ۔۔

دلاویز بیگم حیدر صاحب کی بات سن کے روتے ہوئے بولی ۔۔
ان کی ایکٹنگ دیکھ کے کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ ایک شاطر اور بیوپاری عورت ہے ۔
بس میں اب آپ کو کیا بتاؤں کہ کیا آج کیا ہو گیا ہے ۔؟؟؟
وہ سینہ پیٹ پیٹ کے بولی ۔
کیا ہو گیا کیوں رو رہی ہو اس طرح ۔؟؟؟
حیدر صاحب ان کو اس طرح روتے دیکھ کر بوکھلا گئے ۔
وہ ان کو پریشان دیکھ کر مزید دھاڑے مار مار کر روتی ہوئی بولی ۔
وہ اریج گئی ۔
ہم سب کے منہ پے کالک پوت کر چلی گئی ہے ۔۔
وہ اب زمین پر بیٹھ کے زور زور سے اپنا بین رہی تھی ۔۔
۔
کیا مطلب ہے تمہارا تم جانتی بھی ہو کیا کہہ رہی ہوں تم ؟؟؟؟
۔
آن کو دل آویز بیگم کی دماغی حالت پر شک ہوا وہ ایک دم غصے سے دھاڑ کر بولے ۔

ارے مجھ سے یہ میرے بھائی سے کوئی پوچھے کہ ہم دونوں پہ کیا گزر رہی ہے ۔؟؟
بلکہ میرے معصوم بھائی نے تو اس کلموہی کا پیچھا بھی کیا تھا بھاگتے بھاگتے میرا پھول سا ہھائی گاڑی تک سے ٹکرا گیا مگر ۔۔۔
مگر کیا ۔؟؟؟؟
اب کی بار وہ سامنے رکھی کافی ٹیبل پہ لات مارتے ہوئے بولے ۔۔۔۔
کوفی ٹیبل اوپر سے شیشے کی تھی شیشہ دیوار سے لگ کے چکنا چور ہو چکا تھا ۔۔۔
وہ اپنے کسی یار کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر فرار ہو گئی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔
🌷

جاری ہے۔ ۔۔۔۔

0 comments:

Post a Comment