Itni mohbbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 30
آج فضا کی بارات کا فنکشن تھا حور آئینے کے آگے کھڑی ہوئی فائنل ٹچ دے رہی تھی پیچ کلر کا فراک میں اس کے نازک سراپا ہمیشہ کی طرح دلکش لگ رہا تھا زین روم کے اندر آیا اور سجی سنوری حور کو آئینے کے سامنے کھڑا دیکھکر قریب آیا
"کیسی لگ رہی ہوں میں؟؟ میک اپ اوور تو نہیں لگ رہا"
حور نے آئینے میں دیکھ کر زین سے سوال کیا
"ہمیشہ کی طرح حسین بالکل اپنے نام کی طرح"
حور کے گرد دونوں ہاتھ حائل کر کے حور کے کندھے پر اپنی چن رکھتے ہوئے بولا
"تمہیں اندازہ ہے تم کتنی ظالم بیوی ہو"
زین آئینے سے حور کو دیکھتے ہوئے کہا
"وہ بھلا کیوں "
حور نے حیرت سے پوچھا
"شوہر تو تمہارے حسن کا پہلے سے ہی دیوانہ ہے اس طرح ہتھیار سے لیس ہوکر مزید تڑپانا ظلم نہیں تو اور کیا ہے"
وہ بہت سنجیدہ لہجے میں کہہ رہا تھا
"زین تم سے ایک بات پوچھوں"
حور نے بھی اس کی طرح سنجیدہ لہجے اختیار کیا
"ہہہم پوچھو"
وہ ابھی بھی حور کے کندھے پر اپنی چن ٹکائے ہوئے کھڑا تھا
"تمہیں رومینٹک فلمیں بہت پسند ہے کیا"
حور معصومیت سے بولی
"نہیں سویٹ ہارٹ یہ میرے سچے جذبات ہیں، جو تمہارے سامنے آتی ہی امڈ آتے ہیں"
لہجہ زین کا ابھی بھی سنجیدہ تھا جب کہ آنکھوں میں شرارت کا عنصر نمایاں تھا
"مجھے تو ایسا لگتا ہے تم بچپن میں بھی عاشق مزاج ہوں گے"
زین کے ہاتھوں کا حصار توڑ کر وہ بیڈ سے دوپٹہ اٹھا کر کاندھے پر سیٹ کرنے لگی
"ہاں یہ تم نے بالکل ٹھیک کہا انفیکٹ پہلا عشق مجھے میرے بچپن میں اپنے اسکول کی لڑکی سے ہوا تھا"
زین اب مسکراتے ہوئے کہنے لگا
"واقعی"
حور نے حیرت سے آنکھیں پھیلا کر کہا
"100 % سچ"
وہ اب بھی مسکرا رہا تھا
"تو پھر شادی بھی اس چڑیل سے ہی کرنی تھی نا"
حور نے جل کر کہا
"ہاہاہا تم جیلس ہو رہی ہو شاید۔۔۔ ویسے ہونا بھی چاہے وہ تھی بھی بہت حسین"
زین نے انگوٹھے سے حور کے نچلے ہونٹ پر تل سہلاتے ہوئے کہا اسے حور کا یہ روپ دیکھ کر جیسے مزا آ رہا تھا
"ہوگی حسین مجھے کیا۔ ۔۔ میں بھلا کیوں جلوں گی اس چڑیل سے۔۔۔۔ جلدی چلو ہمیں دیر ہو رہی ہے"
حور نے منہ بناتے ہوئے کہا
"مجھے ایسا لگ رہا ہے ہمہیں آج کا پروگرام کینسل کر کے گھر میں رہنا چاہیے"
زین نے خود پر پرفیوم چھڑکتے ہوئے کہا
"اور ہمیں ایسا کیوں کرنا چاہیے"
حور نے اسی کے انداز میں پوچھا
"پھر میں تمھیں وہ ساری رومینٹک موویز کا بتاؤں گا جو میں نے اب تک دیکھی ہیں"
زین نے اب پرفیوم حور پر چھڑکتے ہوئے کہا
"میرا خیال ہے گھر میں کافی ٹائم گزر گیا ہمہیں فورا نکلنا چاہیے"
حور نے زین کے ہاتھ سے پرفیوم لے کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا
*****
فضا پر دلہن بن کر خوب روپ آیا تھا وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی مگر آنکھیں اور دل بالکل اداس تھا۔۔۔۔پارلر سے بینکویٹ تک اس کو بلال نے لے کر جانا تھا۔۔۔ فضا کو دلہن کے روپ میں دیکھ کر ایک پل وہ بالکل ساکت رہ گیا، دل میں کہیں بہت درد محسوس ہوا۔۔۔ اس سوچ سے اس کی آنکھیں جلنے لگی کہ آج کے بعد اس پر کسی اور کا حق ہوگا ایک لمحے کے لیے اس کے دل نے چاہا گاڑی وہ کہیں اور دور بھگا کر لے جائے مگر اپنے خیالوں کو جھٹک کر اس نے فضا کے لیے بیک ڈور کھولا۔۔۔
فضا نے ایک شکوہ بھری نظر بلال پر ڈالی اس نظر میں جانے کیا کیا تھا بلال کا دل تڑپ گیا اور اس نے نظر چرا لی اور گاڑی اسٹارٹ کردی
****
مہمان تقریبا سارے ہی آچکے تھے زین بھی حور کو لے کر تھوڑی دیر پہلے پہنچا تھا، اشعر بلال کے دوست کے توسط سے انوائٹ تھا وہ بھی زین کے آنے سے دس منٹ پہلے ہی آیا تھا ساتھ میں شازیہ (اشعر کی ممی)بھی تھی اشعر نے حور کا ان سے تعارف کرایا وہ ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔۔۔ حور کی نظر تانیہ پر پڑی تانیہ بھی حور کو دیکھ کر مسکرائی اور اس کی طرف آئی
"کیسی ہی بھابھی آپ"
تانیہ نے حور کو گلے لگاتے ہوئے پوچھا
"میں بالکل ٹھیک ہوں تم سناؤ کیسی ہو بہت پیاری لگ رہی ہو"
حور بھی خوش دلی سے ملتے ہوئے تانیہ سے بولی
تانیہ نے سوالیہ نظروں سے حور کی طرف دیکھا جیسے وہ پوچھ رہی ہوں یہ خاتون کون ہے جو مستقل اس کو مسکرا کر دیکھ رہی ہیں
"ان سے ملو تانیہ یہ اشعر بھائی کی امی ہیں"
حور نے تانیہ کا اشارہ سمجھتے ہوئے ان سے تعارف کروایا
"السلام علیکم! آنٹی کیسی ہیں آپ؟؟ تانیہ نے جلدی سے انہیں سلام کیا
"وعلیکم السلام بیٹا میں ٹھیک ہوں الحمدللہ آپ غالبا؟ ؟
"یہ بلال بھائی کی سب سے چھوٹی بہن تانیہ ہے"
حور نے شازیہ کو بتایا
شازیہ کو یہ اسکارف والی لڑکی بہت پسند آئی اور مزید باتوں کا سلسلہ جاری رہا
****
اگر تم نے اپنا دیکھنے کا یہ شغل بند نہیں کیا تو دوسرے سب لوگوں کو یہاں مشکوک ہو جانا ہے"
زین نے اشعر کو وہی جملہ لوٹایا جو اس نے فارم ہاؤس پر زین کو بولا تھا جب وہ حور کو دیکھ رہا تھا
"کیا پاگل تو نہیں ہو گئے ہو کیسی باتیں کر رہے ہو"
اشعر جو کہ کافی دیر سے تانیہ کو ممی اور حور سے باتیں کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا یوں اچانک زین کے بولنے پر بوکھلا گیا
"اب یاروں سے پردہ داری"
زین نے آبرو اچکا کر کہا
"یار دراصل ایسی بات نہیں ہے پسندیدگی صرف میری طرف سے ہے۔۔۔ اسے تو شاید معلوم بھی نہیں اور کچھ اوٹ پٹانگ کرکے میں بلال کی نظروں میں اپنا امیج نہیں گرانا چاہتا، وہ بہن ہے اس کی اس لیے اپنے جذبات کا اظہار میں نے تانیہ سے بھی نہیں کیا ہے۔۔۔ ناجانے وہ کیا سمجھے ممی کو بھی یہ سوچ کر نہیں بولا میرے پرپوزل پر بلال نہ جانے کیسے ری ایکٹ کرے"
اشعر نے زین کو تفصیل سے بتایا
"اشعر کسی کو پسند کرنا بری بات نہیں ہے، اگر تمہاری آنکھوں میں پسندیدگی کے علاوہ کوئی دوسرا غلط جذبہ تانیہ کے لئے مجھے دیکھتا تو بلال کو پتہ چلنے سے پہلے میں خود تمہاری درگت بنا دیتا۔۔۔۔ کیونکہ تانیہ بلال کی جتنی بہن ہے اتنی میری بھی ہے اور ایک بھائی ہونے کے ناطے مجھے اس رشتے پر میں کوئی برائی نظر نہیں آتی ہے جو تم تانیہ کے لئے بھیجو گے اور بلال کو بھی برا نہیں لگے گا۔۔۔۔۔
بے شک ہماری دوستی کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے مگر میں نے اور بلال نے وہ حالات دیکھیں ہیں جن میں سامنے والے انسان کی پہچان اچھی طرح ہوجاتی ہے اور یقینا تم تانیہ کے لئے بہترین انتخاب ثابت ہوگے"
جیسے ہی زین نے اپنی بات مکمل کی اس کے ساتھ موبائل پر کال آئی
"ہاں فیصل بولو"
زین کال ریسیو کرتے ہوئے بولا دوسری طرف سے جانے کیا کہا گیا جس کے جواب میں زین بولا
"نہیں ابھی مزید تین چار گھنٹے تک اسے اپنے پاس رکھو کوئی نقصان پہنچانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔ کڑی نظر رکھو اور تین چار گھنٹے سے پہلے اسے فرار نہیں ہونے دینا"
زین بول رہا تھا اور اشعر بڑے غور سے سن رہا تھا
"کام ہو گیا ہے"
زین نے کال ڈسکنکٹ کرتے ہوئے کہا اور اشعر نے سر ہلایا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment