tni mohbbat karo na
by Zeenia sharjeel
Epi # 24
"حور"
زین آگے قدم بڑھاتا ہوا تیزی سے حور کی جانب بڑھا۔۔۔۔ وہ اوندھے منہ نیچے گری ہوئی تھی زین نے قریب آکر اس کو سیدھا کیا اس کے بال چہرے سے ہٹائے تو تکلیف کی ایک لہر اس کے سینے میں دوڑ گئی
"حور حور اٹھو آنکھیں کھولو پلیز"
وہ جو اس نے سوچا تھا ناراضگی کا اظہار کرے گا وہ تو ختم ہو گئی تھی اب تو اس کی جان پر بن آئی تھی اس نے حور کو بازوں میں اٹھا کر بیڈ پر لٹایا حور کے چہرے پر آنسوؤں کے نشان خشک ہوچکے تھے اور ماتھے پر لگا خون بھی جم گیا تھا پاوں بھی اسکا کانچ لگنے سے زخمی تھا۔۔۔۔۔ حور کی حالت دیکھ کر زین کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا اسے اپنے عمل پر، اپنے اوپر شدید غصہ آیا۔ وہ جلدی سے اٹھ کر فرسٹ ایڈ باکس لے کر آیا اور پہلے اس کے پاؤں کے زخم کو صاف کرنے لگا اور بینڈیچ کی، ماتھے کے زخم کو صاف کرکے آئنمنٹ لگایا۔۔۔۔ وہ ہلکا سا کسمسای زین نے اپنے لب حور کے ماتھے پر رکھ دیے۔۔۔ زین کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا
"پانی"
حور کی نقاہت زدہ آواز پر وہ اٹھا جلدی سے پانی لے کر آیا سہارا دے کر حور کو پانی پلایا حور نے آنکھیں کھول کر زین کو دیکھا اسے صبح والا واقعہ یاد آگیا۔۔۔۔ وہ زین سے دور ہو کر بیٹھنے لگی۔۔۔۔ شاید یہ ناراضگی کا اظہار تھا، یہ ڈر کا۔۔۔۔ مگر زین نے اس کو اپنے پاس سے دور ہوتے ہوئے دیکھ کر اسے خود سے مزید قریب کر لیا
"پلیز ایم ریلی سوری"
وہ اس کو خود میں بیچے ہوئے شرمندہ لہجے میں کہنے لگا
مگر حور نے زین سے فاصلہ قائم کرنا چاہا تو زین کچھ کہے بغیر پیچھے ہوا روم سے باہر چلے گیا باہر سے کھانا ارڈر کیا اور بیڈروم میں ہی کھانا لے کر آیا
"حور اٹھو کھانا کھا لو شاباش"
اس نے حور کو بچوں کی طرح بہلاتے ہوئے کہا
حور ویسے ہی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر لیٹی رہی جیسے اسے زین کی آواز ہی نہ آئی ہو
"تمہاری ناراضگی میرے ساتھ ہے کھانے سے نہیں ہے کھانا کھا لو پلیز"
وہ ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر حور کے قریب بیٹھتے ہوئے اس کا ہاتھ آنکھوں سے ہٹاتے ہوئے بولا
"میں تم سے ناراض نہیں ہوں کیونکہ ہمارے بیچ ایسا کوئی رشتہ نہیں تو ناراضگی کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے"
حور نے بناء ڈرے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
"چلو تو پھر آج ایسا رشتہ بھی قائم کر لیتے ہیں مگر پہلے کھانا کھا لو"
وہ بات کو دوسرے معنوں میں لے گیا اور حور کو اٹھانے لگا
"میرے اور تمھارے درمیان صرف زبردستی کا رشتہ ہے اور دوسرا کوئی رشتہ نہیں بن سکتا"
اس نے زین کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا
"زبردستی کا رشتہ ہے تو ایسے ہی سہی، اب تم اٹھ رہی ہو یا کھانا بھی زبردستی ہی کھلاؤں ۔۔۔۔فورا اٹھ جاو"
زین نے دھونس دکھانا ضروری سمجھا، کہیں کہیں پیار سے بات نہیں بنتی
"مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔۔ میں پلیز آرام کرنا چاہتی ہوں"
حور کا زرہ برابر دل نہیں چاہ رہا تھا اس شخص کی بات ماننے کا
"ہہہم۔۔۔۔ مجھے اندازہ ہو رہا ہے تم نخرے ہی اس لیے دکھا رہی ہوں تمھیں میرے ہاتھ سے کھانا کھانے کا دل چاہ رہا ہے"
زین نے پلیٹ میں سالن نکالتے ہوئے کہا
نہ چاہنے کے باوجود اسے اٹھنا پڑا کیوکہ وہ جانتی تھی وہ اپنی ہی چلائے گا کھانا دونوں نے خاموشی سے کھایا
"مجھے میری ماما سے بات کرنی ہے"
جب زین بیٹھ پر برابر میں بیٹھا ہوا لیپ ٹاپ یوز کر رہا تھا کافی دیر سوچنے کے بعد حور نے بولا
"میں نے کچھ کہا ہے تم سے"
جب زین نے اس کی بات کا کوئی رسپانس نہیں دیا تو وہ دوبارہ بولی
دل میں کہیں ڈر بھی تھا، صبح وہ اس کا غصہ دیکھ چکی تھی۔۔۔ مگر کب تک وہ اپنی ماں سے نہیں ملتی حور نے سوچ لیا اب تو آر یا پھر پار
"حور ہم اس ٹاپک پر بعد میں بات کریں گے پلیز ابھی سو جاؤ تم"
زین نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے کہا کام وہ مکمل کرچکا تھا
"میری زندگی کا مجھ پر اتنا بھی اختیار نہیں کہ میں اپنی ماں سے مل سکوں اتنا حق تو دو مجھے"
حور نے اب غصے میں کہا
"ٹھیک ہے اگر حق کی بات ہے تو پھر تم مجھے پہلے میرا حق دو"
زین نے حور پر جھگتے ہوئے کہا
"یہ۔۔۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہو"
حور اپنی گردن پر زین کی گرم سانسوں کی تپش سے ایک دم بوکھلائی، زین کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور کرنا چاہا۔۔۔۔
"پلیز حور اب نہیں"
زین اس کی ہلکی سی مزاحمت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے، اس کے ہاتھ اپنے سینے سے ہٹا کر اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا، وہ حور کی بے ترتیب ہوتی دھڑکنیں آسانی سے سن سکتا تھا۔۔۔۔ زین نے پورے استحقاق سے اپنا حق وصول کیا، زین کے جذبوں کی شدتوں کے اگے حور نے بھی اپنی ہلکی پھلکی مزاحمت ترک کرکے خود کو زین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا
****
خضر کال سن کر گاڑی کی طرف بھاگا جلد سے جلد اسے ہسپیٹل پہنچنا تھا۔ جہاں فاطمہ کو لے کر گئے تھے ابھی صبح ہی تو ٹھیک تھی اچانک کیا ہوا اتنی طبیعت کیسے خراب ہو گئی۔۔۔۔ یہی سوچتے ہوئے وہ ہوسپٹل پہنچا ظفر مراد وہاں پہلے ہی موجود ہے
"کیا ہوا ابو کیسی طبیعت ہے امی کی"
خضر نے بےقراری سے پوچھا۔۔۔۔ کچھ بھی تھا وہ اس کی ماں تھی اور اسے اپنی ماں سے محبت تھی
"ٹھیک ہے طبیعت ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں خطرے والی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔ بی پی ہائی ہونے کی وجہ سے حالت بگڑ گئی تھی، عبداللہ (نوکر) نے فون کر دیا تو میں اسے ہوسپٹل لے کر آگیا۔۔۔ جاو جاکر مل لو"
خضر روم کی طرف بڑھا
"کیسی طبیعت ہے امی اب آپ کی؟ کیا کر لیا آپ نے اچانک"
خضر نے چیئر پر بیٹھے ہوئے پوچھا
"تمہیں کیا فرق پڑتا ہے میں زندہ رہوں یا مرو"
وہ صبح کی بات شاید اب تک دل پہ لئے ہوئے بیٹھی تھی
"آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔۔۔ ماں ہیں آپ میری، میرے لیے اہمیت کی حامل۔۔۔ کیا مجھے فرق نہیں پڑے گا"
خضر نے ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھ رہا تھا
"اگر اتنی ہی اہمیت ہے میری تو پھر میری بات کو بھی اہمیت دو"
فاطمہ نے پھر وہی بعد شروع کردی
"امی یہ کوئی وقت ہے ان باتوں کا آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ ڈاکٹر نے بات کرنے سے منع کیا ہے آپ کو، آپ پلیز ریسٹ کریں"
خضر کھڑکی سے باہر دیکھ کر بولنے لگا
****
اشعر کسی کام سے بلال کی طرف جا رہا تھا جب بس اسٹاپ پر ایک منظر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ کوئی لڑکا بہت بدتمیزی سے تانیہ کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہا تھا اور جب وہ جانے لگی تو اس کو روکنے کے چکر میں غیر ارادی طور پر تانیہ کا اسکارف کھینچا۔ ۔۔۔ وہ حلیہ سے ہی کوئی موالی ٹائپ انسان لگ رہا تھا اس لئے لوگ بھی تماشہ دیکھ رہے تھے، اشعر گاڑی سے اتر کر اس لڑکے پر مکے برسانے لگا تانیہ جو کہ پہلے ہی بہت ہراساں نظر آرہی تھی، اب باقاعدہ رونے لگی
"ابے کون ہے تو"
وہ لڑکا ایک دم پڑنے والی افتاد پر بوکھلا کر کہنے لگا
"میں جو بھی کوئی ہو، اگر تو نے اپنی ہمشیرہ کا راستہ آئندہ روکا۔۔۔ تو سیدھے راستے سے تو اوپر جائے گا"
مزید اس کا سر گاڑی کی بونڈ پر مارتا ہوا بولا
"تانیہ آئیے گاڑی میں بیٹھئے"
اشعر تانیہ کے پاس آ کر بولا، تماشہ دیکھنے والوں کا رش کافی بڑھ گیا تھا تانیہ بھی فورا گاڑی میں بیٹھ گئی
اشعر گاڑی وہاں سے دور لے گیا۔۔۔ وہ ابھی تک اپنے آنسو پوچھ رہی تھی جب اشعر نے ٹشو بوکس سے ٹشو نکال کر اس کو دیا
"آپ کو اس طرح اکیلے نہیں نکلنا چاہیے تھا"
اشعر نے ایک جگہ گاڑی روک کر بات شروع کی
"میں روز فضا کے ساتھ یونیورسٹی جاتی ہو، مگر اج کسی وجہ سے فضا نہیں آئی اور وہ مجھے کافی دن سے پریشان کر رہا تھا مگر آج اکیلا دیکھ کر۔۔۔۔۔
تانیہ نے بات ادھوری چھوڑی
"بلال کو کیوں نہیں بتایا آپ نے"
اشعر کو ابھی بھی اس لڑکے پر غصہ آ رہا تھا اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے بولا
"میں ڈر گئی تھی۔۔۔۔ اگر بھائی کو بتاتی تو وہ اس لڑکے کو زندہ نہیں چھوڑتے اور اگر بھائی کو کچھ ہو جاتا تو ہمارا کیا ہوتا"
"اور اگر خدانخواستہ آپ کو کچھ ہو جاتا تو میرا کیا ہوتا"
وہ بغیر سوچے سمجھے جلدی میں کیا بول گیا یہ بولنے کے بعد احساس ہوا۔ دونوں کی نگاہیں ملیں۔۔۔ مگر بیل کی آواز پر دونوں کی چونکے
"ہاں بلال بولو"
اشعر نے کال اٹینڈ کرکے کہا
"بولو کیا؟؟؟ تم یہاں آنے والے تھے نا۔ ۔۔۔ میں کب سے ویٹ کر رہا ہوں تمہارا"
بلال میں بولا
"ہاں یار بس پہنچ رہا ہوں"
اس نے تانیہ کو دیکھتے ہوئے کہا اور کال ڈسکنکٹ کردی
"چلیں آپ کو گھر ڈراپ کر دو"
اشعر نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا
"نہیں آج بہت امپورٹنٹ کلاس ہے۔ مجھے یونیورسٹی جانا ہوگا۔۔۔۔۔ میں یہاں سے چلے جاؤ گی"
تانیہ نے جھجھکتے ہوئے کہا
"اکیلے کیسے جائیں گیں آپ۔۔۔ میں آپ کو یونیورسٹی ڈراپ کر دیتا ہوں"
اشعر نے کار کا رخ یونیورسٹی کی طرف موڑتے ہوئے کہا
*****
صبح زین کی آنکھ کھلی کافی دیر تک وہ لیٹا رہا پھر برابر میں حور کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
کل رات جو کچھ ہوا۔۔۔۔۔ فلحال وہ ایسا ارادہ نہیں رکھتا تھا، اس نے خود حور کو اس رشتے کے لیئے وقت دینے کا سوچا تھا وہ حور کی مرضی کے بناء ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ مگر کل رات جب حور نے اپنی ماما سے ملنے کی بات کی، پہلے تو زین نے اگنور کیا وجہ یہ نہیں کہ وہ حور کو اس کی ماما سے ملوانا نہیں چاہتا، وہ فل الحال ظفر مراد اور خضر کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔ وجہ یہ بھی نہیں تھی کہ وہ ان لوگوں سے ڈرتا تھا۔۔۔۔ اس نے نیا بزنس اسٹارٹ کیا تھا جیسے زیادہ وقت دینا تھا، بس وہ اس وقت کوئی دوسرے چکروں میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔ مگر جب حور ضد کرنے لگی اور اس نے حق کی بات کی تو زین نے سوچ لیا اپنا اور حور کا رشتہ خراب کرنے سے بہتر وہ اس کی ماما سے اس کو ملاوا دے ۔۔۔۔۔ظفر مراد یا خضر جو بھی کرتے ہیں، وہ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی مگر اس سب سے پہلے اسے اپنا اور حور سے رشتہ مضبوط کرنا تھا۔۔۔۔۔۔ کہیں شاید اسے اندر سے اس بات کا ڈر تھا حور اپنی ماما سے ملنے کے بعد اسے نہ بھول جائے بس وہ چاہتا تھا حور کو اپنا اور زین کا رشتہ یاد رہے، حور کو اپنے ساتھ رکھنے کی یہ لاشعوری کوشش تھی۔۔۔۔ کچھ بھی ہو اب وہ حور سے دوری افورڈ نہیں کر سکتا تھا
چہرے سے بال ہٹاتے ہوئے (پری) منہ ہی منہ میں بولا فریش ہو کر کچن میں چلا گیا۔ ناشتہ لے کر آیا تو حور ابھی تک بے خبر سو رہی تھی
"اور کتنی دیر تک نیند پوری کرنے کا ارادہ ہے، میری نیند آڑا کر"
زین اس پر جھکتے ہوئے بولا حور کی آنکھ کھل گئی
رات کا سوچ کر حور کی آنکھیں شرم سے جھک گئی۔۔۔۔۔ جبکہ زین مسکراتی نگاہوں سے اس کے چہرے پر آئے ہوئے سارے رنگ انجوائے کررہا تھا
"گڈ مارننگ"
حور کو جب کچھ نہ سمجھ نہ آیا تو اس معنی خیز خاموشی کو توڑنے کے لئے کہا
"میری کوئی مارننگ اتنی گڈ ہو بھی نہیں سکتی، تھینکس میری مارننگ کو گڈ منانے کے لیے"
وہ حور کا ہاتھ اپنے لبوں پر لگاتے ہوئے بولا
حور کی نظریں مزید جھک گئی اس کی نظروں میں حیا کا رنگ تھا ناکہ زبرستی حق وصول کرنے کا شکوہ۔۔۔۔ اس بات نے زین کو اندر سے مزید اطمینان بخشا
"چلو اب بلش کرنا بند کرو اور ناشتہ کرو"
زین نے مزید اس کے لال چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
دونوں نے ناشتہ خاموشی سے کیا، اس کے بعد زین نے حور کے پاوں کی ڈریسنگ کی۔۔۔
"شکر ہے زخم زیادہ گہرا نہیں تھا"
زین نے دل میں سوچا ایک دفعہ پھر اپنے اوپر ملامت کرنے لگا کہ اس کی وجہ سے حور نے تکلیف اٹھائی
سارے عرصے میں بینڈیج کے دوران حور خاموشی سے زین کو دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔۔کل رات جو اس کی زندگی میں جو تبدیلی رونما ہوئی تھی۔۔۔بے شک اس سب میں حور کی مرضی شامل نہ ہو، مگر آج صبح اسے زین کا نیند سے جگانا، ناشتہ کروانا اور بینڈیج کرنا برا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ اپنی اس بدلتی ہوئی کیفیت کو کچھ نام نہیں دے پا رہی تھی
"اب بیڈ سے اٹھنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں، سعیدہ آکر خود صفائی کر لے گئی۔ دروازہ لاک نہیں ہے میں افس کے لئے نکل رہا ہوں شام میں جلدی آ جاؤں گا اور ہاں کھانا میں لیتا آوں گا تم بس ریسٹ کرو"
حور کےچہرے پر آئے ہوئے بال پیچھے کرتے ہوئے زین نے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دئے اور آفس کے لیے روانہ ہو گیا
حور عجیب محسوسات میں گھری ہوئی اپنی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی
"بی بی جی صفائی ساری کر لی ہے، میں جا رہی ہو، آپ باہر کا دروازہ بند کر لیں"
سعیدہ کی آواز پر حور نے آنکھیں کھول کر دیکھا
"ٹھیک ہے تم جاو میں دروازہ بند کر لیتی ہوں"
حور نے دوبارہ آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا
ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی حور کو دروازہ کھلنے کی آواز آئی محسوس ہوا جیسے کہ کوئی گھر میں اندر داخل ہوا ہے۔۔۔۔وہ بیڈ سے ایک دم اٹھی
"کون ہے"
کوئی قدم بڑھاتا ہوا بیڈروم کی طرف آ رہا تھا حور گھبرا گئی
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment