Monday, December 10, 2018

episode 15


tni mohbaat karo na
by zeenia sharjeel
Episode 15



آج تانیہ یونیورسٹی نہیں گئی تھی فضا اکیلے ہی یونیورسٹی سے گھر آ رہی تھی اچانک ایک بائیک تیز رفتار سے بالکل اس کے سامنے آکر رکی وہ ایک دم اچھل کے دور ہٹی

"کیا ہوا ڈر گیں تھی"
بلال ہیلمٹ اتارتا ہوا اس سے پوچھ رہا تھا
"تو ڈرنے کی ہی بات تھی اگر میں ہٹتی نہیں تو بائیک تم نے میرے اوپر چڑھا دینی تھی"
فضا نے گھور کر اس سے کہا

"میں ابھی کے ڈرنے کی بات نہیں کر رہا میں تو اس دن کی بات کر رہا ہوں"
اس نے دوبارہ ہاتھ سے پسٹل بنا کر فضا کے سر کا نشانہ لیا

"تو کیا نہیں ڈرنا چاہیے تھا"
فضا نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا

"چلو آؤ بیٹھو گھر چھوڑ دو"
بلال نے کہا

"نہیں تم یہ جو خطرناک کام کر رہے ہو وہ چھوڑ دو"
فضا نے اسی کے انداز میں جواب دیا

"ثانیہ بتا رہی تھی تم تین چار دن سے گھر نہیں آئ"
بلال نے اس کی بات کو اگنور کرتے ہوئے کہا

"کیا تم نے میرا انتظار کیا"
فضا نے بغور بلال کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا

"فضول میں شروع مت ہو جایا کرو سیدھی طرح اگر چلنا ہے تو بیٹھ جاؤ"
بلال نے سنجیدگی سے کہا

فضا لمبا سانس کھینچ کر بلال کے پیچھے بائک پر بیٹھ گئی
****

اشعر اپنے روم میں بیٹھا کرکٹ دیکھ رہا تھا  شازیہ)(ممی) اندر آئیں

"ائیں ممی"
اشعر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا

"ہاں بیٹا میں ہی آؤں گی تمہیں تو فرصت ہی نہیں تھوڑی دیر ماں کے پاس بھی آ کر بیٹھ جاؤ"
انہوں نے بیٹھتے ہوئے اشعر کی خبر لی

"ایسی بات تو نہ کریں جب میں گھر آیا تو آپ اس وقت سو رہی تھیں مجھے ڈسٹرب کرنا اچھا نہیں لگا"
اشعر نے وضاحت دی

"یہ تم دو دن سے غائب کہاں تھے"
شازیہ کا ابھی بھی اشعر کے کان کھینچنے کا ارادہ تھا 

"بس ممی دوستوں کے ساتھ پکنک  کا پروگرام  بن گیا تھا وہیں پر تھا"
اشعر نے ٹی وی کا والیوم سلو کرتے ہوئے کہا

"اشعر اب تم اپنی لائف کو لے کر بالکل سیریز ہو جاؤ تم نے بہت عیاشیاں کرلی ہیں جاب ڈھونڈوں کوئی کب تک بھائی کما کر بھیجتا رہے گا، کل کو اس کی بھی شادی ہو جائے گی ساری زندگی تو تمہیں کماکر نہیں کھلائے گا"
‏انہوں نے آج اچھی طرح لیکچر دینا ضروری سمجھا

"کیا ممی آج آپ کا میری کلاس لینے کا ارادہ ہے"
اشعر نے منہ پھلاتے ہوئے کہا

"تو کیا مجھے ابھی بھی نہیں لینی چاہیے تمہاری کلاس کب سے تمہاری اسٹڈیز کمپلیٹ ہو گئی ہے اور تمہارا لاابالی پن ہی ختم نہیں ہو رہا"
انہوں نے اچھی خاصی اشعر کی درگت بنائی

"اچھا نہ ڈھونڈ لوں گا جاب بھی بس آب ناراض نہ ہوں"
اشعر لاڈ سے ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا

****

ظفر مراد اپنی فیملی کے ساتھ گھر پہنچے سب ابھی تک شاک کی کیفیت میں تھے۔ ظفر مراد  کو ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا ان کا اتنا نقصان ہو گیا ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس کل کے لڑکے شاہ زین کو گولی سے اڑا دے۔ اسماء رو رو کے اب  تھک گئی تھی، خضر اور آسماء بھی اپنے اپنے نقصان کا سوچ رہے تھے۔ تھوڑی بہت مطمئن تھی وہ فاطمہ تھی وہ حیران تھیں اور خوش بھی جو کانٹا حور کی شکل میں ان کی زندگی میں آ گیا تھا وہ خود ہی راستے سے ہٹ گیا

****

بلال فضا کو چھوڑ کر گھر پہنچا تو رضیہ خالہ (ثانیہ کی ساس) آئی ہوئی تھیں

"السلام علیکم خالہ کیسی ہیں آپ"
بلال ان کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا

"جیتے رہو تم سناو کیسے ہو اور کہاں غائب ہو بیٹا"
انہوں نے پیار کرتے ہوئے بولا اور اپنے پاس بٹھایا

"جی خالہ کام کے سلسلے میں گیا ہوا تھا آپ سنائیں اسجد بھائی کیسے ہیں"

 (خالہ کے بیٹے) جو کہ ثانیہ کا شوہر بھی تھا بلال نے اس کے بارے میں پوچھا

 "ہاں بیٹا اسجد ٹھیک ہے بس اسی کے سلسلے میں آئی تھی"
انہوں نے بات کا آغاز کیا

"میری بہن حیات ہوتی تو میں یہ بات ان سے کرتی بھائی صاحب بھی بس۔۔۔۔ اللہ انیہں زندگی دے اب تم ہی ہو بہنوں کے لئے ماں باپ کی جگہ اس مہینے اسجد کے سعودیہ سے واپس آنے کا ہو رہا ہے تو میں چاہتی ہوں نکاح تو ہوا وا ہے کیوں نہ سادگی سے شادی کردی جاے۔ تم بھی اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاؤ"
وہ چپ ہوئیں انہوں نے رائے لینی چاہیی

"خالا ابو کے بعد آپ میری بڑی ہے جو آپ کو بہتر لگے ہو کریں"
 بلال نے سعادت مندی سے جواب دیا

حالات اتنے بہتر نہیں کہ مگر اب اتنے بدتر بھی نہیں تھے جو اپنی بہن کی شادی نہ کر سکے

*****

وہ سو رہی تھی اس کو اپنے پیٹ پر دباؤ سا محسوس ہوا جیسے کوئی بھاری چیز اس کے پیٹ پر رکھی ہو۔ انکھیں کھلنے پر اس کی نظر چھت پر گئی یہ کون سی جگہ ہے اس نے اپنے دماغ پر زور ڈالنا چاہا۔۔۔ سر گھما کر دیکھا تو اس کی نظر اپنے برابر میں لیٹے ہوئے زین پر گئی جو اس کے بہت قریب لیٹا ہوا تھا اور اس کا ہاتھ حور کے پیٹ پر تھا حور کی آنکھیں خوف سے پھیلی اور وہ ایک زور دار چیخ "آآآآْآآآ"
خود وہ اچھل کر بیڈ سے نیچے گری اور اس کی چیخوں سے زین کی آنکھ کھل گئی۔ وہ ہڑبڑاتا ہوا اٹھا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا پھر اس کی نظر نیچے گری حور پر پڑی 

"تم وہاں نیچے کیا کر رہی ہوں"
زین نے نیند سے بھری انکھوں میں حیرت سمائے ہوئے، بیڈ سے اٹھتے ہوئے حور کی سائیڈ پر آتے ہوئے کہا

"تم میرے پاس کیا کر رہے تھے"
حور نے خوف زدہ ہو کر پوچھا وہ ابھی بھی اسی پوزیشن میں نیچے بیٹھی ہوئی تھی

"کیا کر رہے تھے۔۔۔۔ کیا مطلب؟ میں تو سو رہا تھا"
زین نے حور کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا

"دور رہو مجھ سے"
وہ بدک کر پیچھے ہٹی۔ 

"دور۔ ۔۔۔  وہ کس خوشی میں شوہر ہو تمہارا پورا پورا حق رکھتا ہوں تم پر" 
زین نے حور کو جتانے والے انداز میں باور کرایا

"گن پوانٹ پر نکاح کرا ہے تم نے، میں اس زبردستی کے رشتے کو نہیں مانتی ہوں"
اج حور کو پہلے کی بانسبت اس سے خوف محسوس نہیں ہوا بےخوفی سے بول کر وہ اٹھنے لگی

جبھی زین نے حور کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا وہ توازن برقرار نہ رکھ سکی اور زین کے اوپر گری

"زبردستی کی ہی صحیح رشتہ تو ہے نہ تمہارا میرا۔ ماننا تو پڑے گا لازمی، نہیں تو منانا مجھے اچھے سے آتا ہے"
زین نے حور کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو حائل کر دیے اور حور کو مزید خود سے قریب کر کے کہا
اب وہ اس کی گردن پر جھک رہا تھا حور نے اسکے حصار سے نکلنے کی کوشش کی تو زین نے گھیرا مزید تنگ کردیا اور اپنے لب حور کی گردن پر رکھ دیے

حور بری طرح تڑپ اٹھی اور زین کے سینے پر ہاتھ مار کر اس ہٹانے لگی۔ زین اسے مزید پریشان کرنے کا ارادہ ترک کرکے اٹھ کھڑا ہوا کمرے سے نکلنے سے پہلے یہ جتانا نہیں بھولا

"مجھے یقین ہے اب تم کبھی بھی ہمارے رشتے کی حقیقت کو ماننے سے انکار نہیں کرو گی"

حور شاک کی کیفیت میں وہی بیٹھی رہی اس کا چہرہ لال ہوچکا تھا۔ ۔۔۔۔۔ شرم کے مارے یا ضبط کے مارے یہ اس بھی نہیں سمجھ آیا

"میں کیسے اس سے نڈر ہوکر بات کر رہی تھی، اب تو مجھے زیادہ ڈرنا چاہیے اس فضول آدمی سے۔ ۔۔۔ فضول آدمی بھی نہیں اچھا خاصا فضول آدمی یہ تو"

کچن میں آکر زین نے اپنے اور حور کے لئے چائے کا پانی رکھا اور ناشتہ تیار کرکے روم میں آیا تو وہ اسی پوزیشن میں بیٹھی ہوئی تھی

"آجاؤ حور شاباش، ناشتہ کرلو"
زین نے اسے نارمل انداز میں کہا، وہ حور سے ایسے بات کر رہا تھا جیسے ابھی تھوڑی دیر پہلے ان دونوں کے بیچ کچھ نہیں ہوا

"مجھے کچھ نہیں کھانا"
بھوک تو اسے بہت لگی ہوئی تھی کیوں نہ کہ کل صبح سے ہی اس نے کچھ نہیں کھایا تھا مگر اس بدتمیز شخص کے سامنے اسے اپنی آنا بھی قائم رکھنے کی

"تم اٹھ کر یہاں کرسی پر بیٹھ رہی ہو یا پھر میں آؤں"
ناشتے کی ٹرے ٹیبل پر رکھ کر، وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ چکا تھا مگر جب دیکھا حور پر اس کی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا۔۔۔۔تو وہ اٹھنے ہی  لگا حور جلدی سے اٹھ کر کرسی پر آ کر بیٹھ گئی وہ یقینا اس سے ڈر گئی تھی۔ حور کے ردعمل پر زین کو ہنسی آئی مگر اس نے چائے کا مگ چہرے کے آگے کر کے ہنسی چھپالی

"سویٹ ہارٹ یہ ناشتہ گھورنے کے لئے نہیں رکھا ہے میں نے۔۔۔ جلدی سے  شروع ہوجاو، اچھی خاصی بڑی ہوگئی تم اور اب تو شادی شدہ بھی، یہ نخرے نہیں چلیں گے بالکل"
حور کو ویسا ہی بیٹھا دیکھ کر زین بولا

"بول تو ایسے رہا ہے جیسے پتہ نہیں  کتنے نخرے اٹھاتا آرہا ہے اب تک میرے"
حور نے دل میں ہی اپنے اپ سے بولا،  منہ پر کیا کہتی بولتی تو وہ اسکی بند کر چکا تھا

"شاید تمھارا یہ ناشتہ میرے ہاتھوں سے کرنے کا دل کر رہا ہے"
حور کو سوچوں میں گم دیکھ کر زین بولا

"کر تو رہی ہو"
اتنا بول کر حور آئستہ آہستہ ناشتہ کرنے لگی

 وہ شاید اس کے بیٹھے رہنے سے نروس ہو رہی تھی، جانتا تھا کل سے  حور نے کچھ نہیں کھایا اور وہ ابھی بھی اس کے سامنے کچھ نہیں کھائے گی اس لئے اپنا چائے گا مگ لےکر باہر آگیا تاکہ وہ آرام سے ناشتہ کرلے۔تھوڑی دیر بعد زین روم میں آیا

"میں باہر جا رہا ہوں تھوڑی دیر ہو جائے گی دروازہ  باہر سے لاک ہے اس لئے کوئی بھی بیوقوفی کرنے کی ضرورت نہیں"
وہ کار کی کیز موبائل اٹھاتا ہوا بولا

"اور اگر کوئی بیوقوفی کی تو پنشمنٹ کے لئے تیار رہنا ہے"
حور کے پاس آکر اپنی دو انگلیوں سے اس کے گال چھو کر دھمکاتا ہوا باہر چلا گیا

"فضول آدمی"
وہ ڈوپٹے سے اپنا گال رگرتے ہوئے بولی

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment