Monday, December 10, 2018

episode 26


tni mohhbat karo na
By zeenia shaejeel
episode 26

اس سے پہلے وہ مزید اپنی چلاتا موبائل کے بیل نے اس کے کام میں خلل ڈالا زین پیچھے ہٹتا ہوا کال ریسیو کرنے لگا۔۔۔۔ اتنے میں حور کو موقع ملا تو وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر کاوچ پر بیٹھ گئی

"ہاں فیصل بولو کیا خبر ہے"
زین سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے بولا

دوسری طرف سے کچھ بولا جارہا تھا جو زین بہت غور سے سن رہا تھا
حور اس کو غور سے دیکھ رہی تھی

"ٹھیک ہے ابھی کے لئے اتنی انفارمیشن کافی ہے۔۔۔۔نہیں ابھی تھوڑے دن روک جاؤ جب میں کہوں تب کام کرنا، ابھی صرف اس پر نظر رکھو"
زین نے کال کاٹ کر کے موبائل بیڈ پر اچھلا

حور کو زین کی باتیں سن کر کچھ عجیب سا لگا۔ ۔۔ آج صبح والی خضر کی باتیں یاد آنے لگیں

"حور تم کیسی باتیں کر رہی ہو تم اس کرمنل کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہوں"
اس کا دل بجھ سا گیا تھوڑی دیر پہلے چھایا ہوا سکوت جو ماحول ڈھاکے ہوئے تھا وہ چھناکے سے ٹوٹا

"کیا کرتا پھر رہا ہے یہ شخص۔۔۔۔ کیا یہ الٹے سیدھے کام چھوڑ کر راہ راست پر نہیں آسکتا۔۔۔۔ پتہ نہیں کس بے چارے کی شامت آئی ہوئی ہے، جس کے پیچھے اپنا جاسوس لگا دیا نظر رکھنے کے لئے۔۔۔۔ کہیں اس نے میرے اوپر بھی تو نظر نہیں رکھوائی"

اس سوچ کے آتے ہی حور کو جھرجھری سی چڑی

"اگر اسے یہ پتہ چل گیا کہ آج خضر بھائی آئے تھے۔۔۔۔۔ کیا مجھے اسے بتانا چاہیے۔۔۔۔ نہیں، نہیں"
اس سے آگے حور سے سوچا ہی نہیں گیا

"اللہ پاک پلیز اس بندے کو سدھار دیجیے"
اس کے دل نے شدت سے یہ دعا کی شوہر تو وہ اسے قبول کر چکی تھی بس اب اسے راہ راست پر لانے کے لئے دعا ہی کر سکتی تھی

"اتنا کیوں خود کو سوچ سوچ کر ہلکان کر رہی ہو جو بات دل میں ہے وہ سیدھا سیدھا پوچھ لو"
زین کافی دیر سے حور کے چہرے کے اوتار چڑھاؤ دیکھ کر بولنے لگا

"اور وہ بات تم مجھے سیدھے سیدھے بتا دو گے"
حور نے سنجیدگی سے زین کو جواب دیا

"کیوں نہیں سویٹ ہارٹ جو بات تم سے تعلق رکھتی ہے وہ تم مجھ سے پوچھوں میں تمھیں بتا دوں گا"
زین نے بیڈ کے کراون سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا

"ابھی تم موبائل پر کس پر نظر رکھنے کی بات کر رہے تھے"
حور نے ہمت کر کے پوچھا

زین نے غور سے حور کو دیکھا اور ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پاس آنے کے لیے کہا۔۔۔۔۔۔حور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی بیڈ کے پاس آکر کھڑی ہوئی۔ ۔۔۔  زین نے حور کو دیکھتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا،  جسے تھوڑی جھجک کے بعد حور نے تھام لیا۔۔۔۔ زین نے حور کا ہاتھ کھینچا۔۔۔۔ تو حور خود بھی کھنچتی ہوئی زین پر آگری
زین نے نرمی سے اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لیا

"اس بات کا تعلق تم سے بالکل بھی نہیں ہے، ادھر ادھر کی باتوں پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ صرف اپنے اور میرے متعلق سوچا کرو، بات کیا کرو۔۔۔ جو میں چاہتا ہوں وہ تم مجھ سے پوچھتی نہیں۔۔۔۔۔۔ اگر وہ سب باتیں جان لو پھر تمہیں سارے سوالوں کے جواب خود مل جائیں گے۔۔۔ ساری الجھنیں ختم ہو جائیں گی"
وہ حور کے چہرے پر آئے ہوئے بال ہٹاتے ہوئے نرم لہجے میں کہہ رہا تھا

حور کو اس کی کوئی بات سمجھ  نہیں آئی بلکہ سب کچھ حور کے سر پر سے گزر گیا

"کیا ایسی کوئی بات ہے جو تم مجھے بتانا چاہتی ہوں"
زین گہری نظروں سے حور کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا

"نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔ میں چینج کرکے آتی ہو ہمیں ڈنر کے لیے باہر جانا ہے نا"
ایک لمحے کو حور کے دل میں خیال آیا کہ آج صبح خضر والی بات بتا دی لیکن اگلے ہی لمحے حور نے اپنے خیال کی نفی کی 

"چینج کرنے کی ضرورت نہیں ہے ایسے ہی سہی ہے، اگر اور زیادہ خوبصورت لگی تو شاید پھر ڈنر کا پروگرام کینسل کرنا پڑے"
زین بھی بیڈ سے اٹھتے ہوئے بولا

****

ریسٹورینٹ کے اچھے ماحول میں ڈنر کے بعد زین میں حور کے لئے چاکلیٹ فلیور کی آئسکریم منگوای

"تمھیں کیسے پتہ چلا کہ آئسکریم میں مجھے چاکلیٹ فلیور پسند ہے"
حور نے اپنی پسند کا فلیور دیکھ کر بے ساختہ زین سے پوچھا

"مجھے تمہاری ہر پسند ناپسند کے بارے میں معلوم ہے اور ابھی سے نہیں بہت پہلے سے"
زین نے ہاتھ کی مٹھی کو بند کرتے ہوئے اپنے لبوں پر رکھا اور مسکراتی ہوئی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے حور کو بولا

"مثلا کیا کیا معلوم ہے تمہیں؟؟
حور نے چونکتے ہوئے پوچھا

"تم سوال کرتی جاو میں تمہاری پسند ناپسند بتاتا جاؤنگا"
زین نے کانفیڈنٹ ہو کر کہا

"ہاں تمہیں تو سب معلوم ہوسکتا ہے۔ ۔۔ ہر کسی کی معلومات رکھنے کے لئے تم لوگوں کے پیچھے بندے جو لگا دیتے ہو"
حور کے منہ سے ساختہ نکل گیا یہ جانے بناء کے زین کا ری ایکشن کیا ہوگا 

"ہاہاہاہا مگر مجھے تمہیں جاننے کے لئے تمہارے پیچھے کسی کو لگانے کی ضرورت نہیں ہے"
جیسے وہ اس کی بات سے مختطوط ہوا ہوں

"اپنی ماما سے ملنا ہے تمہیں"
زین کے اچانک سوال پر حور کا منہ میں لے جاتا ہوا آئس کریم والا ہاتھ وہی تھم گیا اور وہ اسکو بے یقینی سے دیکھنے لگی

"تم۔۔۔  تم واقعی مجھے میری ماما سے ملواؤں گے"
حور کی آنکھوں میں ابھی تک حیرت تھی، جیسے اسے زین کی بات کا یقین نہیں آ رہا ہوں

"ہہہم یہ ایسکریم ختم کرو پھر چلتے ہیں"
زین نے اس کا خوشی سے تمتماتا ہوا چہرہ دیکھ کر کہا

"بس کھالی میں نے اب ہمیں چلنا چاہیے"
حور آدھی آئسکریم چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی تو زین بھی کھڑا ہو گیا

******

"حور میں تمہارا یہی ویٹ کر رہا ہوں آدھے گھنٹے کے اندر واپس آو اپنی ماما سے مل کر"

زین نے ظفر مراد کے گھر سے باہر گاڑی روکتے ہوئے کہا

"تم اندر نہیں آؤ گے"
حور نے جھجکتے ہوئے پوچھا

"نہیں میں تمہارا باہر ہی ویٹ کر رہا ہوں"
زین نے منہ میں سگریٹ رکھتے ہوئے کہا

حور کار سے اتر گئی، کتنے دنوں بعد وہ اپنے گھر کو دیکھ رہی تھی اندر کی طرف بڑھی تو عبداللہ نے دروازہ کھولا

"ارے حور بی بی آپ"
عبداللہ حیرت سے دیکھتے ہوئے بولا

"کیسے ہو عبداللہ گھر میں سب کہاں ہیں کوئی نظر نہیں آ رہا"
حور اندر داخل ہوئی پورے گھر پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا

"سب لوگ بڑی بیگم صاحبہ (فاطمہ تائی) کو دیکھنے اسپتال گئے ہوئے ہیں"
عبداللہ نے بتایا

"کیوں کیا ہو گیا فاطمہ تائی ہو"
حور نے حیرت سے پوچھا

"آج صبح اچانک طبیعت خراب ہو گئی تھی،  میں نے بڑے صاحب کو فون کرکے بتایا تو وہ انھیں اسپتال لے کر گئے ہیں۔۔۔۔ کافی دیر ہو گئی ہے جی سب لوگوں کو اسپتال گئے ہوئے"
عبداللہ نے سب تفصیل سے بتایا

"اور ماما؟ وہ بھی کی ہوئی ہیں"
حور نے افسردگی سے پوچھا

"نہیں جی وہ تو اپنے کمرے میں ہیں آرام کر رہی ہیں" عبداللہ نے بتایا

"اچھا میں ان سے مل کر آتی ہوں"
وہ جلدی سے آسماء کے کمرے کی طرف گئی 

"ماما "
کمرے میں پہنچتے ہی حور نے اسماء کو پکارا

"حور"
دوسری طرف اسماء جو بیڈ کر آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹی تھی ایک دم آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا

"ماما میں آگئی آپ کے پاس"
حور اسماء کے گلے لگتے ہوئے بولی

"حور تم واقعی میرے سامنے ہونا یہ خواب نہیں ہے نا"
اسماء ابھی بھی  خواب کی سی کیفیت میں تھی وہ بار بار حور کو چھو چھو کر دیکھ رہی تھی تاکہ خود کو یقین دلاتے ہیں

"میں نے تو بالکل امید چھوڑ دی تھی کہ میں اپنی بچی کو دوبارہ بھی دیکھ سکوں گی"
اسماء روتے ہوئے ہوئے حور کو پیار کرتے ہوئے کہنے لگی

"ماما میں نے آپ کو بہت مس کیا بہت زیادہ"
حور آسماء کے آنسو صاف کرتے ہوئے خود رونے لگ گئی

"یہ ماتھے پر کیا ہو گیا تمہیں تم ٹھیک ہونا بیٹا"
وہ حور کا دوبارہ جائزہ لیتے ہوئے پوچھنے لگی

"ارے کچھ نہیں تو بس ایسی ہی چوٹ لگ گئی تھی آپ پریشان نہیں ہوں میں بالکل ٹھیک ہوں"
حور نے آسماء کو اطمینان دلایا

حور اور اسماء کافی دیر تک باتیں کرتے رہے وقت کا پتہ ہی نہیں چلا، حور کی گھڑی پر نظر پڑی تو ایک دم اسے یاد آیا کہ زین نے اسے آدھے گھنٹے کا کہا تھا۔۔۔۔ لیکن اب ایک گھنٹہ ہو گیا ہے  زین اس کا باہر ویٹ کر رہا ہوگا 

"ماما مجھے جانا ہے آپ اپنا خیال رکھیے گا"
حور نے اٹھتے ہوئے کہا

"مگر میں تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گی حور، اب تم  کہیں نہیں جاو گی"
آسماء اسے روکتے ہوئے کہنے لگی

ماما پلیز اس طرح نہیں کریں۔۔۔ میں پھر آؤں گی آپ سے ملنے۔۔۔ زین باہر میرا ویٹ کر رہا ہے"
اس نے آسماء کو پیار سے سمجھایا

"نہیں اب تم اس کے ساتھ نہیں جاوں گی ایسے لوگ خطرناک ہوتے ہیں  میں تمہاری زندگی خطرے میں نہیں دیکھ سکتی"
اسماء اسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگی

"ماما مجھے آپ سے وہی ملوانے لایا ہے اگر وہ نہ لاتا، تو کیا میں آپ سے ملنے آسکتی تھی۔۔۔ آپ میرا یقین کریں مجھے اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے بہت خیال رکھتا ہے وہ میرا۔۔۔۔ میں وعدہ کرتی ہوں آپ سے ملنے آؤں گی مگر مجھے ابھی جانا ہوگا"
حور آسماء کو سمجھا کر گلے لگا کر باہر نکل گئی

****

حور کے گاڑی سے اترنے کے بعد زین نے سب سے پہلے پسٹل چیک کی جو کہ احتیاط کے طور پر وہ اپنے ساتھ لایا تھا۔۔۔۔ آدھے گھنٹے گاڑی میں بیٹھا وہ حور کا انتظار کرتا رہا۔۔۔ آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد گاڑی سے اتر کر باہر ٹہلنے لگا، اشعر کی کال آگئی اسے آفس سے متعلق کوئی کام کی بات کرنی تھی

"اور کہاں ہو اس وقت، کیا ہو رہا ہے"
آشعر نے زین سے سوال کیا

"اپنے سسرال اور بیگم کا انتظار ہو رہا ہے"
زین نے جواب دیا

"کیا مطلب سسرال؟؟ کیا تم اس وقت ظفر مراد کے گھر پر موجود ہوں"
اشعر نے حیرت سے پوچھا

"گھر کے اندر نہیں باہر موجود ہو حور کو اس کی ماما سے ملوانے لایا تھا اسی کا ویٹ کر رہا ہوں"
زین نے اشعر کو بتایا

"یہ کیا بیوقوفی کی ہے تم نے زین۔ ۔۔۔ تم وہاں اکیلے چلے گئے وہ بھی بھابھی کو لے کر اور بتایا بھی نہیں مجھے۔۔۔۔۔ وہیں پر رکو تم میں دس منٹ میں ابھی آتا ہوں"
زین کی بیوقوفی پر اشعر کو ماتم کرنے کا دل چاہا

"ریلکس یار خطرے کی کوئی بات نہیں ہے سب کچھ بالکل ٹھیک ہے۔۔۔  سیفٹی کے لئے پسٹل رکھ لی ہے میں نے، لیکن اس کی بھی نوبت نہیں آئے گی۔۔۔ تم بالکل بے فکر رہو اور ویسے بھی حور باہر آنے والی ہے میں تمہیں بعد میں کال کرتا ہوں"
زین نے کال ڈسکنیکٹ کرتے ہی کھڑی میں ٹائم دیکھا        

اسے احساس ہوا کے حور کو اندر گئے ہوئے ایک گھنٹہ ہو گیا ہے۔۔۔۔ واپس گاڑی میں بیٹھ کر زین نے پسٹل نکالی اور قدم ظفر مراد کے گھر کی طرف بڑھائے۔ ۔ ۔ وہ جیسے ہی گیٹ پر پہنچا تو اسے سامنے سے حور آتی ہوئی دکھائی دی۔۔۔۔۔زین نے پسٹل جیب میں رکھ لی

"اتنی دیر لگا دی تم نے واپس آنے میں"
زین نے حور کے آتے ہوئے دیکھ کر کہا

"بس ماما سے بات کرتے ہوئے ٹائم کا اندازہ ہی نہیں ہوا اور واپس آ تو گئی ہونا"
حور نے زین کو جتاتے ہوئے کہا

"واپس تو آنا ہی تھا تمہیں"
زین حور کو دیکھتے ہوئے بولا

"اتنا کونفیڈنس۔۔۔۔۔ اتنا کونفیڈنس بھی اچھا نہیں ویسے"
حور نے ابرو اچکاتے ہوئے بولا اسے اس وقت زین کو تنگ کرنے میں مزا آ رہا تھا
اس سے پہلے زین حور کو کوئی جواب دیتا سامنے سے گاڑی آتی ہوئی دکھائی دی جس میں ظفر مراد اور خضر بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔ان دونوں نے بھی زین اور حور کو دیکھ لیا اور گاڑی وہیں روک دی

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment