Monday, December 10, 2018

episode 28


tni mohbbat karo naa
By zeenia sharjeel
Epi # 28



"السلام علیکم رضیہ خالہ آپ"
زین نے دروازہ کھولا تو فضا کی امی سامنے کھڑی ہوئی تھی

"وعلیکم السلام جیتے رہو، شکر ہے گھر مل گیا تمہارا"

"کھڑی کیوں اندر آئے آپ" زین نے راستہ دیتے ہوئے کہا

"نادیہ کی کیسی طبیعت ہے اب"
انہوں نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے زین کی امی کے بارے میں پوچھا

"اللہ پاک کا احسان کافی بہتری آئی ہے اماں کی طبیعت میں اب تو"
زین نے جواب دیا

"اور بیگم کہا ہے تمہاری؟ ثانیہ کی شادی میں دیکھا تھا اسے"

"جی بلاتا ہو"
زین کی بلانے سے پہلے ہی حور کمرے میں آئی

"اسلام علیکم آنٹی"
حور نے سامنے بیٹھی ہوئی خاتون کو سلام کیا

"وعلیکم السلام جیتی رہو سدا سہاگن رہو۔ ۔۔ یہاں بیٹھو میرے پاس"
انہوں نے حور کو اپنے پاس بٹھاتے ہوئے اپنائیت سے کہا

"بہت پیاری بیوی ملی ہے تمہیں تو زین بیٹا"
انہیں نازک سی حور بہت پسند آئی

"جی خالہ میں بھی تو پیارا ہی ہوں"
زین نے مسکرا کر جواب دیا

"ارے اس میں کوئی شک ہے بھلا اتنا شریف بچہ ہے یہ تو اس کی مثال پورے محلے میں قائم ہے، مجال ہے جو کبھی کسی سے بدتمیزی کی ہو، بد زبانی کی ہو یا نظر اٹھا کر کسی کو دیکھا ہو۔ ۔۔۔ ایسا موذب بچہ قسمت والوں کو ملتا ہے"
وہ حور کو زین کی خوبیاں گنوا رہی تھی اور حور ہونقوں کی طرح منہ کھولے ان کی طرف دیکھ رہی تھی
جیسے ہی زین پر حور کی نظر پڑھی تو زین نے نظر بچا کر حور کو آنکھ ماری۔۔۔ وہ مستقل رضیہ خالہ کی باتوں پر مسکراہٹ دبائے ہوئے حور کے فیس ایکسپریشن دیکھ رہا تھا

"ارے میں جس کام کے لیئے آئی تھی وہ تو بھول ہی گئی یہ کارڈ ہے بھئی فضا کی شادی کا، دو ہفتے بعد تم دونوں کو لازمی آنا ہے انہوں نے کارڈ نکال کر زین کی طرف بڑھایا

"انشاءاللہ ہم دونوں ضرور آئیں گے"
زین نے کارڈ کھول کر دیکھتے ہوئے کہا

حور چائے بنانے کے لئے اٹھی تو انہوں نے واپس حور کو اپنے پاس بٹھا لیا

"نہیں اب چلو گی بلال ہی لے کر آیا ہے مجھے انتظار کر رہا ہوگا"

"بلال اوپر کیوں نہیں آیا "
زین نے حیرت سے پوچھا

"کہہ رہا تھا آپ ہو کر آجائے میں زرا کام نہ نمٹا لوں" زین میں گردن ہلائی

"اب تم دونوں کو لازمی آنا ہے میں انتظار کروں گی اور تم جلدی جلدی سے خوشخبری سناؤ نادیہ کو کتنا ارمان ہوگا پوتا پوتی کا"
وہ جاتے جاتے حور کو اور بھی نصیحتیں کرنے لگی
اور زین مسکراتے ہوئے حور کا بلش ہوتا ہوا چہرہ دیکھ رہا تھا

"جی خالہ ہم دونوں ضرور آئیں گے میرے لائق کوئی بھی کام ہو تو بلا جھجک مجھے بتائیے گا"

"ہاں بھئی تم سے نہیں کہوگی تو اور کس سے کہوں گی ایک تم اور بلال ہی تو ہو"
رضیہ خالہ کے جاتے ہی زین حور کے پاس آیا

"کیا خیال ہے پھر سویٹ ہارٹ۔۔۔ کیا سوچا تم نے"
حور کمرہ سیٹ کر رہی تھی تو زین نے حور کے بالوں سے کلپ نکالتے ہوئے کہا

"کس بارے میں" حور نے نا سمجھی سے کہا

"وہی جو ابھی خالہ کہہ کر گئی ہیں۔۔۔ جلدی جلدی خوشخبری سناؤں"
زین نے شرارت سے حور کے بالوں کی لٹ کھینچتے ہوئے کہا

"زین تنگ مت کرو"
حور نے زین کو گھورتے ہوئے اپنے بال دوبارہ باندھے

"میں تو صرف اس وجہ سے کہ رہا تھا کوششوں کے بعد ہی کوئی نتیجہ نکلتا ہے"
زین نے حور کے قریب آتے ہوئے کہا

"کاش میں رضیہ خالہ کو بتا سکتی کہ یہ بچہ کتنا معصوم اور شریف ہے"
حور زین کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کمرے سے چلی گئی اور زین کا قہقہ اسے دوسرے کمرے تک سنائی دیا

*****

حور ابھی کھانا بنا کر فارغ ہوئی تھی جب باہر کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی زین نے گھر میں آتے ہی کچن میں جھانکا
"کیا ہو رہا ہے"

"بس رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی"
وہ چہولے کی آنچ ہلکی کرتے ہوئے بولی

"اوکے فارغ ہو کر روم سے آو"
زین بولتا ہوا وہاں سے چلے گیا

حور ہاتھ ٹشو سے ہاتھ صاف کرتی ہوئی روم میں آئی

"یہ تمہارے لئے"
زین نے ایک ڈبہ حور کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا

"موبائل"
حور نے موبائل فون کے ڈبے پر ایک نظر ڈال کر زین کو دیکھا

"ہاں تم اپنی ماما اسے آسانی سے بات کرلوں گی اس کے ذریعے"

"تھینکس"
حور نے مسکرا کر موبائل کا ڈبہ ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا

"یاد رہے یہ تمہاری ماما سے بات کرنے کے لئے ہے"
زین نے حور کو باور کراتے ہوئے ڈبہ دیا

"ہہہم"
حور نے ایک نظر زین کو دیکھا اور سر ہلا دیا

"کیا کیا آج سارا دن"
اب زین روز کی طرح حور کی کمر کے گرد ہاتھ حائل کرتے ہوئے پوچھ رہا تھا

"بس تمہیں یاد کرنے کے علاوہ سارے کام کیے"
حور نے شرارت سے بولا

"ایسی بات ہے تو پھر اس کی سخت سے سخت سزا ملے گی"
زین نے بازو کا گھیرا تنگ کرتے ہوئے حور کو دھمکایا

"مذاق کر رہی تھی ناں"
حور ایسے ہی سینے پر سر رکھ کر اسے اپنا سارا روٹین بتانے لگی

"ان سب کاموں میں سب سے اچھا کام تم نے اپنی نیند پوری کرکے کیا ہے"

حور  نے سر اٹھا کر اسے گھورتے ہوئے دیکھا تو وہ حور کو دیکھ کر آنکھوں میں شرارت لیے مسکرا رہا تھا۔۔۔۔ حور نے ہاتھ کا مکہ بنا کر ہلکے سے اس کے سینے پر مارا

"چائے لے کر آتی ہوں"
 حور نے کمرے سے نکلتے ہوئے کہا

****

شازیہ (اشعر کی ممی) ریموٹ ہاتھ میں لیے ہوئے چینل چینج کر رہی تھی

"کیسی ہی ممی آپ کیا ہورہا ہے"
آشعر نے شازیہ کے برابر میں بیٹھتے ہوئے پوچھا

"یشعر کا فون آیا تھا وہ ابھی اسی سے بات کرکے بیٹھی ہوں"
شازیہ نے بتایا

میری بھی کل بات ہوئی تھی یشعر بھائی سے۔۔۔ آنے کا کیا سین بن رہا ہے انکے"
اشعر نے پوچھا

"کہہ تو رہا ہے کہ دو مہینے بعد آئے گا"
شازیہ بولی

"آب کس سوچ میں پڑگئی ہیں آپ"
اشعر نے شازیہ بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا

"سوچ رہی ہوں کہ میرے دو بیٹے ہیں اور دونوں ہی ذمہ دار ہو گئے ہیں۔ ۔۔۔ عمر بھی ماشااللہ شادی والی ہو گئی ہے، کیوں نا لڑکیاں دیکھنا شروع کر دو"
شازیہ نے مسکرا کر اشعر کو اپنے خیالات سے آگاہ کیا

"ممی ابھی تو میں نے بزنس اسٹارٹ کیا ہے، مجھے تو کوئی جلدی نہیں ہے شادی کی۔۔۔۔ ہاں بھائی کے لئے ضرور ڈھونڈے کوئی اچھی سی لڑکی"
شازیہ کی بات پر اشعر کے ذہن کے پردوں پر تانیہ کا چہرہ سامنے آیا مگر وہ کسی اور مناسب وقت کا سوچتے ہوئے۔۔۔۔ شازیہ سے  اپنے دل کی خواہش کا اظہار نہیں کر پایا  
        
*****

اسماء ابھی حور سے بات کر کے فارغ ہوئی تھی وہ بہت خوش تھی۔۔۔  حور نے کافی حد تک آسماء کے خدشات کم کر دیے تھے اور اسے یقین دلایا تھا کہ وہ خوش ہے، پوری تو نہیں مگر اسماء تھوڑی بہت مطمئن ہو گئی تھی

بہت دنوں سے اس کے بھائی اصرار کر رہے تھے کہ وہ ان کے گھر پر آکر انکے پاس رہے۔۔۔۔۔ تو اسماء وہی جانے کی تیاری کر رہی تھی، اچانک خضر روم میں آیا

"کہاں کی تیاری ہو رہی ہے چچی"
کاوچ پر بیٹھتے ہوئے خضر نے پوچھا

"ارشد بھائی کافی دنوں سے کہہ رہے تھے تو سوچا ہفتے کے لئے ان کے گھر رہ کر اجاو"
آسماء نے کپڑوں کو تہہ کرتے ہوئے جواب دیا

"آپ کی طبیعت ٹھیک ہے اب"
خضر نے پوچھا

"اب تو طبیعت ٹھیک ہے اور ساتھ ساتھ فریش بھی ہو گئی ہے حور سے بات جو ہوئی ہے ابھی"
اسماء نے مسکراتے ہوئے خضر کو بتایا

"حور آئی تھی کیا یہاں پر"
خضر نے چونکتے ہوئے آسماء سے پوچھا

"ارے نہیں موبائل پر بات ہوئی تھوڑی دیر پہلے"
اسماء نے بیگ میں
کپڑے رکھتے ہوئ مگن انداز میں بتایا

"نمبر کیا ھے حور کا"
خضر نے تجسس سے پوچھا

"کیوں اس نے تمہیں نہیں بتایا"
اسماء نے حیرت سے سوال کیا

کیونکہ کے ایک وہی تو تھا پورے گھر میں جو حور سے بات کرتا تھا اور اس کی پرواہ کرتا تھا

"نہیں کال تو کی تھی اس نے لیکن مصروفیت کی بناء پر میں اس کا نمبر سیو نہیں کر پایا"
خضر جلدی سے بات بناتے ہوئے بولا

"چچی کے ایک کپ چائے مل سکتی ہے خضر نے بولا 

 "کیوں نہیں مل سکتی ابھی لائی" اسماء مسکراتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئی

خضر کے موبائل پر نظر پڑی اس نے جلدی سے اٹھا کر حور کا نمبر سیو کر لیا

"یقینا اس شخص کے ڈر کی وجہ سے حور نے مجھے اپنا نمبر نہیں دیا ہوگا خیر یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے تھوڑے دنوں بعد ختم ہوجائے گا"

اس نے سوچتے ہوئے اپنا موبائل پاکٹ میں رکھا        
        
*****

حور کا موبائل بجا تو نمبر دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی حور نے کال رسیو کی 

"ہیلو"
آواز ابھری

"ہیلو کون بول رہا ہے اور کس سے بات کرنی ہے آپ کو" حور نے انجان بنتے ہوئے کہا

"ایک معصوم اور شریف آدمی بات کر رہا ہوں۔۔۔ جو کہ اپنی کیوٹ سی پیاری سی وائف سے بات کرنا چاہتا ہے"

زین نے معصومیت سے جواب دیا

"آپ کی کیوٹ سی پیاری سی وائف کہہ رہی ہیں کہ میرے معصوم سے اور شریف سے شوہر سے کہو وہ ابھی بزی ہے بات نہیں کر سکتی" حور نے مسکراہٹ دباتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دیا

"میری کیوٹ سی پیاری سی وائف سے کہو کہ اس کا شریف اور معصوم سا شوہر اپنی کیوٹ سی پیاری سی وائف کو بہت مس کر رہا ہے اور اس سے بات کرنا چاہتا ہے"
زین بےچارگی سے بولا

"آپ کی کیوٹ سی پیاری سی وائف کہہ رہی ہے کہ میرے معصوم اور شریف سے شوہر سے کہو کہ چپ کر کے اپنے آفس میں آفس کا کام کریں"
حور بولی

"میری کیوٹ سی پیاری سی وائف سے کہو اگر اس نے اپنے شریف اور معصوم شوہر سے بات نہیں کری تو وہ اپنی ساری شرافت بھول کر بدمعاشی پر اتر آئے گا"
زین نے حور کو دھمکایا

"آپ کی کیوٹ سی پیاری سی وائف کہہ رہی ہے کہ اب اس کے معصوم اور شریف شوہر کی دھونس اور دھمکی اس پر نہیں چلے گی"
حور نے نڈر انداز میں کہا

"میری کیوٹ سی پیاری سی وائف سے کہو اس کا معصوم اور شریف شوہر کہہ رہا ہے کہ آج میری کیوٹ سی پیاری سی وائف اپنی خیر منائے"
زین نے سنجیدہ لہجہ بناتے ہوئے کہا

حور نے موبائل کو گھور کر دیکھا اور وہ زین سے کچھ کہنے ہی والی تھی کہ کال ڈسکنیکٹ ہوگی "ہیلو ہیلو" حور نے مسکراتے ہوئے موبائل ٹیبل پر رکھ دیا

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment