Monday, December 10, 2018

episode 38


Itni mohhbat karo na

By zeenia sharjeel

Epi # 38


زین نے گاڑی کا دروازہ کھول کر حور کو پٹخنے کے انداز میں اندر پھینکا اور ڈرائیونگ سیٹ پر آکر کار ڈرائیو کرنے لگا ۔۔۔۔ پندرہ منٹ کا راستہ پانچ منٹ میں طے کر کے وہ اپارٹمنٹ میں پہنچا، دوبارہ حور کا ہاتھ کھینچ کر اسے گاڑی سے باہر نکالا، ہاتھ کی گرفت میں سختی اس قدر تھی کہ حور کو محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے ہاتھ کی ہڈی ہی نہ ٹوٹ جائے مگر وہ بناء اف کیے ہوئے اس کے ساتھ چلتی چلی جا رہی تھی، خوف کے مارے اس کی زبان تالو سے چپکی ہوئی تھی۔۔۔۔ بیڈ روم میں لاکر بےدردی سے حور کو بیڈ پر پھینکنے کے انداز میں بٹھایا،، حور کا چہرہ لٹھے کی ماند سفید ہو چکا تھا سارے جسم کا خون خشک ہوچکا تھا

"کیا بکواس کی تھی میں نے اس دن تم سے۔۔۔ کہ مجھے جھوٹ اور دھوکہ پسند نہیں ہے بولا تھا کہ نہیں"
زین اس پر جھگتا ہوا اس کا منہ پکڑے ہوئے حور سے پوچھ رہا تھا زین کی انگلیاں حور کے گالوں میں بری طرح گھڑ رہی تھی

"جواب دو"
زین بری طرح دھاڑا اس کی آواز پورے فلیٹ میں گھونجی حور وہ کو اپنے کانوں کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے

"بولا تھا"
حور نے کانپتی ہوئی آواز نے جواب دیا

"تو کیسے دیا تم نے مجھے دھوکا۔۔۔ کیوں گئیں اس سے ملنے"
زین نے حور کا منہ جھٹکے سے چھوڑا تو وہ بیڈ پر لیٹنے کے انداز میں گری۔۔۔ درد اور خوف سے حور کی آنکھیں ایک لمحے کے لیے بند ہوئی، مگر جو آنکھیں کھلیں تو حیرت سے وہی ساکت رہ گئیں۔۔۔ زین کے ہاتھ میں اسکا بیلٹ تھا، آگے کی سوچ سے حور بری طرح کانپ گئی جیسے ہی زین نے بیلٹ والا ہاتھ اٹھایا

"شاہ پلیز نہیں"
حور آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے زور زور سے رونے لگی

زین کا بیلٹ والا ہاتھ وہی ہوا میں رک گیا۔ ۔۔وہ ابھی بھی لب بیچے ہوئے حور وہ زور زور سے روتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔ زین نے غصے میں بیلٹ کھینچ کر دیوار پر دے ماری،، حور اس سے بھی بری طرح ڈر گئی۔۔۔ وہ لال انگارہ ہوتی آنکھوں سے حور کو گھورتے ہوئے کمرے سے باہر دروازہ بند کر کے چلا گیا، دروازہ بند کرنے کی آواز سے پورے گھر کے در و دیوار کانپ گئے اور حور بھی۔۔۔۔ حور اوندھے منہ ہو کر زور زور سے رونے لگی

****


 "آآآآآ"
جب تک تانیہ بھاگتے ہوئے کہ کچن میں پہنچی فضا زمین بوس ہو چکی تھی

"یہ کیا کر رہی تھی تم اوپر چڑھ کے بے وقوف خاتون یہ اسٹول تو پہلے ہی سے ماشاءاللہ ہے اوپر سے تم اس پر چڑھ گئی"
تانیہ نے فضا کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے کہا

"تانیہ میں گری ہوئی ہو تم مجھے اٹھانے کے بجائے باتیں سنا رہی ہو۔۔۔ اللہ جی درد ہو رہا ہے مجھے"
تکلیف کے آثار اسکے چہرے پر نمایاں تھے  تانیہ نے اسے سہارا دیتے ہوئے اٹھانا چاہا

"آہ"
پاوں پر زور پڑتے ہی فضا کی دوبارہ چیخ نکل گئی

"شاید پاؤں میں موچ آ گئی ہے بہت درد ہو رہا ہے"
جیسے تیسے تانیہ فضا کو کمرے میں لے کر آئی اور خود بھی ہانپ گئی

تھوڑی دیر بعد بلال آفس سے گھر آیا ڈرائنگ روم میں فضا کو صوفے پر لیٹے ہوئے دیکھا

"کیا ہوا سب خیریت ہے"
بلال کو تشویش ہوئی

"آپ کی بیگم اپنے پاوں پر ظلم ڈھا کر بیٹھی ہوئی ہیں اور تو باقی سب خیریت ہے"
تانیہ نے جواب دیا

"کیا ہوا تم ٹھیک ہو"
اب بلال فضا کے قریب بیٹھتے ہوئے فضا سے پوچھ رہا تھا

"اسٹول پر چڑھی ہوئی تھی بیلنس نہیں رہا تو گر گئی پاؤں میں موچ آ گئی ہے شاید بہت درد ہو رہا ہے"
فضا نے رونی شکل بناکر بلال کو بتایا

"کیا ضرورت تھی بیچارے اسٹول پر چڑھنے کی نازک سا اسٹول۔۔ کہا اس کی اتنی برداشت کہ وہ تمہارا وزن برداشت کرے"
بلال بات کو مذاق کا رنگ دے کر اس کا پاؤں دیکھنے لگا

"ہاتھ ہٹاو اپنا میرے پاؤں پر سے۔۔۔۔  کیا بول رہے ہو تم، کیا مجھے کوئی پہلوان سمجھ رکھا ہے تم نے، جو اس طرح بول رہے ہو"
فضا نے اچھا خاصا برا مانتے ہوئے کہا

"اچھا یار sorry دکھاؤ تو اپنا پاؤں ذرا"
بلال نے پاؤں چیک کیا تو واقعی ہلکی سوجن تھی

رات کے کھانے کے بعد جب روم میں جانے کا وقت آیا

"میرے خیال میں بھائی فضا کو یہیں چھوڑ دیں یہ سیڑھیاں کیسے چلے گی"
تانیہ نے فضا کے خیال سے کہا

"کوئی ضرورت نہیں ہے اس کی تم ابو کا  خیال رکھو یہی کافی ہے۔۔۔۔ اپنی بیگم کو میں خود اٹھا کر لے جاؤ گا۔۔۔ ویسے بھی اپنا بوجھ خود اٹھانا چاہیے"
وہ الگ بات تھی اتنے دنوں میں فضا کے کمرے میں موجودگی کا وہ عادی ہو گیا تھا۔۔۔ بے شک وہ ابھی تک اس سے ناراض تھی، صوفے پر سوتی تھی۔۔۔ مگر بلال کے لیے احساس ہی کافی تھا کہ وہ اس کے پاس ہے

"ٹھیک ہے پھر"
 تانیہ نے ہنسی دبائی جبکہ فضا نے بلال کو گھور کر دیکھا

جیسے ہی بلال نے فضا کو سہارا دے کر اٹھانا چاہا، جان بوجھ کر آنکھیں باہر نکال کر ایسی شکل بنائی جیسے بہت وزنی چیز اٹھا لی ہو۔۔۔۔ جس پر تانیہ زور سے ہنسنے لگی

"بلال اگر اب تم نے بدتمیزی کی نہ تو میں سچ مچ ناراض ہو جاؤں گی تم سے اور تم اپنے دانت اندر رکھو"
فضا نے دونوں بہن بھائی کو گھرکا

"میں کیا کہہ رہا ہوں، کچھ کہہ رہا ہوں تمہیں۔۔۔ بس مجھے تو اسٹول سے ہمدردی محسوس ہو رہی ہے"
بلال نے فضا کو اٹھا کر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے کہا

"اتارو! ابھی کے ابھی اتارو کہیں نہیں جانا مجھے تمہارے ساتھ"
فضا نے برا مانتے ہوئے کہا

"سوچ لو ابھی اتار دوں"
جیسے ہی بلال نے اپنی گرفت ہلکی سی ڈیلی چھوڑی۔۔۔ ویسے ہی فضا نے مضبوطی سے بلال کے گلے میں ہاتھ ڈال کر بلال کو پکڑ لیا

"تم دنیا کے بدتمیز انسانوں ہو۔۔۔ جس کا ثبوت آج تم مجھے بار بار دے رہے ہو۔۔۔ شاید تم چاہ رہے ہو کہ میرا دوسرا پاؤں بھی ٹوٹ جائے"
بلال پر فضا کو سچ مچ غصہ آنے لگا بلال نے فضا کو بیڈ پر آکر لٹایا

"جبکہ بدتمیزی تو ابھی تک میں نے شروع بھی نہیں ہے تم سے"
وہ فضا کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا اور خود بھی بیڈ کی دوسرے سائیڈ پر آکے لیٹ گیا

"دماغ پر چوٹ تو نہیں لگی ہوئی ہے، میں صوفے پر لیٹتی ہوں روزانہ"
فضا نے بیڈ سے اٹھنا چاہا

"خالا خالو نے جب اتنا بڑا بیڈ دیا ہے، جس پر ہم دونوں آسانی سے آسکتے ہیں تو پھر کیا ضرورت ہے صوفے پہ لیٹنے کی
بلال نے پاکٹ سے موبائل اور والٹ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا

"تم کچھ زیادہ ہی فری نہیں ہو رہے ہو بلال"
فضا نے گھورتے ہوئے اس سے کہا

"تو اپنی بیوی سے ہو رہا ہوں نہ۔ ۔۔۔ پڑوسی کی بیوی سے تو نہیں"
بلال نے ذرا سا ہاتھ کھینچ کر فضا کو برابر میں لیٹایا       

"مجھے یہاں نہیں لیٹنا بلال"
فضا نے سنجیدگی سے کہا
             
"کیوں بھروسہ نہیں ہے خود پر "
بلال معصومیت سے بولا

"کیا فضول بول رہے ہو تم۔۔۔ ایک نمبر کے  وہیات انسان ہو تم"
فضا نے دانت پیس کر کہا

"نخرے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے چپ کر کے لیٹ جاؤ   اور اتنا بھی وہیات انسان نہیں ہوں جو تمہاری مجبوری کا فائدہ اٹھاو۔۔۔۔ اس لیے آب اپنی چونچ بند کرو اور چپ کر کے سو جاؤ"
بلال نے سائڈ پر رکھا ہوا موبائل اٹھا کر کہا جبکہ فضا اس کو گھور کر رہ گئی


*****

شام سے رات ہو گئی حور ایک ہی پوزیشن میں بیڈ پر لیٹی رہی۔۔۔ جب تھک گئی تو خود ہی اٹھ کر بیٹھ گئی
آج اس کی برتھ ڈے کا دن اتنا بھیانک بھی ہوسکتا ہے یہ تو اس میں تصور میں بھی نہیں سوچا تھا کل رات 12 بجے وہ کتنی خوش تھی زین کی پیار نے اور اظہار نے اسے عرش پر بیٹھا دیا تھا اور آج۔ ۔۔۔
حور اٹھ کر ڈریسر کے پاس گئی اور آئینے میں خود کو دیکھنے لگی اپنے دائیں گال پر انگلیاں پھیر کر اس کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو آگئے۔۔۔۔ زین کی انگلیوں کے نشان کافی ہلکے ہو چکے تھے مگر تکلیف اسے پہلے سے بڑھ کر ہو رہی تھی

"‏اف کیا ہو گیا میرے ساتھ۔۔۔ کیوں چلے گی میں خضر بھائی کے بلانے پر"
وہ دوبارہ اس گھڑی کو کوسنے لگی جب اس نے خضر سے ملنے کا فیصلہ کیا تھا
"اور شاہ غصہ کے ساتھ ساتھ کتنی ناعتباری تھی اس کی آنکھوں میں میرے لیے"
شام والا منظر یاد کر کے اسے ایک بار پھر رونا آنے لگا۔۔۔ زین سے وہ اچھی خاصی ڈر گئی تھی

"جو بھی ہو غلطی میں نے کی ہے مجھے خود اس کے پاس جانا چاہیے اس سے معافی مانگنا چاہیے۔۔۔۔ اس نے مجھے ماما سے تو ملوا دیا تھا اور میں نے بھی تو بس یہی چاہا تھا اس سے۔۔۔مجھے خضر بھائی کو فون پر ہی منع کر دینا چاہیے تھا بھلے ہی وہ کچھ بھی سوچتے رہتے مگر آج مجھے یوں بیٹھ کر رونا تو نہیں پڑتا"
حور آنسو صاف کرتے ہوئے روم سے نکلی

"شاہ کہاں ہوگا مجھے اسے منانا چاہیے اور وہ مان جائے گا بہت پیار کرتا ہے مجھ سے۔۔۔ میں معافی مانگو گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا، بالکل پہلے کی طرح"

کبھی کبھی ہم جیسا سوچتے ہیں ویسا نہیں ہوتا ہے یا حور نے غلط وقت کا انتخاب کیا یا پھر واقعی آج حور کی برتھ ڈے کا دن اس کے لئے بہت برا ثابت ہونے والا تھا

وہ دوسرے روم کی طرف بڑھی جہاں کا دروازہ بند تھا اس روم میں اس کا شاہ موجود تھا


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment