Monday, December 10, 2018

tu kitni masoom hai episode 25 by aymen nauman

کیا ہوا حجاب کیوں اس طرح گھر سر پر اٹھا رہی ہو؟؟؟؟؟
بشر کولگا شاید پھر کوئی چھپکلی یا چوہا تو نہیں دیکھ لیا ۔۔
وہ اس سے اسی قسم کی ہی امید کرسکتا تھا۔۔۔
لیکن ڈرائیور کے ساتھ کھڑی حجاب کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر وہ تیزی سے گاڑی کی طرف بھاگا لاؤنج کے دروازے سے ۔۔
ڈرائیور اس کو باہر آتا دیکھ کر حواس باختہ سہ بشر طرف آیا ۔
صاحب جی میں گاڑی کی سروس کروانے کیلئے گیا تھا ۔۔
جب واپس آ رہا تھا تب ایک بی بی زخمی حالت میں مجھے بےہوش ملی ۔۔
معاف کریئےگا بشر بابا میں اس کو گاڑی میں ڈال کر لے آیا مجھ سے اس کی تکلیف دیکھی نہیں گئی ۔۔

وہ ا بھی آگے بھی کچھ بولنے والا تھا کہ اس کی بات ادھوری ہی رہ گئی جب حجاب روتی ہوئی بشر کا ہاتھ پکڑ کر اس کو کھینچتی ہوئی گاڑی کے قریب لے کر آئی ۔۔
بشریہ اریج۔ ۔ 
دیکھیں میری دوست کی کیا حالت ہو گئی ہے ۔
اس کے پیروں سے خون ابھی بھی رس رہا تھا کہیں ٹکرانے سے سر کے اوپری حصے سے بھی خون کی لکیر بن چکی تھی ۔۔
کمیز شاید کسی چیز سے الجھ کر تھوڑی پھٹ چکی تھی ۔۔
بشر کو اس کی حالت دیکھ کر کچھ ٹھیک نہ لگا اور وہ روتی ہوئی حجاب کی مدد سے اس کو اندر لے آیا ۔۔
اسراء والے روم میں لٹا کر وہ تیزی سے اپنے فون کو لینے لاؤنج میں گیا ۔۔
حجاب اریج کے پاس ہی بیٹھی اس کے ہاتھ پاؤں سہلا رہی تھی ۔۔
کچھ ہی دیر میں بشر ڈاکٹر کو یہ کمرے میں دوبارہ واپس آیا 
اریج کا معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹر۔۔
بشر سے کوئی گویا ہوا ۔۔
ان کو تھوڑی ریسٹ کی ضرورت ہے زخم اتنے گہرے نہیں ہیں چند ہی دنوں میں جلدی ہی ریکوور ہوجائیں گے ۔۔
ان شاء اللہ ۔۔
حجاب نے ڈاکٹر کی بات پر بے ساختہ کہا ۔۔
ڈاکٹر بشر کے ساتھ کمرے میں سےجا چکا تھا ۔
حجاب اپنی عزیز ترین دوست کی آیسی ٹوٹی بھی بکھری حالت پہ ششدرسی تھی ۔۔
اس کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ اسی کی دوست اریج ہے ہستی کھیلتی زندگی کے لمحے کشید نے والی ۔۔

💕
حجاب باہر آو ایک منٹ کے لئے مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے ۔۔
وہ آہستہ سے کمرے میں آکر حجاب سے بولا ۔

حجاب ابھی بھی اریج کے سرہانے ہی بیٹھی تھی ۔۔
رو رو کے اس کی آنکھیں سرخ اور سوجی سو جی سی ہو رہی تھیں۔ 
جی بولیں سب خیریت ہے نا ۔۔؟
وہ وہیں سے آہستہ اشارے سے بولی ۔۔
ہاں یار سب خیریت ہے تم بس ایک منٹ کے لئے باہر آؤ ۔۔
وہ آریج کے اوپر کمبل ڈال کر بہار آئی ۔۔
ہاں اب بولیں سب خیر تو ہے نا ۔
ہاں ہاں یار سب خیر ہے۔
تم اس طرح رو تو مت کیا تمہارے اس طرح رونے سے اس کو ہوش آجائے گا یا وہ بالکل ٹھیک ہو کے لڈیاں ڈالنا شروع کردی گئی ۔۔
اس نے جان کر آخر میں" لڈی "کا لفظ استعمال کیا تھا تاکہ۔ ۔
وہ تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی مگر مسکرا تو دی ۔۔
اور وہ اس کی بات میں واقعی مسکرا دی۔
توبہ اب ایسی بات بھی نہیں ہے کہ وہ فوری لڈیا ہی ڈالنا شروع کردے گئی ۔۔
وہ تھوڑا ہنستے ہوئے منہ بنا کر بولی ۔
بشر اس کو بازو کے گھیرے میں تسلی دیتا ہوا لاونچ میں رکھے صوفہ تک لے آیا ۔۔
ارے آپ ابھی تک ایئرپورٹ نہیں گئے کیا ماما بابا کو لینے ۔۔۔
اسکو اچانک ان دونوں کی یاد ستائی ۔۔۔
ہاں ہاں بس ابھی ایک گھنٹے میں نکلوں گا ۔۔
اچھا یہ پہلے پانی پیو بشرنے ٹیبل سے گلاس اٹھا کر اس میں پانی انڈیل کر حجاب کے ہونٹوں سے زبردستی لگایا ۔۔
اب مجھے بتاو تحمل سے اریج کے بارے میں مکمل تفصیل ۔۔
بشر کو وہم سا ہو رہا تھا کہ جیسے وہ اریج کو پہلے سے جانتا ہے یا اس نے کہیں دیکھا ہوا ہو۔
اریج اور میں دوست ہونے سے پہلے ریلیٹو بھی ہے۔
بشر بیچ میں بالکل بھی کچھ نہیں بول رہا تھا وہ پوری توجہ سے حجاب کی بات سن رہا تھا ۔۔
وہ میرے کزن یعنی پھپو کے بیٹے حسن بھائی بھائی کی بیٹی ہے ۔۔
رشتے میں دیکھا جائے تو میری بھتیجی ہوئی ہو ئ وہ۔ 
حسن کا نام سن کر اس کے دماغ میں چنا کا ہوا ۔۔
'او مائی گڈنس"۔۔۔۔
اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔۔
اس سے آگے اس کو اریج کے تعارف کی ضرورت نہیں تھی ۔۔
کیا ہوا آپ جانتے ہیں کیا حسن بھائی کو ؟؟
"ہاں "۔۔۔
بہت اچھی طرح ۔۔
بشر کے چہرے کے تاثرات یکدم بدلے تھے ۔۔
تو پھر آپ جلدی سے حسن بھائی کو کال کریں نا ان کو بتایا ریچھ کے بارے میں ۔۔
میرے پاس تو ان کا نمبر ہی نہیں تھا سیفاریج کا ہی ہے ۔
سمیر بھائی کے پاس سب کے کانٹیکٹس ہوا کرتے تھے ماما بھی انہی کو کہتی تھی جب کسی سے بات کرنی ہوا کرتی تھی وہی ماما کو فون ملا کر دیا کرتے تھے ۔۔
حجاب بغیر اس کے تاثرات کو جانچے اپنی ہی بولے جا رہی تھی ۔۔۔
مگر بشر کے دماغ میں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا ۔۔
کریں نا فون جلدی سے پلیز۔ ۔
نہیں ابھی نہیں ابھی میں ایئرپورٹ کے لئے نکل رہا ہوں ۔۔
ارے یہ کیا ابھی تو پورا آدھا گھنٹہ باقی تھا ابھی سے ہی چلے گئے ۔۔
پیچھے وہ کندھے اچکا کر بڑبڑاتی رہ گئی ۔۔

💕
اسراء اندر کمرے میں بیٹھی بار بار ہمدان کو کال رہی تھی مگر ہر دفعہ کال ملانے پر اس کا نمبر مستقل بز ی جا رہا تھا ۔۔
گھبراہٹ سے اس کی جان نکلی جا رہی تھی ہاتھ پاؤں پریشانی سے ٹھنڈے پڑ رہے تھے ۔
فون کی بیل پہ اس نے جلدی سے موبائل کو دیکھا حمدان کولنگ دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی ۔۔

اس نے ابھی تھوڑی دیر پہلے غصے میں فون اچھال کر بیڈ کے دوسری طرف پیکھا تھا ۔۔
دور سے حمدان کا نام جگمگا تا دیکھ کر جلدی سے موبائل پر جھپٹی ۔۔
حمدان آپ کہاں ہیں باہر خالہ خالو مجھے لینے ۔۔۔
اس سے آگے اس کے الفاظ لبوں میں ہی دم توڑ گئے 
وہ فون پہ ہی زاروقطار رو دی۔۔
حمدان دس منٹ میں ریش ڈرائیونگ کر کے گھر پہنچا ۔۔
اور سیدھا سرا کے پاس کمرے میں ہی آ گیا بغیر کسی سے سلام دعا کیے ۔۔
اس نے ہینڈل پر ہاتھ رکھا وہ لاکھ تھا وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ ڈر کے مارے لوگ کر کے بیٹھی ہے ۔۔
اس نے اپنی پاکٹ سے ڈپلیکیٹ چابی نکال کر دروازہ کھولا ۔۔
وہ دشمن جاں سامنے ہی صوفے پر بیٹھی اپنے پسندیدہ شغل رونے میں مصروف تھی ۔۔
یار تمھیں صرف رونا ہی آتا ہے یا کبھی حس بھی لیتی ہو۔۔۔۔
وہ چڑھ کر بولا ۔۔
وہ لوگ آگئے ہیں اور مجھے جانا ہوگا ۔۔
یہ کہتی ہوں وہ صوفے سے تیزی سے اٹھتی حمدان کے سینے سے آ لگی ۔ 
اس نے حمدان کی شرٹ کو سختی سے تھاما ہوا تھا جیسے اگر اس کی ایک لمحے کو بھی گرفت ہلکی ہوئی تو وہ اس کو ہمیشہ کے لئے کھو دے گی ۔۔

اب کیا ہوگا حمدان؟؟؟
آپ پلیز مجھے بتائیں میں کس طریقے سے اس سچویشن کو وہاں جا کے ہینڈل کرونگی ۔۔
کس طرح آپ کے اور اپنے رشتے کی حقیقت کی یقین د لا پاونگی ۔۔
دیکھو اسراء پہلے بات سنو میری رونا بند کرو اور خود کو ریلیکس کرو۔ ۔
حمدان نے اس کی پشت سہلاتے ہوئے کہا ۔۔۔
اسرا کے رونے میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آیا ۔۔
منہاس کو ساتھ رکھیں چئیر پہ بٹھا کر اور خود اس کے سامنے دوزانو بیٹھ گیا ۔۔۔
پہلے اپنا ہاتھ آگے کرو ۔۔
وہ چپ چاپ اس کی بات پر اپنا سیدھا ہاتھ آگے کرتی ہے ۔۔
نہیں یہ والا نہیں الٹا ہاتھ ۔۔
وہ خود اس کا الٹا ہاتھ تھام کر ۔۔
اپنی پینٹ کی پاکٹ میں سے ایک مخملی کیس کی نازک سی ڈبیا نکال کر کھولتا ہے ۔۔
اسراء حیران پریشان سی اس کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کر رہی تھی ۔۔
وہ اس کے ہاتھ میں ڈائمنڈ کی رنگ ڈالتا ہے ہارٹ فنگر میں ۔۔
۔۔انگوٹھی والا ہاتھ تھام کے اس کا کہتا ہے ۔
میں نے تم سے کل رات بھی کہا تھا کہ۔۔
تمہاری ہر پریشانی۔۔
ہر خوشی۔۔
ہر تکلیف۔۔
ہر غم میرا ہے ۔۔
کہا تھا یا نہیں ۔؟۔
جی ۔۔
اسرا سسکیوں کے درمیان بس یہ ایک لفظ ہی بڑی مشکل سے ادا کیا ۔۔
بس تو پھر مجھ پہ بھروسہ رکھو میری اس وقت جب تم مجھے کال کر رہی تھی تب وکیل اور ان کے ساتھ بیٹھے بابا سے ہی بات ہو رہی تھی ۔۔
وہ اس کے آنسو اپنی انگلیوں کی پوروں پہ نظمیں سے جذب کرتے ہوئے بولا ۔۔
اسرا نے اس کا اپنے گال سے واپس جاتا ہاتھ پکڑ کے اپنے گال پہ دوبارہ رکھ لیا ۔۔
اور پھر پرسکون سی ہو کر چند لمحے کے لیے آنکھیں موند گی ۔۔
جیسے وہ حمدان کے لمس کی حدت کو خود میں اتار رہی ہو اور اس کے احساس کو اور اس لمحے کو خود میں قید کر رہی ہوں ۔۔
حمدان اسکی محبت کی اس حسین اظہار پہ دنگ رہ گیا ۔۔
اس کو ایسا لگ رہا تھا جیسے آج اس کی ذات مکمل ہو گئی ہو۔۔
میری لو یر سے بات ہو گئی ہے ان کے مطابق اگر گواہان ہمارے نکاح کی گواہی دیدیں تو پھر ہمارا یہ نکاح سب کو قبول کرنا ہوگا ۔۔
وہ خوشی سے چور لہجے میں بولا ۔۔
اور تم میرے ساتھ جارہی ہو گاؤں آج شام ہی ۔۔
نہیں ایسا کیسے ممکن ہے خالہ اور خالو مجھے کیسے ایک غیر مرکز ہاتھ بھیج سکتے ہیں اس طرح ۔۔۔
جب تک کہ آپ گواہان ان کے سامنے پیش نہ کردیں ۔۔
اس نے سسکی بھری ۔۔
میں خیر نہیں ہوں شوہر تمہارا ۔۔
وہ تھوڑا برہم ہوا ۔
ہاں آپ شوہر ہیں میرے کہ میں جانتی ہوں اور بہت اچھے سے مانتی بھی ہو ۔۔
مگر یہ سچ ان کو کس طرح بتاؤں ؟؟؟
وہ دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ کر بالک اٹھی ۔۔
میں بتاؤں گا تم نہیں بتا سکتی تو کیا ہوا ۔۔۔
اور جب وہ آفیشل پیپر یعنی نکاح نامہ مانگیں گے تب ؟؟؟؟
یہ وہ سوالیہ نشان تھا جس نے اس کو زندہ درگور کرکے رکھ دیا تھا ۔۔۔
آپ پلیز پہلے ان کے سامنے گواہان پیش کریں ۔۔
تاکہ میں ان کی اور سب سے بڑھ کر اپنی نظروں میں سرخرو ہوسکوں۔ ۔
آج وہ پہلی دفعہ اتنا حمدان کے سامنے بول پائی تھی ۔۔
یہ سب تمہاری بیوقوفی کی وجہ سے ہوا ہے اور ویسے بھی حمدان شاہ آج تک کسی کو جوابدہ نہیں ہوا تو اپنی بیوی کے معاملے میں تو بالکل بھی نہیں ہوسکتا ۔۔۔
وہ اٹل لہجے میں بولا ۔۔
اسکی جاگیرانہ طبیعت عود کرآئی۔۔
خمدان کیا آپ آج کے دن ۔۔۔۔
کے بارے میں جانتے ہیں کہ آج کیا دن ہے ؟؟؟
ہاں میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں ۔ 
آج کے دن تم میرے نکاح میں آئی تھیں۔ ۔
وہ اس کے ہاتھ میں اپنی پہنائی ہوئی محبت کی نشانی گھماتے ہوئے بولا ۔۔
میں اگر آپ سے کچھ مانگو تو دیں گے آج ۔۔؟
وہ تھوڑا ڈرتے ڈرتے بولی ۔۔
ہاں میری زندگی تم جو بھی مانگو گی میں دوں گا چاہے وہ میری زندگی ہی کیوں نہ ۔۔۔
حمدان نے اس کی گود میں رکھے ہوئے ہاتھوں کو تھام کر جذبوں سے چور لہجے میں بولا ۔۔
اسراء نے بے ساختہ اس کے لبوں پہ اپنا ہاتھ رکھا ۔۔
اس سے آگے کچھ مت کہیے گا ۔۔
اللہ تعالی آپ کو میرے سر پر ہمیشہ سائے کی طرح سلامت رکھے ۔۔
آمین ۔۔
اس کی پلکوں سے آنسو تھل تھل گر رہے تھے ۔۔
کچھ ہیدنوں میں وہ اس شخص سے ٹوٹکے محبت کرنے لگی تھی جس سے وہ کبھی نفرت کیا کرتی تھی اور اس سے علیحدگی کے لیے دعائیں کرتی تھی ۔۔
کیا رشتہ بنایا ہے اللہ تعالی نے نکاح کا کہ۔ ۔
دو مختلف لوگ صرف تین دفعہ قبول ہے کہ کر کیسے ایک جان دو قالب بن جاتے ہیں ۔۔
بس آج تم مجھ سے جو مانگنا چاہتی ہوں کہو میں کسی بھی طریقے سے تمہاری خواہش پوری کروں گا ۔۔۔
آسرا اپنی پلکیں گرا کر آہستہ سے بولی ۔۔
حمدان پلیز مجھے ابھی خالہ کے ساتھ جانے دیں ۔۔
میں ان کو اپنے طریقے سے ہینڈل کرنا چاہتی ہوں ۔۔
ہمدان کے ہاتھوں سے اسرا کے تھامے ہوئے ہاتھ یخلقت آزاد ہوئے ۔۔

💕
فرح کیا ہماری علیحدگی کے علاوہ اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے ؟؟
سمیر پانچ آرزو کو لے کر فرح کے بلانے پر ریسٹورانٹ آیا تھا ۔۔
نہیں اور میں یہاں کوئی مسئلہ حل کرنے نہیں آئی ۔۔۔
میں آج تم سے ایک ہی دفعہ حتمی بات کرنے کے لیے آئی ہوں ۔۔
میں ایسا نہیں چاہتا میں اس رشتے کو ٹائم دینا چاہتا ہوں ۔۔
دیکھو اس کو یہ تمہارے وجود کا حصہ ہے ۔
یہ تمہاری ہی کو کسے جینی ہے ۔۔
اس ننھی پری کو کس بات کی سزا مل رہی ہے ۔۔
مجھے صرف ایک جواب دے دو اس میں اس معصوم کا کیا قصور ہے آخر ۔۔
فرا کا اپنی بی کیسے کھولتا ہاتھ اسکی بات پہ سن سا ہو کر تھم گیا ۔۔۔۔

💕
جاری ہے۔ ۔
💕💕💕

0 comments:

Post a Comment