itni mohhbat karo na
by zeenia sharjeel
Episode 12





"چلو سب اپنے موبائل جلدی جلدی ٹیبل پر رکھو بغیر کسی چالاکی کے ساتھ"
ایک نقاب پوش بولا
دوسرا کمروں کی طرف گیا اور پوری جگہ کا جائزہ لینے لگا۔ کچن میں موجود خانساماں کو بھی لے کر لان میں آگیا۔ جب سب اپنے موبائل نکال چکے تھے اتنے میں خضر اور حور بھی لان کی طرف آئے اور لان کا منظر دیکھتے ہی جہاں خضر حیرت میں مبتلا ہوا وہی حور کی آنکھیں بھی خوف سے پھیل گئی ان تینوں میں سے ایک حور اور خضر کی طرف بڑھا اس کے قدم آگے بڑھانے پر حور بے ساختہ خضر کے پیچھے چھپنے کے انداز میں کھڑی ہوئی۔ اس عمل سے نقاب پوش جس کی صرف آنکھیں نظر آ رہی تھی اب ان آنکھوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی وہ حور کو  خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا اور آگے قدم بڑھاتا ہوا وہ خضر کے سامنے آیا نظریں مسلسل حور پر تھی

"موبائل 2"
ہاتھ میں پسٹل لیے اس نے خضر کو دیکھ کر غرا کر کہا۔ خضر نے اپنی پاکٹ سے موبائل نکال کر اس کی طرف بڑھایا
"موبائل"
اس نے آب حور کو مخاطب کر کے کہا

"مم میرے پاس نہیں ہے"
حور نے ڈرتے ہوئے الفاظ ادا کیے

نقاب پوش نے پسٹل والے ہاتھ سے ان دونوں کو باقی لوگوں کی طرف چلنے کا اشارہ کیا۔ حور وہاں پہنچتے ہی آسماء سے لپٹ گئی باقی سب کو ان تینوں نے کرسیوں پر بیٹھا دیا اور سب کے موبائل فون بھی اپنے قبضے میں کرلیے

"دیکھو تم لوگوں کو جو بھی کچھ چاہیے وہ تم لوگ لے لو لیکن پلیز ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤ میں کوآپریٹ کرنے کے لئے تیار ہوں"
ظفر مراد نے موقع محل دیکھا تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے
 آرام سے گویا ہوئے

"جو ہمیں چاہیے ہو گا وہ تو ہم لے ہی لیں گے 'کیسے بھی، اور کوآپریٹو تو اب تمھارے اچھے بھی کریں گے اس کی تم فکر نہ کرو"
ان میں سے ایک ظفر مراد کے قریب آ کر بولا 

ظفر مراد نے اپنا والڈ نکال کر آگے بڑھایا

"کیا چاونی چور سمجھا ہوا ہے اور یہ کیا مسجد کا چندہ دے رہے ہو"
اس نقاب پوش نے والڈ دور اچھالتے ہوئے کہا 

"کیا۔۔۔ کیا چاہیے تم لوگوں کو"
ظفر مراد نے ضبط کرتے ہوئے بولا

"یہ کی ہے نا اب کام کی بات, چیک بک نکالو جلدی"
اس نقاب پوش نے اپنی جیکٹ میں سے کاغذ اور پین نکالتے ہوئے چیک بک ظفر مراد کے ہاتھ سے لےلی

"سگنیچرز کرو اس پر"
اس نقاب پوش نے پیپر اور پین ظفر مراد کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا

"کیا ہے آن پیپرز میں"
ظفر مراد نے پوچھا

"سوال نہیں سائن کرو جلدی"
تیز لہجے میں کہتے ہوئے پسٹل ظفر مراد کے سر پر تان لی

"کیا کر رہے ہیں ظفر سائن کر دیں نا جلدی"
فاطمہ خوف زدہ ہوتے ہوئے بولیں

ظفر مراد پیپرز پڑھنے لگے وہ کوئی قانونی لیگل نوٹس تھا۔ جس میں لکھا ہوا تھا

"میں ظفر مراد اپنی مرضی سے اپنے ہوش و حواس میں بغیر کسی دباؤ کے اپنے مرحوم دوست ساجد شاہ کی پراپرٹی کا حصہ جو کہ میرے پاس اس کی امانت تھا رقم کی صورت میں اس کے بیٹے شاہ زین کے حوالے کرتا ہوں"

یہ پڑھ کر ظفر مراد کی آنکھوں میں غصے کی ایک لہر دوڑی۔ انہیں ایک لمحہ نہیں لگا یہ سمجھنے میں ان کے سامنے کھڑا یہ نقاب پوش کون ہے  "تم"
وہ صرف اتنا بول سکے

"ہاں میں"
زین نے اپنا نقاب اتارا اس کی پشت سب لوگوں کی طرف تھی۔ نقاب اترنے سے کسی نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا
"جلدی سائن کروں"
پسٹل ابھی بھی ظفر مراد کے ماتھے پر تھی

ساری خواتین سمیت ماہم ردا اور حور خوف سے رو رہی تھئں۔ کیوکہ بلال اور اشعر کی پسٹل کا رخ ان سب کی طرف تھا جب کہ زین نے پسٹل ہر مراد کے ماتھے پر رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے مرے مرے ہاتھوں سے سگنیچر کردیئے۔۔۔ زین نے ظفر مراد کے ہاتھوں سے پیپرز لے کر ایک نظر پیپرز پر ڈالی اور چیک بگ ظفر مراد ک اگے کی اور سائن کا اشارہ کیا

اب زین کا چہرہ باقی سب لوگوں کی طرف تھا۔ جہاں خضر اس کا چہرہ دیکھ کر چونکا وہی حور کے سارے جسم کا خون خشک ہو گیا وہ باقاعدہ کپکپانے لگی وہ تو اسے بالکل ہی فراموش کرچکی تھی پیپرز ختم ہونے کے بعد اس نے سوچا تھا 'چلو اس گھٹیا شخص سے تو جان چھٹی جو اس کو نہ جانے کیوں ڈراتا تھا۔ مگر یہ کیا آج وہ پھر اس کے سامنے تھا وہ بری طرح خوفزدہ ہو گئی۔
آب کے زین کی بھی نظر حور کے اوپر پڑی اس کو دیکھ کر زین کو غصہ آنے لگا کتنے مزے سے وہ پول والی سائیڈ پر خضر کے ساتھ اکیلی تھی اس کے منع کرنے کے باوجود اور جب وہ اس کی طرف بڑھا تھا تو وہ کس طرح خضر کے پیچھے چھپ گئی تھی یہ چیز زین کو اور سلگا گئی
دوبارہ ظفر مراد کی طرف مڑا اور بولا

"یہ چیک پر تم نے کس حساب سے رقم لکھی ہے"
زین نے ظفر مراد سے پوچھا

"اتنی ساری رقم کا بندوبست میں ایک ساتھ نہیں کرسکتا باقی کی رقم ارینج کرنے میں مجھے تھوڑا وقت چاہئیے"

"اب بھی ارینج نہیں ہوگا"
اب زین کی پسٹل کا رخ خضر کے اوپر تھا

"کیا کر رہے ہیں ظفر یہ لوگ جو مانگ رہے ہیں آپ انہیں دے دیں"
فاطمہ نے باقاعدہ روتے ہوئے بولیں

"میں صحیح کہہ رہا ہوں میری بات کا یقین کرو میرے پاس جتنی رقم تھی وہ میں نے اس چیک میں لکھ دی ہے۔ باقی رقم ارینج کرنے کے لئے مجھے پورا ایک دن لگے گا مجھے پلیز ایک دن کی مہلت دو میں تمھیں تمھاری ساری رقم دے دوں گا"
اب کے ظفر مراد بہت بے بسی سے بولے کیونکہ پسٹل ان کے بیٹے کے اوپر تھی

"ٹھیک ہے پھر ہم 24 گھنٹے تک تمہارے اور تمہاری فیملی کے مہمان ہیں  یعنی ہم 24گھنٹے اسی فارم ہاؤس کے رہیں گے تمہاری فیملی اور تمہارے ساتھ۔ اگر کسی نے کوئی بھی ہوشیاری دکھانے کی کوشش کی تو وہ اپنی جان سے جائے گا یاد رہے" 
زین نے سب کو باور کرایا

"سب اسی جگہ پر رہیں گے کوئی کہیں نہیں جائے گا۔۔۔ تم جو جاکر رات کا کھانا بناؤ اور بلال تم اس کے ساتھ جاو"
اشعر نے پہلے سب کو وان کیا پھر خانساماں سے رات کا کھانا بنانے کے لئے بولا اور بلال کو اس کے ساتھ کچن بھیج  دیا۔ تاکہ خانساماں کوئی ہوشیای نہ دکھا سکے خود اشعر اور زین کرسی کھینچ کر بیٹھ گئے۔
سب لوگ لان میں ہی ان کے سامنے اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے

رات ہونے کی وجہ سے اب سردی بڑھ رہی تھی اتفاق سے حور اپنا سویٹر بس میں چھوڑ آئی تھی اور آسماء کی شال بھی بس میں ہی تھی۔  اسماء کو سردی لگ رہی تھی اور بار بار کھانسی ہو رہی تھی کیوکہ ان کو پہلے ہی فلو ہورہا تھا اب سردی لگنے کی وجہ سے مزید طبیعت خراب ہو رہی تھی

"چچی کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے آپ کی"
خضر نے کھانستی ہوئی آسماء سے پوچھا

"ٹھنڈ کی وجہ سے شاید طبیعت خراب ہو رہی ہے، ماما کی شال بس میں ہے"
حور نے پریشانی سے خضر کو بتایا

"کوئی بات نہیں میں لے آتا ہوں"
خضر اٹھتے ہوئے بولا

"ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور شال بس میں ہے وہ لینے جانا ہے"
خضر نے ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولا

"زیادہ ہیرو بننے کی کوشش نہیں کرو اور چپ کر کے بیٹھ جاؤ"
اشعر نے خضر کو بولا خضر اپنے جبڑے بھینچ کر بیٹھ گیا
"جاو تم شال لے کر آو بس سے"
اشعر نے حور کی طرف اشارہ کیا

وہ کانپتی ہوئی ٹانگوں کے ساتھ اٹھی اور بس کی طرف جانے لگی بس میں پہنچی تو آخری والی سیٹ پر اس کا سویٹر اور شام دونوں رکھے ہوئے تھے۔ وہ دونوں چیزیں لے کر جیسے ہی پلٹی وہ حور کے قریب کھڑا ہوا تھا دونوں چیزیں حور کے ہاتھ سے گر گئیں۔ وہ انکھوں میں سنجیدگی کا تاثر لیے حور کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔

حور نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی لیکن اس نے ہاتھ بڑھا کر بس کے شیشے پر رکھ دیا اور جانے کا راستہ بن کر کے اس کی کوشش ناکام بنا دی ۔۔۔۔ خوف کے مارے حور کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں حور نے دوسری طرف سے نکلنے کی کوشش کی تو اس نے دوسرا ہاتھ بھی بس کے شیشے بھی رکھ دیا۔ ۔۔۔ دونوں ہاتھ بس پر رکھنے سے ایسا لگ رہا تھا حور پوری کی پوری اس کی باہوں کے حصار میں آگئی ہو مگر حور کی کمر بسر ٹکی ہوئی تھی وہ آپ بھی سنجیدہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اب حور کو اپنا دل روکتا ہوا محسوس ہوا

جاری ہے