itni mohbbat karo na
by zeenia sharjeel
Episode 11
سردیوں کا آغاز ہوچکا تھا اور آج چھٹی کا بھی دن تھا سب لوگ لان میں بیٹھے ہوئے چائے پی رہے تھے۔ماہم چائے کا کپ تھامتے ہوئے بے زار انداز میں بولی
"پڑھ پڑھ کر میں پک چکی ہوں پلیز کہیں اوٹنگ کا پروگرام بنائے"
"چلو تو پھر آج رات کا ڈنر باہر سب کو میری طرف سے"
خضر نے حور کو دیکھتے ہوئے کہا جو کے ابھی سب کے درمیان آکر بیٹھی تھی۔ جب سے ان دونوں کی رشتے کی بات گھر میں چلی تھی حور کم ہی خضر کے سامنے آتی تھی ایک بے نام سے ججھک ان دونوں کے رشتے میں آ گئی تھی
"کیا خضر بھائی میں ڈنر کی بات تھوڑی کر رہی ہوں، وہ تو آپ اپنی منگنی کی خوشی میں ویسے ہی کرادیں گے۔۔۔۔ کہیں پکنک کا پروگرام بنائے پلیز"
"ہاں یار ویسے پکنک تو ہونی چاہیے آئیڈیا برا نہیں"
ردا نے بھی ماہم کی ہاں میں ہاں ملائی
"گھر میں تھوڑے ہی دنوں بعد تقریب ہے اور تم لوگوں کو پکنک کی لگی ہوئی ہے کوئی کہیں نہیں جا رہا چپ کر کے بیٹھو گھر میں"
سارہ نے ڈپٹنے والے انداز میں کہا
"نہیں ماہم صحیح کہہ رہی ہے کافی عرصہ ہو گیا کہیں گئے ہوئے ایسا کرتے ہیں پرسوں اپنے فارم ہاؤس پر چلتے ہیں۔ تھوڑا ہم بوڑھے لوگ بھی فریش ہو جائیں گے"
ضفر مراد بولے
"تھینکیو تایا "
ماہم چہک کر بولی
سب ہی خوش تھے سوائے فاطمہ کے
****
فضا پھٹی پھٹی آنکھوں سے بلال کو دیکھ رہی تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ بلال کے ہاتھوں میں پسٹل ہے اور وہ اس پر تانے کھڑا ہے
"بلال یہ تم"
اگے وہ بول نہیں پائی قدموں کی آواز سے اندازہ ہو رہا تھا کہ کوئی چھت پر آ رہا ہے۔ بلال نے پھرتی سے پسٹل واپس پاکٹ میں رکھ لی
"یہ لو بھئی گرما گرم چائے پکوڑوں کے ساتھ حاضر ہے"
تانیہ ہاتھ میں چائے کی ٹرے لے کر چھت پر نمودار ہوئی اس کے پیچھے ثانیہ بھی تھی
"ارے رکو کہاں جا رہی ہو چائے لائی ہوں تمہارے لئے"
فضا کو جاتا ہوا دیکھ کر تانیہ نے کہا
"نہیں مجھے گھر جانا ہے"
فضا یہ کہہ کر رکی نہیں
"اسے کیا ہوا" ثانیہ نے بولا
بلال نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے کندھے اچکائے
وہ فضا کے لیے اپنے آنکھوں میں محبت اور پہلے ہی دیکھ چکا تھا پسند وہ خود بھی کرتا تھا مگر اپنے مسئلے مسائل اور ذمہ داریاں۔۔۔۔ ان سب کا سوچ کر اس نے کبھی بھی فضا کے جذبوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور اب جو راہ وہ اختیار کر گیا تھا اسے خود نہیں پتہ تھا کل کو اس کا مستقبل کیا ہے۔ پہلے فضا کی محبت صرف آنکھوں سے عیاں ہوتی تھی مگر اب وہ لفظوں کا سہارا لینے لگی تھی
بلال کا مقصد فضا کو اس طرح کرکے ڈرانا یا ناراض کرنا نہیں تھا وہ صرف اسے آگاہ کرنا چاہتا تھا کہ وہ جن راستوں پر چل نکلی ہے اس کے لئے یہ راستے خطرناک ہے
****
"تو ظفر مراد کے خلاف تمہیں کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا، کافی شاطر انسان نکلا تمہارا یہ ہونے والا تایا سسر"
بلال نے آخری بات شوخ انداز میں کہی جس پر اسے زین نے گھور کر دیکھا
"یہ کیا سین ہے باس یہ سٹوری کب سٹارٹ ہوئی"
اشعر نے ناسمجھی سے ان دونوں کو دیکھا اور حیرت میں مبتلا ہو کر پوچھا
اس کے بعد بلال نے پوری رواداد اشعر کو سنائی
"بس ہو گیا تمہارا"
زین سیگریٹ منہ میں رکھتے ہوئے بولا
"اے میرے ہیرو تم تو چھپے رستم نکلے یار"
ابھی زین کچھ بولتا اس سے پہلے زین کا موبائل بجا
"ہاں فیصل بولو۔۔۔ چلو ٹھیک ہے"
زین دوبارہ سگریٹ پینے میں مصروف ہو گیا
"خیریت کیا خبر ہے" بلال نے پوچھا
"ظفر مراد اپنی فیملی کے ساتھ اپنے فارم ہاؤس جارہا ہے"
زین کچھ سوچتے ہوئے بولا
"تو پھر آگے کیا سوچا ھے تم نے"
اشعر نے سنجیدگی سے پوچھا
"سوچ رہا ہوں کیسے یہ پکنک ظفر مراد کے لیئے یادگار بناو"
زین سگریٹ کا دھواں اڑاتے ہوئے بولا
*****
"اپنا سامان لڑکی ہم دو دن کے لیے جا رہے ہیں دو مہینوں کے لئے نہیں"
خضر نے ما ہم کو 3 بیکس لاتے ہوئے دیکھ کر کہا
"یہ بس دیکھ کر تو ایسا ہی لگ رہا ہے جیسے دو مہینے کے لئے جا رہے ہیں"
ماہم بولی
"تمارا سامان دیکھتے ہوئے ارینج کرائی ہے"
"یہ آپ نے بہت اچھا کیا ابھی دو بیگز اور لے کر آتی ہوں جب تک آپ انہیں رکھوائے"
ماہم اس کو بیگز تھماتے ہوئے اندر چلی گئی
"کچھ نہیں ہوسکتا اس لڑکی کا"
خضر نے ماہم کو جاتے ہوئے دیکھ کر بولا
****
یہ فارم ہاؤس ظفر مراد کا اپنا ذاتی تھا آبادی سے کافی دور تھا بڑی سی بس جب فارم ہاؤس کے اندر داخل ہوئی تو مین ڈور بن کر دیا گیا سب لوگ اپنے اپنے بیکز لے کر اندر جا رہے تھے اور بہت خوش تھے سوائے فاطمہ کے۔ انہیں یہ ٹینشن تھی کہ اب گھر جانے کے بعد منگنی کر شور مچ جائے گا اور وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی
شام کا وقت تھا اسب لوگ لان میں کرسیوں پر برجمان ہوئے چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے سب کی موجودگی میں خضر کو حور کہیں نظر نہیں آئی اس کو ڈھونڈتا ہوا پول کی سائیڈ پر آ گیا وہ وہی موجود کسی گہری سوچ میں گم تھی
"کیا ہوا حور کیا سوچ رہی ہوں"
خضر کی آواز پر حور نے چونک کر اسے دیکھا
"آپ"حور نے ادھر ادھر دیکھا اگر تائی نے دیکھ لیا تو سب کے سامنے اس کی عزت افزائی ہی نہ ہو جائے۔ یہ سوچ کر وہ وہاں سے جانے لگی
"رکو حور یہاں بیٹھو مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے"
خضر نے اس کو جاتے ہوئے دیکھ کر بولا
"حور کیا تم اس رشتے سے خوش ہوں؟ آئی مین تمہارا یہ گریز کہی تم کسی اور کو تو پسند"
"یہ آپ کیسی بات کررہے ہیں۔۔۔میں کسی اور میں involve آپ مجھے ایسی لڑکی سمجھتے ہیں"
حور نے خفگی سے خضر کو دیکھتے ہوئے کہاں
"ائی ایم سوری میرا وہ مطلب نہیں تھا دراصل تمھارا اس طرح مجھ سے گریز"
خضر نے بات ادھوری چھوڑی
"خضر بھائی میں نے آپ کو ہمیشہ بھائی سمجھا ہے کبھی دوسری نظر سے نہیں دیکھا یہ سب اتنا اچانک ابھی تو مجھے بہت سارا پڑنا تھا اور پھر تائی وہ خوش نہیں ہیں آپ کو ان کی خوشی میں مدنظر رکھنی چاہیے"
"دیکھو حور مجھے اندازہ ہے کہ امی اس رشتے سے خوش نہیں۔ ان کا رویہ بھی تمہارے اور اسماء چچی کے ساتھ زیادہ اچھا نہیں۔۔۔۔۔ لیکن وہ اپنے بیٹے سے بھی بہت پیار کرتی ہے اور جب انہیں معلوم ہو گا ان کے بیٹے کی خوشی اسی میں ہے تو آہستہ آہستہ اس رشتے کو قبول کرلیں گیں، رہی بات تمہارے پڑھنے کی تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے ابھی صرف منگنی ہو رہی ہے شادی تمہاری اسٹیڈیز کمپلیٹ کرنے کے بعد رکھیں گے اور آخری بات تم نے ہمیشہ مجھے بھائی سمجھا ہے دوسری نظر سے نہیں دیکھا تو اب دیکھ لو"
اس سے پہلے خضر کچھ اور کہتا عجیب شور کی آواز لان سے آئی۔۔۔۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کو نا سمجھی سے دیکھا پھر دونوں ہی لان کی طرف جانے لگے
****
لان میں ساری ہی فیملی بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھی ہلکا ہلکا اندھیرا ہو رہا تھا جبھی دیواروں پر سے کسی کے کودنے کی آواز آئی تین نقاب پوش ہاتھوں میں پسٹل لیے ہوئے ان لوگوں کی طرف بڑھ رہے تھے ۔۔۔۔
ماہم اور سارہ کی پسٹل دیکھ کر خوف سے چیخیں نکل گئی
"آواز نہیں نکلنی چاہیے اب کسی کی اگر اب کسی کی آواز آئی تو یہی مار ڈالوں گا"
ایک نقاب پوش بولا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment