Monday, December 10, 2018

episode 16


tni mohbbat karo na
by zeenia sharjeel
Episode 16




زین کو آج بہت سارے کام تھے سب سے پہلے وہ اسپتال نادیہ بیگم کے پاس پہنچا ہو کافی کمزور لگ رہی تھیں۔  وہ انھیں پیار کر کے ان کے پاس ہی بیٹھ گیا ڈھیر ساری باتیں کی جب نیند کی وادیوں میں چلے گئں تو وہ وہاں سے مال گیا حور کے لئے ڈھیر ساری شاپنگ ضروریات کی چیزے کپڑے، بیگز، پرفیوم شوز، وغیرہ جو سمجھ میں آیا وہ لے کر بلال اور اشعر کے پاس پہنچا وہ دونوں وہاں پہلے سے ہی موجود تھے

"ہاں بھئی اب تو لوگ شادی شدہ ہو کر بزی ہوگئے ہیں اب کہاں دوستوں کے لئے ٹائم نکلے گا"
اشعر نے اس کو دیکھ کر طنز کے تیر برسائے اور بلال نے صرف مسکرانے پر اکتفاد کیا

" بس فارا شروع ہوگئے تم میرے آتے ہی"
زین نے بیٹھتے ہوئے فورا اسے گھوری سے نوازہ

"آنٹی کی طبیعت کیسی ہے اب"
بلال نے پوچھا

"وہی سے آ رہا ہوں ٹریٹمنٹ چل رہا ہے"
زین نے سر کرسی پر ٹکاتے ہوئے جواب دیا

"اب آگے کیا سوچا ہے تم نے"
اشعر نے سنجیدگی سے بات کا آغاز کیا

"اب یہ کرنا ہے کہ تم دونوں کو انسان بنانا ہے"
زین نے سگریٹ سلگاتے ہوئے ان دونوں کو بھی سلگایا

"مطلب کیا ہے تمہارا ہم تمھیں انسان نہیں لگتے"
بلال نے برا سا منہ مناتے ہوئے کہا

"انسان تو شکلوں سے ہوں، حرکتیں بھی اب انسان جیسی کرنی ہوگی۔۔۔۔ یہ جو کام ہم نے ایڈوینچر آور مجبوری کے لیے کیا تھا اسے ختم کرکے اچھے بچوں کی طرح میری مدد کرو۔ بزنس اسٹارٹ کرنے میں پیسہ میں انویسٹ کرونگا مگر مجھے اعتبار والے بندے چاہیے ہونگے اس لئے اب سب الٹے سیدھے کام ختم کرکے میرا ہاتھ بٹاؤ گے تم دونوں۔۔۔۔ اور اس سے پہلے تم دونوں اٹھو ایک فلیٹ پسند آیا ہے اس کی ڈیلینگ کرنے جانا ہے"
زین نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے ان دونوں کو بھی گھسیٹا

"سہی جا رہے ہو یعنی خود تم بگڑ گئے ہو اور اب ہم دونوں کو بھی بگاڑو گے"
اشعر معصومیت سے بولا

"نہیں اب میں خود بھی سدھر گیا ہوں اور تم دونوں کو بھی سدھارو گا، چلو جلدی سے اٹھو گھر بھی پہنچنا ہے مجھے"
زین نے اٹھتے ہوئے کہا

زین کی آخری بات پر بلال اور اشعر نے ایک دوسرے کو معنی خیزی سے مسکرا کر دیکھا

"کیا بہت جلدی ہے گھر جانے کی"
اشعر نے زین کو چھیڑا

"ظاہری بات ہے تم لوگوں کی طرح ویلا نہیں ہو۔۔۔۔ اب باقی کا ریکارڈ میرا گاڑی میں کھینچ لینا"
زین نے مسکراتے ہوئے قدم آگے بڑھائیں۔ گھر کا نام لیتے ہیں اسے حور کی یاد آنے لگی پتہ نہیں کیا کررہی ہوگی گھر پر

****

زین کے جانے کے بعد جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ اب گھر واپس نہیں آئے گا۔۔۔۔ حور ہمت کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکلی سب سے پہلے باہر کا دروازہ چیک کیا وہ واقعی لاک تھا

"بدتمیز انسان"
منہ ہی منہ میں بڑبڑائی واپس آئی اور گھر کا جائزہ لینے لگی جو کہ زیادہ بڑا نہیں کہ تین کمروں پر مشتمل تھا صفائی اور سلیقہ نظر آ رہا تھا۔ اس نے الماری درازے سب چیک کی  مگر اس میں سے کوئی چابی موبائل یا کوئی ایسی چیز مل جائے جو اس کے کام آسکے جب کچھ بھی ہاتھ نہ آیا تو دوبارہ بیڈ پر لیٹ گئی لیٹتے ہی اسے صبح والا سین یاد آ گیا

"گھٹیا انسان، اف کیا کروں کیسے وقت گزرے گا اور جب وہ دوبارہ آجائے گا تب وقت گزارنا اور بھی مشکل ہو گا کاش اس دیوار میں سے ہی کوئی خفیہ کا دروازہ نکل آئے جس میں سے باہر نکل کر وہ اپنی ماں کے پاس چلی جاو۔ ۔۔۔۔
پتہ نہیں ماما کی طبیعت کیسی ہوگی پریشان ہوگئی اللہ کیا کرو۔۔۔۔ دیکھے ماما اپ کی حور کی قسمت، آپ کہتی تھی حور کا پرنس اسے لے جائے گا۔۔۔ پرنس نہیں ایک کرمنل لکھا تھا اپ کی حور کی قسمت میں
یہی سب سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی کتنی دیر تک وہ سوتی رہی جب اس کی آنکھ کھلی تو مغرب کا وقت ہو رہا تھا اس نے ایک نظر اپنے کپڑوں پر ڈالی جو کہ وہ تین دن سے پہنے ہوئے تھے بیزاری سے اپنے کپڑوں کو دیکھتے ہوئے وہ وضو کے لئے واش روم چلے گئی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو واپس بیڈ پر بیٹھنے کا ارادہ کیا  کچھ سوچ کر بیڈ شیٹ درست کرنے لگی اور نے تھوڑا سا میٹرس اٹھایا
"ارے یہ کیا پسٹل"
حیرت سے دیکھا ہاتھ بڑھا کر پسٹل ہاتھ میں لی۔ اب اسے آگے کیا کرنا تھا وہ سوچنے لگی

****

بلال گھر پہنچا تو ثانیہ تانیہ اور فضا تینوں ثانیہ کی شادی کی شاپنگ دیکھ رہی تھی کی شادی کی ڈیٹ فکس ہوئی تھی تینوں ہر دوسرے دن بازاروں کے چکر لگا رہی تھیں اور کچھ نہ کچھ خرید کے لے آتی

"ارے بھائی بیٹھے میں کھانا لے کر آتی ہوں"
تانیہ یہ کہہ کر اٹھ گئی
"ابو کے روم میں ہوں وہی لے کر آجانا بلال نے اک نظر فضا پر ڈالتے ہوئے تانیہ سے کہا

"ابو تو سو گئے ہیں یہی بیٹھ جائے ناں دیکھیں نہ ہم نے کیا کیا شوپنگ کی ہے"
تانیہ اک اک چیز بلال کو دکھانے لگی

"تانیہ کافی دیر ہو گئی ہے اب میں چلتی ہوں"
فضا نے تانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

"اکیلے کیسے جاوگی گلی میں سناٹا ہورہا ہوگا رک جاو بھائی چھوڑ کر آجائیں گے"
تانیہ نے شاپنگ بیگز سمیٹتے ہوئے کہا

"2 گلی چھوڑ کر ہی  تو گھر ہے میرا کوئی مسئلہ نہیں ہے  ایسا بھی کوئی سناٹا نہیں ہو رہا"
فضا نے دوبارہ جانے کے لئے پر تولے

"صحیح کہہ رہی ہے تانیہ بیٹھ جاؤ تھوڑی دیر میں چھوڑ کر آتا ہوں"
بلال نے بولا تو فضا نے ایک نظر بلال کو دیکھا اور پھر چپ کر کے بیٹھ گئی

وہ آج بلال کو چپ چپ لگی اس بات کو اپنا وہم سمجھ کر جھٹک دیا اور کھانے کی ٹرے اگۓ  کھسکای

****

دونوں اس وقت خاموش چلے جارہے تھے گلی میں اس وقت سناٹا تھا

"بلال تم جاب کب اسٹارٹ کرو گے"
فضا نے اچانک سوال پوچھا

"جاب ملے گی تو کروں گا"
بلال نے چھوٹے سے پتھر کو لات مارتے ہوئے کہا

"کوشش کرو گے تو ملے گی نہ"
فضا نے بولا

"تمھیں کیا پتہ میں کتنی کوشش کرتا ہوں اور تمہیں کیا میری جاب کی ٹینشن ہو رہی ہے"
بلال نے اکتا کر پوچھا

"اس لئے کہ میرا رشتہ آیا ہوا ہے اور وہ لوگ مجھے پسند کر کے چلے گئے ہیں"
فضا نے راستے میں رکتے ہوئے بولا 

"تو۔۔۔۔۔۔ کیا مسئلہ ہے اگر پسند کرکے چلے گئے اور رشتہ بھی اچھا ہے تو"
فضا کی بات سن کر بلال بھی ایک پل کو کچھ نہیں بول سکا اور قدم روک لئے مگر پھر اپنے تاثرات چھپاتے ہوئے بولا

"کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔ تمھیں نہیں پتہ کہ کیا مسئلہ ہے بلال"
فضا نے جھنجلاتے ہوئے پوچھا

"دیکھوں فضا اگر رشتہ تمہارے گھر والوں نے پسند کیا ہے تو وہ اچھا ہی ہوگا، اس سے بیٹر اوپشن تمہارے لئے اور کوئی نہیں ہوسکتا ماں باپ اپنی اولاد کے لئے بہتر ہی سوچتے ہیں"
بلال نے فضا کو سمجھانا چاہا

"مجھے معلوم ہے کہ میرے لئے کیا بہتر ہے بس تم جاب ڈھونڈوں جلدی سے اور رآنیہ باجی سے بات کرو کہ وہ میرے امی ابو سے بات کریں"
فضا نے اس کو دیکھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں کہا

"تمھارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ہے نہ تمہیں پتہ ہے نہ میرے پاس جاب نہیں ہے دو بہنیں بیمار باپ کس منہ  سے رانیہ باجی سے بات کرو"
بلال نے اسے دوبارہ سمجھانا چاہا

"میں ایڈجسٹ کرلوں گی بلال تمہاری ذمہ داریاں ہم دونوں مل کر بانٹ لیں گے تمہارا انتظار بھی کروں گی مگر تم رانیہ باجی سے کہوکہ امی ابو سے بات کریں نہیں تو امی ابو اس رشتے کے لئے ہر طرح سے راضی ہیں"
فضا نے بےبسی سے بولا

"تم بےوقوفی والی باتیں نہیں کرو فضا رانیہ باجی کے بات کرنے سے کیا ہوگا تمھارے پیرنٹس ایک اچھی جگہ سے آئے ہوئے رشتے کو انکار کرکے، ایک ایسے شخص سے تمہاری شادی کریں گے جس کے اوپر ذمہ داریوں کا انبار ہے اور جاب تک نہیں ہے"
بلال اب غصے میں بولا

"تم رانیہ باجی سے بات کرنے کو کہو امی ابو کو منانا میرا کام ہے "
فضا ابھی تک اپنی بات پر اڑی ہوئی تھی

"تم بچوں جیسی باتیں مت کرو فضا جب دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہوتی تو محبت وحبت سب جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہے"
بلال نے تلخی سے کہا

"یعنی تم کچھ نہیں کرو گے "
فضا نے دکھ سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

"میں نے نہ کبھی تم سے محبت کے دعوے کیے ہیں نہ تمہاری طرف پیش قدمی کی ہے میری مجبوریوں کو"
بلال نے اب تحمل سے اسے سمجھانا چاہا

"ارے بھاڑ میں گئی  تمہاری مجبوریاں مرو تم "
فضا نے بلال کی بات کاٹی اور غصے میں اس کے سینے پر ہاتھ مار کے آگے بڑھ گئی
بلال وہیں کھڑا اسے بے بسی سے دیکھتا رہ گیا 

****

رات کے دس بج رہے تھے جب گھر کی طرف گاڑی زین نے پارک کی، کھانا وہ باہر سے ہی پیک کروا کے لے آیا تھا  حور کیلئے کی ہوئی شاپنگ کے بیکز تھامے وہ گھر میں داخل ہوا، سارے شاپرز کو ٹیبل پر رکھ کر وہ روم میں داخل ہوا

حور پر نظر پڑتے ہی وہ بری طرح ٹھٹکا کا کیوںکہ حور کے ہاتھ میں اس کا پسٹل تھا جس کا رخ زین کی طرف تھا"

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment