Monday, December 10, 2018

episode 10


itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Episode 10

رات کے کھانے کے بعد جب سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تب اسماء کو ظفر مراد نے اپنے روم میں ضروری بات کیلئے بلوایا وہاں پہ فاطمہ کے علاوہ ان کے چھوٹے دیور اور بھاوج بھی موجود تھے

"آو اسماء! تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے بیٹھوں۔"
ظفر صاحب نے کہا جبکہ فاطمہ کا منہ بنا ہوا تھا

"سب خیریت تو ہے" اسماء سب کو دیکھتے ہوئے صوفے پر بیٹھی

"ہاں سب خیریت ہے تم بتاؤ حور کی پڑھائی کیسی چل رہی ہے کوئی مسئلہ تو نہیں اسے"
ظفر صاحب نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔

"نہیں بھائی صاحب اللہ کی شکر ہے کوئی مسلہ نہیں اپنے گھر میں کسی کو کیا مسئلہ ہو سکتا ہے بھلا۔ حور کے پیپرز چل رہے ہیں اسی میں بزی ہے وہ"
اسماء نے جواب دیا

اس کے بعد کمرے میں خاموشی ہوگئی جسے ظفر صاحب کی آواز نے ختم کیا

"دراصل ہم نے تمہیں حور کے سلسلے میں ہی بلایا ہے ہم چاہتے ہیں کہ حور کے ایکزیمس  کے بعد گھر میں چھوٹی سی تقریب رکھی جائے حور اور خضر کی منگی کردی جائے"
ان کی بات پر فاطمہ کے علاوہ باقی تینوں کو ایک جھٹکا لگا

"بھائی صاحب خضر اور حور  میرا مطلب ہے"
آسماء نے پہلے بے یقینی سے فاطمہ کو دیکھا جو بڑی چبھتی ہوئی نگاہوں سے اسکو گھور رہی تھیں۔۔۔  سارہ کو بھی ظفر صاحب کی بات سن کر اچھی طرح پتنگے  لگ چکے تھے مگر وہ کچھ بولی نہیں

"کیوں آسماء تمہں کوئی اعتراض ہے؟ظفر صاحب نے آسماء سے پوچھا

"نہیں بھائی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر اب وہ دور نہیں رہا آپ بچوں سے پوچھ لیں ان کو کوئی اعتراض نہ ہو"
اسماء ٹھہر ٹھہر کر بولی۔

"اس رشتے میں خضر کی خوشی اور رضامندی شامل ہیں میرے خیال میں اب کسی کے بھی اعتراض کی گنجائش نہیں نکلتی
 انہوں نے اسماء کی بات کاٹتے ہوئے اپنی بات مکمل کی"

*****

"بلو والا ڈریس اچھا لگ رہا ہے یا پرپل والا"
ثانیہ اور تانیہ بھی ڈریسنگ دیکھ رہی تھی جب فضا نے بلال کے پاس آکر پوچھا

"دونوں ہی فارغ لگ رہے ہیں"
بلال نے ایک نظر ڈریس پر ڈال کر جواب دیا۔

"تمہیں تو میری چوائس کبھی زندگی میں پسند نہیں آئے گی"۔۔فضا نے منہ بناتے ہوئے کہا

"پسند بھی تو دیکھو سبحان اللہ ہے"
بلال نے ایک بلیک کلر کا ڈریس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا

"اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے"
بلال نے چونک کر اس کو دیکھا اور وہ بلیک ڈریس بلال کے ہاتھ سے لے کر اپنے لئے پیک کروانے لگی بلال کچھ دیر تک وہیں کھڑا رہا پھر سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا

"دنیا میں اور بھی غم ہیں محبت کے سوا"

ابھی وہ لوگ شاپنگ کر کے فارغ ہوئے تھے جب بلال  کے نظر وہاں اشعر پر پڑھی "

ارے تم یہاں کیا کر رہے ہو"بلال نے پوچھا

"جو سب کر رہے ہیں وہی کرنے آیا ہوں ظاہر سی بات ہے شاپنگ کی کرنے آیا ہوں"
اس نے بلال کی پیچھے فیملی دیکھی تو بولا چلو بعد میں ملاقات ہوتی میں چلتا ہوں"

"ارے کہاں چلے چپ کر کے بیٹھو ان لوگوں نے میرا دماغ خراب کردیا ہے شاپنگ کرکے۔ "فوڈ کورٹ میں ہمیں جوائن کرو" بلال کے کہنے پر اسے بھی جانا پڑا ہے تعارف  کا سلسلہ شروع ہوا یہ میرا بہت خاص دوست اشعر ہے۔

"اور اشعر یہ دونوں میری بہنیں ثانیہ اور تانیہ اور یہ میری کزن فضا ہے"۔

اشعرکی نظریں تانیہ پر پڑھیں تو وہ اشعر کو ہی دیکھ رہی تھی اشعر کے دیکھنے پر تانیہ نے اپنی نظروں کا رخ دوسری طرف موڑ لیا شاید وہ بھی اس کو پہچان گئی تھی۔ اسکارف لیئے ہوئے مےکپ سے عاری چہرہ اشعر کو دوسری لڑکیوں سے مختلف اور دلکش لگا
*****

 حور کے پیپر کی وجہ اسماء نے اس کو خود سے خضر کے متعلق کچھ نہیں بتایا تھا "خضر ہر لحاظ سے بہت اچھا تھا آسماء کی عزت کرتا تھا خیال رکھنے والا بچہ تھا ۔مگر اسماء کو فاطمہ بیگم کا رویہ کچھ تشویش میں مبتلا کر رہا تھا
مگر فی الحال انھوں نے ذہن سے اس کو بھی جھٹک دیا

*******

آج وہ آخری پیپر دے کر آئی تھی پیپر کے دوران وہ اپنے کمرے تک ہی محدود ہوگئ تھی۔ کوئی بھی کام کے لیے اس کو نہیں بلاتا تھا شاید پیپر کا خیال کرکے نہ بلاتے ہو مگر اس سے پہلے تو اتنی پروا کسی نے نہیں کی
چلو اچھا ہی ہے۔  حور مگن انداز میں اپنے آپ سے باتیں کرتے کچن میں آئی اپنے لیئے چائے کا پانی رکھا تو فاطمہ تائی اس کے سامنے آئی اور چبھتے ہوئے لہجے میں گویا ہوئیں
"جو تم نے اور تمہاری ماں نے کھیل کھیلنا شروع  کیا ہے نا ۔۔یاد رکھو میں اس میں تمہیں  کبھی کامیاب ہونے نہیں دیں گی"

۔حور نے ناسمجھی سے تائی کی طرف دیکھا اور بولی

"میں سمجھی نہیں تائی؟۔۔آپ کیا کہہ رہی ہیں"؟

"بہت بھولی اور معصوم ہونا تم اس طرح ادائیں دکھا کر میرے بیٹے کو اپنا دیوانہ بنا سکتی ہو پر میں بے وقوف نہیں اور یاد رکھنا تم میرے جیتے جی کبھی خضر کی زندگی میں نہیں آ سکتی"

وہ یہ کہہ کر رکی نہیں چلیں گی لیکن اس کو وہی سکتے کی کیفیت میں چھوڑ گئی

"یہ کیا کہہ رہی ہیں تائی میں اور خضر بھائی"

منہ پر ہاتھ رکھے وہ بنا آواز رو رہی تھی اچانک خضر کچن میں داخل ہوا

"حور ایسے کیوں کھڑی ہو، تم رو رہی ہوں اس نے حور کا رخ اپنی طرف موڑا، مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے

حور بس خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی پھر بنا کچھ کہے کچن سے اپنے روم میں آگئی۔ اسے بہت رونا آ رہا تھا تائی کی باتوں پر، کمرے میں اسما آئی ۔

"حور کیا ہوا ہے بیٹا کیوں رو رہی ہو آسماء نے پریشانی سے پوچھا

تائی نے بہت غلط باتیں کی ہیں ماما"

حور نے ساری بات اسماء کو بتائی

"تمہارے تایا نے خضر  کے لئے تمہارا ہاتھ مانگا ہے"

حور نے بے یقینی سے آسماء کو دیکھا۔

"میں نے تمہیں اس لیے نہیں بتایا کہ تمہارے پیپر ہو رہے میں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی"

"مگر امی میں نے تو خضر  بھائی کو ہمیشہ اپنا بھائی ہی سمجھا ہے اور خضر  بھائی بھی

"بیٹا اس رشتے میں خضر کی مرضی شامل ہے اور پھر ویسے بھی  وہ بہت ا چھا فرمابردار لڑکا ہے، تمہیں بہت خوش رکھے گا"

وہ حود کو سمجھانے والے انداز میں کہنے لگی۔

"وہ بس خاموشی سے ماں کو دیکھتی رہی
****

زین نے ظفر مراد پر قابل اعتبار بندے سے ظفر مراد پر  نظر رکھو آئی۔ افس کے تمام معاملات، آنے جانے کا روٹین، زین کو ہر چیز کی خبر ملتی رہتی۔ لیکن کسی پرانے ڈاکومنٹس یا فائل میں زین کو ایسے خاطرخواہ ثبوت نہیں ملے  جو اس کے لیے فائدے مند ہو یا اس کے کام آسکے۔

******

اس دوران یہ اچھی بات ہوئی کہ سارہ کی بیٹی ماہم کو بھی کچھ لوگ پسند کرگئے منگنی کی تاریخ 1 ہفتے کے بعد رکھ دی گئی جب خضر اور حور کی منگنی کی تاریخ  مقرر ہوئی

حور کا اور خضر کا اس دن کے بعد سے آمنا سامنا نہیں ہوا حور زیادہ تر اپنے کمرے میں رہتی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ خوش نہیں تھی مگر وہ شاک ضرور تھی اس نے کبھی بھی خضر کے متعلق اس طرح نہیں سوچا تھا۔ یہ سب اس کے لئے تھوڑا عجیب اور نیا تھا زہن اتنی جلدی اس رشتے کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھا اور دوسری بات دماغ میں کہیں اس اجنبی کا خوف بھی تھا جس نے اسے خضر سے دور رہنے کے لیے کہا تھا غیر ارادی طور پر وہ اس اجنبی کے بارے میں سوچتی لگی 
*****

 تانیہ اور فضا  چھت پر باتیں کر رہی تھی ثانیہ کی آواز دینے پر تانیہ چھت سے نیچے اتری جب بلال چھت پر ایا تو فضا کو سوچ میں ڈوبے ہوئے دیکھا

"کیا سوچا جا رہا ہے"
بلال نے قریب آتے ہوئے پوچھا

"تمہیں"
فضا نے بلال کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا

"ہر وقت فضول نہیں ہانکا کرو"
بلال نے ڈپٹنے کے انداز میں کہا

"میں نے ایسا کیا کہہ دیا جو تم نے پوچھا اس کا سچی سچی  جواب دیا ہے" 
فضا نے اس کو دیکھتے ہوئے جواب دیا

"اور میرے بارے میں کیا سوچا جا رہا ہے؟
بلال اس پر سے نظریں ہٹا کر میدان میں دیکھتے ہوئے بولا جہاں بچے کرکٹ کھیل رہے تھے"

"یہی کے نوکری تمہاری لگی نہیں مگر کوئی لوٹری ضرور نکل آئی ہے" اس نے چند دنوں میں ہونے والی تبدیلیاں محسوس کی تو شرارت بولا

"ھاھاھا لاٹری نکل ہی نہ جائے میری۔۔۔ میں تو اب گن پوائنٹ پر لوگوں کو لوٹتا ہوں"

بلال نے ہاتھ انگلیوں سے  نکلی گن بناکر فضا کے سر کا نشانہ لیا اور پھر انگلیوں میں اپنے ہونٹوں پر لے جا کر پھونک ماری

پہلے فضا چپ کر کے دیکھتی رہی پھر ایک زور سے ہنسی

"تم سے تو چڑیا کا بچہ نہیں مارا جائے اور چلے ہو لوگوں کو لوٹنے اور وہ بھی گن پوانٹ پر"
فضا نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا

"تو تمہیں یقین نہیں ہے میری بات کا؟
بلال نے فضا کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"ون پرسن بھی نہیں"
فضا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا جیسے وہ اس کے مذاق کو انجوائے کر رہی ہو

 اتنے میں بلال نے اپنی پاکٹ سے منی پسٹل نکالی اور فضا کے ماتھے پر رکھ کر کہا

"اب کیا خیال ہے؟

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment