Itni mohbbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 40
"کیا؟؟ کیا ہوگیا ہے ممی آپ کو۔۔۔۔۔ آپ کیسے ہیں یعشر بھائی کے لئے تانیہ کو پسند کرسکتی ہیں"
اشعر بالکل سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا
"لو بھلا ابھی تو تم کہہ رہے تھے کہ لڑکی اچھی ہے، ڈیسنٹ ہے، پریٹی بھی ہے"
شازیہ کو بیٹے کی بات پر تعجب ہوا
"تو اچھی لڑکی ہونے کا یہ مطلب تو نہیں کہ یعشر بھائی کے لئے اس کا رشتہ لے کر جایا جائے"
اشعر اب بھی سنجیدہ تھا
"ہیں اب یعحشر کا کیا ذکر۔۔۔۔ کیا برائی نظر آگئی اس میں،، اتنا سلجھا ہوا بچہ ہے میرا۔۔۔ پوری دنیا میں ایسا فرمابردار بچہ نہ ملے۔۔۔۔ ذرا جو اس نے آج کل کے لڑکوں کی طرح منہ پھاڑ کر اپنی پسند کا اظہار کیا ہوں۔۔ ۔ ماں کے سامنے سیدھے سے بول دیا جو آپ کی پسند ہو وہی میری پسند ہوگی"
شازیہ نے برا مانتے ہوئے اشعر کو کہا
"ممی یعشر بھائی سیدھے سادے سلجھے ہوئے اور فرماں بردار بچے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ان کے لئے تانیہ کا رشتہ لیکر جایا جائے"
اب کے اشعر نے جھجکتے ہوئے شازیہ سے کہا
"اوہو تو یہ بات ہے،، تو پھر کس کا رشتہ لے کر جایا جائے تانیہ کے لئے"
اب شازیہ کو کچھ کچھ سمجھ آنے لگا تو اس نے اشعر سے پوچھا
"تانیہ جیسی ڈیسیٹ اور پریٹی لڑکی کے لئے اپ کو اپنا یہ لال نظر نہیں آ رہا"
اب کیا اشعر نے منہ بسورتے ہوئے شازیہ سے کہا
"اچھا میرے لال تو یہ بات ہے"
شازیہ نے اشعر کے کان کھینچتے ہوئے کہا
"ارے ممی کیا کر رہے ہیں کیا کان توڑیں گی میرا"
آشعر نے اپنا کام سہلاتے ہوئے کہا موبائل بجنے پر فون اٹھایا
"ہاں بولو خیریت اس وقت کال کی"
موبائل پر رات کے وقت بلال کی کال آئی تو اشعر نے پوچھا
"کیا۔۔۔ کون سے اسپتال میں،، تم پہنچوں میں بھی آتا ہو"
اشعر کال کاٹتے ہوا باہر جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا
"خیریت کہاں چل دئیے،، کیا ہوا ہے؟ کون ہے اسپتال میں"
شازیہ نے ایک دم سے اشعر سے سوال کیا
"حور بھابھی کو زین اسپتال لے کر گیا ہے"
اشعر گاڑی کی کیز اٹھاتے ہوئے کہنے لگا
"اللہ رحم کرے بچی پر کیا ہو گیا اچانک رکو پھر میں بھی چلتی ہوں"
شازیہ نے اٹھتے ہوئے کہا
"ممی اتنی رات کو آپ کیسے جاۓ گیں۔۔ پہلے مجھے پتہ تو چلے کہ ہوا کیا ہے،، پھر آپ کو لے جاؤں گا۔۔۔ ابھی بلال نے سرسری سے بتایا ہے مجھے۔۔۔ زین اکیلا ہے وہاں، میں جاتا ہوں اس کے پاس"
اشعر باہر نکلتے ہوئے بولا
****
"حور"
اس سے پہلے زین اس کو تھامتا،، حور دور جاکر گر چکی تھی
"حور۔۔۔۔۔ حور اٹھو لگی تو نہیں تمہیں"
زین تیزی سے اس کی طرف بڑھا حور کو تھامتے ہوئے کہنے لگا
حور کو تکلیف ہو رہی تھی اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں تھے۔۔۔ مگر تکلیف سے اس سے کچھ میں بولا نہیں جارہا تھا آنکھوں سے آنسو نکلنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔ وہ گردن نفی میں ہلا رہی تھی
"یا میرے اللہ،، کچھ نہیں ہوگا حور اٹھو پلیز"
اچانک پڑنے والی افتاد پر زین کے ہاتھ پیر پھول گئے اسے خود اس صورتحال سے خوف آنے لگا اس نے حور کو اٹھایا اور گاڑی تک پہنچا۔۔۔ حور کو گاڑی میں بٹھایا اور خود گاڑی سٹارٹ کردی لیکن ڈرائیو کرتے ہوئے اس کے ہاتھوں میں لعرزرش واضح تھی۔۔۔ دماغ سے ہر برے خدشے کو نکال کر وہ گاڑی چلانے لگا،،، حور نے اب آواز سے رونا شروع ہوئی تو اس نے گاڑی کی سپیڈ مزید بڑھا دی قریبی ہسپتال میں کار روک دی
*****
وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھامے ہوئے شکستہ حال کرسی پر بیٹھا ہوا تھا دل اس کا بری طرح دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔ ایسا اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔
"اللہ نہ کرے کچھ غلط ہو ورنہ میں کیسے خود سے یا پھر حور سے نظر ملا سکوں گا"
ابھی وہ سوچوں میں گم تھا کہ اس کے موبائل پر بلال کی کال آنے لگے اس نے غائب دماغی کے ساتھ موبائل کو دیکھا اور کال ریسیو کر کے کان پر لگایا
"اور کل کے لئے تیاری کیسی ہے۔۔۔ آئی وش کے کل والا پروجیکٹ ہم کو ہی ملے گا"
بلال کی آواز موبائل سے ابھری مگر زین نے کوئی جواب نہ دیا
"ہیلو زین کہاں ہو سن رہے ہو نا"
جب بلال کو کوئی آواز نہیں آئی تو اس نے زین سے پوچھا
"بلال میں ایسا نہیں چاہتا تھا،، قسم سے میں بالکل ایسا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔ میں بہت محبت کرتا ہوں حور سے،، تم جانتے ہو نہ ابھی سے نہیں بہت پہلے سے۔۔۔۔ تو میں نے کیسے اس کو"
زین کی بے ربط جملے بلال کو سمجھ نہیں آ رہے تھے
"زین یہ تم کیا کہہ رہے ہو مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تم ٹھیک ہونا۔۔۔ کہاں ہیں حور بھابھی"
بلال کو زین کی باتیں سمجھ نہیں آ رہی تھی اس کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا تو وہ پوچھ بیٹھا
"زین میں کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے جواب دو"
بلال زین کے خاموش رہنے پر دوبارہ بولا
"وہ بہت رو رہی تھی بلال۔۔۔۔ اسے بہت تکلیف ہو رہی تھی میں اسے اسپتال لے کر آ گیا ہوں"
یہ کہتے ہوئے زین کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے جسے اس نے فورا صاف کیا
"کیا بول رہے زین کیا ہوا حور بھابھی کو؟؟ حور بھابی ٹھیک تو ہیں۔ ۔۔ کون سے اسپتال کی بات کر رہے ہو کہاں ہو تم جلدی سے نام بتاؤ مجھے"
بلال نے جلدی سے اپنا والٹ اور کیز اٹھائی ایک نظر سوتی ہوئی فضا پر ڈالی اور پھر وہ باہر نکل گیا
*****
اس نے بلال سے بات کر کے موبائل کو جیب میں رکھا سامنے روم سے ڈاکٹر باہر آئیں زین ساکت نگاہوں سے انھیں دیکھے جا رہا تھا اس نے کوئی بھی بات پوچھنے کی ہمت نہیں کی
"آپ کی مسزز اب ٹھیک ہیں لیکن بلیڈنگ زیادہ ہونے کی وجہ سے ہم آپکے بچے کو نہیں بچاسکے۔۔۔ آپ مل سکتے ہیں اپنی وائف سے۔۔ اور یہ کچھ میڈیسن ہیں یہ لے لیے گا"
ڈاکٹر زین کی کنڈیشن دیکھتے ہوئے خود سے ہی اس کے پاس آ کر اس کو حور کا بتانے لگی اور ہاتھ میں پرچہ تھماتے ہوئے چلی گئی
زین کی آنکھیں ایک دفعہ پھر بھیگنے لگی،، وہ دوبارہ دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر بیٹھ گیا اندر سے اسے جس بات کا خوف کھائے جا رہا تھا وہ حقیقت میں تبدیل ہو گیا
"کس منہ سے میں حور کے پاس جاؤں گا۔۔۔۔ یا اللہ کیا کروں اب میں۔۔۔یہ کیا ہوگیا مجھ سے"
اپنے بابا کی ڈیتھ کے وقت وہ بہت رویا تھا اس کے بعد آزمائشوں کا ایک دور شروع ہو گیا اس کے باوجود اسے یاد نہیں پڑھا اس نے کبھی آنکھوں میں آنسو نکلے ہو مگر آج پھر اس کا دل بری طرح دکھ رہا تھا
"زین کیسی ہے بھابھی کی طبعیت؟ کیا ہوا ہے انھیں۔۔۔ تم ٹھیک ہونا"
بلال بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا زین سر تھامے ہوئے بیٹھا تھا بلال نے زین کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سوال شروع کردیئے
زین سر اٹھا کر دیکھا تو اس کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھیں
"بہت غلط ہو گیا بلال مجھ سے۔۔۔ اب سب واپس کیسے ٹھیک ہو گا۔۔۔۔ میں کیسے سامنا کروں گا اس کا"
زین کی باتیں بلال کو سمجھ میں نہیں آرہی تھی اور مسلسل پریشان کر رہی تھی
"تم زین پلیز سنبمھالو خود کو اور مجھے بتاؤ تو ہوا کیا ہے"
بلال نے پریشان ہوتے ہوئے زین سے پوچھا
وہ غائب دماغی میں سب بتاتا چلا گیا جسے سن کر بلال نے اپنا سر پکڑ لیا
"یہ کیا حرکت کی ہے زین تم نے۔۔۔ نہ صرف حور بھابھی کے ساتھ تم نے برا کیا ہے بلکہ اپنے ساتھ کتنا برا کیا ہے تم نے۔۔۔ بے شک تمہیں غصہ ہوگا لیکن تم اتنی بڑی بیوقوفی کیسے کر سکتے ہو"
بلال کو اسوقت سچ میں زین پر غصہ آ رہا تھا
"کیا ہوا سب خیریت ہے نا"
اشعر نے آتے ہی ان دونوں کی طرف دیکھ کر سوال کیا
"ہاں خیریت ہے"
بلال نے آنکھ کے اشارے سے اسے کچھ بھی پوچھنے سے باز رکھا
"زین تم جاو بھابی سے مل کر آؤ"
بلال نے زین کو دیکھتے ہوئے کہا
"میں کیسے جاسکتا ہوں اس کے سامنے۔۔ ۔ کیسے جاو"
زین کو سمجھ نہیں آیا وہ یہ بات بلال سے کہہ رہا ہے یا پھر اپنے آپ سے
"زین تم اس وقت بھابھی کے پاس جاؤ۔۔ وہ اکیلی ہیں اور انھیں تمھاری ضرورت ہے"
بلال نے زین کو سمجھاتے ہوئے کہا
زین حور کے روم کی طرف بڑھا، اشعر نے بلال کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔ بلال نے لمبا سانس کھینچ کر اشعر کو سارا قصہ سنایا
****
زین بہت ساری ہمت جمع کر کے حور کے پاس روم میں داخل ہوا وہ بیٹھ پر آنکھیں موندے ہوئے لیٹی تھی۔۔۔۔ اس کے قریب آیا کسی احساس کے تحت حور نے اپنی آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا
"حور"
زین کا چہرہ ضبط سے سرخ ہو رہا تھا، حور نے ایک نظر اس کو دیکھا اور اپنے چہرے کا رخ دوسری طرف پھیر لیا مطلب صاف تھا وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتی تھی
زین آگے بڑھ کر پاس رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھا، حور کا اس طرح چہرہ موڑ لینا اس کو تکلیف دے گیا مگر اب اسے برداشت کرنا تھا
"حور"
زین نے حور کے ڈرپ والے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے دوبارہ پکارا۔۔۔ حور نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ کے نیچے سے نکالنا چاہا۔۔۔ رخ حور کا ابھی بھی دوسری طرف ہی تھا
"حور مجھے معاف نہیں کرنا، بالکل بھی معاف نہیں کرنا مجھے۔۔۔ مگر پلیز اس طرح نہیں کرو میرے ساتھ"
زین نے آگے بڑھ کر حور کے کندھے پر اپنا سر رکھ لیا۔۔۔ وہ زین کے آنسو اپنی گردن پر محسوس کر رہی تھی
"پلیز بات کرو مجھ سے، لڑو، شکوہ کرو اس طرح اجنبی رویہ اختیار نہیں کرو۔۔۔۔ میں نے انجانے میں تمہیں نہیں بلکہ اپنے آپ کو تکلیف دی ہے۔۔۔ مجھے واقعی اس وقت بہت تکلیف ہو رہی ہے پلیز میری طرف دیکھو مجھ سے بات کرو"
زین اسی طرح حور کے کندھے پر اپنا سر رکھے ہوئے کہہ رہا تھا اور حور کا رخ دوسری طرف تھا اس کی بھی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے
دروازے پر کھٹکے کی آواز سے زین پیچھے ہوا نرس نے اندر آکر حور کا چیک اب کیا پین کلر لگا کر واپس چلی گئی۔۔۔ کافی دیر تک روم میں خاموشی رہی جسے حور کی آواز نے توڑا
"میں ماما سے ملنا چاہتی ہوں ماما کو بلا دو"
حور نے بغیر دیکھے زین کو مخاطب کیا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment