tni mohbat karo na
By zeenia sharjeel
Episode 17
حور کے ہاتھ میں زین کا پسٹل تھا اور وہ زین کی طرف رخ کئے ہوئے کھڑی تھی۔ زین ایک لمحے کے لئے ٹھٹکا لیکن دوسرے ہی پل اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی جیسے وہ فورا چھپا گیا اسے وہ سین یاد آ گیا جب پہلی واردات میں بلال اور اس کے ہاتھوں میں چاقو تھے اور ان دونوں کے ہاتھ کانپ رہے تھے، بالکل ویسے ہی اس وقت حور کے ہاتھ بھی بری طرح کانپ رہے تھے اور ماتھے پر سردی کے موسم میں بھی ننھی ننھی پسینے کی بوندیں نمایاں ہو رہی تھیں
"تم دنیا کی شاید پہلی بیوی ہو جو شوہر کے گھر آنے پر اسکا ویلکم پسٹل دکھا کے کر رہی ہوں"
زین نے مسکراتے ہوئے قدم آگے بڑھائے
"وہی رک جاو ورنہ میں فائر کر دوں گی، تم ایسے ہی ویلکم کے قابل ہوں اور یہی ڈیزف کرتے ہو تم"
حور نے اپنا لہجہ مضبوط بناتے ہوئے بولا
زین کے قدم آگے بڑھانے پر وہ اپنے قدم پیچھے کی طرف اٹھانے لگی جبکہ اس کا رخ زین کی طرف تھا
"جو میں ڈیزرف کرتا ہوں آج وہ میرے پاس ہے شاباش بہت ہو گیا پسٹل دو مجھے"
زین نے مزید قدم آگے بڑھائیں
"تم آگے کیوں بڑھے جارہے ہو وہیں رک جاؤ میں واقع فائر کردوں گی"
اب کہ حور کے لہجے میں بے چارگی کا عنصر شامل تھا
"سویٹ ہارٹ یہ کوئی toy نہیں ہے ضد نہیں کرو مجھے دو یہ پسٹل"
وہ حور کو بچوں کی طرح سمجاتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا
"تم میری بات مان کیوں نہیں رہے ہو جاو جاکہ باہر کے دروازے کو لاک کھولو پلیز"
اب وہ اس کی منتیں کر رہی تھی
"تم مجھے خود سے پسٹل دے دوں گی تو میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا ورنہ سوچ لو پھر۔۔۔۔۔
قدم آگے بڑھاتے ہوئے زین نے اپنے ہاتھ بھی آگے کیے اور ساتھ میں وان بھی کیا
"مجھے پلیز جانے دو گیٹ کھولو باہر کا ورنہ میں واقعی۔۔۔۔"
ابھی حور کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی زین نے آگے بڑھ کر پھرتی سے پسٹل اس کے ہاتھ سے لے لی اور حور کے قدم وہی تھم گئے کیوکہ پیچھے دیوار کی وجہ سے وہ مزید پیچھے نہیں ہو سکتی تھی
اب حور کو مزید ٹھنڈے پسینے آنے لگے اور ساتھ ہی اپنی بزدلی اور بے وقوفی پر غصہ بھی آنے لگا۔ زین اس کے مزید قریب آیا حور تقریبا دیوار سے چپکی ہوئی کھڑی تھی زین نے ایک ہاتھ جس میں پسٹل تھی دیوار پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے حور کے ماتھے کا پسینہ صاف کیا
"میں نے کہا تھا نا کوئی بیوقوفی نہیں کرنا ورنہ پنشمنٹ ملے گی"
وہ بہت غور سے حور کو دیکھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں کہہ رہا تھا
حور نے ڈر کے مارے اپنی آنکھیں بند کر لی زین نے بغور اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے اپنی انگلیوں سے اس کے رخسار چھوئے، زین کی اس حرکت پر وہ مزید خود میں سمٹ گئی اور نچلا ہونٹ اپنے دانتوں میں دبا لیا بے ساختہ زین کی نگاہ اس کے تل پر پڑی زین نے مزید جھک کر اپنے ہونٹ اس کے تل پر رکھ دیے۔ ۔۔۔۔ حور پوری جان سے لرز گئی اس نے زین کو پیچھے کرنا چاہا تو زین میں دوسرا ہاتھ حور کی کمر کے گرد حاہل کردیا جبکہ پسٹل والا ہاتھ ہنوز دیوار پر ٹکا ہوا تھا تل سے ہونٹوں تک کا فاصلہ طے کرنے میں اسے ایک سیکنڈ لگا۔۔۔۔ حور نے زین کی شرٹ دونوں ہاتھوں سے پکڑ لی۔۔۔ حور کے احتجاج کرنے پر زین کی گرفت اور مضبوط ہوگی۔۔۔۔ ضبط کی شدت سے حور کی آنکھوں میں پانی آ گیا اس نے ایک جھٹکے سے زین کو دور دھکیلا اور وہ پیچھے ہٹ گیا۔ حور لمبی لمبی سانسیں لیتی رہی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس دیوار کے اندر گھس جآئے، حور کا چہرہ بری طرح سرخ ہو رہا تھا زین نے اس کے چہرے کا رنگ اور ایکسپریشن دلچسپی سے دیکھے
"مجھے امید ہے آئندہ تم ایسی حرکت کرنے سے پہلے دس دفعہ سوچو گی، ورنہ تم مجھ سے کسی بھی قسم کی توقع کر سکتی ہوں"
زین یہ کہتا ہوا وارڈروب سے اپنے کپڑے لےکر واش روم کی طرف بڑھ گیا۔ جب وہ واپس آیا تو حور ابھی تک نظریں جھکا کر اسی پوزیشن میں دیوار کے ساتھ چپکی ہوئی کھڑی ہوئی تھی
زین نے تھوڑی دیر پہلے والے واقعے کا اثر زائل کرنے کے لئے خود سے ہی بات کا آغاز کیا
"حور جاو صوفے پر شاپنگ بیگز رکھے ہیں تمہارے لئے شاپنگ کر کے لایا ہوں۔۔۔۔۔ خاص تجربہ نہیں ہے مجھے لیڈیز کی شاپنگ کا اس لئے جو سمجھ میں آیا لے لیا جو بھی کوئی کمی بیشی ہو گئی ہو تو بتا دینا"
زین نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے حور سے کہا
حور نے اس کو لیٹتا کر دیکھ کر کمرے سے باہر نکلنے میں ہی اپنی عافیت جانی
"اف میں تو اسے فضول انسان سمجھتی تھی یہ تو اچھا خاصا چھچورا انسان ہے"
وہ دل ہی دل میں اس کو نئے لقب سے نوازتی ہوئی کمرے سے چلے گئی، دل میں اس لئے بولا اگر یہ لفظ اس کے کانوں میں پڑ جاتے تو حور کو توقع تھی وہ مزید چھچورپن کا مظاہرہ کرنے میں دیر نہیں لگاتا
دوسرے روم میں صوفے پر بہت سارے شاپنگ بیگز پڑے ہوئے تھے اور کوئی کام نہیں تھا تو وہ ایک ایک شاپنگ بیگ کھول کر دیکھنے لگی اندر سات آٹھ مختلف رنگوں کے ریڈی میٹ ڈریسسز، شوز، لیڈیز بیگ، برش، پرفیوم اور مختلف استعمال کی چیزیں جسے دیکھ کر وہ ایک دفعہ پھر سرخ ہو گئی
"فضول آدمی۔۔۔۔ لیڈیز شاپنگ کا تجربہ نہیں ہے تو یہ حالت ہے"
"حور کیچن میں شاپرز میں کھانا رکھا ہوا ہے یہی نکال کرلے آو"
زین کے کمرے میں اچانک آنے پر وہ بوکھلا کر چیزیں واپس شاپر میں ڈالنے لگی، وہ وہاں سے کچن میں چلی گئی کھانا لے کر آئی تو وہ سارے بیگز ایک جگہ پر رکھے ہوئے وہ وہی بیٹھا ہوا تھا
"بیٹھو حور کھانا شروع کرو"
زین نے پلیٹ میں کھانا نکالتے ہوئے کہا
"میں بعد میں کھا لوں گی"
وہ آہستہ آواز میں منمنائی
"چپ کر کے بیٹھو نہیں تو"
اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے وہ بیٹھ گئی اور پلیٹ میں چاول نکالنے لگی۔
حور کی نظر اپنی پلیٹ پر جھکی ہوئی تھی وہ بہت نروس ہو کر نیوالے منہ میں ڈال رہی تھی جب زین کی نظر اس کے چہرے پر پڑی جہاں اک ننھا سا چاول کا دانہ اس کے ہونٹوں کے پاس لگا ہوا تھا زین آگے ہاتھ بڑھا کر وہ چاول کا دانا ہٹایا اور ٹشو سے حور اس کا منہ صاف کیا
حور نے چونک کر زین کو دیکھا کوئی بھولی بسری یاد اس کے دماغ میں آئی زین نے اس کا چہرہ دیکھا اور دوبارہ کھانا شروع کردیا
برتن دھو کر وہ روم میں آئی تو زین اس کی چیزوں کے لئے پورشن خالی کر رہا تھا
"یہاں ایڈجسٹ کر لو اپنی چیزیں"
یہ کہہ کر وہ سگریٹ لائٹر لے کر روم سے باہر نکل گیا جب واپس آیا تو حور سب سامان رکھ چکی تھی
"کام ختم ہوگیا تو لائٹ آف کردو حور"
زین نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے کہا
"میں کہاں لیٹوں گی"
زین کی بات سن کر حور کو اپنے سونے کی فکر ہونے لگی تو بے ساختہ پوچھنے لگی
"یہ اتنی جگہ تمھارے لیے کافی نہیں ہے"
اس طرح پوچھنے پر وہ زین کو اور زیادہ پیاری لگی تو زین نے بیڈ پر ہی اپنے برابر میں اشارہ کرتے ہوئے بولا
"یہاں!! نہیں نہیں میں دوسرے روم میں جا کر صوفے پر سو جاؤں گی"
حور نے آنکھوں کو پھیلاتے ہوئے کہا جیسے زین اسے اپنے پاس نہیں بلکہ جنگل میں کسی شیر کے پاس سونے کے لئے کہہ رہا ہوں
"ٹھیک ہے صوفے پر سو جاؤ مرضی ہے تمہاری۔۔۔ لیکن اگر وہاں پر کچھ محسوس ہو تو پلیز مجھے مت اٹھانا میں بہت تھک گیا ہوں"
زین کے اس طرح کہنے پر حور کا تکیہ کی طرف بڑھتا ہوا ہاتھ وہی تھم گیا اور وہ خوف سے اسے دیکھنے لگی۔ اپنی بات مکمل کر کے زین نے اپنا ہاتھ آنکھوں پر رکھ لیا تھا
"مطلب کیا محسوس ہوگا کیا ہے وہاں پر"
حور نے ہکلاتے ہوئے پوچھا
"نہیں کچھ خاص نہیں بس ایسے ہی آدھی رات کو فیل ہوتا ہے جیسے کوئی چل پھر رہا کچن میں برتنوں کی آوازیں آتی ہیں۔۔۔۔ مگر تم بے فکر رہو وہ چیز کسی کو نقصان نہیں پہنچاتی ہیں ظاہری بات ہے میں اتنے عرصے سے یہاں رہ رہا ہوں مجھے تو آج تک نقصان نہیں پہنچایا"
زین نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر سنجیدہ تاثر لیے ہوئے کہا
اس کی بات سن کر حور کی رونے والی شکل ہو گئی جسے دیکھ کر زین کی ہنسی چھوٹنے والی تھی لیکن وہ ضبط کر گیا
"مجھے پتہ ہے ایسا ویسا کچھ نہیں ہوتا ہے تم مجھے ڈرا رہے ہو"
اس نے تکیہ سینے سے لگاتے ہوئے کہا جیسے وہ زین سے زیادہ اپنے آپ کو سمجھا رہی ہوں کہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا
"مجھے کیا ضرورت ہے تمہیں ڈرانے کی تم نے پوچھا تو میں نے بتادیا۔ آرام سے سوجاو صوفے پر اور روم کی لائٹ بند کرکے چلی جانا پلیز"
زین نے دوبارہ آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
"حد سے زیادہ بدتمیز انسان ہے یہ آدمی"
وہ دل ہی دل میں سوچتی ہوئی سست قدموں سے لائٹ بند کرکے روم سے چلی گئئ
اچھی طرح روم اور کچن کا جائزہ لیتے ہوئے کہ کچن کا دروازہ بند کرکے وہ روم میں آ گئی اور صوفے پر لیٹ گئی۔۔۔ آیت الکرسی پڑھ کر اپنے اوپر پھونکا اور آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی۔۔۔۔۔ بار بار اس کے کانوں میں زین کے الفاظ گونج رہے تھے
"اف اللہ جی میں کہا پھنس گئی ہو۔۔۔۔ دو دو جن ہیں اس گھر میں۔۔۔۔۔۔ یااللہ میری حفاظت کر"
اس کی آنکھوں میں آنسو آئے، آنسو صاف کرکے چادر کو سر تک اوڑھ لیا۔ مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی شام میں بھی سو گئی تھی شاید اس لئے اور خوف کی وجہ سے بھی اس کو نیند نہیں آ رہی تھی
جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا اس کا خوف مزید بڑھ رہا تھا۔ کہیں دور باہر سے گاڑی کے ٹائر چرچرائے اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آنے لگیں۔
بس یہی حور کا ضبط ختم ہوا اور وہ تکیہ سینے سے لگائے دوڑ کر زین کے کمرے میں گئی، سوتے ہوئے زین کے سینے پر اپنا منہ چھپا کر لیٹ گئی۔ حور کی اس حرکت پر زین کے لبوں پر بےساختہ مسکرائٹ آگئی
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment