Monday, December 10, 2018

episode 41


tni mohhbat karo na
 By zeenia sharjeel

Epi # 41


"کیسی طبیعت ہے اب بھابھی کی"
 اشعر نے زین سے پوچھا دونوں ہی رات سے اس کے پاس تھے

"ہہمم ٹھیک ہے ابھی پین کلر لگائے ہے تھوڑی دیر ہوئی ہے اسے سوئے ہوئے۔۔۔ میرے خیال میں تم دونوں کو نکلنا چاہیے آفس کیلئے"
ذہن نے کرسی سے سر ٹیکتے ہوئے کہا تھکن کے آثار اس کے چہرے پر بھی نمایاں تھے

"اور تم"
 بلال نے پوچھا

"میں یہیں ہوں حور کے پاس"
زین نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا

"کیا بات کر رہے ہو زین، تم نہیں آؤ گے۔۔۔۔ آج کا دن کتنی اہمیت کا حامل ہے تمہیں اندازہ ہی نہ اس بات کا۔۔۔ آج وہ پروجیکٹ ہمیں ملنے والا ہے جس کے لئے ہم نے دن رات محنت کی ہے"
اشعر نے اس کو سمجھانا چاہا

"حور بھی میرے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے اور میں اس کو اس حالت میں چھوڑ کر نہیں جا سکتا ویسے بھی تم دونوں ہوگے وہاں پر"
زین نے آنکھیں کھول کر اشعر کو دیکھتے ہوئے کہا

"مگر تمہاری موجودگی وہاں پر معنی رکھتی ہے میرے خیال سے تمہیں چلنا چاہیے میں نے تانیہ کو بلا لیا ہے،  جب تک بھابھی کے پاس وہ ہو گی اور ویسے بھی بھابھی ابھی سو رہی ہیں جب تک تو تم واپس آ جاؤ گے۔۔۔۔ اور تم نے ان کی امی کو بھی تو بلایا ہے یہاں پر فون کرکے،، تھوڑی دیر کی بات ہے زین تمہیں چلنا چاہیے"
بلال نے لمبی چوڑی وضاحت دے کر اس کو سمجھایا

ابھی وہ تین باتیں کر رہے تھے کہ تانیہ اسپتال میں پہنچی اشعر اور زین کو سلام کر کر وہ حور کے پاس رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئی
زین ناچاہتے ہوئے بھی بلال اور اشعر کے زور دینے پر ان کے ساتھ چلا گیا۔۔۔ ابھی تانیہ کو آئے ہوئے تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ایک پریشان چہرے کے ساتھ ایک خاتون روم کے اندر آئی ان کے پیچھے ایک نوجوان بھی تھا،، تانیہ دونوں کو دیکھ کر چونکی

"حور میری بچی کیسے ہو گیا یہ سب"
وہ حور کی طرف بڑھی تو تانیہ کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ وہ حور کی امی ہیں

****

میٹنگ کے دوران سارا وقت اس کا دھیان حور کی طرف ہی لگا رہا سب کچھ اشعر اور بلال نے ہی ہینڈل کیا ابھی وہ لوگ فارغ ہوئے تھے کہ بلال کے نمبر پر تانیہ کی کال آئی

"ہاں تانیہ بولو سب خیریت ہے"
بلال نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا

"کیا۔۔۔ اچھا ٹھیک ہے،، تم اسے ایسا کرو گھر چلی جاؤ" بلال نے فون رکھا

"کیا ہوا ہے بلال تانیہ کیا کہہ رہی ہے"
زین جو اس کے چہرے سے بات کا اندازہ لگانا چاہ رہا تھا، بلال کے کال کاٹتے ہی اس نے بلال سے پوچھا

"تانیہ بتا رہی تھی کہ بھابھی کی امی اور ان کے کزن آئے تھے،، بھابی کے ہوش میں آنے کے تھوڑی دیر بعد ہی وہ ان کو اپنے ساتھ لے گئں ہیں"
بلال نے زین کو بتایا
زین نے بےیقینی سے بلال کو دیکھا

"حور ان کے ساتھ چلی گئی مجھے چھوڑ کر"
وہ زیر لب بڑبڑایا

"یار تمہیں ایسا کیوں سوچ رہے ہو،، تم اس وقت اور بھابھی کی کنڈیشن بھی تو دیکھوں ایسے وقت میں انھوں نے اپنی امی کی کتنی ضرورت ہوگی وہ تمہیں کیوں چھوڑ کر جانے لگیں بھلا۔۔۔ دیکھو زین یہ حادثہ تم دونوں کے لیے بڑا ہے تم بھابھی کو تھوڑا مینٹلی ریسٹ2 ۔۔۔۔خود کو ریلیکس کرو اپنی حالت دیکھو کتنے بیمار لگ رہے ہوں کل سے"
اشعر نے زین کو تحمل سے سمجھایا

"صحیح بول رہا ہے اشعر زین اس وقت بھابی کو تھوڑا سا وقت دو،، جو بھی کچھ ہوا بے شک ہو تم دونوں کے لئے شاک سے کم نہیں تھا بھابھی اپنی امی کے پاس رہے گی تو تھوڑا ان کی طبیعت بھی سنبھلے گی اور تم بھی گھر جا کر تھوڑی دیر ریسٹ کرو"
بلال کے سمجھانے پر زین چپ ہو گیا

اشعر ہی زین کو گھر چھوڑ کر آیا

*****

"حور بیٹا بتاؤ تو مجھے کیا ہوا تھا  یہ سب اتنے اچانک سے کیسے ہو گیا"
اسماء کافی دیر سے حور سے وجہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی تھی جس کی وجہ سے وہ اسپتال سے آئی تھی مگر وہ مسلسل چپ تھی بالآخر بولی

"مجھے اس ٹاپک پر بات نہیں کرنی ہے ماما پلیز"
حور نے بیزاری سے جواب دیا

"صحیح ہے نہیں کرتی ہوں میں اس ٹاپک پر بات بس مجھے یہ بتاؤ تمھارے اور زین کے بیچ میں سب ٹھیک ہے نا۔۔۔ وہ تمہیں اسپتال میں ایسے چھوڑ کر چلے گیا ایسے کیسے کرسکتا ہے وہ"
آسماء نے زین کی آنکھوں میں حور کے لیے محبت چھلکتی ہوئی دیکھی تھی لیکن اتنے بڑے حادثے پر وہ حور کو اس طرح چھوڑ کر چلا گیا تو ان کا دماغ یہ قبول نہیں کر رہا تھا اور دوسرا حور کے ہی مسلسل کہنے پر آسماء اسے اپنے ساتھ لے کر آئی تھی اس وجہ سے اسے دال میں کچھ کالا لگ رہا تھا

"ماما وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔۔ پلیز میں تھوڑی ریسٹ کرنا چاہتی ہوں"
حور کی طبیعت میں چڑچڑاپن دیکھ کر آسماء نے اپنے موبائل کی رنگ ٹون of کردی تاکہ اس کے آرام میں خلل نہ پڑے بنا کچھ کہے روم سے باہر چلی گئی

"کیسی طبیعت ہے اب حور کی اور کیا بتا رہی ہے وہ"
ظفر مراد نے آسماء کو کمرے سے باہر نکلتے ہوئے دیکھ کر پوچھا خضر اور فاطمہ بھی وہی صوفوں پر برجمان تھے

"طبیعت بہتر ہے اس کی۔۔۔ مگر ابھی  کچھ بتا نہیں رہی کہہ رہی ہے ریسٹ کرنے دیں۔۔۔۔اللہ جانے کیا بات ہوئی ہوگی"
آسماء نے پریشانی سے کہا

"مجھے تو وہ لڑکا شروع دن سے ہی پسند نہیں آیا۔۔۔ انتہا کا بدتمیز اور منہ پھٹ،،، اب اس معاملے کو میں ایسے نہیں جانے دوں گا میرے بھائی کی بیٹی ہے کوئی لاوارث نہیں۔۔۔ اسے ابھی آرام کرنے دو اگر کچھ نہیں بتا رہی تو زبردستی بھی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے"
ظفر مراد اپنی بات مکمل کر کے وہاں سے اٹھ گئے

"بیٹیوں کی شروع سے ہی تربیت کی جاتی ہے،، انھیں بتایا جاتا ہے کہ شوہر کا گھر ہی اب ان کا اصل گھر ہے تمہیں حور کو یہاں پر ہرگز نہیں لانا چاہیے تھا"
فاطمہ جو کافی دیر سے چپ بیٹھی ہوئی تھی شوہر کے جاتے کے بعد فوراً نحوست سے بولی سب سے زیادہ حور کا اس گھر میں آنا انہیں ہی ناگوار گزرا تھا

"یہ کیسی بات کررہی ہیں امی وہ کسی غیر کے گھر میں نہیں آئی ہے یہ حور کا اپنا گھر ہے"
آسماء کے کچھ بولنے سے پہلے خضر نے فورا اپنی ماں سے کہا

"یہ گھر حور کا نہ پہلے تھا، نہ ہے اور نہ آگے کبھی ہو سکتا ہے یہ بات تم اپنے دماغ میں اچھی طرح بٹھا لو خضر۔۔۔ شادی کے بعد شوہر کا گھر ہی لڑکی کا گھر ہوتا ہے حور اب شادی شدہ ہے اور زین کا گھر ہی اب حور کا گھر ہے"
فاطمہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے اسماء پر سرسری نظر ڈال کر وہاں سے چلی گئی

خضر فاطمہ کو جاتا ہوا دیکھتا رہ گیا،،، اسماء خضر سے نظریں چرانے لگی

"آپ پریشان مت ہوں چچی حور کا بہت خیال رکھیئے گا۔۔۔ ادھر ادھر کی باتوں پر دھیان مت دیں"
خضر نے رسانیت سے آسماء کو کہا

****


زین موبائل پر مصروف تھا جب حور برابر میں آکر دھب سے بیٹھیی

"حور دھیان سے یار کل بھی میں نے تمہیں منع کیا تھا کتنی احتیاط بتائی ہے ڈاکٹر نے تمہیں"
زین نے گھورتے ہوئے حور کو کہا۔۔۔ حور زین کی بات سن کر ہنسنے لگی

"اس میں ہنسنے والی کون سی بات ہے،، اس دن اماں ابھی تمہیں کتنی نصیحتیں کر رہی تھی مگر اب لگتا ہے سب کچھ تمہارے سر پر سے گزر گیا" زین نے افسوس سے کہا

"مجھے ہنسی اس بات پر آرہی ہے تم اس وقت نصیحتیں کرتے ہوئے بالکل کوئی دادی اماں ٹائپ خاتون لگ رہے ہو"
حور زین کو دوبارہ دیکھ کر ہنسنے لگی

"بوکس قسم کا جوک تھا بالکل بھی ہنسی نہیں آئی مجھے"
زین نے دوبارہ موبائل دیکھتے ہوئے کہا

"کیا مسئلہ ہے زین،، رکھو اس موبائل کو  سائیڈ پر۔۔۔۔ ابھی اگر میرے ہاتھ میں میرا موبائل ہوتا تو تمہارے شکوے شروع ہوجاتے کہ میں تمہیں ٹائم نہیں دیتی ہوں اور مجھے نصیحتوں کی نہیں تمہاری ضرورت ہے اس وقت"
حور نے منہ بناتے ہوئے کہا

"اوکے سویٹ ہارٹ رکھ دیا موبائل سائڈ پر اب بولو"
زین موبائل رکھتے ہوئے حور کا سر اپنے سینے پر رکھ لیا
"ویسے دیکھ کیا رہے تھے موبائل میں"
حور نے منہ اونچا کرکے زین کے سینے پر تھوڑی ٹکاتے ہوئے کہا

"میں اچھے اچھے babies کے نام دیکھ رہا تھا ہمارے بےبی کے لیے"
زین نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ حور بھی مسکرانے لگی 
          
سوچیں تھیں کہ دماغ سے چمٹ کے ہی رہ گئی تھی۔۔۔باوجود تھکن کے وہ کافی دیر سے بیڈ پر لیٹ کر سونے کی کوشش کررہا تھا کافی دیر گزر گئی مگر نیند آبھی بھی اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔ شاید کسی کمی کا احساس ہو رہا تھا ان تین مہینوں میں وہ اس کے وجود کا اتنا عادی ہوگیا تھا کہ اب وہ اس کے بغیر اس کو نیند نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔ اسماء کے موبائل پر زین نے کافی ساری کالز کی مگر مسلسل بیل جاتی رہی اسماء نے یا حور نے اس کی کال ریسیو نہیں کی،،، زین  نے دوبارہ موبائل نکالا اور حور کی تصویریں دیکھنے لگا

"تمہارے اس طرح روٹھ کر گھر سے جانے سے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا پری پلیز واپس آ جاؤ"
کافی دیر تک وہ حور کی تصویروں سے باتیں کرتا رہا نہ جانے کب اس کی آنکھ لگی اسے پتہ نہیں چلا

*****

شاید نئی جگہ ہونے کی وجہ سے اس کو نیند نہیں آ رہی تھی کافی دیر کروٹیں بدلنے کے بعد وہ بیٹھ روم کی کھڑکی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی اور لان میں دیکھنے لگی۔۔۔۔ اسے شاید تکیہ پر سر رکھ کر سونے کی بجائے زین کے سینے پر سر رکھ کے سونے کی عادت ہو گئی تھی

"فضول عادتیں پڑ گئی ہیں مجھے بھی"
حور نے سر جھٹکتے ہوئے سوچا

"یہ ویلیو ہے میری اس کی زندگی میں ذرا سی ناراضگی برداشت نہیں کی، میرے سوتے ہی فورا آفس چلا گیا مجھ سے بڑھ کر آفس ہے،، میری تو کوئی اہمیت ہی نہیں ہے پلٹ کر ایک دفعہ نہیں پوچھا۔۔۔۔ انسان آ نہیں سکتا فون تو کرسکتا ہے مگر میرا بھی فون تو گھر پر ہے تو کیا ہوا ماما کا نمبر تو اس کے پاس ہے نا، ،، یہی سوچ رہا ہوگا چلی گئی ہے تو چلی جائے مجھے کیا ضرورت۔۔۔۔ اور  اس فضول انسان کے بارے میں مجھے بھی سوچنے کی کیا ضرورت ہے،، کھڑکی کے پٹ بند کرتے ہوئے دوبارہ وہ بیٹھ پر آکے لیٹ گئی اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔ جب اسے تکیہ پر سر رکھ کر آرام نہیں ملا تو غصے میں آکر تکیہ بھی سر کے نیچے سے نکال کر دور پھینک دیا آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے منہ ہی منہ میں بڑابڑئی "فضول انسان"

ان تین مہینوں میں وہ۔۔۔ فضول انسان سے زین بنا،،،،، زین سے شاہ،،،،، اور اب شاہ سے دوبارہ فضول انسان بن چکا تھا

*****

صبح کا وقت تھا کوئی حور کو زور زور سے پکار رہا تھا تو ظفر مراد کی آنکھ کھلی وہ حال میں آئے

"تم میرے گھر کے اندر کیا کر رہے ہو؟ کس نے اندر آنے دیا تمہیں"
ظفر مراد زین کو اپنے گھر میں موجود دیکھ کر غصے سے چیخے

"میں یہاں پر کسی کے منہ لگنے نہیں آیا ہوں، بلکہ اپنی بیوی کو لینے آیا ہوں حور کو بلائیں آپ"
زین نے بیزاری چھپائے بغیر تیز آواز میں ظفر مراد سے کہا

اتنے میں خضر فاطمہ اور آسماء بھی شور کی آواز سے اپنے اپنے کمروں سے باہر نکل آئے


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment