Monday, December 10, 2018

episode 21


tni mohbbat karo na
By zeenia sherjeel
Episode 21



زین کی آنکھ کھلی تو حور کمرے میں موجود نہیں تھی۔ وہ روم سے باہر نکلا تو کچن سے کام کرنے کی آوازیں آ رہی تھی۔۔۔۔ زین کچن کے اندر داخل ہوا تو حور کھانا بنانے میں مصروف تھی، اس کی پشت پر گیلے بال کھلے ہوئے تھے جو اس کی کمر کو چھپا رہے تھے

"کیا ہو رہا ہے"
زین حور کے قریب جاکر بال سائڈ میں کرتا ہوا حور کے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولا۔۔۔۔ زین کے ہونٹ حور کے کان سے مس ہوئے تو وہ مزید خود میں سمٹ گئی

"کھانا بنا رہی تھی رات کے لیے"
حور نے جھجکتے ہوئے دھیمی آواز میں جواب دیا

"کچھ چاہئے تمہیں"
اس کے اتنے قریب کھڑے ہونے سے نروس ہو رہی تھی اس لئے خود سے ہی پوچھا

"ہاں چاہیے تو"
زین نے حور کے کندھے پر اپنی تھوڑی ٹکاتے ہوئے کہا 

"چائے بنا دیتی ہوں"
حور نے اس سے پوچھا نہیں بلکہ خود ہی چائے کا کہا کیوں کہ اسے توقع تھی کہ وہ کوئی الٹا ہی جواب دے گا

"چائے نہیں تھوڑی سی چاہ چاہیے"
زین نے ہونٹوں سے اس کے گالوں کو چھوتے ہوئے کہا

زین کی اس حرکت پر حور ایک دم بدک کر پیچھے ہوئی تو حور کی پشت زین کے سینے سے ٹکرائی۔۔۔۔ زین حور کے بالوں میں شیمپو کی خوشبو کو اپنے اندر اتارتا ہوا وہاں  سے چلا گیا۔۔۔۔ حور انکھیں بند کر کے اپنے اپ کو نارمل کرنے لگی

"بیہودہ انسان"
حور نے زین کو دل ہی دل میں ایک اور لقب سے نوازا

****

مسعور صاحب کی خیریت پوچھنے زین بلال کے گھر پہنچا تو وہاں رضیہ خالہ (فضا کی امی) بھی موجود تھیں ان سے سلام دعا ہوئی تو باتوں ہی باتوں میں انہوں نے بتایا کہ

"فضا کے رشتے والے شادی جلد سے جلد چاہ رہے ہیں کیونکہ لڑکے کو باہر جانا ہے"
زین نے بے ساختہ بلال کو دیکھا وہ نظریں چرا کر سوتے ہوئے مسعود صاحب کو دیکھنے لگا

****

خضر ظفر مراد کے روم میں آیا

"مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے"
خضر سنجیدگی سے بولا

"ہاں پوچھو کیا پوچھنا ہے"
انہوں نے اپنی توجہ خضر کی طرف مرکوز کرتے ہوئے کہا

"زین نے ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا ابو"
خضر نے سوال کیا

"یہ بات تم اسی سے جاکر پوچھو میں نے تو سب کی جان بچانے کے لئے اسے اتنی بڑی رقم دے دی"
انہوں نے اپنی بات کو چھپاتے ہوئے برہمی سے خضر کو جواب دیا

"مجھے ان پیسوں سے کچھ بھی غرض نہیں لیکن مجھے حور واپس چاہیے"

خضر نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا

"یاد رکھو خضر وہ حور کو ایسے ہی سب کے سامنے سے لے کر نہیں گیا۔۔۔۔۔ باقاعدہ نکاح کیا ہے اس نے حور سے، اب تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ اپنی ضد چھوڑو، حور کو بھول جاؤ۔۔۔۔۔۔ تمہاری ماں اس دن صحیح کہہ رہی تھی"
انہوں نے بیٹے کے تیور دیکھتے ہوئے اسے سمجھانے کی کوشش کی

"یہ ممکن نہیں ہے ابو، حور میری ہونے والی منگیتر تھی اس نے زبردستی چھینا ہے مجھ سے حور کو۔۔۔۔میں حور کو واپس اس گھر میں لاکر رہوگا"
خضر یہ بول کر رکا نہیں  باہر چلے گیا

ظفر مراد اپنے بیٹے کو جاتا دیکھتے رہ گئے، وہ یہ نہیں بتا سکے کہ انہوں نے بھی ماضی میں زین اور اس کی ماں سے ان کا پیسہ اسی طرح چھینا تھا

****

بلال کمرے میں داخل ہوا تو فضا کو مسعود صاحب کے پاس بیٹھا دیکھ کر ٹھٹک گیا۔۔۔ وہ کافی کمزور اور بجھی بجھی دکھ رہی تھی بلال کے دل کو کچھ ہوا

"کیسی ہو"
بلال فضا کو دیکھ کر پوچھنے لگا

"بہت خوش! دیکھ کر محسوس نہیں ہو رہا تمیں"
فضا نے تلخی سے جواب دیا

اس کی بات سن کر بلال چپ ہو گیا۔ اتنے میں تانیہ کمرے میں آئی

"یہ لو بھی فضا تم بھی گرما گرم شامی  کباب کھاو اور بتاؤ  کل یونیورسٹی جانے کا ارادہ ہے کہ نہیں"
تانیہ نے پلیٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا

"نہیں کل یونیورسٹی کیسے آسکتی ہوں۔۔۔۔ آب تو مجھے اپنی شادی کی تیاریاں کرنی ہے ویسے بھی وقت بہت کم رہ گیا ہی شادی میں"
تانیہ کے ہاتھ سے فضا پلیٹ لیتے ہوئے بولی
تانیہ نے ایک نظر افسوس سے فضا کو دیکھا اور پھر بلال کو

"یہ لیں بھائی آپ بھی لیں آپ نے تو ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھایا"
تانیہ نے بلال کو دیکھتے ہوئے پلیٹ اس کی طرف بڑھائی

"نہیں تانیہ رہنے دو  ابھی دل نہیں چاہ رہا"
بلال نے انکار کردیا

"پر بھائی کباب تو آپ کو بہت پسند ہیں نا"

"رہنے دو تانیہ مجبور لوگوں کی کوئی پسند ناپسند نہیں ہوتی"
جواب فضا کی طرف سے آیا

بلال نے ایک شکوہ بھری نظر فضا پر ڈالی اور وہاں سے چلا گیا

****

زین حور کے ساتھ اپنے نیو فلیٹ میں شفٹ ہو گیا یہ تین بیڈرومز کا ایک فرنشڈ اور کشادہ فلیٹ تھا۔۔۔۔اب اسے اشعر اور بلال کے ساتھ اپنے پلان کئے ہوئے بزنس کا آغاز کرنا تھا۔ اشعر کا بھی سرمایہ لگا ہوا تھا پارٹنرشپ کی بنیاد پر ان دونوں نے بزنس کا آغاز کیا بلال نے بھی اس میں بھرپور تعاون کیا۔ وہ تینوں اس برے کام کو چھوڑ کر اپنے نئے بزنس کو وقت دینے لگے۔ لیکن ایک آخری کام جو زین کے دماغ میں تھا وہ اسے انجام دینا تھا

****
خضر نے اپنے طور پر زین کا پتہ معلوم کروایا مگر اس کو جو ایڈریس ملا وہ اس کے پرانے گھر کا تھا تھوڑے دن پہلے ہی وہ کہیں اور شفٹ ہو گیا تھا

****

زین اسپتال سے نادیہ بیگم کو لے کر اپنے نئے فلیٹ میں آیا۔ انہوں نے حیرت سے زین کو دیکھا تو اس نے بتایا کہ اس نے اپنا بزنس اسٹارٹ کیا ھے۔ اور زین نے دوسرا سرپرایز حور کو سامنے لا کر دیا

"یہ حور ہے اماں آپ کی بہو"
حور نے بھی حیرت سے سامنے خاتون کو دیکھا پھر زین کو ۔۔ نادیہ بیگم نے حور کو اپنے پاس بلایا ، حور تھوڑا ہچکچائی پھر زین کے اشارے پر وہ نادیہ بیگم کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ نادیہ بیگم نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھاما اور ماتھے پر پیار کیا
"بہت خوبصورت ہیں میری بہو بالکل اپنے نام کی طرح"

انہوں نے اپنے ہاتھوں سے دو سونے کی چوڑیاں (جو کہ مشکل وقت میں بھی سنبھال کر رکھی تھی)  اتار کر حور کے ہاتھ میں پہنائیی

"یہ میں نے اب تک زین کی دلہن کے لیے سنبھال کر رکھی تھی۔ تمہیں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے، اللہ پاک تم دونوں کی جوڑی ہمیشہ سلامت رکھے"

انھوں  نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں کو دعا دی

حور نے زین کی طرف دیکھا تو وہ ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔حور کو زین کی امی بہت اچھی لگی۔ حور جب سب کاموں سے فارغ ہو کر بیڈ روم میں آئی تو زین ٹیرس میں کھڑا ہوا اسموکنگ کر رہا تھا۔۔۔۔ حور کو دیکھ کر روم میں آیا

"اماں کیا کر رہی ہیں"
زین نے حور کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"ابھی ابھی سوئی ہیں"
حور جواب دیکھ کر بیڈ پر بیٹھ گئی

"تمہاری اماں بہت اچھی ہیں"
حور نے زین سے کہا تو زین مسکرانے لگا

"اور اماں کا بیٹا؟ وہ کیسا ہے"
زین قریب بیٹھتے ہوئے بولا
حور خاموش رہی

"کیا ہوا کافی مشکل سوال پوچھ لیا میں نے"
وہ حور کے ہاتھ میں موجود چوڑی کے ڈیزائن پر اپنی انگلی پھیرتے ہوئے بولا
زین حور کی دلی کیفیت سمجھ سکتا تھا۔۔۔ حور کی زندگی میں اتنا اچانک زین کا آ جانا،  ایک نئے رشتے میں بن جانا۔۔۔۔ یہ سب حور کے لئے نیا تھا شاید یہی وجہ تھی کہ جو اپنے اور حور کے رشتے کو ٹائم دے رہا تھا

"تمہاری اماں ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہتی"
حور نے اس کے سوال کو نظرانداز کرکے دوسرا سوال کیا

"ان کے ہفتے میں دو دفعہ ڈائلیسس ہوتے ہیں اور اسپتال میں اچھی کیئر بھی ہو جاتی ہے"
زین بیڈ پر لیٹتے ہوئے بولا

"تمہاری اماں کو دیکھ کر مجھے میری ماما یاد آ رہی ہیں"
حور نے ڈرتے ہوئے بولا کیا پتا اسے غصہ ہی آجائے

"ملواو گا بہت جلدی ابھی تھوڑے دن صبر کر لو شیڈیول بہت بزی چل رہا ہے"
زین نے حور کا سر اپنے سینے پر رکھتے ہوئے نرمی سے کہا

زین کو اس بات کا احساس بھی تھا کہ حور کو آپنی آمی یاد آتی ہوگی مگر نیا بزنس ہونے کی وجہ سے وہ اپنے کاموں میں الجھا ہوا تھا

****

صبح حور کی آنکھ کھلی تو اس نے برابر میں زین کی خالی جگہ کو دیکھا، وہ فریش ہو کر نادیہ بیگم کے کمرے میں آئی۔۔۔ تو زین نادیہ بیگم کو اپنے ہاتھوں سے ناشتہ کروا رہا تھا۔ حور کو اپنے دیر سے اٹھنے پر شرمندگی ہوئی

"یہاں کیوں کھڑی ہو ادھر آؤ یہاں بیٹھو میرے پاس"

حور کو دروازے پر کھڑا دیکھ کر نادیہ بیگم نے کہا زین نے بھی پلٹ کر دیکھا۔۔۔ حور آہستہ  قدموں سے چلتی ہوئی نادیہ بیگم کے پاس آکر بیٹھ گئی، زین ناشتے کے خالی برتن اٹھا کر کچن میں چلا گیا

"میں آج بہت خوش ہوں زین کا میرے سوا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔۔۔۔ مگر اب تم آگئی ہوں میرے بیٹے کی زندگی میں، اس لئے میں آج مطمئن ہوں۔  اس کو کبھی بھی خود سے دور مت کرنا وعدہ کرو حور مجھ سے۔۔۔ وعدہ کرو ہمیشہ اس کے ساتھ رہوں گی اور اس کا خیال رکھوں گی"
وہ حور کا ہاتھ پکڑ کر کہہ رہی تھی حور نے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اثبات میں سر ہلایا
وہ ان کا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی مگر ساری زندگی کرمنل کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ جس نے اس سے زبردستی نکاح کیا ہے۔ ۔۔۔۔

"چلیے اماں دیر ہو رہی ہے"

زین پتا نہیں کب سے دروازے پر کھڑا ہوا تھا اس کی آواز پر حور کی سوچوں کا محور ٹوٹا

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment