Monday, December 10, 2018

episode 29


Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 29

زین نے مسکراتے ہوئے فون رکھا

عشق نے غالب ہمیں نکما بنا دیا
ورنہ آدمی تھے ہم بھی بڑے کام کے

اشعر نے زین کو دیکھتے ہوئے شعر پڑھا

"بس شروع ہوگئے تم"
زین نے آبرو اچکا کر کہا

"ابھی تو شروع میں نہیں تم ہو ئے وے تھے یار ویسے آپس کی بات ہے۔ ۔۔ تمہیں دیکھ کر تو دل چاہتا ہے کہ میں بھی جلد سے جلد گھوڑی چھوڑ جاؤں"
اشعر نے دانت نکالتے ہوئے کہا

زین ایک افسوس بھری نظر اشعر پر ڈالی

"اس میں اتنے افسوس سے مجھے دیکھنے کی کیا بات ہے شادی کرنے پر صرف تمہارا ہی حق ہے"
آشعر نے برا مانتے ہوئے کہا

"افسوس مجھے تمہارا نہیں اس لڑکی کا سوچ کر ہو رہا ہے جس کی قسمت تمہارے ساتھ پھوٹے گی"
زین نے نظریں فائل پر جماتے ہوئے سنجیدہ انداز میں کہا
"اوہ ہیلو! ایسی بھی بات نہیں ہے اب۔۔۔ مانا زیادہ نہیں  مگر تھوڑا بہت ڈیسنٹ میں بھی ہوں"
اشعر نے بالوں کے ہیر اسٹائل پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا

"شکل سے کچھ نہیں ہوتا بیٹا آدمی کی حرکتیں بھی ڈیسنٹ ہونی چاہیے"
وہ ابھی بھی فائل میں دیکھتے ہوئے بولا

"چھوڑو یار تمہیں تو کبھی بھی مجھ جیسے ہیرے کی پہچان نہیں ہوگی، یہ بتاؤ فیصل نے کیا خبر دی"
اشعر نے کام کی بات پوچھی

"فی الحال تو فیصل سے یہی کہا کہ اس پہ نظر رکھو ابھی کچھ کرنے سے منع کر دیا ہے"
زین نے جواب دیا

"کیا حال ہیں تم دونوں کے اور کس پر نظر رکھوائی جا رہی ہے"
بلال نے روم کے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا

"کسی پر نہیں۔۔۔ تم سناؤ دیر کیوں ہو گئی آج تمہیں"
اشعر نے پوچھا

"ابو کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تھا وہی سے آ رہا ہوں"

بلال نے بتایا       
   
*****

شام کا وقت حور آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی تیار ہو رہی تھی آج اسے شاپنگ پر جانا تھا زین نے اسے شام میں ریڈی رہنے کے لیے کہا تھا وہ بس آنے والا تھا بیل بجی تو وہ مسکراتے ہوئے دروازے کی طرف گئی

دروازہ کھولتے وقت جس چہرے کی توقع کر رہی تھی۔۔۔ اس کے برعکس اسے وہ چہرہ نظر آیا جس کا اس نے سوچا نہیں تھا۔۔۔ حور کے چہرے کی مسکراہٹ معدوم ہو کر غائب ہوگئی

"آپ"
 خضر کو دیکھتے ہوئے حور نے کہا

"کیا ہوا مجھے دیکھ کر تمہیں خوشی نہیں ہوئی"
خضر نے غور سے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا

"نہیں خضر بھائی ایسی بات نہیں ہے بس میں سمجھ رہی تھی کہ"

"زین کا انتظار کر رہی تھی"
خضر نے حور کی بات مکمل کی

"جی وہ دراصل ہمیں آج باہر جانا تھا"
حور نے وضاحت دی

"آوکے کوئی بات نہیں تمہیں دیکھنے کا دل چاہ رہا تھا اس لئے آگیا تھا اب چلتا ہوں"
خضر نے مایوس لہجے میں کہا اور دروازے سے ہی واپس جانے کے لیے مڑا

"ارے نہیں خضر بھائی رکھیے تو"
خضر کے مایوس لہجے سے حور کا دل پگھل گیا تو حور کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا اور اس کے بعد حور کو احساس ہوا کہ اسے خضر کو نہیں روکنا چاہیے تھا کیونکہ زین کے آنے کا وقت تھا اور خضر کو اپنے گھر میں دیکھ کر زین کا کیا ری ایکشن ہوگا یہ وہ سوچ کر ڈر گئی

"کیا ہوا کس سوچ میں پڑ گئی۔۔۔ روکا ہے تو اندر نہیں آنے کا کہوں گی"
خضر نے حور کو غائب دماغ دیکھتے ہوئے کہا
"جی اندر آئے"
حور نے راستہ چھوڑا اور مرے مرے قدموں سے ڈرائنگ روم کی طرف بڑھی خضر اس کے پیچھے تھا

"اور سناؤ کیسی ہو"
خضر نے صوفی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا

"میں ٹھیک ہوں آپ بتائیے گھر میں سب کیسے ہیں"
حور نے مروتا پوچھا۔۔ دل اس کا بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا وہ دل ہی دل میں دعا کررہی تھی کہ زین ابھی نہ آئے

"سب لوگ ٹھیک ہے چچی تمہارے ماموں کی طرف گئی ہوئی ہیں تھوڑے دنوں کے لئے"
خضر نے اس کی غائب دماغی نوٹ کی اور جواب دیا

"جی ماما نے بتایا تھا کل میری بات ہوئی تھی ان سے"
حور نے دیوار پر لگی ہوئی وال کلاک پر نظر ڈالتے ہوئے خضر سے بولا

"تم نے اپنا نمبر مجھے نہیں دیا حور"
خضر نے اس کو دیکھتے ہوئے شکوہ کیا

"بس ویسے ہی دھیان نہیں گیا میرا"
حور نے باہر کے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جیسے اسے ڈر تھا کہ زین یہی کھڑا نہ ہو۔۔۔ زین نے اسے ان لوگوں سے ملنے کے لیے منع کیا تھا اور اس وقت اس نے بھی ہامی بھری تھی مگر یہ بات وہ منہ پر تو خضر یا تایا سے نہیں بول سکتی تھی

"دھیان نہیں گیا یا تمہارے ہزبینڈ نے منع کیا"
خضر کے بولنے پر حور چپ ہی رہی

"خوب سمجھتا ہوں میں ایسے لوگوں کی منٹیلیٹی کو"

"ایسی بات نہیں ہے خضر بھائی مجھے واقعی دھیان نہیں رہا"
حور نے خضر کی بات کو تیزی سے کاٹ کر بولا اسے خضر کے منہ سے زین کے لئے اس طرح سننا اچھا نہیں لگا

"او کے چلو کر لیتا ہوں تمھاری بات پر یقین۔۔۔۔۔۔ یہ بتاؤ گھر کب آوگی"
خضر نے مزید اس ٹاپک پر بات نہ کرتے ہوئے حور سے گھر آنے کا پوچھا

"جی ان شاء اللہ جلد ہی چکر لگاؤں گی"
حور نے دوبارہ گھڑی پر نظر ڈال کر کہا اور دل میں دعا کی کے ٹائم یہی پہ رک جائے

"اوکے میں چلتا ہو۔۔۔ جلدی گھر پہ چکر لگاؤ سب یاد کر رہے ہیں تم کو"
خضر نے اٹھتے ہوئے کہا

وہ حور کا بار بار وال کلاک کی طرف دیکھنا نوٹ کر گیا تھا جو بھی تھا وہ اسے کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا
حور بھی فورا اپنی جگہ سے اٹھ گئی آب کے اس نے مروتا بھی دوبارہ بیٹھنے یا چائے وغیرہ کے لئے نہیں کہا کیونکہ یہ اخلاق نبھانا اس کو کافی مہنگا پڑسکتا تھا۔۔۔ اس لیے وہ چاہتی تھی خضر جلد سے جلد یہاں سے چلا جائے اور خضر کے جاتے ہی اس کی روکی ہوئی سانس بحال ہوئی۔۔۔۔۔ وہ وہی کاوچ پر بیٹھ گئی ابھی پانچ منٹ گزرے ہونگے دوبارہ بیل بجی وہ فورا اٹھ کر دروازہ کھولنے کے لئے آگے بڑھیں دروازہ کھولتے ہی زین کا چہرہ نظر آیا

"سویٹ ہارٹ اتنے بے صبری سے انتظار کر رہی تھی اپنے معصوم سے شریف سے شوہر کا ایک سیکنڈ میں ہی دروازہ کھول دیا" زین اندر داخل ہوتے ہوئے بولا

حور نے مسکرانے پر اکتفاد کیا وہ ابھی بھی ڈری ہوئی تھی "اگر زین کو پتہ لگ جائے تو؟؟

"کیا ہوا کس سوچ میں گم ہو گئی مسسز"
زین نے حور کے چہرے کے آگے چٹکی بجاتے ہوئے
 کہا

"کچھ نہیں دیر کیوں ہو گی تمہیں آنے میں"
حور نے جلدی سے بات بنائی جبکہ آج دیر سے آنے کا وہ جتنا شکر ادا کرتی ہوں اتنا کم تھا

"میری جان ٹریفک کی وجہ سے ٹائم لگ گیا تم نے مس کیا مجھے"
وہ اسے بانہوں میں لیے ہوئے پوچھ رہا تھا

"ہہہم کیا تھا"
وہ اس کے سینے میں منہ چھپا کر اتنا ہی کہ سکی

"تم ٹھیک ہو حور" زین نے اس کا چہرے دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے کچھ کھوجنے کی کوشش کی

"مجھے کیا ہونا ہے بالکل ٹھیک ہو۔۔۔ تم بتاؤ شاپنگ کرانے کا ارادہ ہے کہ نہیں"
حور نے اس کی تجسس بھری نظروں کو دیکھا فریش موڈ کر کے بولی ابھی تو بچ گئی تھی کہیں اپنے رویے سے نہ پکڑی جائے

"ارادہ تو ہے سویٹ ہارٹ مگر پہلے یہ بتاو فون پر کیا کہا جا رہا تھا صبح۔۔۔ معصوم اور شریف شوہر کی دھونس اور دھمکی نہیں چلے گی اور چپ کر کے آفس کا کام کیا جائے۔۔۔ کیوٹ سی پیاری سی وائی فائف ابھی بزی ہے بات نہیں کر سکتی"
زین آنکھوں میں شرارت لیے ہوئے صبح والی بعد یاد دلا رہا تھا اور مسکرا کر قدم آگے بڑھا رہا تھا حور مسکرا کر پیچھے ہوتے ہوئے صوفے پر گری اس سے پہلے وہ اس کے اوپر جھکتا حور نے کشن اٹھا کر بیچ میں دیوار بنا دی

"اگر تم نے میرا میک اپ خراب کیا تو میں پروگرام کینسل کر دوں گی" حور نے اپنی طرف سے دھمکی دی

"پروگرام تو خود ہی کینسل ہو چکا ہے اب تو میری کیوٹ سی پیاری سی وائف کا خیر منانے کا وقت آ گیا ہے"
زین کشن دور پھنکتے ہوئے حور کی گردن پر جھکا

"زین پلیز ہٹو ہمہیں چلنا ہے دیر ہو رہی ہے"
حور نے دونوں ہاتھوں کو زین کے سینے پر رکھ کر خود سے دور کیا

"میرے خیال میں شاپنگ کا پروگرام کل نہ رکھ لیں"
زین نے دوبارہ حور کے کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرتے ہوئے سستی سے کہا

"اگر تم نے واقعی میری بات نہ مانی تو میں تم سے ناراض ہو جاؤنگی" اب کے حور نے سیریز ہو کر دھمکی دی
زین سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور اس کو گھورتے ہوئے کہنے لگا

"یہ صرف تمہارے ہی اندر اتنی ہمت ہے کہ تم دھمکی دے کر زین سے کچھ بھی منوا سکتی ہوں"
وہ اٹھتے ہوئے بولا

حور کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ آئی
اس نے کب سوچا تھا کوئی اتنا چاہنے والا ناز اٹھانے والا اس کی زندگی میں اچانک  آ جائے گا۔۔۔ مگر وہ کیوں نہ آتا اس کی زندگی میں اس کے پرنس کو تو آنا ہی تھا


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment