Monday, December 10, 2018

episode 9


itni mohbbat karo na
By zeenia sharjeel
Episode 9

ظفر مراد اپنے آفس میں بیٹھے ہوئے تھے ان کے پئ۔اے نے آکے بتایا کوئی

"شاہ زین صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں"

"انہیں اندر بھیج دو"
ابھی وہ سوچ ہی رہے تھے کے کون ہوسکتا ہے دروازہ کھولا ایک ستائیس اٹھائیس سالہ خوبرو نوجوان اندر داخل ہوا۔ انہیں لگا جیسے اس نوجوان کو کہیں دیکھا ہے مگر کہا یہ یاد نہیں آیا

"تشریف رکھیں کس سلسلے میں آنا ہوا آپ کا"؟
ظفر مراد نے بات کا آغاز کیا

"کافی جلدی ترقی کی منازل طے کرلی ہیں ظفر تم۔ آج سے بارہ سال پہلے تک تو بقول تمہارے تمہارا دیوالیہ نکل گیا تھا سڑک پر آگئے تھے تم"
زین نے پھنکار کر کہا

"کون ہو تم یہ کس لہجے میں بات کر رہے ہو اور کس مقصد سے میرے آفس آئے ہو؟"
ظفر مراد کو اس اجنبی کا لہجہ پسند نہیں آیا انہوں نے بھی اسے اسی کے لہجے میں جواب دیا ۔۔۔۔

"یہ صرف تمہارا آفس نہیں ہے اس میں میرے باپ کی بھی محنت اور حق حلال پیسہ لگا ہوا ہے جوکہ اب میں واپس لینے آیا ہوں" زین نے ٹیبل پر ہاتھ رکھ کر آگے جھگ کر سنجیدہ لہجے میں کہا

"کیا بکواس کررہے ہو۔ کون ہو تم"
ظفر مراد دھاڑتے مگر سمجھ تو انہیں آگیا تھا مقابل کون بھیٹا ہے

"اتنی جلدی بھول گئے مسٹر ظفر مراد اپنے بھائی جیسے دوست  ساجد شاہ کو"۔۔۔۔۔جس کے مرتے ہیں تم نے دھوکے سے سارے بزنس پر قبضہ جما لیا اور اس کی بیوی اور بیٹے کو در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا اسی کا بیٹا ہوں میں شاہ زین۔۔۔۔مجھے اپنے باپ کا حصہ واپس چاہیے ۔۔۔۔اگر تم شرافت سے دے دیتے ہو تو ٹھیک ہے نہیں تو میں کہاں تک جا سکتا ہوں یہ تمہاری سوچ ہے"۔۔۔زین اپنی بات ختم کرتے ہی اٹھ گیا

"شٹ اپ تم میرے ہی آفس میں کھڑے مجھ کو کی دھمکا رہے ہو۔۔ایک پھوٹی کوڑی نہیں ملنے والی تمہیں جو کرنا ہے کرلو جانے کہاں کہاں سے اٹھ کر آ جاتے ہیں"
ساتھ ہی انھوں نے فون کرکے گارڈز کو بلوایا گارڈز اندر آگئے

"یہ بندہ دوبارہ مجھے اپنے آفس میں نظر نہیں آنا چاہیے نکالو اس کو اسی وقت"

"ہاتھ نہیں لگانا ہٹو پیچھے"
زین گارڈ کے قریب آنے پر دھاڑا 

"ظفر مراد یاد رکھنا بہت جلد دوبارہ آؤں گا اور اپنا سب کچھ جو تم سے سود سمیت واپس لونگا"
زین نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔

وہ دروازہ کھول کر باہر نکلا تو خضر اندر ہی آ رہا تھا دونوں کا سامنا ہوا ذین نے اس کو بھی گھورتے  ہوئے وہاں سے چلا گیا

خضر کو یاد آیا یہ تو وہی ہے اسپتال والا شخص تھا

"ابو کیا ہوا کون تھا یہ اور کیا کہہ رہا تھا؟"
آتے ہی خضر نے ظفر مراد سے پوچھا

"کوئی خاص نہیں یہ بتاؤ میٹنگ کے لئے ریڈی ہو"
جیسے انہوں نے اس بات کو خاص اہمیت نہ دی ہو

"جی بس نکلتے ہیں"
یہ کہہ کر خضر اپنے روم میں چلا گیا

"ظفر مراد کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ بارہ سال بعد اچانک ساجد شاہ  کا بیٹا یوں اپنے حصے کا دعویدار بن کر آجائے گا

"سوچنا پڑے گا کچھ اس لڑکے کا"
وہ کرسی ٹیک لگائے سوچنے لگے

 ****

 ظفر مراد آفس سے گھر پہنچے اپنے بیڈ روم میں گئے پیچھے ہی فاطمہ آئی

"میں بتا رہی ہوں ظفر خضر کو اپنے طور پر سمجھا لیں جو وہ چاہ رہا ہے وہ میں بالکل نہیں ہونے دونگی"
فاطمہ ظفر مراد کے آتے ہی شروع ہوگی

"کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ یہ کوئی وقت ہے بندہ آفس سے تھکا ہارا ہے اور آپ آتے ہی شروع ہوگی وہاں آفس کے جھمیلے ختم نہیں ہوتے یہاں آؤ تو یہاں کے مسلے شروع ہو جاتے ہیں" ظفر مراد آج کافی غصے میں تھے ۔۔آفس والے واقعے سے کافی بیزار تھے اس لیے فاطمہ کا آن کے آتے ہی شروع ہو جانا ظفر مراد کو ناگوار گزرا ۔۔۔
فاطمہ کی بات پر وہ انہی پر گرج پڑے اس لیے فاطمہ تھوڑا دب گئی۔
وہ فاطمہ سے ایسے بات نہیں کرتے تھے یعنی کوئی سیور سی بات ہوگی آفس میں جس کی وجہ سے پریشان تھے

"میرے کہنے کا مطلب یہ تھا ظفر اب تو جانتے ہیں خضر ایک ہی بیٹا ہے میں نے شروع سے ہی خضر کے متعلق اپنی بھانجی کا سوچا ہے۔ آپ پلیز اسے سمجھائیں انہوں نے اب کہ دھیمہ لہجہ اختیار کر کے بات مکمل کی

"یہاں سمجھنے کی آپ کو ضرورت ہے فاطمہ خضر ہمارا ایک ہی بیٹا ہے اور اگر وہ ضد پر اترا یا ہم سے بد دل ہوگیا تو آگے آپ سوچ لے"
انہوں نے بھی نرمی اختیار کرکے بیوی کو سمجھانا چاہا

"آپ کہنا کیا چاہتے ہیں میں اپنی بہن کی بیٹی کو چھوڑکر حور کو خضر کی زندگی میں شامل ہونے دو؟"
فاطمہ غصہ ضبط کرتے ہوئے بولی

"اس میں برائی کیا ہے؟ حور ہمارے سامنے پلی بڑھی ہے آنکھوں دیکھی بچی ہے اور سب سے بڑھ کر میرے مرحوم بھائی کی نشانی ہے"
آخر میں جیسے ظفر نے بھی انہیں جتانا ضروری سمجھا جس پہ فاطمہ چپ کرکے روم سے نکل گئی "۔

****
 وہ اشعر اور بلال تینوں اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے جب زین نے آج کی آفس والی ساری روداد ان دونوں کو سنائیں

"مجھے نہیں لگتا یہ ظفر مراد تمہیں اتنی آسانی سے تمھارا حق دے گا؟'
اشعر ساری بات سننے کے بعد بولا

"ہاں! آج اس کو سامنے دیکھ کر  مجھے بھی یہی لگ رہا ہے اس کے تیور دیکھ کر نہیں لگ رہا اتنی آسانی سے تو میرا حق مجھے لوٹائے گا۔۔۔۔ مجھے قانون کا ہی سہارا لینا پڑے گا"
زین سگریٹ سلگاتے ہوئے بولا

"اور کس طرح قانون کے ذریعے تم اپنا خاص سے واپس لو گے"
بلال نے پوچھا

"ظاہری بات ہے اس پر دھوکے کا مقدمہ کرکے"
زین نے دھواں اڑاتے ہوئے جواب دیا

"کس دنیا میں ہوں تم کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کے اس نے دھوکہ دیا ہے۔ وہ آرام سے تم پر ہی کیس بنادے گا الزام تراشی کا اور بلیک میلنگ کا"
اشعر بولا ۔

"وہ سب کچھ میرے ذہن میں ہے اس کے آفس کے بندے سے میری اچھی دوستی ہے شاید وہ میرے کام آجائے۔ کچھ ایسے ڈاکومنٹس اس کے ہاتھ لگ جائے جو میرے کام آسکے۔ کسی بھی طرح  کوئی بھی کرونگا لیکن اپنے بابا کا پیسہ تو میں اس سے لے کر ہی رہوگا ہر صورت میں"۔۔۔زین اٹل لہجے میں بولا۔
****

"چلو یار تم دونوں کتنی دیر ہے"
بلال جی بھر کے بیزار ہوا

"جی بھائی بس آ رہے ہیں"
تانیہ نے جواب دیا اور جلدی سے اسکارف اوڑھنے لگی

"ارے واہ بھئی کہاں کی تیاریاں ہو رہی ہیں"؟
فضا نے ان تینوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

"بس تمہاری ہی کمی تھی کبھی اپنے گھر پر بھی ٹک کر بیٹھ جایا کرو"
بلال جل کر بولا

"اچھا ہوا فضا تم آگئ ہمارے ساتھ چلو۔ بھائی ہمیں شاپنگ کروانے لے کر جارہے ہیں"
تانیہ نے جلدی سے فضا بولا کہیں وہ بھائی کی بات کا برا ہی نہ مان جائیں

"نہیں رہنے دو تمہارے بھائی کو تو میرا یہاں آنا پسند نہیں ہے مزید باہر بھی اسے مجھے برداشت کرنا پڑے گا"
فضا ناراضگی سے بولی"

"کیسی بات کررہی ہوں فضا بھائی نے ویسے ہی بول دیا ان کا تو مذاق چلتا ہے تم سے۔ اب کے ثانیہ نے بھی بولا

"نہیں تم لوگ جاؤ میرا دل نہیں چاہ رہا ویسے بھی ماموں اکیلے ہوں گے میں ان کے پاس ہو جب تک"

"اب یہ احسان کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ویسے بھی ابو سو رہے ہیں وہ 2 یا 3 گھینٹے سے پہلے نہیں اٹھے گے۔ تو اسلیئے زیادہ نخرے دکھانے کی ضرورت  نہیں ہے پانچ منٹ کے اندر اندر تم تینوں باہر آ جاؤ" آپ کے بلال بولا اور دروازے سے باہر چلا گیا

"پورا کا ہیٹلر ہے تمہارا بھائی" فضا نے باہر نکلتے ہوئے بلال کو گھورتے ہوئے بولا

"سوچ لو اس ہٹلر کو ساری زندگی  تمہں ہی برداشت کرنا پڑے گا"
تانیہ نے قریب آکر فضا سے کہا فضا نے تانیہ کو گھوری سے نوازا اور وہ تینوں باہر کی طرف چل دی

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment