Monday, December 10, 2018

episode 19


tni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Episode 19



جب زین کمرے میں آیا تو وہ ٹیبل پر حور کھانا لگا چکی تھی زین نے حور کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا ہی کھایا

"کیا تم کچھ کہنا چاہتی ہوں"
کھانے کے دوران زین نے حور کو غائب دماغی میں پلیٹ میں چمچ ہلاتے ہوئے دیکھا تو بولا

"کہنا نہیں پوچھنا چاہتی ہوں"
اس نے نظریں اٹھا کر زین کو دیکھا

"کیا"
زین حور سے بہت سے سوالوں کی توقع کر رہا تھا لیکن جو اس نے پوچھا تو اس پر زین کا منہ حیرت سے کھل گیا

"تمہارا نام"
دوبارہ نظروں کا رخ پلیٹ کی طرف کرتی ہوئی بولی

"تمہیں میرا نام نہیں پتہ"
زین کو حیرت ہوئی

"بھلا مجھے کیسے پتہ چلے گا تمھارا نام"
حور بولی

"تمہیں یہ نہیں پتا تمہارا نکاح کس کے ساتھ ہو رہا تھا"
زین نے دوبارہ پوچھا

"مجھے کیا معلوم اس وقت سچویشن ایسی تھی مجھے تو اپنا ہوش نہیں تھا تمھارا نام کیسے پتہ چلتا۔۔۔۔۔ "
وہ افسردگی سے بولی

"واہ مسسز کیا بات ہے آپکی، چلو تین دن بعد ہی سہی آپ کو خیال تو آیا کہ شوہر کا نام جاننا چاہیے"
زین کے طنز پر وہ چپ ہی رہی نظریں ہنوز پلیٹ پر جھکی ہوئی تھیں

"زین۔۔۔۔‏زین نام ہے میرا"
زین نے بغور اس کو دیکھتے ہوئے کہ وہ اپنے نام پر حور کے فیس ایکسپریشن دیکھنا چاہتا تھا

وہ چونکی اور اس نے نظریں اٹھا کر زین کو دیکھا مگر کچھ بولی نہیں

"کیا ہوا تم میرے نام سے چونکی کیوں؟ کیا کوئی اور بھی زین ہے جسے تم جانتی ہوں"
زین نے ویسے ہی بیٹھے ہوئے امید سے پوچھا

"نہیں میں کسی اور زین کو نہیں جانتی"
حور جواب دے کے خاموش ہوگئی

حور کے جواب پر زین کو مایوسی ہوئی وہ واقعی اس کو بھول چکی تھی یا پھر اس سے شیئر نہیں کرنا چاہتی تھی، یہ زین کو سمجھ نہیں آیا

دوسری طرف حور اس کے نام پر چونکی اسے اپنے بچپن کا دوست شاہ یاد آیا۔

"کہیں یہ شاہ زین تو نہیں ارے نہیں یہ وہ کیسے ہوسکتا ہے، میں بھی کیا سوچ رہی ہوں وہ کتنا پولائٹ اور کئرنگ تھا ہر بات ماننے والا اور کہاں یہ۔،۔۔۔۔ اس کے تو مزاج کا ہی اب تک حور کو نہیں پتہ چلا تھا شروع میں جب ملا تھا تو اس اس کی آنکھوں میں ایک سنجیدہ تاثر قائم رہتا تھا اور اب اس کی آنکھوں میں شرارت چھلکتی ہے۔۔۔۔خضر بھائی کے ساتھ مجھے دیکھ کر اسے کتنا غصہ آتا تھا۔۔۔ کیا پتہ کسی اور زین کے بارے میں بھی سن کر وہ غصہ کرے۔۔۔۔۔
اف شاہ پتہ نہیں اب کہاں ہوگا اسے میں یاد ہوگی بھی کہ نہیں"

وہ اپنی سوچوں میں گم اپنے آپ سے ہی باتیں کر رہی تھی اور زین اس کا چہرہ دیکھ کر یہ جانچنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ کیا سوچ رہی ہے مگر وہ اندازہ کچھ بھی نہیں لگا پایا

حور کچن میں برتن دھو رہی تھی جب زین حور کے قریب آیا اور جھک کر کان میں کہا

"کھانا بہت ٹیسٹی بنایا تھا تم نے آج کوئی پنشمنٹ نہیں ملے گی، بلکہ روم میں آ کر داد وصول کر لو۔۔۔ جلدی کام ختم کرکے آو"

یہ کہہ کر زین کچن سے باہر نکل گیا اور حور وہی پتھر کی بنی کھڑی رہ گئی

****

ظفر مراد اور خضر اسٹیڈی میں بیٹھے ہوئے تھے اوفس کے کام کے متعلق ڈسکس کر رہے تھے۔فاطمہ دونوں کے لئے روم میں چائے لے کر آئی
"اگر آپ دونوں بزی نہ ہو تو میں کوئی دیر بیٹھ جاو یہاں "

"آئے بیٹھیے"
ظفر مراد نے فائلز بند کرتے ہوئے کہا

"مجھے آپ دونوں سے کچھ بات کرنی ہے"

انہوں نے دونوں کو چائے کا کپ تھماتے ہوئے دیکھا

"بولیں فاطمہ کیا کہنا چاہتی ہیں آپ"

خضر بھی ماں کی طرف متوجہ ہوا

"گھر کا ماحول دیکھ کر مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے ان دنوں، سارا دن آپ لوگ آفس میں ہوتے ہیں بچیاں یونیورسٹی میں ہوتی ہیں آسماء اب اپنے کمرے سے نکلتی نہیں ہے، سارہ ماہم کی شادی تیاریوں میں لگی ہوئی ہے تو میں سوچ رہی ہوں کہ تہمینہ کے گھر جاکر ہم خضر کے لئے ناعیمہ کا ہاتھ مانگ لیتے ہیں تاکہ اس گھر میں اور ہماری زندگی میں بھی خوشیاں آئیں"
فاطمہ نے پوری تفصیل بتا کر آخر میں اپنی خواہش  سے آگاہ کیا

"امی پلیز اس مسئلہ کو یہی رہنے دیں، میں ابھی فی الحال ایسا کچھ نہیں چاہتا"
خضر سنجیدگی سے بولا

"کیوں؟ کیوں نہیں چاہتے تم ایسا آخر  کب تک جوگ لیے بیٹھے رہو گے"

فاطمہ کو اندازہ تھا ظفر تو کچھ نہیں کہیں گے لیکن خضر ضرور ان کے فیصلے سے مخالفت کرے گا

"میں اپنے طور پر کوشش کر رہا ہوں حور کا پتہ لگ جائے گا جلدی"

"تو حور سے اس مسئلہ کا کیا تعلق ہے"
فاطمہ نے حیرانگی سے پوچھا

"میں حور کے علاوہ اور کسی کے بارے میں سوچ نہیں سکتا"
خضر کی بات پر ظفر مراد بھی چونکے

"حور کا نکاح ہو گیا ہے اور اب وہ اپنے شوہر کے پاس ہے خضر"
فاطمہ کا اکلوتے بیٹے کی عقل پر ماتم کرنے کا دل چاہا

"زبردستی نکاح کیا ہے اس شخص نے حور کے ساتھ، میں نہیں مانتا اس نکاح کو"
خضر نے ایک ایک لفظ چبا کر بولا

"زبردستی ہو یا پھر رضامندی سے نکاح نکاح ہوتا ہے اور حور اب کسی اور کی بیوی ہے"
اب کے ظفر نے بیٹے کو سمجھانا چاہا

خضر وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ ظفر اور فاطمہ اس کو جاتے ہوے دیکھتے رہ گئے

 ****

بلال بیڈ پر آنکھیں موندے ہوئے لیٹا ہوا تھا جب اس کے دماغ میں زین کی باتیں یاد آنے لگیں

"کیا ٹھیک کہہ رہا تھا زین مجھے واقعی رانیہ باجی سے بات کرنی چاہیے فضا کے سلسلے میں"
یہی سوچ رہا تھا کہ فضا کا ناراض چہرہ  اس کی انکھوں کے سامنے آگیا۔۔۔۔کتنی ناراض تھی وہ بلال سے ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی بلال سوچوں سے نکلا اور اٹھ کر دروازہ کھولا تانیہ گھبرائی ہوئی سامنے کھڑی تھی

"کیا ہوا تانیہ سب خیریت ہے"
اسے کسی انہونی کا خدشہ ہوا

"بھائی نیچے چلے ابو کے کمرے میں ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے"
تانیہ کے بولنے پر وہ ایک لمحہ بھی ضائع کئے بنا نیچے آیا

****

زین کی بات سن کر وہ وہی بت بنی کھڑی رہی۔۔۔۔ کمرے میں جانے کا سوچ کر اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے وہ بلا مقصد ہی برتن یہاں سے ہوا اٹھا کر رکھنے لگی، کیبنیٹ کھول کر ساری چیزیں ترتیب دینے لگی، مگر وہ کتنی دیر یہ کام کرتی جانا تو تھا اسے ۔۔۔۔اس کے قدم من من بھر کے ہو گئے لمبا سانس کھینچ کر وہ کمرے میں داخل ہوئی

زین بیڈ پر لیٹا ہوا اس اسموکنگ کر رہا تھا اسے آتا دیکھ کر بولا

"مجھے تو لگا تم کچن کا ایک ایک برتن دھو کر صبح تک ہی روم میں آوگی"

اس کے طنز کو اگنور کر کے وہ بیڈ پر بیٹھ گئی
زین نے حور کو قریب کرتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما جو کہ بری طرح کپکپا رہا تھا۔ اس کی فیلنگز سمجھتے ہوئے اسے ریلیکس کرنے کے لیے بولا

"بے فکر رہو میں فل الحال تم پر کوئی حق نہیں جتاؤں گا اپنا۔۔۔۔ تمہیں اس رشتے کے لیے ٹائم چاہیے وہ تم لے لو۔۔۔۔ مگر ایک بات میری یاد رکھنا حور۔۔۔تم میری بیوی ہو اور یہ رشتہ میرے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے درمیان میں کسی تیسرے کی مداخلت برداشت نہیں کروں گا، ہماری شادی ہو چکی ہے اس حقیقت کو جتنی جلدی ہو سکے قبول کرلو"

وہ حور کے ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسائے نرم لہجے میں حور کو کہہ رہا تھا

"میری ایک بات مانو گے پلیز"
زین کا نرم لہجہ دے کر اسے تھوڑا سا حوصلہ ہوا

"کیا بولو"
زین نے سوالیہ نظروں سے حور کی طرف دیکھا

"مجھ میری ماما سے بات کرنی ہے ان سے ملنا ہے پلیز مجھے ان سے ملوا دو یا صرف میری بات کروا دو"
حور نے التجائی انداز میں زین کو بولا

"حور ابھی میرے تھوڑے کام پھنسے ہوئے ہیں یہ فورا ممکن نہیں ہے لیکن تم فکر نہیں کرو  بہت جلد میں تمہاری ماما سے تمہیں ملوادوں گا"

اپنی بات ختم کر کر وہ حور کی انگلیوں سے اپنا ہاتھ نکالتا ہوا بولا

"لائٹ بند کر دو"
زین نے لیٹتے ہوئے حور سے لائٹ بند کرنے کو کہا
حور اپنا تکیہ اٹھا کر جانے لگی جب زین نے حور کا ہاتھ پکڑا

"رشتے کو ٹائم دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم جاکر کہیں دوسری جگہ پر لیٹ جاو۔ ۔۔۔یہ ڈرامے مجھے بالکل پسند نہیں ہیں لیٹو یہی پر"
تھوڑی دیر پہلے والی نرمی اب سنجیدگی میں بدل گئی اس کو یہ دھوپ چھاؤں سا مزاج رکھنے والا شخص سمجھ نہیں آیا۔۔۔۔ اس سے پہلے کے زین کا موڈ مزید خراب ہوتا وہ جلدی سے بیڈ پر کونے میں ہو کر لیٹ گئی، زین نے حور کو کھینچ کر اپنی طرف کیا اور حور کا سر اپنے سینے پر رکھ لیا۔۔۔۔ انگلیاں حور کے بالوں میں چلاتا ہوا وہ بولنے لگا

"اپنا تھوڑا بہت جو بھی سامان ہے وہ پیک کر لینا کل یا پرسوں ہم دوسرے فلیٹ میں شفٹ ہو جائیں گے"

ابھی وہ بات کر ہی رہا تھا تو ایک دم باہر کا دروازہ بجا

"اس وقت کون ہوسکتا ہے"
زین اٹھتے ہوئے بولا

"بلال اس وقت خیریت"
زین نے دروازہ کھولتے ہی بلال کو دیکھتے ہوئے بولا

"یار ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے"
بلال کافی پریشان لگ رہا تھا

"دومنٹ صبر کرو میں آیا"

زین نے بلال کو کہا اور اندر جا کر اپنی گاڑی کی چابی والٹ موبائل، اٹھاتا ہوا وہ حور سے بولا

"ایک ایمرجنسی کی وجہ سے مجھے جانا ہوگا دروازہ باہر سے لاگ ہے تم بنا ٹینشن کے سو جاؤ"
حور اٹھ کے بیٹھ گئی

"مگر میں رات میں اکیلے کیسے رہو گے مجھے ڈر لگے گا"
حور نے پریشان ہو کر زین سے کہا

"ایمرجنسی ہے حور آجاؤں گا میں واپس۔۔۔ ڈرنے کی ضرورت نہیں اور ویسے بھی تمہیں کوئی بھوت مجھ سے چھین نہیں سکتا"
وہ اس کے گال تھپتھپاتا ہوا باہر چلا گیا

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment