itni Mohhbat karo Na
By zeenia sherjeel
Episode 6
وہ تینوں بیٹھے ہوے اپنا پلان دسسکسس کررہے تھے۔
"دیکھو سب سے پہلے تم دونوں اپنے اندار سے ڈر اور گھبراہٹ ختم کردو۔ خیر وہ تو آج کے بعد ختم ہو جانی ہے اور دوسرا یہ دیکھو میں تم دونوں کے لیے کیا لایا ہوں"
اشر نے دو پسٹل نکال کر ان دونوں کو دی
"کیا اس کی ضرورت ہے"
زین نے سوال کیا
"تو کیا تم لوگوں کو ننھے سے چاقو لے کر خوفزدہ کرو گے"
اشر نے جیسے پہلا واقعہ یاد دلایا وہ دونوں چپ ہوگئے۔ بس اب انہیں رات میں صحیح موقع کا انتظار کرنا تھا ۔۔۔۔**** ۔
حور اور خضر جب اسماء کو گھر لے کر پہنچے تو سارا چچی lور فاطمہ تآئی لان میں ہی موجود تھیں۔
"ایسی اچانک کیا آفت آگئی تھی کتنی دیر سے تمھارا انتظار کر رہی ہوں کہاں گئے تھے تم" دراصل فاطمہ تائی کو اپنے بیٹے کا دونوں ماں بیٹیوں کی خدمت کرنے کا یہ انداز پسند نہیں آیا۔
"حور چچی کو لے کر اندر جاؤں"
خضر نے حور کی طرف میڈیسن تھماتے ہوئے کہا ۔۔۔
سارا چچی نے معنی خیز نظروں سے ابرو اچکائے اور فاطمہ نے تیز نظروں سے بیٹے کو اور ان دونوں کو گھورا۔
حور اسماہ کو لےکر اندر چلے گئی
"اوور ایکٹنگ کرنے کی کیا ضرورت تھی اسماء کو اتنی"
سارا چچی نے منہ بناتے ہوئے فاطمہ سے کہا
"جبکہ میں نے تو بھلا ہی سوچا تھا حور کا"
فاطمہ نے جواب دیا
"کیا مطلب کیا سوچا تھا آپ نے حور کے بارے میں" خضر کو کچھ سمجھ نہیں آیا
"ارے وہ شائستہ نہیں ہے میری کزن وہ اپنے بیٹے کے لیے کوئی لڑکی ڈھونڈ رہی ہے اسی سلسلے میں نے اسماء سے ذکر کیا وہ تو سن کر جیسے حتی سے اکھڑ گئی"
فاطمہ تائی نے بیزاری سے جواب دیا
"آپ ۔۔۔۔امی آپ فیصل بھائی کی بات کر رہی ہیں"۔خضر نے حیرت اور بے یقینی سے پوچھا ؟؟؟
"ہاں نا وہی اس کے بارے میں بتایا کوئی ذمہ داری نہیں حیثیت میں بھی اچھا ہے مگر پھر بھی تمہاری چچی جان کے تو تیور ہی نہیں مل رہے"
فاطمہ کو جیسے اسماہ پر اب تک غصّہ تھا
"کیا ہوگیا ہے امی جان آپ کو کچھ تو خدا کا خوف کریں"
خضر نے افسوس سے کہا
"لو ایسا کیا کر دیا میں نے"
وہ شاید برا مان گیں ۔۔
"فیصل بھائی اور حور کا کہا جوڑ بنتا ہے کتنے بڑے ہیں وہ اگر اس بات کو اگنور کر بھی دے تو جو انھوں نے دو سال پہلے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے۔ کیا اس بات کو اگنور کیا جاسکتا ہے" خضر کو ان کی سوچ پر بہت افسوس ہوا
"تمہیں اس معاملے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں" سارا چچی جو کب سے چپ بیٹھی تھی آخرکار بول پڑیں
"آپ لوگوں کو بھی حور کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں"
یہ کہہ کر خضر رکا نہیں اور لمبے لمبے ڈگ بڑھتے ہوئے اندر چلا گیا
پیچھے چچی اور تائی ایک دوسرے کو دیکھتی رہ
گئی ۔۔۔
**********************
"کیا ہوا تم اتنے چپ کیوں بیٹھے ہو شاہ؟
شاہ بہت اداس لگ رہا تھا ورنہ وہ ہمیشہ وہ خود اس کے پاس آتا تھا آج پری خود بریک میں اس کے پاس آئی۔ "
"بابا کو اپنے افس کے کام کے سلسلے میں دوسرے ملک جانا پڑ رہا ہے ہم لوگوں کو بھی جانا ہوگا"
شاہ نے اپنے اداس ہونے کی وجہ بتائی
"کیا تم مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ گے؟۔۔۔۔پری کی آنکھوں میں ایک دم پانی بھر آیاا
"پلیز شاہ مجھے چھوڑ کر مت جاؤ ماما سارا دن گھر کے کاموں میں بزی رہتی ہے میرا کوئی دوست نہیں تم بھی چلے جاؤ گے"
وہ باقاعدہ رونے لگی
"رو مت پری میں جلد ہی تم سے ملنے آؤں گا۔ وعدہ کرو میرا انتظار کروں گی اور کسی پرنس کے ساتھ نہیں جاؤں گی "وہ اس کے آنسو صاف کرتا ہوا بولا"
****************
"ماما کیسی طبیعت ہے آپکی اب ۔۔۔ کیا ہوگیا آپکو ؟؟
حور بہت اداس تھی
"کچھ نہیں بیٹا بس ویسے ہی طبیعت خراب ہوگئی تھی تم بتاؤ پیپرز کی تیاری ہو رہی ہے؟انہوں نے بات بدلتے ہوئے حور کا دیھان دوسری طرف لگایا
"پیپرز کی تیاری اچھی ہے۔ مگر ماما پلیز آپ کبھی مجھے چھوڑ کر مت جائے گا"
اس نے ایک دم رونا شروع کردیا وہ ایسی ہی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونے والی کبھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر رو دینے والی
آسماء نے پیار کرکے اسے گلے سے لگایا "ارے میری جان کچھ نہیں ہوا مجھے بالکل ٹھیک ہوں"
"سب ایسے ہی کرتے ہیں مجھے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں بابا بھی چلے گئے۔
پھر ایک دھندلا سا سایا اس کے دماغ میں نمودار ہوا
"ارے میں نے کہیں نہیں جانے والی جب تک میری پرنسس کا پرنس نہیں آجاتا اسے لینے کے لئے چلو آنسو صاف کرو"
اج بھابھی کی باتوں سے وہ دلبرداشتہ ہوئی تھی مگر اسماہ نے سوچ لیا تھا کہ کچھ بھی کر لے مگر اپنی بیٹی کی زندگی داؤ پر نہیں لگاے گئ۔۔۔۔۔
*******""**""********
بلال جیسے ہی گھر آیا اس نے تانیہ کو آواز دی"
"تانیہ جلدی سے کھانا لاؤ بھوک لگ رہی ہے۔
"آگئی بھائی صبر کریں"تانیہ نے کچن سے ہی آواز دی
اس کی آواز سن کر وہ اوپر چھت پر چلا گیا وہی اس کا کمرہ تھا یہ ایک متوسطہ علاقہ میں چار کمروں کا مکان تھا جس میں بلال کے ابو جو کے 3 سال پہلے فالج کی وجہ سے چل پھر نہیں سکتے تھے ۔۔۔بلال کی تین بہنیں تھیں سب سے بڑی بہن رانیہ جو کہ شادی شدہ تھی جدہ میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھی۔ اس کے بعد ثانیہ خالہ زاد سے دو سال پہلے نکاح ہوا تھا اور سب سے چھوٹی تانیہ جس کا کچھ دنوں پہلے یونیورسٹی میں ایڈمیشن ہوا تھا۔
آہٹ کی آواز پر چونک کر دیکھا تو پیچھے فضا کھانے کی ٹرے لیے کھڑی تھی۔
"تمہیں اپنے گھر میں چین نہیں ہیں جب دیکھو ہمارے گھر پڑی رہتی ہوں" وہ سنجیدہ لہجہ بنا کر بولا
"تو تمھارے لئے تو نہیں آئی۔ میں تو تانیہ سے ملنے آئی تھی اور دوسری بات یہ میرے ماموں کا گھر ہے جب چاہے آسکتی ہو"
اس نے بھی تنک کر جواب دیا اور ٹرے میز پر رکھ کر تیز تیز سیڑھیاں اتر گئی۔
"تیزگام"
وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔
******
وہ تینوں کیفیٹیریا میں بیٹھے تھے۔ ان تینوں کی کافی اچھی دوستی ہوگئی تھی بلال اور زین تو دوست تھے ہی شروع سے مگر اشعر سے دوستی کا سب سے بڑا ہاتھ اشعر کے خلوص اور اپنائیت کا تھا وہ ایک اچھی فیملی سے تعلق رکھتا تھا بڑا بھائی باہر ملک میں تھا اور وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا بھائی ہر ضروریات اور خواہشات پوری کرتا تھا اس لیے اشعر کی طبیعت میں لاابالی پن تھا۔ فکر معاش کی ایسے فکر نہیں تھی۔
"او بھائی یہ چائے پینے کے لئے منگوائی ہے گھورنے کے لئے نہیں"
اشعر نے مسلسل چائے کے کپ کو گھورتے ہوے زین کو دیکھ کر کہا۔
زین نے اس کی بات پر کب سے نظر ہٹا کر اس کو گھوری دی اور چائے پینے لگا
کیا سوچ رہے ہو یار آنٹی تھی ہوجائیگی فکر نہیں کرو ان کی"
بلال کے کہنے پر اس نے بلال کو دیکھا
"اماں ماشااللہ سے پہلے سے بہتر ہے ڈاکٹر سے ہوئی تھی بات۔ میں کچھ اور سوچ رہا ہوں"
زین نے ان دونوں کو دیکھ کر جواب دیا
"کیا کوئی اور مسئلہ ہے تو ہم سے شیئر کر سکتے ہو اگر کوئی پروبلم ہے تو بتاو"
آشعر نے خلوص سے کہا
"میں نے تھوڑے دن پہلے ابو کے بزنس پارٹنر ظفر مراد کو دیکھا تھا وہ دوبارہ اس شہر میں آگیا ہے اپنے طور پر معلوم کروایا مگر ابھی تک کامیابی نہیں ہوئی۔ اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا"
"تو اس کا معلوم کرکے تم کیا کرنے والے ہو؟؟
بلال نے کہا
"ظاہر سی بات ہے اصل بات بتا لگواؤں گا اگر وہ حق پر ہوا تو ٹھیک۔ لیکن اگر اس نے دھوکہ دہی سے میرے باپ کا پیسہ ہتھیا ہے۔ تو ایسے تو نہیں جانے دوں گا کیس کروں گا اس پر"
زین نے جواب دیا
"اور تمہیں یقین ہے تمہیں انصاف مل جائے گا یہاں؟؟ اشعر نے پوچھا
"تو کیا میں ساری زندگی یہی کام کرتا رہو گا؟؟۔
زین بولا
"یار میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں چلو کچھ نہ کچھ کرتے ہیں ان ظفر صاحب کا بھی"
اشعر نے کہا۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔

0 comments:
Post a Comment