tni mohbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 22
آج ثانیہ کی برات تھی حور آئینے کے آگے کھڑی تیار ہو رہی تھی۔ زین کمرے میں داخل ہوا اس کی نظر حور پر پڑی وہ قریب آکر حور کا مکمل جائزہ لینے لگا۔ زین کی نظروں کی تپش سے، حور کے پھرتی سے بال بناتے ہوئے ہاتھوں کی رفتار میں کمی آگئی۔۔۔۔ زین نے حور کو کندھوں سے تھام کر اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔ تھوڑی سے پکڑ کر چہرہ اونچا کیا دوسرا ہاتھ کمر کے گرد حائل کیا
"کیا ضرورت تھی مزید خوبصورت لگنے کی؟ اب کس کافر کا کہیں جانے کا دل چاہے گا"
وہ خمار آلود آواز میں کہتا ہوا حور کے اوپر جھکا
"زین نہیں پلیز"
حور اتنا ہی کہ سکی، زین نے اپنی شہادت والی انگلی اس کے ہونٹوں پر رکھ دی "شش"
چند لمحوں کی خاموشی کو موبائل کی آواز نے ختم کیا زین پیچھے ہٹا اور کال ریسو کی
"کیا ہوا یار کب تک پہنچو گے"
دوسری طرف بلال تھا
"بس گھر سے نکلنے والے ہیں"
زین بلال سے بات کرتا ہوں واڈروب سے کپڑے نکالنے لگا۔
حور نے اپنی سانسوں کی روانی بحال کی۔۔۔۔ اور آئینے کے سامنے کھڑی دوبارہ لپ اسٹک لگاتے ہوئے بڑبڑانے لگی
"فضول انسان نہ ہو تو"
****
اشعر شادی ہال میں اینٹر ہوا وہ بلال کو ہی دیکھ رہا تھا جو سے کافی دور کھڑا کسی کام میں مگن نظر آ رہا تھا۔۔۔ بلال کو دیکھتے ہوئے اس کی طرف بڑھنے لگا اچانک کسی سے زور دار ٹکر ہوئی
"اف میرے خدا کیا آنکھیں نہیں ہیں آپ کے پاس"
تانیہ جو کہ بڑے سے تھال اٹھائے چلی آ رہی تھی کی طرح اشعر سے ٹکرائی اور ہاتھ سے تھام چھوٹ گیا سارے گجرے نیچے بکھر گئے۔۔۔۔ گجرے اٹھاتے ہوئی جب سامنے نظر پڑی تو زبان کو بریک لگ گئی
"او آپ سوری میں نے آپ کو دیکھا نہیں"
تانیہ نے گجرے اٹھاتے ہوئے بولا
"سوری آپ کو نہیں مجھے کہنا چاہیے غلطی میری تھی، دراصل میرا دھیان بلال کی طرف تھا"
اشعر بھی نیچے جھک کر تانیہ کے ساتھ گجرے اٹھاتے ہوئے بولا
وہ پچھلے دنوں کی بانسبت آج میکپ کئے ہوئی تھی مگر اسکارف اپنی جگہ، آج بھی اس کی شخصیت کا وقار بڑھا رہا تھا
گجرے جب تھال میں ڈال دیے تو تانیہ شکر یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی مگر اشعر اب بھی اس کے شخصیت کے سحر میں کھویا ہوا تھا جب کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
"یہاں کھڑے کھڑے کیا سو گئے ہو تم" چونک کر اس نے زین کو دیکھا جو شاید ابھی آیا تھا حور بھی اس کے ساتھ تھی
"السلام و علیکم بھابھی کیسی ہیں آپ"
اشعر زین سے ملنے کے بعد حور سے حال احوال پوچھنے لگا
"جی الحمدللہ میں ٹھیک ہوں"
حور نے آہستہ سے جواب دیا
"ارے تم دونوں یہاں کھڑے کیا کر رہے ہو"
بلال ان دونوں کو دور سے دیکھتے ہوئے قریب آیا
"آپ کیسی ہیں بھابھی آئیے آپ کو تانیہ اور رانیہ آپی سے ملواتا ہوں"
زین اور اشعر وہیں کھڑے تھے بلال حور کو لے کر تانیہ کے پاس آیا اور حور کا تعارف کروایا
"ارے اپ زین بھائی کی وائف ہیں اتنی کیوٹ سی"
تانیہ حور سے بہت خوش دلی سے ملی اور فضا رانیہ آپی سے بھی ملی۔ ۔۔۔سارا وقت تانیہ نے حور کو اپنے ساتھ ساتھ رکھا، حور کو بھی تانیہ بہت پیاری لگی
"ایسے بھی کوئی اپنی بیوی کو گھور گھور کے دیکھتا ہے بھلا"
زین کی نظریں جو حور پر تھی بلال نے زین کو دیکھ کر ٹوکا
"چلو میری نظریں تو اپنی بیوی پر ہی ہیں تم یہ بتاؤ تم کس خوشی میں یہاں وہاں دیکھ رہے ہو"
زین نے فضا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بلال پر چوٹ کی
"مجھے کیا ضرورت ہے بھلا یہاں وہاں دیکھنے کی"
بلال اپنی چوری پکڑے جانے پر گڑبڑایا
"میری ایک نظر اپنی بیوی پر ہے تو دوسری نظر اپنے دوستوں پر اس لئے مجھ سے زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں"
زین نے مزید بلال پر چوٹ کی تو بلال نے چپ رہنے میں ہی اپنی عافیت جانی۔ جبکہ دوسری طرف اشعر نے اپنی نگاہیں تانیہ سے ہٹا کر اپنے موبائل فون میں مرکوز کرکے احتیاط برتی
ثانیہ کی شادی بخیر خوش اسلوبی کے ساتھ ہوگی اور وہ رخصت ہو کر اسجد کے گھر چلی گئی
****
کپڑے چینج کرکے حور کی تھکن کے باعث فورا ہی آنکھ لگ گئی۔ جبکہ زین کافی دیر تک لیپ ٹاپ پر اپنا کام کرتا رہا کافی دیر بعد اس نے اپنا لیپ ٹاپ بند کیا۔ حور کا بلنکٹ صحیح کر کے وہ بھی لیٹ گیا
صبح حور کی آنکھ کھلی پہلے تو وہ چھت کو دیکھتی رہی
"آج کتنا برا خواب دیکھا ہے میں نے، اللہ پاک ماما ٹھیک ہو بس"
وہ اداسی سے سوچنے لگی اور زین کو دیکھنے لگی
"کہا بھی تھا میری ماما سے میری بات کروا دو، مگر اپنے ہی کاموں میں بزی رہنا ہے۔۔۔۔ میری تو کوئی فکر ہی نہیں ہے"
حور نے شکوہ بھری نظر سوتے ہوئے زین پر ڈالی اور دل ہی دل میں اس سے مخاطب ہوئی
سائیڈ ٹیبل پر رکھے موبائل پر حور کی نظر گئی تو زہن میں ایک خیال سا آیا۔۔۔ کیو نہ ماما کو کال کر لی جائے ماما سے بات ہوجائے تو دل کو تسلی ہو جائے گی۔ زین تو گہری نیند میں سو رہا ہے اس کو کیا پتہ چلے گا یہی سوچ کر حور آرام سے اٹھی بلینکٹ ہٹایا اس نے دوپٹہ لینے کی کوشش نہیں کی کیونکہ وہ زین کے نیچے دبا ہوا تھا بغیر دوپٹے اور بغیر سلیپرز کے زین کے سائڈ پر آئی، آہستہ سے موبائل اٹھایا جبکہ نگاہیں زین پر تھی دبے پاؤں موبائل لے کر وہ دوسرے روم میں آ گئی دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے موبائل ان لاک کیا اور گھر کا نمبر ملایا دوسری طرف بیل جا رہی تھی مگر کوئی کال نہیں اٹھا رہا تھا
یہ جرات بھی آج اس نے صرف ماما کو خواب میں روتا ہوا دیکھ کر کی۔ دوبارہ نمبر ٹرائی کرنے کے بعد بھی کوئی رسپانس نہیں آیا تو ہمت کرکے خضر کا نمبر ملایا کیوکہ وہی اس کو زبانی یاد تھا۔ اس وقت حور بھول گئی کہ وہ کتنے بڑے مسئلے سے دوچار ہو سکتی ہے بس یاد تھا تو ایک دفعہ ماما کی خیریت مل جائے۔ ۔۔بیلسز جاتی رہی لیکن تیسری بیل پر موبائل اٹھا لیا گیا
"ہیلو کون"
خضر کی آواز موبائل سے ابھری
اتنے دنوں بعد کسی اپنے کی آواز سن کے دل بری طرح دھڑکا
"کون بول رہا ہے"
آواز نہ آنے پر خضر دوبارہ بولا
"میں۔۔۔۔ میں بول رہی ہوں حور خضر بھا"
ابھی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک زوردار دھماکے کی آواز کے ساتھ کوئی چیز دیوار پہ ٹکرائی۔۔۔۔ حور کا دل بری طرح دھڑکا سامنے نظر پڑھتے ہی حور کی روح فنا ہونے لگی۔ زین لب بیچے ہوئے غصے کی حالت میں اسی کی طرف آ رہا تھا ابھی جو وااس اس نے غصے میں آ کر دیوار پر مارا تھا کرچی کرچی ہو کر زمین پر پڑا ہوا تھا ۔۔۔۔ زین کے قریب آنے سے وہ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے پیچھے ہٹی ساری کرچیاں ننگے پاؤں ہونے کے باعث اس کے پاؤں میں چبھی، حور کو اس تکلیف سے زیادہ اپنے سامنے کھڑے زین کے تاثرات سے خوف آرہا تھا۔۔۔۔ قریب آ کر زین نے حور کے ہاتھوں سے موبائل لے کر اپنے کان پر لگایا جس میں سے خضر کی آواز آ رہی تھی
"تم ٹھیک ہونا حور یہ کس چیز کی آواز تھی پلیز بات کرو مجھ سے اپنا ایڈرس بتاؤ مجھے کہاں ہو تم"
زین نے موبائل غصے کی حالت میں پوری قوت سے دیوار پہ دے مارا حور کی تو جان ہی نکل گئی زین نے حور کے قریب آ کر اس کے بال مٹھی میں لئے
"کیوں کال کی تم نے خضر کو"
لال آنکھیں لیے سرد تعصورات سے وہ حور سے سوال کر رہا تھا
حور کو آج اتنے دنوں بعد زین کو دوبارہ اس روپ میں دیکھ کر خوف آنے لگا اور اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا
"جواب دو"
حور کے کچھ نہ بولنے پر اس نے دوسرے ہاتھ سے حور کا منہ پکڑا اور زور سے دہھاڑا
"مجھے ماما سے بات کرنی تھی"
اس طرح منہ پکڑنے سے زین کی انگلیاں حور کے گالوں میں گڑھ رہی تھی۔۔۔ دوسرے ہاتھ میں حور کے بال جکڑے ہوئے تھے، ان کی گرفت سے بھی حور ، زین کے غصہ کی شدت کا اندازہ لگا سکتی تھی۔۔۔۔ایسے میں جو نیچے اس کے پاؤں میں کانچ کے ٹکڑے چبھ رہے تھے۔۔۔۔ اس کی تکلیف کا احساس زین غصے میں کہی دب گیا
"ماما سے بات کرنی تھی تو خضر کا نمبر کیوں ملایا"
زین کی گرفت میں مزید سختی آئی
"زین پلیز چھوڑو مجھے درد ہو رہا ہے"
حور کی آنکھوں میں اب آنسو آگئے
"مجھے کیسے تکلیف دینے کا سوچا تم نے جواب دو؟ کیوں ملایا خضر کا نمبر"
دونوں ہاتھ نیچے کرتا ہوا اب اسے ایک بازو سے کھینچ کر بیڈروم میں لے کر جا رہا تھا
"گھر کا نمبر نہیں مل رہا تھا اس لئے خضر بھائی کا نمبر ملایا تھا تاکہ میری ماما سے بات ہوجائے"
حور زین کے ساتھ کھینچتی ہوئی وضاحت دیتی جا رہی تھی
"میرے منع کرنے کے باوجود تم نے کال کی دل تو چاہ رہا ہے تمھیں۔۔۔۔"
بیڈ روم کے دروازے تک لاکر اس نے حور کو زور سے بیڈ پر دھکا دیا بات ادھوری چھوڑ کر اس کو دیکھے بغیر بیڈ روم سے باہر نکل گیا۔ ٹوٹا ہوا موبائل اٹھایا کیز لے کر وہ گھر لاک کر کے باہر چلا گیا
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment