Monday, December 10, 2018

episode 25


tni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 25



زین گھر سے نکلا تو معمول کے مطابق نادیہ بیگم کے پاس گیا وہاں پر تھوڑا وقت گزار کر افس آگیا۔۔۔۔۔ بلال وہاں پہلے ہی موجود تھا آفس ورک ڈسکس کرکے زین نے بلال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

"رضیہ خالہ کا فون آیا تھا میرے پاس وہ بتا رہی تھی کہ فضا کا نکاح ہے"
زین نے بلال کو دیکھتے ہوئے کہا

"ہاں پرسوں آئی تھیں گھر پر تو بتا رہی تھیں"
بلال نے میز کی سطح کو دیکھتے ہوئے جواب دیا

"ای تھنک تم غلط کر رہے ہو، اپنے ساتھ بھی اور فضا کے ساتھ بھی"
زین نے دوبارہ وہی ٹاپک شروع کیا

"لیو دس ٹاپک زین اب وقت نکل چکا ہے کچھ نہیں ہوسکتا اب"
بلال نے سنجیدہ لہجے میں فائل اپنے سامنے رکھتے ہوئے کہا

"وقت ابھی ہاتھ میں ہے بلال۔۔۔ ہم کچھ کرسکتے ہیں ابھی بھی"
زین نے چیئر سے آگے کھسکتے ہوئے کہا

"مثلا کیا؟ کیا کر سکتے ہیں"
بلال نے فائل پر سے نظر اٹھاتے ہوئے کہا

"ہم خالہ خالو سے بات کرسکتے ہیں اور مجھے یقین ہے میں انہیں تمہارے لئے آرام سے قائل کر لوں گا"
زین نے بلال کو دیکھتے ہوئے کہا

"زین تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔۔۔ میں تمہیں بتا رہا ہوں وقت اب نکل چکا ہے۔۔۔۔ تماشا لگانے کی ضرورت نہیں ہے اور ویسے بھی فضا ایک اچھی لائف ڈیزرف کرتی ہے، جو اسے میرے ساتھ تو نہیں مل سکتی اس لئے میں مطمئن ہوں"
بلال نے اپنا لہجے میں بشاشت پیدا کرتے ہوئے کہا

"مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ دیکھ کر لگ رہا ہے کہ تم کتنے مطمین ہوں"
زین نے سنجیدہ لہجے میں سر جھٹکتے ہوئے کہا

"ہیلو بڈییز کیا چل رہا ہے"
اشعر نے آتے ہی چہکتے ہوئے کہا

"کچھ نہیں تمہارا ہی ویٹ ہو رہا تھا کہاں رہ گئے تھے تم"
بلال نے پوچھا

"یار کچھ نہیں بس گھر کے کاموں میں پھنس گیا تھا"
آشعر نے اپنی ہی ترنگ میں جواب دیتے ہوئے کہا

زین خاموش نظروں سے اسی کو دیکھ رہا تھا اشعر نے زین کی طرف دیکھا

"کیا ہوگیا میرے بھائی ایسے کیوں گھور رہے ہو"
اشعر سے رہا نہ گیا تو زین کو مخاطب کرتے ہوئے بولا

"دیکھ رہا ہوں آج کل تم کچھ زیادہ ہی چہک رہے ہو"
زین نے اشعر کو دیکھتے ہوئے سنجیدہ انداز میں کہا

"تو چہکنا، خوش ہونا۔۔۔ کوئی بری بات تو نہیں ہوتی نا میرے دوست"
اشعر نے گڑبڑاتے ہوئے جواب دیا

"تو اس چہکنے، خوش رہنے کی کوئی (خاص وجہ) بھی تو ہو گی نہ۔۔۔۔دوستوں سے شیئر نہیں کرو گے یا اس (خاص وجہ) کا میں خود ہی پتہ لگاؤ"
زین نے ٹیبل سے سگریٹ اٹھائی اور پاکٹ سے لائٹر نکالتے ہوئے کہا

"او بھائی میرے!  یہ دیکھ اور مجھے معاف کر"
اشعر نے زین کے آگے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا

"چلو یار تمہیں بھی معاف کیا۔۔۔۔ کیا یاد کرو گے تم بھی"
اسموکنگ کرتے ہو اپنے لیب ٹاپ پر مصروف ہوگیا

جبکہ دوسری طرف اشعر، اپنے اس دوست کے اندر کا جاسوس بیدار ہوتے ہوئے دیکھ کر محتاط ہو گیا۔ پھر خاص وجہ (تانیہ) کا خیال آیا تو لبوں پر مسکراہٹ آ گئی جسے وہ فورا چھپا گیا

****

"کون؟ کون ہے" حور نے بیڈ روم سے باہر نکلتے ہوئے کہا

سامنےکھڑے شخص کو دیکھ کر اس کی آنکھیں پوری طرح گھل گئی

"خضر بھائی آپ"
وہ بے یقینی سے خضر کو  دیکھتے ہوئے بولی

"کیسی ہو حور تم اور یہ کیا ہوا ہے تمہیں"
وہ بے قراری سے اس کی طرف بڑھا اور ماتھے کو چھونا چاہا جب ہی حور دو قدم پیچھے ہوئی تو خضر رک گیا

"وہ ۔۔۔۔وہ میں گر گئی تھی"
حور نے اپنے ماتھے کو انگلیوں سے چھوتے ہوئے بولا

"ماما کیسی ہیں خضر بھائی؟؟ وہ ٹھیک تو ہیں ناں اور گھر میں سب کیسے ہیں"
حور کو اپنی ماما کے ساتھ ساتھ گھر بھی یاد آیا۔۔۔۔ جیسا بھی تھا ایک وقت وہاں گزارا تھا اس نے

"اسماء چاچی ٹھیک ہیں،  تمہیں بہت مس کرتی ہیں۔۔۔۔ گھر میں بھی سب ٹھیک ہے، ماہم کی منگنی ہوگئی ہے شادی کی تیاریاں چل رہی ہیں۔۔۔۔۔سب ویسے ہی ہے بس میں کہی تھم گیا ہو"
آخری فقرہ خضر نے دل میں بولا

"ماما کو بہت مس کیا ہے میں نے۔۔۔۔ شکر ہے وہ ٹھیک ہیں آپ ان کا خیال رکھیے گا پلیز"
بہت دنوں بعد کسی  اپنے کو دیکھ کر، اپنے سے باتیں کر کے اس کی آنکھیں بھر آئیں

"حور تم میرے ساتھ ابھی چل رہی ہو۔۔۔۔ میں تمہیں لینے آیا ہوں"
خضر نے حور کو روتے ہوئے دیکھ کر کہا

"میں۔۔۔۔ میں کیسے جا سکتی ہوں خضر بھائی"
حور نے اپنے لہجے میں حیرت سموتے ہوئے خضر سے کہا

"کیا مطلب ہے تمہارا؟ کیسے نہیں جاسکتی ہوں تم میرے ساتھ۔۔۔  وہ تمہارا گھر ہے، جہاں  میں تمہں لے کر جا رہا ہوں، چچی انتظار کر رہی ہیں تمہارا"
خضر نے حور سے زیادہ نے حیرت میں مبتلا ہو کر، حور سے کہا جیسے وہ توقع نہیں کر رہا تھا حور سے اس بات کی

"آپ۔۔۔۔۔ آپ ابھی جائے خضر بھائی میں آوگی تھوڑے دنوں بعد ماما کے پاس، سب لوگوں سے ملنے آپ کے گھر پر"
حور نے "آپ کے گھر" کہا، شاید اس کے دماغ نے قبول کر لیا تھا کہ وہ گھر اب اس کا اپنا نہیں ہے۔۔۔ یہ گھر اس کا اپنا ہے جہاں وہ کھڑی ہے

"حور تمھیں اس شخص سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، میں آگیا ہوں اور اب وہ شخص تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا"
خضر نے حور کو سمجھانا چاہا

"میں ڈر نہیں رہی ہوں خضر بھائی، میں سچ بول رہی ہوں میں بہت جلد ماما سے اور آپ لوگوں سے ملنے آؤگی"
حور نے جواب دیا   

"حور تم کیسی باتیں کر رہی ہو، تم اس کرمنل کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہوں۔۔۔۔ حالت دیکھو اپنی زرہ کیا حالت بنا دی اس نے تمہاری"
حور آج اسے حیران کرنے پر تلی ہوئی تھی اس کی باتیں خضر کو شاک پر شاک دے رہی تھی

"وہ کرمنل اب میرا ہزبینڈ بھی ہے اور ایسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہے ہیں۔۔۔ وہ تو میں گر گئی تھی اس لئے چوٹ لگ گئی ہے۔۔۔۔آپ پلیز ابھی جائیں"
حور نے وضاحت دینی چاہی

"حور تم میرے ساتھ اس وقت چل رہی ہو اور یہ میں تمہیں آخری دفعہ کہہ رہا ہوں"
خضر کو اب حور پر غصہ آنے لگا

"آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ہیں خضر بھائی اور نہ ہی مجھ پر ایسا کوئی حق رکھتے ہیں۔۔۔۔ میں آپ سے کہہ رہی ہو ناکہ میں بہت جلد گھر آو گی تو آپ سمجھ کیوں نہیں رہے ہیں میری بات کو"
حور تھوڑا تلخ ہو کر بولی شاید زندگی میں پہلی بار حور نے خضر سے اس لہجے میں بات کی تھی 

خضر چپ کر کے حور کو دیکھتا رہا اور پھر جانے کے لئے قدم اگے بڑھائے مڑ کر واپس دیکھا

"میں دوبارہ آؤں گا"
 یہ بول کر وہ رکا نہیں چلا گیا

وہ اپنے ادا کیے ہوئے لفظوں پر خود بھی حیران تھی۔۔۔ کیا ایک رات میں سب کچھ بدل گیا تھا۔۔۔۔ شاید ہاں؟ وہ شخص جس نے اسے زبردستی نکاح کیا، جس کے ساتھ وہ خود نہیں رہنا چاہتی تھی، بھاگ جانا چاہتی تھی اور اب موقع بھی تھا تو وہ کیوں کھڑی تھی اس کے گھر میں۔۔۔۔۔۔۔ کیوں وہ اس شخص کی وضاحتیں اور صفایاں دوسروں کو دے رہی تھی اور اسے اپنا ہسبینڈ  کہہ رہی تھی۔۔۔۔ کیا وہ اسے اپنا ہسبنڈ ایکسپٹ کر چکی تھی وہ خود بھی الجھ گئی

زین آج سے دروازہ لاک کرکے نہیں گیا تھا۔ تو کیا اسے بھی اندازہ ہو گیا تھا وہ اب کہیں نہیں جائے گی۔۔۔۔۔ یا شاید وہ بھی اس پر اعتبار کرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ سارا دن بس یہی باتیں سوچتی رہی، پھر اپنے شکن آلود کپڑوں پر نظر ڈال کر الماری کی طرف بڑھ گئی

*****

زین جب گھر پہنچا تو حور کو ٹیرس میں کھڑے ہوئے پایا وہ کسی گہری سوچ میں گم تھی۔  زین چلتا ہوا اس کے پیچھے آکر رکا حور کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور اس کے سر  کا بوسہ لیا۔۔۔۔ حور جو آج سارا دن ایک عجیب وغریب کیفیت میں گھری ہوئی تھی، زین کو دیکھ کر چونکی

"کیسی طبیعت ہے اب سویٹ ہارٹ"
زین نے حور کا رخ اپنی طرف موڑ کر ماتھے کے زخم کو انگلی سے چھوتے ہوئے پوچھا

"ٹھیک ہے طبیعت"
حور نے نظریں  جھکائے آہستہ سے جواب دیا

"کیا کیا آج سارا دن؟ مجھے مس کیا؟
وہ حور کی کمر کے گرد اپنے دونوں ہاتھ حائل کیے ہوئے گہری نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا

حور نے بنا کوئی جواب دیے ہوئے نظریں اٹھا کر زین کو دیکھا

"ذرا سا بھی نہیں"
وہ اب بھی دلچسپی سے مسکراتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ اسی کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا

"میں چائے لے کر آتی ہوں"
حور نے دوبارہ پلکیں جھکائیں اور ٹیرس سے جانے لگی          تو زین نے ہاتھ پکڑ کر روک لیا

"رہنے دو چائے کا موڈ نہیں ہے، بغیر سویٹر کے یہاں کیوں کھڑی ہو؟ سردی لگ جائے گی اندر چلو"
وہ فکرمندی سے کہتا ہوں اسے ٹیرس سے لے آیا

حور کچن میں جاکر، منع کرنے کے باوجود چائے بنانے لگی چائے لے کر روم میں آئی تو زین ڈریس چینج کر چکا تھا
زین کو چائے کا کپ تھما کر وہ اپنا کپ لے کر بیڈ پر بیٹھ گئی

"کیسا گزرا آج کا دن"
زین نے چائے کا کپ لبوں پر لگاتے ہوئے پوچھا

"ہہہم صحیح گزرا"
اس نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے جواب دیا

"اس طرح گھر میں فارغ بیٹھنے سے بہتر ہے تم اپنی اسٹیڈیز دوبارہ شروع کر دو۔۔۔۔۔ایڈمیشن اوپن ہو جائے تو تمہیں فارم لاکر دے دوں گا"
زین نے چائے کا خالی کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا

"ایک بات پوچھوں تم سے"
حور نے سوال کیا

"پوچھو"
زین اس کو دیکھتے ہوئے بولا

"تم آج آفس جاتے ہوئے باہر سے دروازہ کیوں نہیں لاک کر کر گئے۔۔۔۔ اگر میں اس گھر سے چلی جاتی تو"
حور آج سارا دن خود اس سوال کا جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئی تو یہ سوال اس نے زین سے پوچھ لیا

"دروازہ باہر سے اس لئے لاک کرکے نہیں گیا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ جب میں گھر آؤں گا تو تم گھر میں موجود میرا انتظار کر رہی ہو گی"
زین بیڈ پر حور کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولا

زین کے لہجے میں یقین دیکھ کر حور اس کو دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔ اتنے دنوں میں آج پہلی بار حور نے زین کو غور سے دیکھا بلاشبہ وہ ایک اچھی پرسنالٹی کا مالک تھا

"لے لیا اچھی طرح میرا جائزہ"
حور زین کی آواز پر چونکی

"نہیں میں تو بس ویسے ہی"
حور کی چوری پکڑی گئی اوپر سے اس سے بات نہیں بنی، تو وہ اچھی خاصی نروس ہو گئی

"بس ویسے ہی کیا"
اب وہ اس کے اوپر جھگتے ہوئے پوچھ رہا تھا

"پلیز ہٹو مجھے رات کے کھانے کے لئے تیاری کرنی ہے"
حور زین کو پیچھے کرتے ہوئے اٹھنے لگی

"چپ کر کے بیٹھی رہو، کوئی ضرورت نہیں ہے کہ کچن میں جانے کی ڈنر آج ہم بات کریں گے"
اس سے پہلے وہ مزید اپنی چلاتا موبائل کی بیل نے اس کے کام میں خلل ڈالا زین پیچھے ہٹتا ہوا کال ریسیو کرنے لگا۔۔۔۔ اتنے میں حور کو موقع ملا تو   وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر کاوچ پر آکر بیٹھ گئی

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment