Monday, December 10, 2018

episode 23


tni mohbaat karo na
By zeenia sharjeel
Epi# 23



زین کی آنکھ کھلی تو برابر میں حور کی جگہ خالی تھی۔  وہ رات کو کافی دیر سے سویا تھا نیند کا خمار ابھی بھی آنکھوں میں تھا۔۔۔۔ ٹائم دیکھنے کے لئے سائیڈ ٹیبل پر ہاتھ سے موبائل کا ٹٹولا موبائل وہاں موجود نہیں تھا، آنکھیں کھول کر دیکھا تو یاد آیا یہ مخصوص جگہ تھی موبائل رکھنے کی

"کہا جاسکتا ہے"
سوچتے ہوئے اٹھا دوسری روم میں گیا اس کی پیشانی پر بل پڑ گئے کیوکہ موبائل حور کے ہاتھ میں تھا کے منع کرنے کے باوجود ۔۔۔۔۔ اسے احساس تھا کہ حور اپنی ماما کو مس کرتی ہوں گی۔۔۔ مگر اپنے نئے بزنس کے چکر میں وہ زیادہ ٹائم دوسری چیزوں کو نہیں دے سکتا تھا اور حور کو اس کی ماما سے ملانے یا بات کرانے کا مطلب ایک نئے چکر کو شروع ہو جانا تھا۔۔

وہ فی الحال ان لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے اس نے حور کو منع کیا تھا مگر اپنا موبائل حور کے ہاتھ میں دیکھ کر اسے ناگوار گزرا، مگر غصہ اسے جب آیا جب اس نے حور کے منہ سے خضر کا نام سنا۔۔۔۔۔ تو غصہ سے اس کی رگیں تن گئیں اور سامنے رکھا ہوا وااس اسنے پوری شدت سے حور کے سامنے دیوار پر دے مارا، وہ بری طرح سہم گئی ۔۔۔۔۔مزید غصہ اسے موبائل کان لگانے کے بعد  خضر کی آواز سن کر آیا۔۔۔ مزید وہ حور کو غصے میں کچھ کہتا ہے اس سے پہلے وہ گاڑی لے کر باہر نکل گیا

****

خضر اس وقت آفس کے لیے تیار ہو رہا تھا جب ایک اننون نمبر سے اس کے موبائل پر کال آئی۔ نمبر جانا پہچانا نہیں لگ رہا تھا پہلے سوچا اگنور کر دے مگر پھر کچھ سوچ کر کال ریسیو کر لی۔۔۔۔۔ مگر دوسری طرف حور کی آواز سن کر وہ حیرت میں ڈوب گیا آخر اتنے دنوں بعد حور کی آواز سنی تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا، مگر پھر بیک گراؤنڈ سے کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز آئی وہ ہیلو ہیلو کرتا رہا، مگر پھر حور کی آواز نہیں آئی۔۔۔۔ کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا وہ جلد سے جلد حور سے ایڈریس معلوم کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ حور تک پہنچ سکے مگر کال ڈسکنکٹ ہوگئی یا کر دی گئی۔۔۔ وہ یہ نہیں سمجھ سکا وہ ابھی بھی شاک کی کیفیت میں تھا مگر کہیں اندر سے خوشی بھی تھی اس بات کی تھی کہ حور نے اس کو کال کی اور وہ اب بھی اس کو یاد کرتی ہے۔۔۔۔ اب خضر کو یقینا حور کو جلد از جلد ڈھونڈنا تھا اور اس کرمنل کے پاس سے آزاد کروانا تھا

****

حور جوکہ زین کے بیڈ پر دھکا دینے سے ایک دم پیچھے جا گری مگر بیڈ کے بجائے سائیڈ ٹیبل کا کونہ لگنے سے اس کے سر پر خون کی ایک لکیر ماتھے سے نمودار ہوئی اور اسے اپنا دماغ سن ہوتا ہوا محسوس ہوا

****

زین بےمقصد سڑکوں پر گاڑی ڈرائیو کرتا رہا پھر تھوڑی دیر بعد نادیہ بیگم کے پاس چلا گیا تھوڑی دیر بعد ان کا ڈائلیسیس ہونا تھا ڈاکٹر سے بات کرنے کے بعد وہ نادیہ بیگم کے پاس آکر بیٹھ گیا ہاتھ تھامے ہوئے پوچھا

"کیسی طبیعت ہے آپ کی اماں"

"میں ٹھیک ہوں تم بتاؤ میری بہو کیسی ہے"

"بہو کے آتے ہی آپ بیٹے کو بھول گئیں"

حور کا نام سنتے ہی اسے تھوڑی دیر پہلے ہونے والا واقعہ یاد آیا سر جھٹک کر، وہ شرارتا کہنے لگا

"بیٹا تو میری آنکھوں کے سامنے ہیں اس لئے میں نے بہو کا پوچھا"
انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا

"ٹھیک ہے وہ بھی ملوانے کے لئے لے کر آؤں گا اسے کسی دن، تھوڑے دن آفس کے کاموں میں بزی ہوں"
زین نے جواب دیا

"بہت پیاری ہے حور ماشاءاللہ سے تمہیں اپنے گھر میں بستا دیکھ کر دل کو اطمینان ہے۔۔۔ کل کو اگر میں نہ رہوں تو تم اکیلے نہیں ہوں گے"

"کیسی باتیں شروع کر دی ہیں آپ نے؟؟ کہاں جا رہی ہیں آپ؟؟ سب رشتے اپنی اپنی جگہ پر لیکن مجھے ہمیشہ آپنی زندگی میں آپکی ضرورت رہے گی"
نادیہ بیگم کے ہاتھ چوم کرو نے آنکھوں پر لگائے

"کوئی کسی کے ساتھ ہمیشہ تھوڑی رہتا ہے سب کو ایک نہ ایک دن تو جانا ہوتا ہے۔ حور بہت پیاری بچی ہے مجھے پتہ ہے وہ تمہیں کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑے گی اور تم بھی ہمیشہ اس کا خیال رکھنا"

****

کہاں ہوتے ہو خضر آج کل، ماں سے بھی بات کرنے کا ٹائم نہیں ہے تمہارے پاس"
فاطمہ بیگم نے خضر کو بیڈروم سے نکلتے دیکھ کر شکوہ کیا

وہ آج کل رات کو کافی لیٹ گھر آ رہا تھا۔ سارہ منگنی کے بعد آب ماہم کی شادی کی تیاریوں میں لگی ہوئی تھی جبکہ آسماء نے تو اپنے آپ کو کمرے میں ہی بند کر لیا تھا۔۔۔۔ مگر اب اسماء کے بھائی نے ان کے پاس آنا جانا شروع کر دیا تھا۔ کیونکہ وہ بال بچوں کی شادی کر کے اپنی تمام تر ذمہ داریوں سے فارغ ہو گئے تھے۔۔  ذمہ داریاں ختم ہوتے انہیں بھولی بسری بہن یاد آ گئی۔۔۔ جسے بہت پہلے مجبوری کا نام دے کر ملنا چھوڑ دیا تھا کبھی کبھی بھائی کے آجانے تو وہ تھوڑی دیر کے لئے بہل جاتی مگر اس کے بعد پھر اپنے آپ کو کمرے میں قید کرلیتی۔ خضر یا پھر ظفر صاحب ہی انکا حال احوال کر لیتے کبھی کبھی

"امی آفس کے کام کی وجہ سے بزی ہوں۔ آپ بتائیں طبیعت کیسی ہے آپ کی"
خضر نے ماں سے پوچھا

"طبیعت وہ کیا ہونا ہے میری۔۔۔ بس اب تم آفس کے کاموں کو ایک طرف رکھو اپنی زندگی کے بارے میں سوچو"
فاطمہ بیٹے کو دیکھتے ہوئے بولیں

"زندگی کے بارے میں ہی سوچ رہا ہوں"
خضر نے سامنے سجے ہوئے ناشتے کو دیکھ کر کرسی کھینچتے ہوئے بولا

"کیا بھلا خاک سوچ رہے ہوں میں آجکل میں تہمینہ کے پاس جانے والی ہوں ممکن نائمہ کے لئے رشتے آرہے ہیں"

فاطمہ نے خضر کو اپنے ارادوں سے آگاہ کیا

"امی میں آپ کو پہلے ہی منع کر چکا ہوں، حور کے علاوہ میں کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کرسکتا"
خضر نے ناشتے سے ہاتھ کھینچتے ہوئے بولا

"تمہارے سر سے ابھی تک اس حور کا بھوت نہیں اترا خضر۔۔۔ اب وہ شادی شدہ ہے کسی اور کی بیوی ہے تم ابھی تک اس کے پیچھے مجنوں کی طرف پڑے اپنی زندگی کو برباد کر رہے ہو۔۔۔۔ کان کھول کر سن لو میں ہرگز ایسا نہیں ہونے دوں گی"
فاطمہ کو خضر کی بات سن کر پہلے حیرت ہوئی اور پھر غصہ آنے لگا

"امی میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا ہوں ناعیمہ کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں اور رہی بات حور کی اس کا پتہ میں بہت جلد لگا لوں گا اور وہ شادی شدہ ہو یا کچھ بھی۔۔۔۔ مجھے اس سے غرض نہیں پڑتا۔۔۔ وہ بہت جلد اس گھر میں دوبارہ موجود ہوگی"
اپنی بات کہہ کر روکا نہیں بلکہ بغیر ناشتے کے چلے گیا

گاڑی میں بیٹھتے تو اس نے اپنے موبائل سے ایک نمبر ڈائل کیا
"ابھی میں ایک موبائل نمبر تمھیں سینڈ کر رہا ہوں جتنی جلدی ہو سکے مجھے اس کی ڈیٹیل چاہیے"

****

ہاسپٹل سے زین اپنے فلیٹ میں پہنچا گھر کا لاک کھولا تو ساری لائٹس بند تھی۔ لائٹس آن کرکے زین بیڈروم کی طرف بڑھا وہ ابھی تک حور کی فون والی حرکت نہیں بھولا تھا۔۔۔۔۔۔غصہ اب زین کا ختم ہو گیا تھا مگر وہ ناراض ہونے کا حق تو رکھتا تھا یہی سوچتا ہوا اس نے بیڈروم کا دروازہ کھولا بیڈ روم کی لائٹ بھی ہنوز اف تھی۔۔۔۔ لائٹ آن کرتے ہیں پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا، مگر سامنے نظر پڑتے ہی وہ بری طرح ٹھٹک گیا "حور"

زین نے آگے بڑھتے ہوئے حور کو پکارا اور حور کی طرف آگے قدم بڑھائے

*****

زین کے بارے میں ساری معلومات بمعہ ایڈریس خضر کے سامنے تھی اور خضر فاتحانہ انداز میں مسکراتا ہوا کرسی پر بیٹھا ہوا سوچ رہا تھا

"بس حور میں آنے والا ہوں"
خضر اپنی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا کہ اچانک اس کے موبائل پر کال آئی جو خبر اس کو دی گئی وہ فورا افس سے دوڑتا ہوا باہر اپنی گاڑی کی طرف لپکا

****

"کیا سوچ رہے ہیں بلال بھائی"
وہ کسی گہری سوچ میں گم تھا جب تانیہ نے آکر اس سے پوچھا

"کچھ نہیں پانیہ کے جانے کے بعد گھر سونا سونا ہوگیا ہے"
بلال بات بناتے ہوئے بولا

"ہاں یہ بات بھی ہے"
تانیہ کے بولنے پر بلال نے چونک کر تانیہ کو دیکھا

"بھی، سے کیا مراد ہے تمہاری۔۔۔ یہی سوچ رہا ہوں اور کیا سوچوں گا "
بلال بولا

"ثانیہ کو تو جانا تھا آج نہیں تو کل"
تانیہ اداسی سے بولی

"ہاں یہ تو ہے تمہاری فائل بھی اوپر آ گئی ہے۔۔۔۔۔ ایک دن تم بھی اسی طرح اپنے گھر چلی جاؤ گی "
بلال نے آنکھوں میں شرارت لیے۔۔۔۔۔ پیار سے تانیہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔ بلال کو اپنی یہ بہن بہت عزیز تھی

"میں آپ کو اور بابا کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی"
 تانیہ نے ناراضی سے بولا

"ابھی خود ہی تو کہہ رہی تھی جس طرح ثانیہ کو آج نہیں کل جانا ہے، اس طرح میری گڑیا تمہیں بھی آج نہیں تو کل جانا ہے"
وہ اسے پیار سے سمجھانے لگا

"بھائی آپ نے اپنے بارے میں کیا سوچا ہے پھر"
تانیہ نے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا

"میرا کیا ہے ابو ہیں نا میرے پاس"
وہ اداسی چھپاتے ہوئے بولا

"بھائی فضا اب بھی آپ سے ۔۔۔"

"بس تانیہ چپ ہو جاؤ بالکل۔۔۔۔ اس کی شادی ہونے والی ہے، میں اب دوبارہ تمہارے منہ سے کوئی ایسی بات نہ سنو"
بلال نے تانیہ کی بات مکمل ہونے سے پہلے کاٹ دی اور کمرے سے باہر چلے گئے

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment