Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 36
بلال اور فضا اپنے ماموں کے گھر پہنچے آج رات وہ لوگ وہاں کھانے پر مدعو تھے۔۔۔ سب ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے مگر فضا نے نوٹ کیا سلوا (ماموں کی بیٹی) بلال سے ہی باتوں میں لگی ہوئی تھی اور کافی چہک چہک کر باتیں کر رہی تھی فضا کو آج سلوا پہلے سے زیادہ زہر لگی، وہ ہمیشہ سے ہی بلال سے ایسے فری ہونے کی کوشش کرتی تھی۔۔۔۔ یہ الگ بات تھی کہ بلال اس کو لفٹ نہیں کرواتا تھا مگر آج فضا کو جس بات پر غصہ آرہا تھا وہ یہ کہ بلال نا صرف سلوا کی باتوں کا جواب دے رہا تھا بلکہ مسکرا مسکرا کر خود بھی باتیں کر رہا تھا
"کس بات پر تھوبڑا بنا ہوا ہے تمہارا کسی کے گھر آئی ہو تو اپنے چہرے کے زاویے تو ٹھیک رکھو کم سے کم اسمائیل ہی دے دو "
بلال نے فضا کا پھولا ہوا منہ دیکھتے ہوئے سرگوشی کے انداز میں کہا
"کس بات پر اسمائل دو میں۔۔۔ کوئی کامیڈی شو چل رہا ہے یہاں پر۔۔۔اور تمہارے چہرے پر کیوں بار بار مسکراہٹ آ رہی ہے کون سی خوشیاں ملی ہیں تمہیں یہاں آکر۔ ۔۔۔ اپنی یہ بتی سی اندر رکھو"
فضا جو کافی دیر سے بھری بیٹھی تھی بلال کے بولنے پر آئستہ آواز میں پھٹ پڑی اور بلال فضا کو گھورتا رہ گیا
کھانے کا دور چلا تب بھی سلوا ایک ایک ڈش اٹھا کر بلال کو دینے لگی، پھر فضا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا
"سلوا تمہیں زیادہ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ بلال کو جو بھی کچھ چائیے ہوگا اسے وہ میں دے دوں گی اور اس کی پسند ناپسند کو میں اچھی طرح جانتی ہوں تم آرام سے اپنا کھانا کھاؤ"
فضا مسکراتے ہوئے مگر جتانے والے انداز میں سلوا کو دیکھتے ہوئے بولی اور سلوا کی بڑھائی ہوئی شامی کباب کی پلیٹ دوسری سائیڈ پر رکھ کر بلال کی پلیٹ دوسری چیزوں سے بھرنے لگی
"مگر مجھے تو شامی کباب کھانے تھے"
بلال ہلکی سے آواز میں منمنایا
"چپ کر کے جو پلیٹ میں بھرا ہے وہ کھاؤ"
وہ ٹیبل کے نیچے اپنا سینڈل والا پاؤں بلال کے پاؤں پر زور سے مارتے ہوئے بولی
بلال نے نظر اٹھا کر سلوا کی دیکھا جس کے تاثرات ایسے تھے کہ وہ ابھی فضا کو کچا چبا جائے گی مگر مجبوری میں صرف مسکرا رہی تھی۔ ۔۔۔ بلال اپنی پلیٹ کی طرف جھگ گیا
****
"کیا ہوا آج کھانے میں ممانی نے اتنی بھی مرچے نہیں ڈالی تھی جتنی تمہیں لگ گئی تھی"
بیڈروم میں آتے ہی بلال اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے فضا سے بولا
"کیا کہا تم نے مجھے مرچے لگی تھی۔۔۔۔ بلال مسعود فضا مرچیں لگانے والوں میں سے ہے"
فضا نے بلال کو گھور کر دیکھا
"بجلیاں گرانا، مرچیں لگانا ماشاءاللہ سے ساری کوالٹیز ہیں میری بیگم میں"
بلال نے پر شوخ نظروں سے فضا کو دیکھتے ہوئے کہا
"فی الحال تو میرا آگ لگانے کو دل چاہ رہا تھا اس سلوا کی بچی کو۔۔۔۔ کس خوشی میں تم ایسے مسکرا مسکرا کر اس چڑیل سے باتیں کیے جا رہے تھے"
فضا باقاعدہ کمر پر ہاتھ رکھ کر لڑنے والے انداز میں بلال سے پوچھنے لگی
"کسی کے گھر گئے تھے یار اب تمہاری طرح منہ بنا کر تو بیٹھنے سے رہا اور سلوا بیچاری وہ تو اداب میزبانی نبھا رہی تھی"
بلال کو فضا کا اس طرح جلنا، بہت مزہ دے رہا تھا
"سلوا اور بیچاری، ایک نمبر کی چھچوری ہے وہ اس کا تو بس نہیں چل رہا تھا وہ کھانے کے ڈش بڑھانے کی بجائے تمہیں اپنے ہاتھوں سے کھلانا شروع کر دے"
فضا نے جل کر کہا
"اچھا تو اتنی دیر سے تم یہ سوچ سوچ کر جل رہی ہوں"
بلال نے فضا کو اپنے قریب کرتے ہوئے کہا
"میں تو اپنی جوتی کو بھی نہ جلنے دو اس چڑیل سے اور تمہیں بھی زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے دور ہٹو"
فضا بری طرح تپ چکی تھی اس نے بلال کو خود سے دور کرتے ہوئےکہا اور اپنی چادر اور تکیہ لے کر صوفے کے چلے گی
****
"شاہ"
حور نے حیرت سے پوری آنکھیں کھول کر زین کو پکارا اور زین وہی اپنی آنکھوں میں مخصوص چمک لئے ہوئے مسکرا کر حور کے حیرت زدہ فیس ایکسپریشن انجوائے کررہا تھا
"پری کا شاہ"
حور کو نرمی سے بانہوں میں لیتے ہوئے کہنے لگا
"تم شاہ ہوں شازین۔۔۔ مجھے یقین نہیں آ رہا میں کیوں نہیں پہچانی تمہیں اف۔۔۔۔۔ تم پہچانتے تھے نا مجھے پہلے سے جانتے تھے نا؟؟ پھر تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔۔۔ میں تمہیں آج تک کتنا فضول انسان سمجھتی رہی لیکن تم تو میری سوچ سے بھی زیادہ فضول نکلے"
حور زین کی بانہوں میں نان اسٹاپ بولنا شروع ہوچکی تھی مگر آخری بات پر الگ ہوتے اس نے ہلکا سا مکہ زین کے سینے پر مارا۔۔۔۔ جس پر کمرہ، زین کی قہقے سے گونج اٹھا
"میں نے تو آج یہ بات تمہاری برتھ ڈے پر یہ سوچ کر بتائی تھی تم بدلے میں مجھے ڈھیر سارا پیار کروں گی مگر تم تو تشدد پر اتر آئی ہوں میری ظالم پری"
زین اپنا سینہ سہلاتے ہوئے بولا
"پیار چاہیے تمہیں۔۔۔ میں تمہیں ڈھیر سارا پیار کروں گی تم یہ سوچ رہے تھے۔۔۔اب تک مجھے اتنا ڈھیر سارا پریشان کیا۔۔۔ مجھ پر ڈھیر سارا غصہ کیا اور تمہیں مجھ سے پیار چاہیے یہ توقع کر رہے تھے تم"
حور بیڈ پر پڑا ہوا تکیہ اٹھا کر زین کو مارنے لگی، جسے زین نے پکڑ لیا اور واپس تکیہ بیڈ پر رکھتے ہوئے حور کو اس پر لیٹایا اور اس پر جھکتے ہوئے کہنے لگا
"اور جو ڈھیر سارا پیار کیا ہے اس کا کیا"
زین کے سنجیدگی سے پوچھنے پر حور کی پلکیں ایک دم جھکی اور لب مسکرائے۔۔۔ یہ چہرہ زین کی نظر میں اس دنیا کا سب سے حسین چہرہ تھا
"مجھے ایک بات ہمیشہ کنفیوز کرتی ہے تم واقعی حسین ہو یا صرف شاہ زین کو ہی اتنی حسین لگتی ہو"
وہ حور کی پلکوں پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے حور سے پوچھ رہا تھا
"مجھے پتا ہی نہیں چلا تم کب سے میرے لئے اور اس دل کے لئے اتنی ضروری ہوگی۔۔ جب تم سے جدا ہوا تو ایسا کوئی بھی دن نہیں گزرا جب میں نے تمہیں یاد نہ کیا ہو۔۔۔ بابا کی ڈیتھ کے بعد میرا اور اماں کا آزمائش کا دور شروع ہو گیا، ہم دونوں نے بہت مشکل وقت دیکھا۔۔۔ مگر اپنی پریشانیوں میں الجھ کر بھی ایسا کوئی دن نہیں گزرا جب میں نے تمہیں یاد نہ کیا ہو اور جب اسپتال میں تمہیں اپنے سامنے دیکھا تو ایک لمحے کو تو مجھے یقین نہیں آیا کہ تم میرے سامنے کھڑی ہو میں اس وقت بری طرح شاک کی کیفیت میں تھا مجھے یقین نہیں آیا کی دعائیں ایسے بھی قبول ہوتی ہیں۔ ۔۔ مگر پھر خضر تمہارا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے گیا، تو میرے اندر بہت کچھ ٹوٹ سا گیا۔۔۔ تم نے مجھے کیوں نہیں پہچانا میرا انتظار کیوں نہیں کیا میں نے کہا تھا نا میرا انتظار کرنا"
زین حور کے ہونٹ کے نیچے تل کو انگوٹھی سے سہلاتے ہوئے اس سے شکوہ کر رہا تھا
اور حور کیا بولتی وہ تو یک ٹک اسے دیکھے جا رہی تھی اس نے تو سوچا بھی نہیں تھا زین اس کا شوہر شاہ ہوسکتا ہے اس کے بچپن کا دوست اور اس سے آج اس طرح اپنے محبت کا اقرار کرے گا یہ احساس ہی اسکے لیے نیا اور بہت خوشگوار تھا
"اور فائنلی اس دیو نے اپنی پری کو قید کر لیا کبھی نہ آزاد کرنے کیلئے" سنجیدگی سے بات کرتے ہوئے آخر میں زین نے شوخ لہجے میں کہاں جس پر حور بھی مسکرا دی
"اور اب اس پری کو بھی اس دیو سے اور اس کے قید خانے دے محبت ہوگئی ہے وہ خود بھی کبھی آزاد نہیں ہونا چاہے گی"
حور نے بہت آہستہ سے کہا۔۔۔ جس پر زین نے سرشاری سے مسکراتے ہوئے ہلکے سے اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکرایا
"آئی لو یو پری"
وہ حور کی گردن پر جھگتا ہوا بول رہا تھا
حور زین کی پناہوں میں اپنے آپ کو خوش نصیب تصور کر رہی تھی اس رات کافی دیر تک انہوں نے ڈھیر ساری اپنے بچپن کی باتیں کی اور اس طرح ایک خوبصورت رات کا اختتام ہوا
*****
"اٹھ جاو سویٹ ہارٹ صبح ہو گئی ہے کب کی"
زین نے حور کے اوپر سے بلینکیٹ کھینچتے ہوئے کہا
"شاہ سونے دو پلیز بلکہ ایسا کرو تم بھی سو جاؤ"
حور ابھی تک نیند میں تھی اور نیند میں ہی اس کو بھی مشورہ دیا۔۔۔ زین سے شاہ تک کا سفر اس نے کل رات کو ہی طے کر لیا تھا
"میں آفس جانے کے لئے تیار ہو چکا ہو تم یہ بتاؤ تم اٹھ کر ناشتہ کر رہی ہوں یا نہیں"
زین کا لہجہ نرم تھا لیکن انداز وان کرنے والا تھا حور نے آنکھیں کھولیں
"شاہ تم اتنے ظالم کیسے ہو سکتے ہو مجھے نیند آ رہی ہے"
حور نے بیچارگی سے دیکھتے ہوئے کہا
"یہ ڈائیلاگز بعد میں بولنا، جلدی سے ناشتے کے لیے ٹیبل پر آؤ پھر میڈیسن بھی لینی ہے تمہیں"
وہ ہاتھ میں گھڑی پہنتے ہوئے مصروف انداز میں کہہ رہا تھا
کیئرنگ تو وہ اس کے لئے پہلے بھی تھا مگر پریگنینسی کا سن کر وہ مزید بچوں کی طرح اس کی کئیر کرنے لگا تھا۔۔ ناچار حور کو منہ بناتے ہوئے اٹھنا پڑا
"میں سوچ رہا ہوں کیوں نہ ہم بلال اور فضا وہ اپنے گھر پر ڈنر کے لئے انوائٹ کرلیں کھانہ باہر سے ارڈر کر لیں گے کیا خیال ہے تمہارا"
زین نے چائے کا سپ لیتے ہوئے حور سے مشورہ لینا چاہا۔۔ ۔۔
حور ناشتہ کرتے ہوئے مسلسل یہی سوچے جارہی تھی خضر کو کیسے منع کرے یا پھر زین کو بتانا ٹھیک رہے گا خضر کے بارے میں۔۔۔۔ مگر پھر وہی مسئلہ زین کیا ری ایکٹ کرے جو بھی تھا وہ اب بھی زین کے غصے سے ڈرتی تھی
"شاہ کو بتانے سے بہتر ہے کہ میں خضر بھائی کو خود ہی فون کرکے منع کر دوں"
"Knock knock
کہاں گم ہو سویٹ ہارٹ"
زین نے حور کا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے کہا
"ہاں۔۔۔۔ ہاں صحیح کہہ رہے ہو ایسے ہی کر لیتے ہیں"
حور نے غائب دماغی میں جواب دیا
"ٹھیک ہے پھر میں نکلتا ہوں آفس، لیٹ ہو گیا ہوں آج، تم میڈیسن لے لینا یاد سے۔ ۔۔ خیال رکھنا اپنا"
وہ چائے کا کپ رکھ کر اٹھ کر جانے لگا
"شاہ"
حور نے زین کو پکارا
"ہاں بولو"
زین واپس پلٹا
"تم مجھ سے پیار کرتے ہو"
حور کو خود سمجھ میں نہیں آیا کہ اس نے زین سے پوچھا ہے یا اسے بتایا ہے
"کیا بالکل ابھی ابھی ثبوت چاہیے" وہ شرارت سے بولا
"نہیں آفس جاؤ تم لیٹ ہو رہے ہو"
حور اس کی آنکھوں سے چھلکتی شرارت دیکھ کر بولی
"اوکے خیال رکھنا اپنا بھی اور اس کا بھی"
حور کے ماتھے پر وہ اپنے لب پر رکھ کر
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment