Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 39
شام میں زین آفس کے کیفیٹیریا میں اشعر اور بلال کے ساتھ بیٹھا کافی پی رہا تھا جب اسے موبائل پر اننون نمبر سے میسج آیا جس میں ریسٹورنٹ کا ایڈریس تھا
"یہاں تمہارے لئے ایک سرپرائز منتظر ہے"
وہ اجنبی نمبر دے کر اگنور کردیتا لیکن اس کے نیچے حور نام دیکھ کر وہ چونک گیا
زین نے فورا اس نمبر پر کال ملائی مگر نمبر بند تھا۔۔۔
"یہ نمبر حور نے کب لیا اور کیسا سرپرائز"
وہ سوچ میں پڑ گیا اس نے حور کے نمبر پر کال ملائی بیلز جارہی تھی مگر وہ کال ریسیو نہیں کر رہی تھی۔۔۔۔ کچھ سوچتے ہوئے وہ گاڑی کی کیز اٹھا کر بلال اور اشعر کو ضروری کام کا کہہ کر باہر نکل گیا
ریسٹورنٹ پہنچا تو دور سے ہی اسے خضر دکھائی دیا جسے دیکھ کر اس کی ماتھے پر شکنے ابھری، وہ کسی لڑکی کے ساتھ بیٹھا تھا جس کی پشت زین کی طرف تھی جس کی وجہ سے زین اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکا۔۔۔ زین نے قدم آگے بڑھائیں تو ٹیبل پر پھول اور کیک نظر آئے، مزید قدم بڑھا کر ان لوگوں کی طرف آیا دل میں آیا ہوا وہم جھٹک دیا مگر وہ حور کو دیکھ کر بے یقینی سی اس کی آنکھوں میں ٹھہر گئی جسے غصے میں بدلنے میں زیادہ ٹائم نہیں لگا۔۔۔۔ وہ مسکرا کر خضر کے ہاتھ سے شاید کیک کھانے والی تھی یہ دیکھ کر زین کا دل چاہا پورے ریسٹورینٹ میں آگ لگا دے، اس نے پاس آکر خضر کو ہاتھ زور سے جھٹکا، اس سے پہلے حور اس کی طرف دیکھتی۔۔۔۔ اس نے ضبط کھوتے ہوئے حور کے گال چانٹا مارا۔۔۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا حور اس کے ساتھ ایسا کرے گی۔ ۔۔۔۔ اس کے منع کرنے کے باوجود وہ چھپ کر خضر سے ملنے گئی،، اس شخص جس سے زین کو سب سے زیادہ خار تھی،،، اس نے خضر پر بھی اپنا غصہ نکالا۔۔۔۔ مگر خضر سے زیادہ غصہ اسے حور پر تھا غصے میں ہی وہ سے کھینچتا ہوا کار تک لایا اور ریش ڈرائیونگ کرتا ہوا گھر تک پہنچا
اس وقت وہ یہ بھی بھول گیا تھا کہ اس کی کنڈیشن کیا ہے اسے یاد تھا تو صرف یہ کہ وہ خضر کے ساتھ اس کو بتائے بغیر ریستوران میں بیٹھے ہوئے مسکرا کر اس کے ہاتھ سے کیک کھا رہی تھی یہ سوچ کر اس کے دماغ کی نسیں پھٹنے لگی۔۔۔۔ جب اس نے بیلٹ اٹھا کر مارنے کی نیت سے اوپر ہاتھ کیا تو،، حور اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر رونے لگی حور کو روتا ہوا دیکھ کر اس کا ہاتھ تو وہی تھم گیا مگر غصہ ابھی بھی کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا وہ بیلٹ کو زور سے دیوار پر مار کر باقی کا غصہ دروازے پر نکال کر بیڈ روم سے باہر چلا گیا
یہ نہیں تھا کہ وہ خضر کو لے کر حور پر شک کر رہا تھا،، وہ جانتا تھا حور اس کو بہت پیار کرتی ہے۔۔۔۔ کسی اننون نمبر سے اس کو میسج آنا اس بات کی طرف اشارہ کر رہا تھا کہ جان بوجھ کر اس کو یہ منظر دکھایا گیا ہے مگر اصل غصہ اس کو وہاں حور کی موجودگی پر تھا
****
حور نے آگے قدم بڑھا کر روم کا دروازہ کھولا تو بےاختیار اس کا ہاتھ اپنی ناک پر گیا۔۔۔پورا روم سگریٹ کی اسمیل اور دھوئیں سے بھرا ہوا تھا،،، زین سامنے چیئر پر آنکھیں بند کئے ہوئے سگریٹ پینے میں مصروف تھا۔۔۔۔ سامنے رکھا ہوا ہے ایش ٹرے سگریٹ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے تقریبا بھر چکا تھا حور کو دکھ ہونے لگا
"شاہ"
حور نے ہمت کرتے ہوئے زین کو پکارا
"کیوں آئی ہو یہاں پر جاؤ یہاں سے"
حور کے پکارنے پر زین نے آنکھیں کھول کر حور کو دیکھا اور غرا کر کہا
"شاہ میری بات سن لو پلیز"
حور نے ڈرتے ہوئے قدم آگے بڑھائے اور ہمت کرکے دوبارہ کہا
"سنائی نہیں دے رہا تمہیں،، جاو یہاں سے اس وقت"
چیخ کر کہتے ہوئے زین نے پاس پڑا ہوا ہے آیش ٹرے کھینچ کر زمین پر مارا جو چھوٹی چھوٹی کرچیوں میں پورے کمرے میں بکھر گیا ساتھ ہی حور کے قدم بھی وہی رک گئے
حور اس کے کہنے پر کمرے سے گئی تو نہیں مگر بے بسی سے وہ بس اس کو دیکھے جا رہی تھی اور زین بھی آنکھوں میں غصہ لیے ہوئے اسی کو دیکھ رہا تھا
"میں سوری کہنے آئی ہو غلطی ہو گئی مجھ سے مجھے معاف کر دو"
حور نے آگے قدم بڑھاتے ہوئے زین کے سامنے آکر کہا
"میری بات سمجھ میں نہیں آ رہی ہے تمہیں۔۔۔ کہ میں کیا بکواس کر رہا ہوں"
زین ایک دم کرسی سے اٹھتا ہوا اس کے قریب آ کر بولا
"شاہ پلیز میں سوری کر تو رہی ہوں نہ تم سے۔۔۔ اس طرح نہیں کرو میرے ساتھ"
حور نے روتے ہوئے زین کے سینے پر سر رکھتے ہوئے کہا
"تمہاری یہ معصوم شکل اور آنسوؤں کی برسات میرے غصے کو کم نہیں کررہی ہے مزید بڑھا رہی ہے اس لئے آخری بار کہہ رہا ہوں چلی جاؤ یہاں سے"
زین نے حور کے دونوں بازو پکڑ کر خود سے الگ کرتے ہوئے ایک جھٹکے سے حور کو خود سے دور کیا۔۔
حور اپنا بیلنس برقرار نہیں رکھ سکی،، اس سے پہلے زین بڑھ کر اس کو دوبارہ تھامتا وہ دور جا کر گری
"حور"
*****
اسماء کی اچانک آنکھ کھلی تو سے سردی میں بھی ٹھنڈے پسینے آ رہے تھے اس نے اٹھ کر کھڑکی کے دونوں پٹ کھولے اور سانس لینے لگی پتہ نہیں کیوں اس کے دل بیٹھا جا رہا تھا وہ پانی پینے کی نیت سے کچن میں گئی پانی پی کر پلٹی تو۔۔۔ خضر کے روم کی لائٹ آن تھی ناک کر کے ہینڈل گھمایا تو لاک نہیں تھا دروازہ کھل گیا
"ارے چچی آپ خیریت ہے"
خضر نے آسماء کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"ہاں خیریت ہے ایسے ہی گھبراہٹ ہو رہی تھیں تو پانی پینے آئی تمہارے روم کی لائٹ جلتی دیکھی ۔۔۔۔۔ کیا ہوا سوئے نہیں ہے ابھی تک"
آسماء نے خضر سے سوال کیا
"بس ویسے ہی نیند نہیں آ رہی تھی" خضر نے بیٹھ کے کراون سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا
"نیند نہ آنے کی کوئی وجہ تو ہوگی نہ"
آسماء نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
"کبھی کبھی ہم کسی چیز کی خواہش کریں اسے پانے کی مسلسل کوشش کریں۔۔۔ مگر پھر بھی اس کی طلب کے باوجود ہمیں وہ نہ مل سکے تو کیا کرنا چاہیے پھر"
خضر غیر ارادی طور پر آسماء سے اپنا آپ شیئر کرنے لگا
"بیٹا کوئی بھی چیز پسند آجانا ایک فطری جذبہ ہے اور پسند آئی ہوئی چیز انسان چاہتا ہے اسکی دسترس میں ہو۔۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ چیز اگر انسان حاصل نہ کر سکے بیٹا تو کبھی بھی ضد نہیں لگانی چاہیے،، ضد لگانا کوئی اچھی بات نہیں ہوتی۔ اگر وہ چیز اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھی ہے تو وہ تمہیں مل جائے گی نہیں تو صبر کرنا چاہیے۔۔۔۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے"
اسماء نے اپنی طرف سے اس کو سمجھانا چاہا
"رات ہوگئی ہے لائٹ بند کرو گے تو نیند آئے گی اب سو جاؤ"
اسماء لائٹ بند کرکے خضر کے روم سے چلے گئی اور خضر آسماء کی باتوں پر غور کرتا رہا
خضر کو حور شروع سے ہی پسند تھی۔ پسند کب محبت میں بدلی اسے پتہ نہیں چلا جب فاطمہ نے حور کے رشتے کے لئے کہیں اور بات کی۔۔۔۔ تو خضر نے حور کی خواہش ظفر مراد کے سامنے کی۔۔۔ حور کو حاصل کرنا اسے آسان لگنے لگا مگر زین کی شکل میں ایک طوفان اس کی زندگی میں آیا جو اسے حور سے چھین کر لے گیا۔۔۔۔ مگر اس نے ہمت پھر بھی نہیں ہاری اس نے حور کا پتہ لگا لیا،، اس نے کبھی بھی حور کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار نہیں کیا تھا مگر کہیں نہ کہیں اسے گمان تھا کہ اپنی محبت سے وہ حور کو حاصل کرلے گا آج اس نے حور کو پانے کی خواہش میں چھوٹی سی بےایمانی زین کو میسج کرکے کی مگر ریسٹورنٹ میں جو تماشہ ہوا اس کے بعد اس کا دل مزید خراب ہو رہا تھا
****
شازیہ بیٹھی ہوئی تھی اشعر اس کے پاس آ کر بیٹھا
"اور بھئی کیا سوچا جارہا ہے اکیلے اکیلے"
اشعر ماں کے پاس بیٹھتا ہوا بولا
"ظاہری بات ہے اکیلے اکیلے ہی سوچوں گی تمہارے پاس ٹائم کا
ہی کہاں ہے ماں کے لئے"
شازیہ نے بیٹے کو دیکھتے ہی شکوہ کیا
"اب ایسی بات تو نہ کریں آپ آپ خود ہی تو کہتی تھی کہ میںچور ہو جاؤں۔۔ کب تک بھائی کما کر بھیجتا رہے گا بلا بلا"
"اوہو دل پر ہی لے لیا کرو اپنی ماں کی باتیں۔۔۔۔ ویسے میں سوچ رہی تھی کہ تانیہ کیسی لگتی ہے تمہیں"
شازیہ کا ایک دم تانیہ کا نام لینے پر اشعر کو جھٹکا لگا
"تانیہ۔۔۔۔۔ کون تانیہ"
اشعر نے ماں کے سامنے انجان بننے کی بھرپور اداکاری کی
"ارے وہی لڑکی جو تمہارے دوست بلال کی بہن ہے اس کا پوچھ رہی ہوں۔۔۔ اس دن ملاقات ہوئی تھی نا فضا کی شادی میں"
شازیہ نے اشعر کو یاد دلاتے ہوئے کہا
"اووو اچھا وہ تانیہ۔ ۔۔۔ اچھی لڑکی ہے کافی ڈیسنٹ سی پرسنیلٹی ہے اور کافی پریٹی بھی"
اشعر کے دل میں لڈو پھوٹنے لگے اور ساتھ ہی وہ شکر ادا کرنے لگا اسے ممی کو خود سے بتانے کی زحمت نہیں کرنی پڑے گی
"ہاں مجھے بھی اس دن کافی پیاری لگی تھی وہ بچی۔۔۔ سلجھی ہوئی سی لگ رہی تھی۔ آج کل کی لڑکیوں سے بالکل مختلف،، میں سوچ رہی ہوں کیوں نہ اس کے گھر پر رشتہ لے کر جایا جائے۔۔۔۔ یعشر کے ساتھ کافی پیاری لگے گی،، میرے فرمابردار بیٹے کے لئے ایسے ہی کوئی لڑکی ہونا چاہیے"
شازیہ نے اشعر سے رائے لینے چاہیے
"کیا یعشر بھائی کے ساتھ تانیہ" دوسرا جھٹکا پہلے سے بھی زیادہ خطرناک تھا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment