Monday, December 10, 2018

episode 20


tni mohbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 20



اشعر نے بیل بجائی تو دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا جیسے اندر کوئی انتظار میں ہوں کہ بیل بجائی جائے اور میں فورا دروازہ کھولو

"السلام علیکم کیسی ہیں آپ"

تانیہ کو دیکھ کر اشعر نے سلام کیا اور حال پوچھا جب کہ وہ اس کو ٹھیک نہ لگی آنکھیں سرخ شاید نیند سے یا پھر رونے کی وجہ سے ہو رہی تھیں اشعر نے ایک نظر میں تانیہ کا جائزہ لیا

"وعلیکم السلام"
تانیہ کو اشعر کا چہرہ دیکھ کر مایوسی ہوئی وہ پیچھے دیکھنے لگی شاید بلال نظر آئے

"سب خیریت ہے"

اشعر نے پوچھنا تو بلال کا تھا کیونکہ وہ کافی دیر سے اس کو کال کر رہا تھا جو کہ وہ ریسو نہیں کر رہا تھا زین کو بھی کال ملائی لیکن وہ بھی ریسیو نہیں کر رہا تھا اس لئے اشعر بلال کے کی طرف آگیا پر تانیہ کو اس طرح دیکھ کر اشعر نے بلال کی جگہ یہ سوال کیا

"جی بلال بھائی ابھی تک نہیں آئے ہیں انہی کا انتظار کر رہی ہوں"

اس نے اداس لہجے میں جواب دیا

"بلال کہاں پر ہے میں اسی کا پوچھنے آیا ہوں وہ میری کال ریسیو نہیں کر رہا ہے"

ابو کو لےکر اسپتال گئے ہیں ابھی تک رابطہ نہیں ہوا ہے، ہم لوگ انہی کا انتظار کر رہے تھے
تانیہ نے سب تفصیل سے بتایا

"او مجھ سے تو ذکر بھی نہیں کیا بلال نے، آپ فکر نہ کریں انکل جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔ہاسپٹل کا پتہ ہے آپ کو؟

تانیہ نے گردن ہلا کر اسپتال کا پتہ بتایا

"آپ پریشان نہ ہوں میں بلال کے پاس جاکر آپ کی بات کروا دیتا ہوں بلال سے اپکی"
اشعر نے تانیہ کو اداس دیکھ کر کہا

"ابھی آپ ہاسپٹل جا رہے ہیں"
تانیہ نے کچھ جھجکتے ہوئے پوچھا

"جی آپ کو کچھ بھی بھجوانا ہے یا چلنا ہے تو بتا دیں"
اشعر نے اس کی جھجک نوٹ کر کے خود ہی بولا

"جی بس میں پریشان ہو رہی تھی رات سے کوئی خبر نہیں  ابو کی،  اگر میں چلو"
تانیہ نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا کہیں وہ برا نہ مان جائے، یا اس کا اپنا بھائی مگر بات منہ سے نکل چکی تھی

"اگر آپ چلنا چاہتی ہیں تو آپ چلیں ویسے بھی میں وہی جا رہا ہوں"
اشعر نے تانیہ کو کشمکش میں دیکھ کر خود ہی آفر کی

"جی بس پانچ منٹ میں، میں ثانیہ کو بتا کر آتی ہوں"

"میں کار میں بیٹھ کر ویٹ کر رہا ہوں"

تانیہ نے خالہ کو بتایا جو کہ فضا کے ساتھ رات کو ان دونوں کے پاس ہی آ گئی تھی پوری رات ثانیہ تانیہ اور فضا نے جاگ کر گزاری تھی۔۔۔۔ اس لیے ثانیہ کو جگانا مناسب نہیں سمجھا خالہ کو بتا کر وہ اسکارف لے کر باہر چلے گی

 اشعر نے ایک نظر تانیہ کو دیکھ کر کار کا لاک کھول دیا اور کار اسٹارٹ کی۔۔۔۔ سگنل پر کار رکی دونوں طرف مکمل خاموشی تھی

"صاحب جی بیگم صاحبہ کے لئے گجرے لے لو صاحب"
ایک بچہ ہاتھوں میں بہت سارے گجرے لیے ہوئے کہہ رہا تھا

"بیٹا نہیں چاہیے گجرے جاؤ یہاں سے"
اشعر بیگم صاحبہ لفظ پر جھنپ گیا  اور بچے کو منع کیا

"میں نے دو دن سے کھانا نہیں کھایا آج کسی نے بھی نہیں خریدے آپ خرید لو بڑی مہربانی"

اشعر نے والڈ سے پیسے نکال کر بچے کو دیے اتنے کے تو وہ گجرے نہیں تھے  جتنے اس نے پیسے دیے بچہ خوشی سے دعائیں دینے لگا

"اللہ آپ دونوں کی جوڑی سلامت رکھے آپ دونوں کو ڈھیر ساری خوشیاں دے"
سگنل کھلا تو بچہ اشعر کے ہاتھ میں گجرے تھماتا ہوا چلا گئے

اشعر نے گجرے سمیت تانیہ کی طرف رخ کیا جوکہ اشعر کو دیکھ رہی تھی اشعر کے دیکھنے پر گجروں کو دیکھنے لگی اشعر نے گجرے ڈیش بورڈ پر رکھ دیئے اور کار سٹارٹ کردی

****

ریسپشن سے معلوم کر کے اشعر اور تانیہ روم میں پہنچے۔۔۔۔ بلال ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر چونک گیا

"آرے یار بڑے ہی بے مروت ہو تم دونوں مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا"
اشعر نے آتے ہی بلال اور زین دونوں کی کھچائی کی

جب کہ تانیہ سلام کرکے ابو کے پاس بیٹھ گئی جو کہ دوائیوں کے زیراثر سو رہے تھے

"رات میں تمہیں کیا پریشان کرتا ابو کی اچانک طبیعت بگڑ گئی، زین کے ساتھ ابو کو ہوسپٹل لے آیا "
بلال نے وضاحت دی

"آپ کیسی طبیعت ہے انکل کی"
اشعر نے پوچھا

"اب تو کافی بہتر ہے اللہ کا کرم ہے"
بلال کی نظر تانیہ پر پڑی جو کہ ابو کو فکرمندی سے دیکھ رہی تھی اشعر نے بھی بلال کی  نظروں کا زاویہ  دیکھا اور بولا

"تم دونوں کو کال ملا رہا تھا کوئی ریسپونس نہیں کر رہا تھا تمارے گھر گئا تو ساری سچویشن تمہاری سسٹر سے پتہ چلی ان کو پریشان دیکھا اس لئے ساتھ لے آیا"

اشعر نے بلال کو وضاحت دینا ضروری سمجھی کہ وہ فیل نہ کرے

"یہاں پر شاید سگنل کا پرابلم ہے"
زین نے موبائل دیکھتے ہوئے گفتگو میں حصہ لیا

"زین اب تمہیں گھر جانا چاہیے تم کل رات سے یہاں پر ہوں"
بلال نے زین سے کہا 

"کیسی بات کر رہے ہو مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے ویسے بھی انکل کو شام تک ڈسٹارج کر دیں گے جب تک میں یہیں پر ہوں"
زین نے بلال کو جواب دیا

"بلال ٹھیک کہہ رہا ہے تم کل رات سے ہو یہاں پر ہوں اب تم گھر جاکر ریسٹ کرو اور ویسے بھی بھابھی انتظار کر رہی ہو گئی گھر پر"
اشعر نے اس کو سمجھایا

زین دونوں سے ہاتھ ملا کر روم سے باہر نکلا وہ کوریڈور سے باہر نکل ہی رہا تھا اس کی نظر سامنے سے آتے ہوئے خضر پر پڑی۔۔۔ خضر بھی زین کو دیکھ چکا تھا

"حور کہاں ہے"
خضر نے ایک دم سامنے آکر پوچھا

"جہاں پر بھی ہو اس سے تمہیں سروکار نہیں ہونا چاہیے "
حور کا نام خضر کے منہ سے سنتے ہی زین کی پیشانی پر بل پڑ گئے

"مجھے ہی اس سے سروکار ہونا چاہیے کزن ہے وہ میری"
خضر نے تیز لہجے میں کہا

"وہ اب تمہاری کزن بعد میں ہے پہلے وہ میری بیوی ہے یہ بات اب اچھی طرح اپنے دماغ میں بٹھا لو تم"
زین نے اس کو باور کروایا

"میں نہیں مانتا ہوں زبردستی کے اس رشتے کو  اور وہ تمہیں کبھی بھی ایکسیپ نہیں کرے گی یاد رکھنا تم"
خضر نے جبڑے بیچتے ہوئے کہا 

"تمہارے یا کسی اور کے ماننے یا نہ ماننے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اور حور مجھے ایکسپیٹ کریں یا نہ کرے اس سے تمہیں فرق نہیں پڑنا چاہیے۔۔۔۔  راستہ چھوڑوں میرا "
زین نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا اور وہ جانے لگا

"بتاؤ حور کو کہاں چھپا کر رکھا ہے"
خضر نے اچانک زین کا گریبان پکڑ کر کہا

زین نے ایک زوردار پنچ خضر کے منہ پر مارا جوکہ خضر کے لیے غیر متوقع تھا وہ لڑکھڑا کر پیچھے گرا راستے میں آتے جاتے لوگ جو ان لوگوں کو کافی دیر سے دیکھ رہے تھے ایک دم بیچ بچاؤ کروانے لگے

"آئندہ میں کبھی تمہارے منہ سے حور کا نام نہیں سنو ورنہ یہ تمھاری صحت کے لیے اچھا نہیں ہو گا اور شکر ادا کرو کہ آج میرے ہاتھ میں پسٹل نہیں ہے"
زین لوگوں کے ہاتھ جھٹکتا ہوا غصہ میں وہاں سے چلا گیا

اور خضر اپنے ہونٹوں پر لگا ہوا خون صاف کرنے لگا

****

وہ گھر پہنچا تو اسے ابھی بھی خضر کی باتیں سوچ سوچ کر غصہ آرہا تھا۔ زین کو شروع دن سے ہی خضر سے بےنام سے جلن محسوس ہوتی تھی، اپنی سوچوں میں گم جب وہ کمرے میں آیا اس کی نظر سوتی ہوئی حور پر پڑی۔۔۔۔۔۔

حور پر نظر پڑتے ہی  ساری تھکن اتر گئی موڈ بھی فریش ہو گیا، گہری نیند میں سوتی ہوئی وہ اسے بہت معصوم لگی
اس نے جھک کر حور کی پیشانی پر اپنے لب رکھ دیے زین کے لمس سے وہ تھوڑا سا کسمسائی اور زین کو دیکھا

"تم آ گئے واپس"
حور نے آنکھیں کھول کر کہا جن میں ابھی بھی نیند کا خمار باقی تھا

"ہاں آگیا واپس! آنا تو مجھے تھا ہی، جب کے جانے سے پہلے میں نے تم سے کہا تھا کہ میرا انتظار کرنا"
زین نے اس کا معصوم چہرہ اپنی آنکھوں میں اتارتے ہوئے بچپن میں کہی ہوئی بات کو دہرایا

"کل رات ہماری ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی مجھے اچھی طرح یاد ہے"
حور نے اپنے ذہن پر زور ڈالتے ہوئے کہا

"اسی بات کا تو دکھ ہے سویٹ ہارٹ  کے تمہیں کچھ بھی یاد نہیں"
اس نے حور کے برابر میں لیٹتے ہوئے کہہ

"جی نہیں! مجھے اچھی طرح یاد ہے کل رات تم نے کہا تھا کہ تم ٹینشن لیے بنا سوجاؤ"
حور نے کل رات والی بات کو یاد کرتے ہوئے کہا

"نہیں میں کل رات کی بات نہیں کر رہا میں اس سے پہلے کی بات کر رہا ہوں"
زین نے اس کے ہونٹ کے نیچے  تل کو چھیڑتے ہوئے کہا

"پتہ نہیں  کیا بولے جا رہے ہو تم۔۔۔۔ مجھے تو کچھ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا"
حور نے جھنجھلاتے ہوئے کہا

"اوکے تھوڑا قریب آؤ میں سمجھاتا ہوں"
زین کو پٹری سے اترا دیکھ کر حور بری طرح سٹپٹا گئی

"نہیں مجھے کچھ نہیں سمجھنا اور میری نیند بھی پوری ہو گئی"
حور گھبرا کر اٹھنے لگی

"لیٹ جاؤ خاموش ہوکے ابھی کافی ٹائم پڑا ہے"
زین نے ڈپٹتے ہوئے کہا۔ زین کو ہیروں سے ہٹلر بننے میں زیادہ دیر نہیں لگتی تھی۔ اس نے حور کو اپنی طرف کھینچا وہ دبک کر زین کے سینے پر گری نیند تو اب حور کو کیا ہی آنی تھی بلکہ الٹا اس کا ذہن اچھی طرح بیدار ہو گیا۔۔۔۔ وہ سہمی ہوئی زین کے سینے پر سر رکھ کر لیٹی ہوئی تھی

"کل رات میرے بغیر آرام سے نیند آگئی تھی تمہیں ڈر تو نہیں لگا"
وہ آنکھیں بند کئے ہوئے، ایک ہاتھ سے حور کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے پوچھ رہا تھا   

"کل رات میں  سوگئی مجھے کوئی ڈر نہیں لگا کیونکہ یہاں کوئی جن ہے ہی نہیں"
حور نے اسے جتاتے ہوئے کہا اور تھوڑا فاصلہ اختیار کیا

"جن تو ہے یہاں پر لیکن وہ کسی کو کچھ نقصان نہیں پہنچاتا بس اپنی محبوبہ کا عاشق ہے وہ"
زین نے حور کو فاصلہ قائم کرتے ہوئے دیکھا تو اس کو تنگ کرنے کے ارادے سے بولا

"تم جھوٹ بول رہے ہو مجھے پتہ ہے ایسا کچھ بھی نہیں تم صرف مجھے ڈرا رہے ہو"
حور نے برا مانتے ہوئے کہا اور اپنے تکیہ پر لیٹ گئی

"نہیں مانو میرا کیا ہے جب کسی دن روبرو سامنا ہوا تو خود ہی پتہ چل جائے گا ویسے بھی جو لوگ یقین نہیں کرتے ہیں جنات ان کے سامنے ظاہر ہو جاتے ہیں"  
زین نے مزید ڈرایا

زین کا اتنا کہنا ہی تھا، حور کی سٹی گم ہوگئی حور دوبارہ ڈر گئی اور غیر ارادی طور پر اس نے زین کے سینے پر دوبارہ سر رکھ لیا 

"تم کیا واقعی سچ کہہ رہے ہو"
حور نے روہنسی ہو کر پوچھا

"بالکل سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔۔ بس وہ جن چاہتا ہے اس کی محبوبہ اس کے پاس رہے۔ ۔۔ دور نہیں جائے اس سے"
زین نے ایک ہاتھ حور کے گرد حائل کرتے ہوئے اسے مزید خود سے قریب کر لیا، دوبارہ آنکھیں بند کرتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اس کے بال سہلانے لگا

حور نے بھی اسکی باتوں پر غور کیے بناء ڈر کے اپنی آنکھیں بند کرلیں    

 ****

خضر کو رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا زین اس کے سامنے آجائے اور وہ اس کو شوٹ کر دے

"میں بھی دیکھتا ہوں تم زبردستی حور کو مجھ سے دور کر کے اپنی زندگی میں کیسے شامل کرتے ہو"
خضر نے نفرت سے سوچا

****

شام تک مسعود صاحب کی ہوسپٹل سے چھٹی ہو گئی تھی۔  اشعر نے گاڑی کا بیک ڈور کھول کر تو سب کو اندر بیٹھایا اور تانیہ پیچھے مسعود صاحب کے ساتھ بیٹھ گئی جب کے بلال فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا اشعر نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے خوشگوار خوشبو نتھنوں سے ٹکرائی اشعر کی نظریں گجروں سے ہوتے ہوئے گاڑی کے مرر میں تانیہ پر پڑھی۔۔۔۔ تانیہ بھی  مرر سے اشعر کو ہی دیکھ رہی تھی دونوں کی نظریں ملیں۔ ۔۔۔۔ تانیہ نے نظریں جھکالیں اشعر کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اور اس نے گاڑی اسٹارٹ کردی

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment