Monday, December 10, 2018

episode 7


itni Mohabbat karo na
By zeenia sherjeel
Episode 7

 خضر گاڑی لے کر آفس نکل ہی رہا تھا کہ گیٹ سے باہر اس کو حور کھڑی نظر آئیں

"حور یہاں کیوں کھڑی ہو کالج نہیں گئی ابھی تک؟ ؟خضر نے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا پوچھا

"لگ رہا ہے ڈرائیور نہیں آیا وین کا شاید حور نے پریشانی سے بتایا"

لو اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے ؟ آؤ میں چھوڑ دیتا ہوں"
 گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے خضر بولا

حور گاڑی کا ڈور کھول کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی

"پیپر کی تیاری کیسی جارہی ہے؟خضر نے گاڑی اسٹاٹ کرتے ہوئے پوچھا"

"تیاری تو کافی اچھی ہے"

خضر کا موبائل بجا
"میں دس منٹ میں پہنچ رہا ہوں"

"کیا ہوا خیریت ہے خضر بھائی؟
حور نے پوچھا

"کچھ نہیں آج میٹنگ تھی تو اس لیے ابو کی کال تھی!۔۔۔
خضر نے جواب دیا"

"آپ ایسا کریں یہی اتار دیں۔ میں یہاں سے چلی جاو گی یہاں سےتھوڑی دور تو ہے" حور بولی
ایسی کوئی دیر نہیں ہو رہی میں چھوڑ دہتا ہوں"
خضر بولا

"مشکل سے پانچ منٹ لگے گے میں یہاں سے چلی جاؤنگی"
حور کو اپنی وجہ سے اسے لیٹ کروانا اچھا نہیں لگا جبھی دوبارہ بولی

"واقعی پرابلم تو نہیں ہوگی "خضر نے حور کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"بالکل نہیں۔ بس یہ گلی پار کر کے کالج ہے۔ کوئی مسئلہ نہیں"حور کے جواب پر خضر نے گاڑی روک دی

حور کے گاڑی سے اترتے ہیں خضر نے گاڑی آگے بڑھای۔ وہ گلی میں پہنچی یہ گلی کالج کے پیچھے تھی۔ صبح کا وقت تھا گلی سنسان تھی حور چلتی جا رہی تھی۔
جب اچانک ایک بائیک حور کے قریب آکر رکی اور کوئی ایک دم بائیک سے اتر کر حور کا بازو کھینچتا ہوا foot path پر لے آیا اور ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا وہ گرتے گرتے بچی۔ یہ سب ایک سیکنڈ میں ہوا حور کو کچھ سمجھ نہیں آیا

"کون تھا وہ جس کے ساتھ گاڑی میں آئی ہو"؟
وہ شخص آنکھوں میں غصہ لیے اس سے پوچھ رہا تھا

جبکہ تھوڑی دور بائیک پر دوسرا شخص بیٹھا ہوا اس کا ساتھی انہیں دیکھ رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ سامنے کھڑے انسان کو اس نے پہلے کہیں دیکھا ہے مگر گھبراہٹ میں اس کو یاد نہیں آرہا تھا کہاں دیکھا ہے؟

"جواب دو کون تھا وہ"
اس نے کو غرا کر کہا اور اور پسٹل اس کے اوپر تانی"

"میرا کزن تھا" خوف کے مارے گھٹی اواز میں حور نے بولا اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرنے لگی

دنیا گول ہے یہ اس نے سنا تھا لیکن دنیا چھوٹی بھی ہے آج اسے اندازہ ہوا وہ اپنا معصوم حسن لئے اس کے سامنے کھڑی تھی وہ اب بھی ویسے ہی تھی خوبصورت یا پہلے سے زیادہ خوبصورت۔ وہ یہ فیصلہ نہیں کر پایا پہلے دن کی طرح  آنکھوں میں آنسو لیے خوفزدہ نظروں سے وہ اسے دیکھ رہی تھی اس نے پسٹل نیچے کی اور اس کا دل چاہا وہ خود کو اس کے سامنے سلنڈر کردے۔۔

"آئندہ تم مجھے اسکے ساتھ نظر نہ آؤ"
زین کا آج دوسری بار حور سے ٹکراو ہوا۔ آج بھی وہ اسی لڑکے کے ساتھ تھی یہ بات زین کو اچھی نہیں لگی

حور نے گردن ہلانے پر ہی اکتفاد کیا"

پسٹل اب زین کے ہاتھوں میں نہیں تھی مگر پھر بھی حور کو اس سے خوف آراہا تھا

"کہاں جا رہی تھی"  لہجے میں نرمی لیے وہ اس سے ایسے پوچھ رہا تھا جیسے ان دونوں کا دوستانہ بہت پرانا ہو

کککک ۔۔۔کالج ۔۔۔! وہ ہکلاتے ہوئے لہجے میں بولی

"آؤ میں چھوڑ آتا ہوں" زین نے کہا

"نہیں میں چلی جاؤں گی" یہ کہہ کر وہ تیز قدموں سے جانے لگی اور وہ  اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا ۔

"کون تھی یہ"
 بلال نے نزدیک آکر پوچھا؟

"پری"
زین کی نظریں اب بھی حور پر تھی جو کہ کالج کی طرف مڑ گئی تھی ۔۔❤❤❤❤
***

 وہ اور بلال بائیک پر جا رہے تھے کہ اچانک زین کی نظر ایک گاڑی پر پڑی جس میں وہ حود کو lسی ہسپتال والے لڑکے کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر چونک گیا۔ جہاں حور کے دوبارہ ملنے پر خوشی ہوئی وہی اسے اس لڑکے کے ساتھ دیکھ کر زین کے ماتھے پر بل بھی پڑھ گئے

"بلال اس گرے کلر کی گاڑی کا پیچھا کرو جلدی"
زین نے تیز آواز میں بلال سے بولا

"مگر یہ ہے کون" "بلال نے پوچھا

"سب بتاؤنگا پہلے فالو کرو اس کار کو یہ مس نہیں ہونی چاہیے"
زین کے دماغ میں ہوسپٹل والا ٹکراؤ یاد آگیا حور کا سر اس کے سینے سے ٹکرایا تھا۔ ایک دم وہ بھی گھبرا گیا تھا مگر حور پر نظر پڑتے ہی وہ ٹرانس میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔اتنے سالوں بعد وہ حور کو دیکھ رہا تھا جسے وہ آج تک نہیں بھولا تھا۔ مگر عجیب کشمکش میں تھا اس کا دل کہتا تھا۔"تھی تو وہ حور ہی مگر خضر کا اسکو ۔۔۔چلو حور چلتے ہیں"۔۔۔کہنا مزید کنفرم کر گیا۔۔۔وہ حور ہی تھی"اسکی پری" 

کسی لڑکے کا یوں حور کا ہاتھ پکڑ کر لےجانا اسے ایک بے نام سی بے چینی میں مبتلا کر گیا تھا

اس وقت وہ ان دونوں کے پیچھے نہیں جا سکا تھا مگر آج اسے یہ موقع نہیں گوانا تھا کیوکہ زندگی بھی بار بار موقع نہیں دیتی یہ بات اس کو پتہ تھی !!!

زین یہ تو سمجھ گیا تھا کہ وہ اسی کالج میں گئی ہے مگر اب اس کو وہی اس کا انتظار کر کے گھر کا پتہ کرنا تھا آج حور کی آنکھوں میں اپنے لیے اجنبیت دیکھ کر ایک لمحے زین نے سوچا کہ وہ اسے بتا دے کہ میں شاہ زین ہو۔ تمہارا دوست شاہ مگر پھر  خود ہی اپنی سوچ کو جھٹک دیا اور اپنے تعرف کو کسی اور وقت کے لئے چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔۔😪😒**،*،،،********آآج بلال گھر کا راشن لے کر گھر پہنچا ہی تھا کہ کوئی زور سے بڑی طرح اس سے ٹکرایا

"لڑکی کیا یہاں اتے ہوئے اپنی آنکھیں گھر پر ہی چھوڑ کر آتی ہوں"
بلال نے سرخ ہوتی ہوئی ناک پہ ہاتھ رکھ کے فضا کو دیکھ کر کہا

"ہاں گھر چھوڑ کر آئی ہوں مگر تمہاری آنکھیں کہاں چلی گئی کتنی زور سے میری ناک پر لگی ہے"
وہ ابھی بھی اپنی ناک پکڑے کھڑی تھی

"ہاں موم کی ناک تھی تمہاری جو ٹوٹ گئی"
بلال کہتا ہوا شاپرز لیے اندر آگیا

"ارے بلال بھائی آگئے آپ فریش ہو جائے میں کھانا لاتی ہوں"
ثانیہ جوکہ ٹیوشن کے بچوں کو پڑھا رہی تھیں اٹھتے ہوئے بولی

"کھانا ابو کے کمرے میں لے آنا"
یہ کہہ کر وہ فریش ہونے چلا گیا

فضا جو کہ تانیہ کے پاس چھت پر آئی تھی تانیہ اسے دیکھ کر بولی

"ارے یہ تمہاری ناک کو کیا ہوا اتنی سرخ کیوں ہو رہی ہے ۔"

"ہونا کیا ہیں تم سے ملنے تمہارے گھر آ رہی تھی کہ تمھارا بھائی کےٹو کا پہاڑ بن کر سامنے آگیا اور اس سے ٹکرا گئی" فضا نے انکھیں گھما کر بولا

"ہاہاہا چلو کوئی بات نہیں چھوٹے موٹے ٹکراؤ تو محبت کے لئے اچھے ہوتے ہیں"
تانیہ نے معنی خیزی سے کہا تو فضا منہ نیچے کرکے مسکرانے لگی۔ تانیہ کو اچھی طرح اندازہ تھا فضا اس کے بھائی کو بچپن سے پسند کرتی ہے اس لئے وہ اپنی اس کزن کو اور بھی عزیز رکھتی تھی

"میری صحت کےلئے تو اچھے ہیں مگر تمہاری بھائی کی ماتھے پے تو ہر وقت بل ہی پڑے رہتے ہیں"
فضا نے خفگی سے کہا

"یار حالات انسان کو وقت سے پہلے بہت بڑا اور سنجیدہ کردیتے ہیں۔ تم  سے تو کچھ چھپا ہوا نہیں ہے"

تانیہ نے بلال کے رویے کی وضاحت دی
****

 "ارے بھائی کون ہے کیا دروازہ توڑنا ہے؟۔
کوئی بہت زور زور سے دروازہ بچا رہا تھا تانیہ دروازہ نے کھولا سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر زبان پر بریک لگ گئی ۔۔۔۔!
"جی فرمائیں" تانیہ نے کہا

"سوری دراصل بلال کال رسیو نہیں کررہا تھا اس لیے ۔۔۔۔آپ بلال کو بتا دیا اشعر آیا ہے" اشعر نے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا جو کہ شاید بلال کی بہن تھی تو وضاحت دینے لگا

اتنی دیر میں بلال آگیا
"ارے یار یہاں کیوں کھڑے ہوں اندر آؤ "۔۔۔بلال نے کہا

"نہیں چلو زین کی طرف چلتے ہیں"۔۔۔۔اشعر بولا

"چلو ٹھیک ہے"
بلال نے دروازہ بند کیا اشعر نے بند دروازے کو دیکھا اور دونوں زین کے گھر کی طرف نکل گئے ۔۔۔۔

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment