tni mohbat karo na
By zeenia sharjeel
Episode 13
وہ مزید حور کے قریب آیا اور اپنی پسٹل سے اس کے چہرے پر آئی ہوئی لٹے پیچھے کرنے لگا حور بری طرح کانپ رہی تھی
"میرے دو بار منع کرنے کے باوجود تم مجھے پھر اس کے ساتھ دکھی ہو اب بتاؤں تمہیں کیا سزا دوں؟
وہ پسٹل اس کے چہرے پر پھیرتا ہوا نیچے تھوڑی تک لایا پر پسٹل سے تھوڑی اونچی تھی۔ ایسا کرنے سے حور کا چہرہ اونچا ہوا اور مزید زین کے چہرے کے قریب آگیا
حور اپنی پوری جان سے لرز گئی
"پلیز مجھے معاف کر دو اب دوبارہ غلطی نہیں ہو گی" سردی کے موسم میں بھی حور کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے
"معافی تو بالکل نہیں ملنے والی جب سزا ملے گی تبھی تم دوبارہ غلطی کرنے سے باز رہو گی نا"
وہ نرم لہجے میں مسلسل حور کو گھورتے ہوئے کہہ رہا تھا
اب پسٹل تھوڑی سے نیچے گردن پر آگئی تھی۔۔۔۔ گردن سے مزید پسٹل نیچے ہوئی حور نے بےساختہ پسٹل کو پکڑا
"پلیز"
وہ اتنا ہی کہہ سکی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
زین نے پسٹل نیچے کی اور خود بھی تھوڑا سائیڈ پر ہو گیا
"آنسو صاف کرو اور سویٹر پہن کر نیچے آو جلدی"
یہ کہہ کر وہ رکا نہیں۔ حور جب انسوں صاف کر کے واپس لان آئی تو خانساماں کھانا اور برتن لا رہا تھا حور نے اسماء کے پاس بیٹھ کر شال انہیں تھمائی، حور کے چہرے پر ابھی بھی ہواہیاں اڑی ہوئی تھی خضر حور کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
"تم ٹھیک ہو" حور کی نظریں بے ساختہ زین کے اوپر گئی۔ زین اسی کو دیکھ رہا تھا حور نے نظریں چرالیں اور خضر کی بات پر سر ہلانے پر اکتفاد کیا
کھانا ٹینشن زدہ ماحول میں کھایا گیا کھانے میں مرچیں بہت زیادہ تھی مگر خوف کی وجہ سے پانی کی بوتل اٹھانے کی ہمت کسی میں نہیں تھی کیونکہ پانی کی بوتل اشعر بلال اور زین کے پاس رکھی ہوئی تھی
زین کی نظر حور کر پڑی تیز مرچوں سے اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا زین نے پانی کا گلاس اور بوتل اٹھا کر حور کی طرف بڑھا دی
رات ہونے کی وجہ سے سردی کافی بڑھ گئی تھی جس کے باعث سب ایک بڑے ہال نما کمرے میں جمع ہوگئے وہی اپنے اپنے بستروں پر بلینکٹ لیکر بیٹھ گئے۔ نیند تو اس رات کسی کو نہیں آنی تھی۔۔۔۔ سب نے وہ رات سوتے جاگتے گزاری
صبح ہوئی تو نیند میں بھی حور کو مسلسل کیسی کی نگاہیں اپنے اوپر محسوس ہوئی۔ حور نے آنکھیں کھولی تو اس کی نگاہیں سامنے کرسی پر بیٹھے شخص پر گئی وہ کرسی پر لیٹنے کے انداز میں بیٹھا ہوا تھا پاؤں سامنے ٹیبل پر رکھے ہوئے اسمکنگ کرتے ہوئے مسلسل نیم وا آنکھوں سے حور کو دیکھ رہا تھا
حور اٹھ کر بیٹھ گئی اور شال اپنے گرد اچھی طرح لپیٹ لی۔ خضر کو اس شخص پر غصہ آ رہا تھا جو مسلسل حور کو دیکھے جا رہا تھا خضر مسلسل ضبط کر رہا تھا
"اگر تم نے اپنا دیکھنے کا شغل بن نہیں کیا تو بیچاری کوئی یہی بے ہوش ہو جانا ہے"
اشعر کے بولنے پر زین نے اپنی نظروں کا زاویہ بدل کر اشعر کو گھورا اور سگریٹ جوتے سے مسل کر باہر چلا گیا
"چلو باقی سب بھی اٹھو اور جلدی سے لان میں آؤ"
اشعر نے باقی سب لوگوں کو باہر آنے کا بولا
لان میں ہلکی ہلکی دھوپ تھی وہیں سب نے ناشتہ کیا
"بلال تم یہ چیک لے کر جاؤ اور رقم لے کر آؤ"
اشعر اور زین وہی تھے۔ زین نے ظفر مراد کا موبائل دیا باقی کی رقم کے انتظام کے لئے کہا تو حور کو اچانک یاد آیا اس کا موبائل تو اس کے بیگ میں ہی ہے
"اگر کسی طرح پولیس۔۔۔۔۔ مگر زین کو دیکھ کر اپنے خیال کو جھٹک دیا مگر پھر تھوڑی دیر بعد یہ سوچ دماغ میں آئی شاید اس طرح سے ہم لوگ بچ جائے
"بس حور تھوڑی سی ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کرنا ہے"
اس نے اپنے آپ کو دل ہی دل میں سمجھایا
ہمت کر کے وہ واش روم کا کہہ کر روم میں گئی اس کا بیک سامنے ہی موجود تھا اس نے پھرتی سے بیگ سے اپنا موبائل نکالا اور اپنے سویٹر کی جیب میں چھپالیا۔
واش روم بھں اسی روم میں تھا حور واش روم کی طرف بڑھ ہی رہی تھی کہ اچانک زین اندر روم میں آگیا اسے دیکھ کر حور کا چہرہ فق ہوگیا
"کیا کر رہی تھی حور"
زین نے بغور اس کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا
"ووہ مم وہ واش روم"
خوف کے مارے حور کی زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی زین چلتا ہوا حور کے قریب آیا
"کیا چھپایا ہے تم نے ابھی"
زین مزید فاصلہ کم کرتے ہوئے بولا
"مم میں نے نہیں کچھ نہیں"
وہ گردن نفی میں ہلاتے ہوئے ہکلائی
زین نے اس کو دونوں بازوؤں سے تھاما اور ایک جھٹکے سے موڑ کر حور کا منہ دیوار کی طرف کر دیا۔ حور کی گھٹی چیخ نکل گئی
"شش آواز نہیں بالکل، جلدی سے بتاؤ کیا چھپایا ہے"
زین نے پسٹل حور کی کمر پر رکھتے ہوئے کہا
"میں نے کچھ نہیں چھپایا"
اس نے مضبوطی سے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا اگر وہ سچ بتا دیتی تو یقینا وہ اس کو زندہ نہیں چھوڑتا اس لئے اپنی بات پر قائم رہی۔ اس وقت کو کوسا جب اس نے کال کرنے کا سوچا تھا
"ٹھیک ہے ایسے نہیں بتاؤ گی یعنی تم چاہتی ہو کہ میں خود تمھاری تلاشی لو"
زین اپنے ہونٹ حور کے کان کے قریب کرتے ہوئے دھمکی آمیز لہجے میں بولا
"نہیں پلیز"
زین کی بات سن کر حور کی بند آنکھیں پوری طرح کھل گئی اور پلٹتے ہوئے اس نے سویٹر کی پوکٹ سے اپنا موبائیل نکال کر زین کی طرف بڑھایا کہیں وہ سچی میں اس کی تلاشی ہی نہ لے لے
"آئی ایم سوری"
حور نے شرمندگی اور خوف سے دوبارہ آنکھیں بند کرلیں
"ہہم بار بار غلطی کرتی ہوں اور پھر معافی مانگتی ہوں یہ ٹھیک بات تو نہیں ہے نا حور"
زین نے موبائل کے ساتھ ساتھ اس کا ہاتھ بھی تھامتے ہوئے کہا
"ای پرامس میں واقعی آئندہ کچھ نہیں کروں گی"
وہ روتے ہوئے منت سماجت پر اتر آئی
"شش رو نہیں اسطرح انٹرسٹ اور بڑھے گا"
وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہہ رہا تھا
"کیا ہو رہا ہے یہاں پر"
خضر کی آواز پر دونوں چونکے زین نے مڑ کردیکھا خضر سامنے ہی کھڑا تھا
"حور کیا کررہی ہوں یہاں پر"
خضر حور کا ہاتھ دیکھ رہا تھا جو کہ ابھی بھی زین کے ہاتھ میں تھا
"دور رہو اس سے یہ میری ہونے والی منگیتر ہے"
خضر نے بنا خوف کے زین سے کہا اور اس کا ہاتھ زین سے چھڑا کر حور کو کمرے سے لے گیا
زین نے غصہ سے اپنی مٹھیاں بھینچ لی اگلے ہی لمحے زین نے بلال کو کال ملائی
"ہاں یار ہوگیا تمہارا کام بس آرہا ہوں تھوڑی دیر میں"
کال رسیو کرتے ہیں بلال نے کہا
"ساتھ میں نکاح خواں کو بھی لیتے ہوئے آو بلال"
زین نے سنجیدہ لہجے میں کہا
"وہ کس لئے میرے بھائی"
بلال نے موبائل کو کان سے ہٹا کر گھورا جیسے وہ موبائل نہیں زین ہو
"آف کورس نکاح کے لئے یار"
زین نے کال ڈسکنکٹ کردی اور باہر آ گیا
****
فضا میں فائر کی آواز گونجی خوف سے سب خواتین کی چیخیں نکل گئی
اشعر نے بھی چونک کر زین کو دیکھا زین نے پسٹل والا ہاتھ نیچے کیا اور بلند آواز میں کہا
"اگر کسی نے بھی میری بات سے انکار کیا تو اگلی گولی اس کی کھوپڑی میں اتار دوں گا"
زین حور کی طرف موڑا
"اور تم نکاح کے لئے تیار ہو جاؤ بہت شوق ہے نہ تمہیں منگنی کا اب منگنی نہیں ڈائریکٹ نکاح ہوگا"
زین نے حور کو گھورتے ہوئے کہا
وہاں باقی سب کو سانپ سونگھ گیا اشعر بھی حیران ہوا
"یہ کیا سین ہے باس پلیننگ میں یہ کب شامل تھا"
اشعر نے ہلکی آواز میں کہا
"ابھی بلال آئے گا تو سب پتہ چل جائے گا"
زین بولا
"کس کا نکاح ہو رہا ہے یہاں پر اور کس سے"
ظفر مراد نے ناسمجھی کے عالم میں زین سے پوچھا
"تمھاری بھتیجی کا نکاح ہو رہا ہے تمھارے بیٹے سے نہیں بلکہ مجھ سے"
زین نے سب کے سروں پر بم پھوڑا
تھوڑی دیر خاموشی کے بعد سب سے پہلے خضر کو ہوش آیا
"کیا فضول بکواس ہے یہ۔۔۔۔۔ تمہیں پیسوں سے مطلب ہے وہ لے کر جاؤ یہاں سے"
بنا خوف کے خضر نے تیز آواز میں کہا
"مجھے جس چیز سے مطلب ہوگا وہ میں لے کر جاؤں گا اگر ہمت ہے تو روک کے دکھاؤ"
زین کو خضر کا مداخلت کرنا پسند نہیں آیا اس لیے اس نے چیلنج کرتے ہوئے کہا
"تم اپنی حد سے نکل رہے ہو"
خضر نے غصے سے انگلی اٹھا کر کہا
"او ہیرو بہت ہوگیے ڈائیلاگ جاکر کرسی پر بیٹھوں جلدی"
اب کے اشعر بولا
"میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گا"
خضر غصے سے چیخا
زین نے پسٹل اس کے ماتھے پر تان لی وہی اس کی آواز کو بریک لگا
"مجھے تمہیں مارنے میں نہ ہی خوف محسوس ہوگا اور نہ ہی افسوس اگر زندگی چاہتے ہو تو شرافت سے چپ کر کے بیٹھ جاؤ"
زین اسے مارنا تو نہیں چاہتا تھا لیکن دھمکانہ ضروری تھا
ابھی زین اور بھی کچھ بولتا لیکن فاطمہ بیچ میں آگئی
"یہ کچھ نہیں بولے گا پلیز اس کے اوپر سے پسٹل ہٹا لو"
وہ خضر کو کھینچتے ہوئے وہاں سے لے گئ آہستہ سے بولیں
"اگر تمہیں اپنی فیملی کی عزت اور جان عزیز ہے خدا کا واسطہ ہے خاموش رہو، یہ خطرناک لوگ ہیں ان کے ہاتھ میں ہتھیار ہیں یہ جان لینے سے نہیں ڈرتے اور ہم بڑھاپے میں کوئی صدمہ برداشت نہیں کرسکتے"
"مگر امی وہ شخص حور کے ساتھ"
"بس خضر میں نے کہہ دیا! اگر تمہاری وجہ سے کسی کو یا تمہیں خود کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار تم ہوں گے اور میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی"
فاطمہ نے خضر کی بات کاٹ کر اپنی بات مکمل کی
"بھابھی پلیز ایسے نہیں کہئے کوئی تو بچاو میری حور کو"
اسماء نے روتے ہوئے کہا
"اگر ہم نے ان کی بات نہیں مانی تو سب جان سے جائیں گے اور وہ صرف نکاح کا کہہ رہا ہے اس کے بعد ہم کوئی نہ کوئی حل تلاش کر ہی لیں گے"
سارہ نے بھی نرم لہجے میں آسماء کو سمجھانے کی کوشش کی
جب کہ روتے ہوئے آسماء یہ سوچنے لگی حور کی جگہ اگر ماہم ہوتی تو کیا سارہ تب بھی ییہں کرتی
ان سب کے درمیان ایک حور تھی اس تمام عرصے میں پتھر کی طرح بت بنی کھڑی رہی۔ کوئی کیا بول رہا ہے کوئی کیا کر رہا ہے اس کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا بلکہ اس کے خود کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اسے یہ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment