Monday, December 10, 2018

episode 37


Itni mohhbat karo na

By zeenia sharjeel

Epi # 37




وہ تینوں آفس کے کیفیٹیریا میں بیٹھے ہوئے کافی پی رہے تھے بلال نے اس دن کے بعد سے اس موضوع پر زین یا اشعر سے کوئی بات نہیں کی تھی بلکہ آفس کے کام کے علاوہ وہ ان دونوں سے کوئی خاص بات نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔  ابھی بھی ان تینوں کے درمیان خاموشی تھی جسے اشعر کی آواز نے توڑا

"اس دن جو بھی کچھ میں نے اور زین نے کیا وہ تمہارا سوچ کر کیا تھا، تمہیں خوش دیکھنے  کے لئے۔۔۔ ہم یہ سوچ رہے تھے کہ تم فضا بھابھی سے اتنی محبت تو کرتے ہو کہ اگر کبھی تمہیں اس حقیقت کا پتہ بھی چلا کہ ذیشان کو ہمارے کہنے پر فیصل نے اٹھایا ہے, تم اس بات کو realize  کرو گے ہم نے تمہاری خوشی کی خاطر اپنی دوستی نبھائی مگر اب مجھے لگتا ہے کہ ہم نے واقعی غلط کیا"
اعشر نے سنجیدگی سے بلال سے کہا

"کر لی تم نے بکواس یا اور بھی کچھ کہنا ہے ابھی"
بلال نے بھی اسی کی طرح سنجیدگی سے اشعر سے پوچھا

"ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے وہ، اب مجھے بھی اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہے نہیں اٹھانا چاہیے تو اس بیچارے ذیشان کو"
زین نے بھی اشعر کی سائیڈ لیتے ہوئے کہا

"مجھے لگ رہا ہے کہ آج تم دونوں کا میرے ہاتھوں سے پٹنے کا دل چاہ رہا ہے جو فضول میں بکواس کیے جارہے ہو"
بلال نے اب زین کو دیکھتے ہوئے کہا

"او بھائی تو پھر صاف بتا کب تک یہ روٹھی ہوئی حسیناؤں کی طرح منہ لٹکا کر رہنے کا ارادہ ہے۔۔۔۔۔ یہاں کوئی منانے ونانے والا چکر نہیں ہے خود ہی انسان بن جا"
اشعر نے ساری اخلاقیات ایک طرف کرتے ہوئے بلال کو اصلیت دکھانے میں دیر نہیں کی جس پر بلال اشعر کو گھورتا رہ گیا جبکہ زین کی باقاعدہ ہنسی چھوٹ گئی

"قسم سے دو دن سے یہ جتنے نخرے دکھا رہا ہے اتنے نخرے تو میں اپنی بیوی کے برداشت نہ کرو"
غلط وقت پر اشعر کی زبان پھسلی جسے وہ دانتوں تلے دبا گیا

"فضول میں نہ ہانکہ کرو اپنی، کوئی ناراض وراض نہیں ہوں میں تم دونوں سے اور نہ ہی کبھی ہو سکتا ہوں۔۔۔ بائے داوے یہ بیوی تمہیں آج کیسے یاد آ گئی جو ابھی تک تمہاری زندگی میں میری اطلاع کے مطابق آئی تو نہیں ہے"
بلال نے اشعر کو دیکھتے ہوئے کہا

"بالکل بلال میں بھی یہی بات پوچھنے والا تھا اچھا سوال کیا ہے۔۔۔۔ بیوی کا یہاں کیا ذکر؟؟ بے سبب تو ایسے کوئی ذکر بھی نہیں کرتا یقینا دال میں کچھ کالا ہے"
زین نے بھرپور اداکاری کرتے ہوئے بلال سے کہا
جس پر اشعر کا دل چاہا کہ ایک زوردار مکہ وہ زین کے منہ سے جڑ دے

"ارے یار غلطی ہوگئی معاف کر دو ایسی کوئی بات نہیں چھوڑو اس ٹاپک کو چلو واپس۔۔۔ کچھ  ضروری پوائنٹ ڈسکس کرنے ہیں کل کے پروجیکٹ کے لئے"
اشعر نے جلدی سے بات گمانی چاہی

"ہاں مگر تمہاری زندگی سے امپورٹنٹ تو پروجیکٹ نہیں ہے ہمارا۔۔۔۔ اس کو چھوڑو مجھے اور بلال کو یہ بتاؤ کہ اکیلے میں کسے خیالوں میں سوچ کر مسکریا جاتا ہے"
زین اسے آج کہاں ایسے بخشنے والا تھا۔۔۔ اس نے بھرپور خباثت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اشعر کی ٹانگ کھینچی

"یار یہ دیکھ رہا ہے آج دوسری بار تیرے آگے ہاتھ جوڑے ہیں میرے بھائی، مجھ سے آج تک جو غلطیاں ہوئی ہیں مجھے معاف کر دے پلیز"
اشعر نے دونوں ہاتھ زین کے آگے جوڑتے ہوئے بیچارگی سے کہا

"چلو ابھی نہ سہی پھر کبھی سہی، معاف کیا آج تو"
زین نے مسکراتے ہوئے کہا

اشعر لمبا سانس کھینچ کر ریلیکس ہوا اور گھور کر اپنے سامنے بیٹھے ہوئے اس خطرناک آدمی کو دیکھا جو ابھی بھی اشعر کو دیکھتے ہوئے مسکرائے جا رہا تھا۔۔۔ جبکہ بلال ان دونوں کی گفتگو کو مذاق سمجھتے ہوئے کافی پینے میں مصروف تھا۔ ۔۔ میسج ٹون بجنے پر زین نے ٹیبل پر پڑا ہوا سیل فون اٹھایا اور میسج دیکھنے لگا 

****

حور نے بہت سوچتے ہوئے خضر سے نہ ملنے کا فیصلہ کیا اور خضر کو فون کر کے منع کرنے کا سوچا

"ہیلو خضر بھائی"
کال ریسیو ہوتے ہی حور نے کہا

"ہاں بولو حور پھر تم نہیں آ رہی ہو کیا"
خضر نے چھوٹتے ہی  حور سے سوال کیا

"مطلب"
حور گڑبڑا گئی کہ خضر کو کیسے پتہ چلا اس نے پروگرام کینسل کرنے کے لیے کال کی ہے

"مطلب صاف ہے حور تمہارے اس کنزرویٹیو شوہر نے منع کردیا ہوگا۔۔۔ میں خوب جانتا ہوں ایسے انسانوں کی منٹیلٹی کو"

"نہیں میں نے یہ بتانے کے لئے آپ کو کال کی تھی کہ میں سہی پانچ بجے آپ کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ جاؤ گی"
حور نے خضر کی بات سن کر اس کو جواب دیا

"ٹھیک ہے پھر میں پانچ بجے تمہارا ویٹ کرونگا"
خضر کال ڈسکنیکٹ کر کے مسکرانے لگا

حور خضر کے بتائے ہوئے ریسٹورینٹ میں صحیح وقت پر پہنچ گئی مگر اب گھر سے نکلنے کے بعد اس کو گلٹ فیل ہو رہا تھا شاید اس نے ٹھیک نہیں کیا مگر اس نے سوچا آج وہ خضر بھائی سے دو ٹوک بات کریں گی۔۔۔۔ کہ وہ اپنی زندگی میں خوش ہے اور اسے اپنی زندگی جینے دیں

"حور میں یہاں ہوں"
وہ اپنی سوچوں میں مگن تھی، خضر کی آواز پر مڑی

"کیسے ہیں آپ"
حور نے سنجیدگی سے پوچھا مسکراہٹ یا خوشی کی اس کے چہرے پر رمق بھی نہیں تھی۔۔۔۔ یہ چیز خضر نے نوٹ کی

"میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو آؤ بیٹھو"
خضر نے خیریت پوچھنے کے ساتھ ہی چیئر پر بیٹھنے کا اشارہ بھی کیا

"میں یہاں پر بیٹھنے نہیں آئی ہوں خضر بھائی میں صرف آپ کو یہ بتانے آئی ہو"

"حور پلیز بیٹھو آرام سے بات کرتے ہیں نا"
حور کی بات مکمل ہونے سے پہلے خضر نے حور کو اپنی مخصوص نرم لہجے میں کہا جیسے وہ ہمیشہ حور سے بات کیا کرتا تھا ناچار ہی سہی حور کو بیٹھنا پڑا

"ویک لگ رہی ہو طبیعت ٹھیک ہے تمہاری"
خضر نے حور کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"ایسے ہی نظر کا دھوکا ہوا ہوگا آپ کو، میں بالکل ٹھیک ہو۔۔۔ طبیعت بھی ٹھیک ہے میری"
حور بس وہاں سے جلدی جانا چاہتی تھی اس کو گھبراہٹ شروع ہوگئی

"میری نظر تمہارے معاملے میں کبھی دھوکا نہیں کھا سکتی۔۔۔ خیر تم کہہ رہی ہو تو ٹھیک کہہ رہی ہو گی"
خضر نے اس کو جتایا

"آپ نے مجھے اس طرح کیوں بلایا ہے خضر بھائی"
حور جلدی سے کام کی بات کرکے وہاں سے نکلنا چاہتی تھی

خضر نے اس کو جواب دینے کے بجائے ویٹر کو اشارہ کیا جو کہ ریڈ فلور کا ایک خوبصورت بوکے اور ایک کیک لے کر آیا
"ہیپی برتھ ڈے حور"
خضر مسکرا کر بولا تو حور کو اپنے ایٹی ٹیوڈ پر افسوس ہونے لگا۔۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے چھائی ہوئی بیزاری کہیں غائب ہو گئی وہ اس کا کزن تھا جو ہر سال اس کا برتھ ڈے یاد رکھتا تھا،ہمیشہ اس کے کام آتا تھا اور اس کا خیال رکھتا تھا۔۔۔۔ آج وہ کیسے اپنی زندگی میں مگن ہو کر اس سے بے رخی برت رہی تھی اسے مزید شرمندگی نے آ گھیرا

"آپ کو آج میرا برتھ ڈے یاد تھا" اس نے مسکرا کر خضر سے پوچھا

"اس سے پہلے کیا کبھی بھولا ہوں"
خضر نے نائف حور کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے کہا۔۔۔۔  حور نے کیک کاٹا خضر نے ایک چھوٹا سا ٹکڑا حور کو کھلانے کے لئے آگے بڑھایا، حور نے جھجکتے ہوئے منہ کھولا ہی تھا۔۔۔ آنے والے نے زور سے خضر کا ہاتھ جھٹکا کیک کا ٹکڑا اچھلتا ہوا دور جا گرا۔۔۔۔۔اس سے پہلے حور دیکھتی ایک زوردار چانٹا حور کے منہ پر پڑا، جس سے حور کا دماغ گھوم گیا دھندلاہٹ آنکھوں سے کم ہوئی۔۔۔ تو سامنے والے کا چہرہ واضح ہوا جسے دیکھ کر اس کو سانپ سونگھ گیا۔۔۔۔ زین آنکھوں میں  بےیقینی لیے حور کو غصہ میں گھور رہا تھا
"تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس پر ہاتھ اٹھانے کی"
اس سے پہلے خضر زین کی طرف بڑھتا۔۔۔۔ زین نے خضر کا گریبان پکڑ کر زور دار مکہ خضر کے منہ پر جڑدیا

سارے لوگ تماشا دیکھنے میں مصروف تھے ویٹرز قریب آئے مگر زین کے تیور دیکھ کر وہی رک گئے

"یہ تمہارے لئے میری آخری وارننگ ہے میری بیوی سے دور رہنا تم"
زین شہادت کی انگلی اٹھائے خضر کو وان کرتا ہوا حور کی طرف مڑا غصے سے اس کو دیکھا اس کا ہاتھ کھینچتے ہوئے تیز قدم آگے بڑھانے لگا اور حور کسی پتھر کے مجسمے کی طرح اس کے ساتھ چلنے لگی

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment