tni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Episode 18
صبح زین کی آنکھ کھلی تو حور اسی پوزیشن میں زین کے سینے پر سر رکھ کر سو رہی تھی زین کو رات والا منظر یاد آیا تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی اس نے حور کا سر تکیہ پر رکھا، چہرے پر آئے ہوئے بال پیچھے ہٹائے، ایسے بلینکیٹ اڑاتا ہوا روم سے باہر نکل گیا
****
اشعر اپنی گاڑی میں گزر رہا تھا جب اسے یونیورسٹی کے پاس کسی گڑبڑ کا احساس ہوا شاید یونیورسٹی میں کوئی ہنگامہ وغیرہ ہوا تھا اس لیئے اسٹوڈنٹ کا کافی رش دکھائی دے رہا تھا۔ دور سے ہی اس کی نظر تانیہ پر پڑی جسے دیکھ کر وہ فورا پہچان گیا اشعر نے تانیہ کے قریب گاڑی روکی۔
"السلام علیکم کیسی ہیں آپ"
اشعر نے گاڑی کی ونڈو سے جھانک کر پوچھا
"وعلیکم السلام میں ٹھیک ہوں"
تانیہ بھی اس کو پہچان گئی تھی جواب دے کر وہ روڈ پر دیکھنے لگی
"میں بلال کا دوست ہوں ہم اس دن شاپنگ مال میں ملے تھے"
اشعر سمجھا تانیہ نے اسے پہچانا نہیں ہے جبھی اپنا دوسری ملاقات کا تعارف کراتے ہوئے بولا
"جی میں آپکو پہچان گئی وہ دراصل آج فضا نہیں آئی ہے میرے ساتھ۔۔۔۔ اتفاق سے موبائل بھی گھر پر ہی رہ گیا ہے میرا، اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو اپکے موبائل سے میں بلال بھائی کو کال کر لو"
اس نے پریشان ہوتے ہوئے اپنا مسئلہ بتایا
"جی شیور کیوں نہیں"
آشعر نے بلال کا نمبر ملایا اور تانیہ کے ہاتھ میں موبائل تھما دیا
تانیہ بلال سے بات کرنے لگی اور پھر اس نے موبائل اشعر کے ہاتھ میں دے دیا
"ہاں بلال بولو"
اشعر نے موبائل کان پر لگاتے ہوئے کہا
"یار میں یہاں ضروری کام سے پھنسا ہوا ہوں اگر تمہیں کوئی پرابلم نہ ہو تو تانیہ کو گھر چھوڑ سکتے ہو حالات ٹھیک نہیں ہیں آئی تھنک وہاں پر"
بلال نے بولا
"تم فکر نہ کرو پریشان مت ہوں میں تمہاری سسٹر کو ڈراپ کر دیتا ہوں"
اشعر نے کہا اور کال ڈسکنکٹ کردی
"آپ پلیز بیٹھ جائے میں آپ کو گھر ڈراپ کردیتا ہوں بلال بزی ہے شاید"
اشعر نے کار کا لاک کھلتے ہوئے کہا
"جی شکریہ"
تانیہ گاڑی میں بیٹھ گئی
دونوں کے درمیان طویل خاموشی رہی اور گھر آ گیا
"بہت بہت شکریہ آپ کا"
کار سے اترتے ہوئے تانیہ نے کہا
اشعر کار آگے بڑھا لے گیا
****
بلال گھر پہنچا تو تانیہ اور ثانیہ کے ساتھ ساتھ فضا بھی بیٹھی ہوئی ثانیہ کی جہیز کی چیزیں پیک کرا رہی تھی وہ بڑے دنوں بعد آج اسے نظر آئی تھی
"تانیہ میں چلتی ہوں دیر ہو رہی ہے بلال کا منہ میٹھا ضرور کروانا"
یہ کہہ کر وہ رکی نہیں ہے اپنے گھر چلی گئی
تانیہ مٹھائی کی پلیٹ لے کر بلال کے سامنے آئی بلال نے سوالیہ نظروں سے تانیہ کو دیکھا
"فضا کی بات پکی ہو گئی ہے اور دو مہینے بعد اس کی شادی ہے"
تانیہ نے پر شکوہ نظروں سے بلال کو دیکھتے ہوئے کہا
تانیہ کی بات سن کر بلال کے دل کو کچھ ہوا اور وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گیا
****
حور کی انکھ کھلی تو وہ گھر میں اکیلی تھی زین باہر جاچکا تھا
"آخر کہا گیا ہوگا یہ بدتمیز انسان۔۔۔ کل بھی پوری رات گھر پر نہیں تھا اور ابھی پھر گھر سے غائب۔۔۔۔۔تانی ہوئی ہوگی کسی پر پسٹل اور آتا ہی کیا ہے اسے لوگوں کو ڈرانے اور دھمکانے کے علاوہ ۔۔۔۔ اف اللہ جی، کس موالی کے ساتھ میری قسمت پھوٹ گئی، دنیا میں یہی آخری انسان رہ گیا تھا میرا شوہر بننے کو، اوپر سے اتنا چھچھورا، بےہودگی میں تو اس نے شاید پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے۔۔۔۔ کیوں اس فضول انسان کو سوچ کر میں اپنا دل جلا رہی ہوں"
اپنے آپ سے باتیں کر کے وہ خود ہی سر جھٹک کر اٹھ گئی۔ دوبارہ پورے گھر کا جائزہ لیا اور اپنے لیے ناشتہ بنایا اور کچھ کرنے کو نہیں تھا گھر کی صفائی کرکے فارغ ہو گئی۔ اپنے کپڑوں کو دیکھ کر احساس ہوا کہ اب انہیں بدل لینا چاہیے یہی سوچ کر اس نے وارڈ روب سے ایک ڈریس نکالا اور باتھ لینے چلے گی۔۔۔۔۔ پنک کلر کا ڈریس بالکل اس کے ناپ کا تھا، بس گلا تھوڑا گہرا تھا جس کی وجہ سے حور نے روپٹہ پھیلا کر اوڑھا
****
تھوڑی دیر پہلے ہی خضر اسماء کو ہاسپٹل اسے گھر لے کر آیا تھا حور کے جانے کے بعد اس کی طبیعت ایسی ہی تھی
"خضر حور کا پتہ چلا کہاں ہے میری بچی"
اسماء روز ہی خضر سے پوچھتی
"چچی آپ فکر نہ کریں میں حور کا جلد پتہ لگا لونگا"
اس نے پتا نہیں ہے آسماء کو تسلی دی تھی یا پھر اپنے آپ کو
ظفر مراد اپنی نقصان پر صبر کر کے بیٹھ گئے مگر جب غصہ آتا تو خود سے عہد کرتے کے وہ زین کو چھوڑیں گے نہیں۔۔۔۔
فاطمہ نے نوٹ کیا کہ حور کے جانے کے بعد خضر بالکل خاموش سا ہو گیا ہے انہیں اپنے گھر کے ماحول سے اکتاہٹ ہونے لگی۔ اسلیے سوچا اپنی بہن سے ناعیمہ کے لیے بات کریں مگر اس سے پہلے انہوں نے ظفر اور خضر دونوں کو منانا تھا
****
زین گھر سے نکلنے کے بعد معمول کے مطابق ہوسپٹل پہنچا اور نادیہ بیگم کے ساتھ وقت گزارا
فلیٹ کی ڈیل وہ کل ہیں کر چکا تھا اب حور کو لے کر اسے کل یا پرسوں میں فلیٹ میں شفٹ ہو جانا تھا اب گاڑی مطلوبہ جگہ پر لے کر جا رہا تھا جہاں پر اسے بلال اور اشعر سے ملنا تھا بلال پہنچ گیا تھا اشعر کے پہنچنے میں ابھی ٹائم تھا
"اور کیا حال ہے"
بلال نے پوچھا
"میں ٹھیک ھوں تم سناؤ خیریت ہے"
زین نے پوچھا
"ہاں میں بھی ٹھیک ہو"
بلال نے تھکے ہوئے انداز میں جواب دیا
"اچھا ٹھیک لگ تو نہیں رہے"
زین نے بغور بلال کو دیکھتے ہوئے کہا
"ٹھیک ہو یار مجھے کیا ہونا ہے"
بلال نے استہزاہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا
"گھر سے نکل رہا تھا صبح تو رضیہ خالا (فضا کی امی) سے ملاقات ہوئی تھی۔۔۔۔ وہ بتا رہی تھی کہ فضا کی بات پکی ہو گئی ہے کہیں
بلال کے دوست کی حیثیت سے اور ایک ہی محلے میں رہنے کی وجہ سے وہ زین کو بھی اچھے سے جانتی تھیں۔ رضیہ خالہ کی بات زین کے بتانے پر بلال نے سر ہلانے پر اکتفاد کیا تھوڑی دیر خاموشی کے بعد
"بلال یوں منہ لٹکانے سے بہتر نہیں ہے کہ تم رانیہ باجی سے بات کرو۔۔۔۔کہ وہ تمھارے متعلق فضا کے پیرنٹ سے بات کریں"
زین کے اس طرح کہنے پر بلال نے چونک کر زین کو دیکھا
"کیا کہہ رہے ہو تم میں بالکل تمہاری بات نہیں سمجھا"
بلال نے تو یہ بات کبھی اپنے آپ سے بھی نہیں کہی تھی پھر زین کو کیسے پتہ لگی وہ سوچنے لگا
"بہت اچھی طرح سمجھ گئے ہوں تم میری بات کو، زیادہ بھولا بننے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے۔۔۔۔ میں دوست ہوں تمہارا بلال، فضا کے لیے بے شک تمہارے لہجے میں بیزاری ہو، مگر تمہاری آنکھوں میں فضا کے لیے پسندیدگی، میری آنکھوں سے چھپی ہوئی نہیں ہے""
زین نے اسکو سمجھاتے ہوئے کہا
"خالا خالو نے سب دیکھ بھال کر فضا کے رشتے کے لیے حامی بھری ہے۔۔۔وہ اپنی بیٹی کا بھلا ہی چاہیں گے اس کے لئے اچھا سوچیں گے۔ میں ویسے بھی محبت وحبت کے چکروں میں پڑھنے والا انسان نہیں ہوں فضا اچھی ہے مجھے پسند بھی ہے مگر ایسی پسند نہیں کہ زندگی اس کے بنا گزر نہ سکے"
بلال نے اپنا لہجہ نارمل رکھتے ہوئے زین کو بولا وہ یہ بات زین کو نہیں اپنے آپ کو بھی سمجھ آ رہا تھا
"یعنی وہ تمہیں اتنی پسند ہے کہ اسے کسی دوسرے کے ساتھ دیکھ کر سب سہ لو گے"
زین نے بھی اسی کی طرح نارمل انداز اختیار کیا
"زین پلیز"
بلال نے شکوہ بھری نظر اس پر ڈالی۔۔۔۔ آگے بات کو جاری رکھا
"تم سب میرے حالات سے واقف ہوں میرے اوپر ذمہ داریاں ہیں، جاب نہیں ہے میرے پاس پھر بھی تم"
ؑبلال نے بات ادھوری چھوڑی
"ہاں تو یہ کہو نا کہ ذمہ داریاں ہیں یہ کیوں کہہ رہے ہو کہ محبت نہیں ہے اس سے" زین بولا
تھوڑی دیر خاموشی کے بعد مزید بولا
"اور ذمہ داریوں کی بھی خوب کہی تم نے، ماشاءاللہ سے رانیہ باجی اپنے گھر کی ہیں ثانیہ کی اسی مہینے میں شادی ہوجانی ہے اور تانیہ ابھی پڑھ رہی ہے اور رہی بات جاب کی تم ہر دور میں ہر مشکل میں میرے ہم قدم رہے ہو اب میں بزنس اسٹارٹ کروں گا تو مجھے اس نے بھی تمہاری رہنمائی کی ضرورت ہے تو جاب کرنے کا اپنے دماغ سے نکال دو"
اتنے میں اشعر آگیا پھر وہ تینوں اپنے بزنس سے متعلق باتوں میں مشغول ہوگئے
****
حور کا سارا دن ایسے ہی گزر گیا وہ بیٹھے بیٹھتے بور ہو گئی۔۔۔زیادہ اکتاہٹ ہونے لگتی تو کوئی نہ کوئی کام ڈھونڈ لیتی پھر بیٹھ جاتی پھر کچھ سمجھ میں نہیں آتا ٹی وی کھول کے بیٹھ جاتی۔۔۔۔ ٹی وی دیکھتے دیکھتے بھی بور ہو گئی تو اٹھیں اور کچن میں جاکر کھانا بنانے لگی، کھانا بنا کر فارغ ہوئی تو آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی بال بنا رہی تھی دوپٹہ بیڈ پر پڑا ہوا تھا اس کے کانوں میں دروازہ کھلنے کی آواز آئی جلدی جلدی بال سلجھائے اور بالوں کا جوڑا بنایا ابھی وہ پلٹی بھی نہ تھی آئینے میں زین کا عکس نمودار ہوا وہ مہبوث سا حور کو ہی دیکھ رہا تھا
حور کو اپنا لایا ہوا سوٹ پہنے دیکھ کر خوشگوار سی لہر زین کے سینے میں دوڑ گئی بغیر دوپٹے کے حور کا سراپا، زین کے ہوش اڑانے کے لیے کافی تھا
زین کی نظروں کی تپش سے حور کو اپنا آپ جھلستا ہوا لگا اس نے آگے بڑھ کر بیڈ سے اپنا دوپٹہ اٹھانا چاہا مگر اس سے پہلے وہ دوپٹہ اٹھاتی۔۔۔۔ زین نے پھرتی سے آگے ہاتھ بڑھا کر دوپٹہ اٹھا لیا۔۔۔۔ اب زین کی آنکھوں میں شرارت کے رنگ نمایاں تھے
"کیا ہوا دوپٹہ چاہیے آکر لے لو
وہ انکھوں میں ہنوز شرارت اور لہجے کو معصوم بناتے ہوئے کہہ رہا تھا
اس وقت حور کا دل چاہا کہ آگے بڑھ کر اس آدمی کا سر پھاڑ دے لیکن وہ ایسا سوچ ہی سکتی تھی مجبورا وہ آگے بڑھیں۔۔۔۔۔۔ حور کو آگے بڑھتا دیکھ کر زین نے دوپٹے والا ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔۔۔ حور نے جیسے ہی اپنا دوپٹہ تھامنا چاہا، زین نے دوپٹے والا ہاتھ اونچا کر لیا۔۔۔۔زین کے ہونٹوں پر اب دل جلانے والی مسکراہٹ تھی، اور حور کا دل واقعی جل کر رہ گیا۔۔۔۔۔ حور نے اچک کر دوپٹہ لینا چاہا دوپٹہ تو اس کے ہاتھ میں کیا ہی آتا الٹا اسکا بالوں کا جوڑا کھل گیا اور پورے بال کمر پر پھیل گئے۔۔۔۔۔حور نے خفگی سے زین کو دیکھا اس کی آنکھوں میں ابھی بھی شرارت کے رنگ نمایاں تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ دوپٹے اور زین دونوں پر لعنت بھیجتی ہوئی کمرے سے باہر جانے لگی
"اچھا یہ لو دوپٹہ اب نو مذاق"
زین نے دوبارہ دوپٹہ حور کی طرف بڑھایا اب آنکھوں کا تاثر بھی سنجیدہ تھا، حور نے جیسے ہی دوپٹہ تھامنے کے لیے ہاتھ آگے۔۔۔۔۔ زین نے جھٹ دوپٹے والا ہاتھ موڑ کر اپنی کمر کی طرف کر لیا۔۔۔۔۔حور نے دوبارہ اس کی آنکھوں میں دیکھا، وہ مسکراتی ہوئی آنکھوں سے اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔اب حور کو رونا آنے لگا، اس سے پہلے کہ حور کی آنکھیں نم ہونے لگتی۔۔۔۔۔۔ زین نے فورا دوپٹہ لے کر اس کے کندھوں پر ڈالا اور پھیلا کر اڑا دیا
"مذاق کر رہا تھا سویٹ ہارٹ اتنا سیریس ہونے کی کیا ضرورت ہے"
حور نے ناراضی سے زین کی طرف دیکھا اور آئینے کی طرف بڑھ کر اپنے بال باندنھے لگی زین قریب آیا اس نے حور کے بال دوبارہ کھول دیے اور حور کو مزید اپنے سے قریب کر کے کہنے لگا
"مت باندھو انہں کھلے ہوئے زیادہ اچھے لگ رہے ہیں"
زین نے خمار آلود لہجے میں کہتے ہوئے حور کے ہونٹوں کو فوکس کیا
"پلیز آج تو میں نے کوئی غلطی نہیں کی"
حور اس کا ارادہ بھانپ کر جلدی سے بولی
زین نے نظریں اٹھا کر حور کو دیکھا اور دل میں سوچا
"بیوقوف لڑکی میرے پیار کرنے کو بھی پنشمنٹ سمجھتی ہے"
زین حور کے سر سے اپنا سر آہستہ سے ٹکرا کر دور ہوا۔ اور حور کی ہارٹ بیٹ نارمل ہو گئی
"کھانا نکالو شاپر سے میں آتا ہوں"
زین وارڈ روب سے کپڑے نکالتا ہوا کہنے لگا
"وہ آج کھانا میں نے گھر میں بنا لیا تھا"
حور نے بتایا
"تم نے کھانا بنایا"
حور کی بات پر وہ حیرت سے مڑا
"سارا دن کچھ کرنے کو نہیں تھا تو اس لیے کوکنگ کر لی"
وہ نیچی نگاہیں کرکے اسے بتا رہی تھی جیسے کھانا بنانا بھی ہے کہیں اس کی غلطی میں شمار نہ ہوجائے
"اوکے کھانا نکالو میں چینج کر کے آتا ہوں"
زین کو خوشی ہوئی اسے یقین تھا وہ بہت جلد حور کو اپنی طرف مائل کر لے گا
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment