itni mohhbat karo na
by zeenia sharjeel
Episode 8
وہ گھبرائی ہوئی کالج میں آئی اسکی ٹانگیں ابھی بھی کانپ رہی تھیں دل بہت زوروں سے دھڑک رہا تھا
"آخر کون تھا وہ کیا چاہتا ہے مجھ سے۔ یہ بات مجھے کسی کو بتانی چاہیے ۔۔۔۔۔۔نہیں کہیں میرا کالج جانا بند نہ ہو جائے"
حور سارا دن کالج میں غائب دماغ رہیں۔ راستے میں بھی نوٹ کیا کوئی اس کی وین کا پیچھا کررہا ہے"
۔******"*****"*
"کیا میں اندر آ جاؤ "۔۔۔ظفر صاحب اور فاطمہ بیگم اپنے بیڈ روم میں تھے جب خضر نے دروازے پر ناک کیا
"ہاں بیٹا آجاؤ کیا کوئی کام تھا"؟فاطمہ بیگم بولی
"جی آپ دونوں سے ضروری بات کرنی تھی"
وہ ہچکچاتے ہوئے بولا
"ارے بیٹا بولو کیا بات ہے ؟۔۔۔ظفر فائل بند کرتے ہوئے بولے ۔
"مجھے سمجھ نہیں آرہا کیسے کہوں؟۔۔۔خضر عجیب کشمکش میں پڑگیا
"ارے بھئی ابولو بھی ایسی کیا بات ہے"؟
آپکے ظفر صاحب نے زور دے کر بولا
"میں حور سے شادی کرنا چاہتا ہوں"۔۔۔اس نے ہمت کرکے ایک ہی سانس میں بول دیا
جہاں اس نے لمبی سانس خارج کی وہاں دونوں ماں باپ کی سانس رک گئی اور دونوں ہی خاموش نظروں سے اسے دیکھنے لگے
"تم ہوش میں تو ہو کیا کہہ رہے ہو تم نے یہ بات سوچی بھی کیسے؟۔
سب سے پہلے فاطمہ کو ہوش آیا
"ایسی کونسی بڑی بات کہہ دی میں نے؟ اپنی جائز خواہش کا اظہار کیا ہے"
خضر نے جواب دیا
ظفر صاحب خاموش تھے انہیں فاطمہ بیگم جیسا شاک تو نہیں لگا تھا مگر حیران ضرور تھے
"خضر ایسا سوچنا بھی مت میں نے ہمیشہ تمہاری نسبت سے نائمہ کو سوچا ہے آئندہ یہ بات منہ سے مت نکالنا"۔۔۔۔فاطمہ بیگم تیز لہجے میں تنبی کی انہیں اپنی اولاد پر رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا
"معاف کیجئے گا امی مگر آپ بھی میرے لیے نائمہ یا کسی اور کا نہ سوچئے گا۔ میں شادی حور سے ہی کروں گا"
خضر نے بھی ہمت نہیں ہاری
"آپ دونوں ہی بولتے رہیں گے یا میں بھی کچھ بولو؟؟
ظفر صاحب نے مداخلت کرنا ضروری سمجھیں
وہ دونوں ماں بیٹے خاموش ہوگئے
"ٹھیک ہے پھر تم اب اپنے روم میں جاؤ بیٹا بعد میں بات کرتے ہیں اس ٹوپک پر!
یہ کہہ کر ظفر صاحب نے بات ختم کر دی۔
خضر گڈنائٹ کہ کر چلا گیا مگر وہ نائٹ فاطمہ بیگم کے لئے کوڈ کیسے ہوسکتی تھی۔ انہیں ر ہ رہ کر اپنے بیٹے پر اور ان ماں بیٹی پر غصہ آ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔!
**********
وہ تینوں کیفیٹیریا میں بیٹھے واردات کی پلاننگ کررہے تھے۔ جب اشعر نے ظفر کے بارے میں معلومات زین کو دیں اور زین ایک دم گھر کا ایڈریس پر چونکا"
اس کے لئے یہ کسی شاک سے کم نہیں تھا کیونکہ جس گھر کا پتہ اشعر نے بتایا تھا وہ تو حور کے گھر کا ایڈرس ہے
"آخر کیا کنکشن ہوسکتا ہے حور اور ظفر مراد میں"
وہ سگریٹ کے کش لیتے ہوئے سوچ میں پڑھ گیا
۔******
صبح حور کالج جانے کے لئے تیار تھی خضر آفس کے لیے نکلنے لگا
"آجاؤ حور کار میں کالج میں دروپ کر دیتا ہوں"
خضر کار کا لوک کھولتے ہوئے بولا
"نہیں نہیں پلیز میں چلی جاؤں گی"
حور ایسے اچھلی جیسے اسے کرنٹ لگ گیا ہوں۔۔۔۔
"کیا ہوگیا ہو تم تو ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو جیسے تمہیں کرنٹ لگا ہوں؟؟"۔خضر نے حیرت سے حور کو دیکھتے ہوئے کہا
کرنٹ تو واقعی اسے لگا تھا وہ اجنبی شخص اسے یاد آگیا تھا جو اسے بری طرح ڈرآ چکا تھا اس نے دوبارہ سوچتے ہوئے جھرجھری لی
"میرا مطلب تھا کالج کی وین آنے والی ہے میں چلی جاؤں گی خفر بھائی پلیز آپ لیٹ ہورہے ہونگے"
حور نے ٹالنا چاہا
"میں کہہ رہا ہو بیٹھو کار میں سنائی نہیں دے رہا؟خضر نے روعب سے کہا حور کو ناچار بیٹھنا پڑا
ْْ
"کب تک اسٹارٹ ہو رہے ہیں پیپر اس نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے پوچھا؟
"دو ہفتے بعد پہلا پیپر ہے" حور نے باہر دیکھتے ہوئے جواب دیا
"آگے کیا سوچا ہے؟"خضر نے پوچھا
"تایا جان اور چچا جان نے اجازت دے تو اگے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لونگی" حور نے جواب دیا
"اور اپنی زندگی کے بارے میں کیا سوچا ہے"
خضر پتا نہیں کیا جاننا چاہ رہا تھا؟
"زندگی کے بارے میں کیا سوچتا کیا مطلب میں سمجھی نہیں آپکی بات" ناسمجھی سے حور نے خضر کی طرف دیکھا
"خضر نے بھی ایک لمحے کے لیے حور کی طرف دیکھا پھر بولا
"کچھ نہیں ۔۔کالج آگیا ہے"
حور کالج کے سامنے گاڑی سے اتری تو خضر گاڑی آگے لے گیا۔ ابھی چند قدم آگے بڑھی تھی کہ کسی نے بری طرح اس کا ہاتھ پکڑا اور تیز قدم اٹھاتے ہوئے وہاں موجود بڑے سے درخت کی آڑ میں لے گیا
"منع کیا تھا نہ میں نے تمہیں کے اس شخص کے ساتھ نظر نہ آؤں سمجھ نہیں آتی تمہیں؟؟زین دبی ہوئی آواز میں غرا کے بولا
اس نے ابھی بھی حور کو بازو سے پکڑا ہوا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے حور کا منہ اس طرح پکڑا کے اس کے جبڑے دکھ گئے۔ دونوں ہاتھوں میں اتنی سختی تھی کہ حور کی آنکھوں سے پانی نکل آیا
"مجھے درد ہو رہا ہے"
وہ آنسو بہاتے ہوئے خوف سے بولی تو زین کے ہاتھوں کی گرفت میں نرمی آئی اس نے حور کے منہ پر سے ہاتھ ہٹا لیا۔ تھوڑی دیر چہرہ دیکھنے کے بعد زین کی نظر اسکے ہونٹوں کے نیچے تل پر پڑی۔ جو آج بھی پہلے دن کی طرح اس کے حسن اور معصومیت کو بڑھا رہا تھا زین کے دل میں خواہش ابھری کہ وہ ہاتھ لگا کے اس کے تل کو چھو لے دل میں ابھری خواہش وہ دبا گیا
"ظفر مراد سے تمہارا کیا تعلق ہے" سنجیدہ لہجے میں وہ حور سے پوچھنے لگا
"وہ میرے تایا ہیں" حور نے ڈرتے ہوئے بولا
زین کے مسلسل گھورنے پر کبھی اس کو دیکھتی تو کبھی آتے جاتے لوگوں کو
اس کی بات سن کے استہزاہ ہنسا
"اب میری باری ہے سود سمیت سب واپس لونگا لینے کی"
گہری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا اور حور کے سر پر سے سب گزر رہا تھا۔ وہ مسلسل اسے خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی زین نے اس کا بازو چھوڑ کر جانے کا اشارے کیا۔ حور وہاں سے تقریبا بھاگنے کے انداز میں کالج پہنچی حور کی حالت غیر ہورہی تھی!اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کےاچانک یہ کون بندہ اس کے پیچھے پڑ گیا ہے اور اس کے تایا کا کیوں پوچھ رہا ہے
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment