itni mohbbat karo na
by zeenia sharjeel
Episode 14
تھوڑا اور وقت گزرا تو بلال نکاح خواں کو لے کر آ گیا۔ فاطمہ نے خضر کو قسمیں دے کر چپ کر آیا ہوا تھا اور روتی ہوئی آسماء کو سارہ نے اپنے ساتھ لگایا ہوا تھا سارہ سے بار بار سمجھا رہی تھی اور تسلی دے رہی تھی جبکہ حور بالکل سن انداز میں کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی ماہم نے اس کو سر پر دوپٹہ اڑایا اور نکاح شروع ہوا
زین کی طرف سے گواہوں میں اشعر اور بلال تھے جبکہ حور کی طرف سے تایا اور اس کے چچا۔ خضر اس سارے منظر کو بہت بے بسی سے ضبط کرکے دیکھتا رہا جب نکاح خواں نے حور سے پوچھا
"آپ کو شاہ زین کے نکاح میں دیا جاتا ہے آپ کو قبول ہے"
تو غائب دماغی سے نکاح خواں کو دیکھتی رہی اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا سب کے ہونٹ ہل رہے تھے مگر آوازیں غائب تھیں۔۔۔۔۔ سب اسی کی طرف متوجہ تھے۔ جبھی فاطمہ تائی آگے بڑھ کر حور کے پاس آئیں اورحور کے کندھے پر ہاتھ سے دباؤ ڈال کر کہا
"حور بیٹا جواب دو"
حور نے ایک نظر فاطمہ تائی کو دیکھا، وہ اسے اپنے بیٹے کی زندگی سے نکالنے کے لئے کس طرح اس کی زندگی داؤ پر لگا رہی تھی
"بولو بیٹا"
اب کے ہاتھ کا دباؤ پہلے سے زیادہ تھا۔ حور نے گردن ہلا کر "قبول ہے" کہا کسی روبوٹ کی طرح اس نے نکاح نامے پر سائن کیے قبول و ایجاد کے مراحل طے ہوئے اشعر اور بلال نے زین کو گلے لگایا وہی تایا اور چاچا حور کے سر پر ہاتھ رکھ کر کرسیوں پر بیٹھ گئےحور یوں ہی بت بنی بیٹھی رہی۔۔۔
ایسے ہی دوپہر سے شام اور شام سے رات ہو گئی۔۔۔۔ ٹینشن والے ماحول میں ہی خضر اسماء اور حور کے علاوہ سب نے رات کا کھانا کھایا۔ پہلے زین نے سوچا وہ حور کھانا کھانے کے لئے بولے مگر پھر کچھ سوچ کر اس نے اسے چھیڑنا مناسب نہیں سمجا صبح 9 بجے اسے اپنی باقی کی رقم مل جانی تھی اور انہیں اپنی منزل پر رواں ہونا تھا۔ آئے وہ تین تھے مگر ایک فرد کا اضافہ ہو چکا تھا۔ زین نے سوچ لیا تھا وہ حور کو اپنے ساتھ لے کے جائے گا۔ نادیہ بیگم کو اس نے یہاں آنے سے دو دن پہلے ہی ھوسپٹل میں ایڈمٹ کروا دیا تھا۔ ویسے بھی ان کے ڈائلیسس ہورہے تھے اور ہسپتال میں انکی کیئر اچھی ہو رہی تھی۔ زین نے سوچا تھا کہ مناسب وقت پر وہ اماں کو حور سے اپنے نکاح کے بارے میں بتائے گا ویسے بھی وہ خوش ہی ہوتی۔ اصل کنفیوژن اسے حور کی تھی پتہ نہیں وہ کیسے ری ایکٹ کرے لیکن یہ کوئی مسئلہ بھی نہیں تھا وہ اسے ہینڈل کر لے گا اسے یقین تھا۔
ویسے بھی اس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد بڑی بڑی پرابلم فیس کی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں کو تو اب اس نے سوچنا ہی چھوڑ دیا تھا "پری" آنکھیں بند کرتے ہوئے اس نے کہا اور لب مسکرائے
"پتہ نہیں اسے شاہ یاد بھی ہو گا کہ نہیں"
یہی سوچتے ہوئے تھوڑی دیر کے لئے اس کی آنکھ لگ گئی۔ صبح ہونے میں ابھی تھوڑا ہی وقت ہے جب اشعر نے زین کو اٹھایا
"بیٹا بہت خواب دیکھ لیے اب ہوش کی دنیا میں آ جاؤں"
زین میں آنکھیں کھول کر دیکھا تو ابھی پوری طرح ہو اجالا نہیں ہوا تھا برابر میں بلال بھی اونگ رہا تھا
"ویسے یار کیا مزے ہی تمہارے بھی، پکنک یہاں کون بنانے آیا تھا اور بنا کون رہا ہے"
اشعر نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔
زین نے اسے گھورنے پر اکتفاد کیا اور سگریٹ سلگاتا ہوا وہ باہر نکل گیا خضر وہاں پہلے سے ہی موجود تھا چونک کر زین نے اسے دیکھا۔ خضر کی بھی نظر زین پر پڑی
"تم حور کو چھوڑ دو پلیز وہ بہت معصوم ہے"
خضر نے بے بسی سے زین کو کہا
"تمہیں اس کے غم میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے ویسے بھی اب وہ میری بیوی ہے تم دور رہو اس سے"
زین کو اس کے منہ سے حور کا ذکر ناگوار گزرا تھا اپنی ناگواری چھپائے بغیر زین نے خضر کو اس کہ کل والے جملے لوٹایا
"دیکھو تمہیں ہم سے جتنا پیسہ چاہیے تھا وہ تمہیں صبح تک مل جائے گا، اگر تمہیں مزید رقم چاہئے تو وہ میں تمہیں دونگا لیکن تم بدلے میں حور کو"
خضر کی بات مکمل ہونے سے پہلے زین نے خضر کا گریبان پکڑ تے ہوئے کہا
"مجھے پیسوں کا لالچ دینے کی تمہاری ہمت کیسے ہوئی جو پیسہ میں نے تمہارے باپ سے لیا ہے وہ میرا ہی ہے جو تمہارے باپ نے دھوکے سے لیا تھا حقیقت جا کے اپنے باپ سے پوچھو"
زین نے ایک جھٹکے سے خضر کا گریبان چھوڑا
اور ایک بات اور حور کو کسی بھی معاملے سے دور رکھوں میں دوبارہ تمہارے منہ سے اپنی بیوی کا نام نہیں سنوں گا"
زین نے اس کا گریبان سہی کرتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلے گیا
*****
صبح کا آغاز ہوا تو حور اپنے پاؤں سمیٹ کر بیٹھ گئی پوری ہی رات اس نے جاگ کر گزاری تھی آسماء کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی وہ برابر میں ہی لیٹی ہوئی تھی
بلال ہال نما کمرے میں آیا اور بلند آواز میں کہا
"سب لوگ جلدی سے باہر آ جاؤ"
رقم پوری زین کو مل گئی تھی اب اس نے ظفر مراد کو اس کی فیملی کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔۔۔
یہی طے پایا گیا کہ پہلے وہ لوگ ظفر مراد کی فیملی کو بھیجیں گے، بعد میں رقم لے کر خود نکلیں گے۔ جانے کے وقت جب سب لوگ بس کی طرف بڑھ رہے تھے جب زین نے کہا
"حور میرے ساتھ جائے گی"
زین نے حور کو بھی آسماء کے ساتھ بڑھتے ہوئے دیکھ کر بولا
سب کے قدم وہی تھم گئے زین آگے بڑھا اور حور کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اس کے عمل پر حور کو پہلی بار ہوش آیا اور اس کے منہ سے فقل ٹوٹا
"چھوڑ دو مجھے۔۔۔۔ مجھے کہیں نہیں جانا ہے"
اس نے زین کے ہاتھ سے اپنا بازو نکالتے ہوئے کہا مگر زین کی گرفت اس کے بازو پر اتنی ہلکی نہیں تھی کہ وہ آسانی سے چھڑا سکتی
خضر نے آگے بڑھنے کی کوشش کی فاطمہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کی کوشش کو ناکام بنا دیا
"چھوڑو میری بیٹی کو۔۔۔۔۔۔ پلیز بھائی صاحب دیکھیں یہ لوگ حور کو جانے نہیں دے رہے ہمارے ساتھ"
اسماء روتے ہوئے مسلسل بول رہی تھی وہ حور کی طرف بڑھنے لگی تو فاطمہ اور سارہ نے اس کو تھام لیا
"آپ سب کو یہاں سے جانا ہے یا مزید یہاں پر رہنا ہے اور ویسے بھی آپ کی بیٹی کسی غیر کے پاس نہیں ہے اپنے شوہر کے پاس ہے"
اشعر کے بولنے پر سارہ آسماء کو سمجھانے لگی
"چلو آسماء نکلو یہاں سے اور کوئی مزید ہمارا نقصان نہ ہوجائے ہم یہاں سے نکلیں گے تبھی حور کو آزاد کروائیں گے"
وہ آسماں کو لیے زبردستی بس کی طرف بڑھ گئی
باقی سب لوگ بھی ان کے پیچھے تھے خضر نے بس میں چڑھنے سے پہلے مڑ کر حور کو دیکھا اور مسلسل روتے ہوئے اپنا بازو زین کے ہاتھ سے چھڑا رہی تھی۔ خضر کی نظر زین پر پڑی تو زین اسی کو دیکھ رہا تھا، اس کے ہاتھ کی گرفت حور کے بازو پر مزید مضبوط ہوگئی اور وہ حور کو وہاں سے لے کر کمرے میں چلے گیا۔
خضر تھکے ہوئے انداز میں بس میں چھوڑا اور بس وہاں سے روانہ ہو گئی
****
"حور میری بات سنو"
وہ بالکل بے قابو ہو رہی تھی اسے زین کی کسی بات کا اثر نہیں ہورہا تھا وہ مسلسل زین کے ہاتھوں سے اپنا بازو چھڑانے کے لئے کبھی اس کے ہاتھ پر زور زور سے مار رہی تھی اور ناخنوں سے اس کے بازو نوچ رہی تھی وہ مسلسل زور زور سے چیخیں جا رہی تھی۔
"اپنے یہ پاگل پن کے مظاہرے بند کرو حور، نہیں تو تمہیں یہ سمجھانے میں مجھے دو منٹ نہیں لگیں گے کہ میں تم سے بڑا پاگل ہو" زین نے اسے وان کرتے ہوئے کمرے میں لا کر اسے بیڈ پر پٹخا۔
مگر وہ اٹھ کر دوبارہ زین کی طرف بڑھی اور اس سے پہلے کہ وہ کوئی اپنے رد عمل کا اظہار کرتی زین نے ایک ہاتھ سے اس کے دونوں بازو قابو میں کئے اور دوسرے ہاتھ سے حور کے گال پر ایک تھپڑ رسید کیا۔۔۔
حور کے منہ پر پڑنے والے تھپڑ نے حور کی بولتی بند کردی اور وہ وہی ساکت ہوگئی حور آنکھیں پھاڑ کر بے یقینی کے عالم میں سامنے کھڑے ہوئے شخص کو دیکھ رہی تھی
"اگر اب دوبارہ تمہارے ہاتھ چلے یا زبان چلی تو دونوں کاٹ کر پھینک دوں گا"
زین اسکو دھمکاتا ہوا کمرے کا دروازہ بند کر کے وہاں سے چلے گیا اور حور گرنے کے انداز میں نیچے بیٹھ گئی
تھوڑی دیر بعد ان لوگوں کو وہاں سے نکلنا تھا۔ زین اشعر اور بلال کی طرف آیا
"ان لوگوں کو یہاں سے نکلے ہوئے پندرہ منٹ ہو گئے ہیں اب ہم لوگوں کو بھی نکلنا چاہیے"
اشعر نے زین کو دیکھتے ہوئے کہا
"ٹھیک ہے تم لوگ گاڑی نکالو میں حور کو لے کر آتا ہوں"
زین حور کے کمرے کی طرف گیا تو وہ فرش پر ویسے ہی بیٹھی ہوئی تھی اسے حور پر ہاتھ اٹھانے کا افسوس ہوا اس لئے لہجے میں نرمی لاتے ہوئے بولا
"چلو حور اٹھو اب ہمیں بھی چلنا ہے"
وہ حور کے پاس آیا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا
جیسے وہ ابھی اس کا ہاتھ تھام کر اٹھ کھڑی ہو گی حور نے ایک نظر اس کو دیکھا اور اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو اگنور کرکے آگے بڑھ گئی۔ زین ہاتھ جیکٹ کی جیبوں میں ڈال کر اس کے پیچھے چلنے لگا
باہر گاڑی میں اشعر اور بلال بیٹھے ہوئے تھے گاڑی اسٹارٹ کی ہوئی تھی وہ شاید ان دونوں کا ہی انتظار کر رہے تھے۔ گیٹ کا دروازہ کھلا ہوا تھا حور نے کھلے ہوئے گیٹ کو ایک لمحہ دیکھا اور پھر بنا سوچے باہر کی طرف دوڑنا شروع کردیا
وہ تیز ہوتی سانسوں اور تیز ہوتی دھڑکن کے ساتھ تیزی سے اس سنسان سڑک پر بھاگ رہی تھی۔ اسے راستوں کا علم نہیں تھا بس اسے یہاں سے نکلنا تھا اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔۔۔ لیکن اب اس کی ہمت جواب دے گئی تھی اور پاؤں بری طرح دکھ چکے تھے لیکن اس نے ہمت نہیں ہارنی تھی۔ اس کی آنکھوں کے آگے بار بار اندھیرا آ رہا تھا مگر اسے یہ موقع نہیں گنوانا تھا۔۔۔اچانک کوئی اسکے سامنے آیا اور وہ اس چٹان نما چیز سے ٹکرا کر گرگئی اچانک اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تاریخ میں جاتے ہوئے دماغ کے ساتھ جو آخری بات اس کو یاد تھی وہ یہ کہ اس کا بے ہوش وجود دو مضبوط بازوؤں کی گرفت میں ہے
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment