tni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 35
حور کھانا بنا رہی تھی کہ موبائل پر میسج ٹون ہوئی موبائل ان لاک کیا تو زین کا میسج آیا ہوا تھا
Love u 💞😘
میسج پڑھ کر حور کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی موبائل رکھ کر وہ چولہے کی آنچ ہلکی کرنے لگی دوبارہ میسج ٹون بجی
Miss u 😘😘💗
دوبارہ مسکراتے ہوئے حور نے گلاس میں پانی نکالا تو کال آنے لگی۔۔۔حور کال ریسیو کر کے نان اسٹاپ شروع ہوگی
"کیا تمہیں اپنے آفس میں اور کوئی دوسرا کام نہیں ہے بیوی کو تنگ کرنے اور یاد کرنے کے علاوہ"
حور اپنی بات مکمل کر کے پانی پینے لگی
"تم شاید کسی اور کی کال ایکسپکٹ کر رہی تھی۔۔۔۔ یہ میں بات کر رہا ہوں خضر"
خضر جو کہ بڑے خوشگوار موڈ میں حور کو کال کر رہا تھا مگر حور کی چہکتی ہوئی آواز اور لہجے میں محبت۔۔۔۔ وہ یقینا اسے زین سمجھی تھی، یہ سوچ کر خضر کو گھٹن کا احساس ہوا۔۔۔۔ جسے چھپاتے ہوئے اس نے حور سے اپنا تعارف کرایا
"او! خضر بھائی یہ آپ ہیں۔ ۔۔ ایم سوری وہ جلدی میں، میں نے نمبر نہیں دیکھا میں سمجھی زین ہے شاید"
حور کو خضر کی آواز سن کر پانی اپنے حلق میں پھنستا ہوا محسوس ہوا وہ بہت دقت کے بعد بولی
"کوئی بات نہیں ہے ہوجاتا ہے ایسا بھی۔۔۔ جب دن رات ایک ہی شخص کا چہرہ انکھوں کے سامنے رہے تو دماغ میں بھی وہی شخص رہنے لگتا ہے"
خضر بولا
"آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں خضر بھائی جب ایک ہی انسان کا چہرہ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو تو دل اور دماغ میں وہی شخص بستا ہے اور اسی کے متعلق سوچنا اچھا لگتا ہے"
حور نے خضر کی بات سے مکمل اتفاق کیا
"بالکل ٹھیک کہا تم نے حور۔۔۔ مگر انسان اس وقت اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرے جب سامنے والا بھی آپ کے لئے ایسے ہی جذبات رکھتا ہوں اور آپ کے جذبات کی قدر کرتا ہوں"
خضر نے اس کو کچھ جتانا چاہا
"آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں خضر بھائی"
حور کو خضر کی بات نہ سمجھ آئی نہ پسند تبھی اس نے صاف لفظوں میں خضر سے پوچھا
"سادہ سی بات ہے اتنی مشکل بھی نہیں جو تمہیں سمجھ میں نہیں آئی، تم نے اس شخص کو دل اور دماغ میں جگہ دی ہے جو تمہارے جذبات کی قدر نہیں کرتا"
خضر بولا
"یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں"
حور کو خضر کی باتیں ناگوار گزری
"جو شخص تمھیں تمھارے گھر والوں سے نہیں ملنے دیتا تمہیں موبائل پر ان سے بات نہیں کرنے دیتا۔۔۔۔ تمہارے گھر آؤ تو تمہیں یہ خوف رہتا ہے تمہارے شوہر آ گیا تو کیا ہوگا۔۔۔ ظاہری سی بات ہے وہ شخص تمھارے جذبات اور احساسات کی کیا قدر کرے گا اور کیا تم سے محبت کرے گا"
خضر نے لگی لپٹی رکھے بغیر حور کو واضح جواب دیا
"میرا شوہر مجھ سے محبت بھی کرتا ہے، اسے میرے جذبات اور احساسات کی قدر بھی ہے۔۔۔ مگر میں ہر کسی کو اس بات کی وضاحت دینا ضروری نہیں سمجھتی"
حور نے برا مانتے ہوئے، مگر دو ٹوک انداز میں خضر سے بات کی
"تو پھر ٹھیک ہے مسزز زین! آپ اپنے شوہر سے اجازت لے کر کل اپنے گھر کے قریب ریسٹورینٹ میں اپنے کزن سے ملنے آجائے گا میں امید کرتا ہوں آپ کا loving husband آپ کے جذبات اور احساسات کی قدر کرتے ہوئے آپ کو اپنے کزن سے ملنے کی بخوشی اجازت دے دے گا۔۔۔۔ ظاہری بات ہے پیار کرتا ہے تم سے انکار تو نہیں کرے گا تمہاری بات کو۔۔۔۔میرا گھر آنا اسے شاید پسند آئے اس لئے میں تمہارا 5 بجے انتظار کروں گا"
اپنی بات کہہ کر خضر نے کال کاٹ دی اور حور وہی کی وہی بیٹھی رہ گئی
"یہ کیا مجھے عجیب کشمکش میں ڈال دیا خضر بھائی نے۔۔۔۔ میں باہر جاکر کیسے مل سکتی ہوں خضر بھائی سے کیا کرو اب، منع کردوں انھیں۔۔۔۔ ہاں یہی ٹھیک ہے"
اس نے موبائل اٹھایا
"مگر کیا کہوں گی ان سے انہوں نے تو یہی کہنا ہے کہ زین نے اجازت نے دی پھر وہ میری بات کو ویلیو نہیں دیتا۔۔۔ اف کیا کروں کس مشکل میں ڈال دیا۔۔۔ کیا زین سے بات کرنی چاہیے مجھے؟ مگر زین سے بات کرنا تو اپنی شامت لانے کے برابر ہے اسے تو کچھ بھی نہیں بتاسکتی میں۔۔۔۔ اگر نہیں جاونگی تو ہمیشہ کے لئے خضر بھائی کے دل میں یہ بات رہ جائے گی کہ میرا شوہر شکی ہے مجھے ملنے نہیں دیتا اب کیا کرو ۔۔۔۔۔ایک ہی حل ہے اگر میں زین کو نہ بتاو ویسے بھی زین تو سات بجے گھر آتا ہے جب تک تو میں واپس آجاؤں گی اور خضر بھائی کو بھی ایک دفعہ روبرو جتانا ضروری ہے کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہو اور مطمئن بھی۔۔۔۔آدھے گھنٹے کی تو بات ہوگی میں واپس آجاؤ گی زین کو کیا پتہ چلے گا۔۔۔۔ حور کل کا پلان بنانے لگی یہ سوچے سمجھے بنا بھی یہ قدم اس کی زندگی میں کیا طوفان لا سکتا ہے
*****
خضر فون رکھ کر مطمئن ہو گیا اسے یقین تھا، چاہے کچھ بھی ہوجائے حور وہاں ضرور آئے گی اپنے اس سوکالڈ ہزبینڈ کو صحیح ثابت کرنے کے لئے
"اور کل حور میں تمہیں تمہارے شوہر کی اصلیت کے ساتھ ساتھ اپنے جذبات کی سچائی سے بھی آگاہ کردوں گا۔۔۔۔۔
وہ کہتے ہیں نا کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے۔۔۔۔ مسٹر شاہ زین تم نے حور کو مجھ سے چھینا ہے اب میری باری ہے تیار رہو۔۔۔۔۔ اور حور تم نے صحیح کہا تھا جب انسان کو آنکھوں کے سامنے ایک ہی چہرہ نظر آئے تو دل اور دماغ میں پھر وہی بستا ہے اب کل کے بعد ہر روز تمہیں صرف خضر مراد کا چہرہ نظر آئے گا میری محبت تمہیں مجبور کر دیے گی کہ تمہارے دل اور دماغ میں، میں ہی بسو"
خضر نے مسکراتے ہوئے سوچا مگر یہ بھول گیا تھا محبت صرف ایک ہی بار ہوتی ہے اور وہ حور کو زین سے ہو گئی تھی
****
بلال آفس سے گھر آیا تو فضا کو تیار دیکھا وہ بہت پیاری لگ رہی تھی
"آج کیا بجلیاں گرانے کا ارادہ ہے"
وہ شوخ لہجہ اپناتے ہوئے بولا
"پہلے کبھی تم پر بجلیاں گری ہیں جو آج گریں گی"
فضا بالوں کو برش کرتے ہوئے کہنے لگے
"تمہیں کیا پتہ کب کب اور کتنی بار اس دل پر بجلی گری ہیں"
وہ فضا کے قریب آتے ہوئے بولا
"اچھا۔۔۔۔ کافی حیرت ہوئی سن کر"
فضا حیرت کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوگئی
"اور اگر میں اپنا حال دل سنانے بیٹھ جاو تو تمہیں حیرت سے پتھر بن جانا ہے"
بلال نے فضا کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
"بلال مجھے تمہارے دل یا حال دل سے کوئی غرض نہیں ہے اور پتھر تو میں اسی دن بن گئی تھی جب میں نے نکاح نامہ پر سائن کیے تھے"
فضا نے اپنے کندھوں پر سے بلال کے ہاتھوں کو جھٹکتے ہوئے کہا
"فضا کیا ہم پرانی ساری باتوں کو بھول کر نئی زندگی کا آغاز نہیں کر سکتے"
بلال نے پیار سے اس کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوئے نرم لہجے میں کہا
"ایک مجبور انسان کے منہ سے ایسی باتیں سوٹ نہیں کرتی ہیں"
فضا روم سے جانے لگی
"فضا بس بہت ہوگیا اب ختم کرو یار یہ سب"
بلال نے فضا کو دونوں بازوؤں سے تھامتے ہوئے کہا
"میں بھی یہی کہہ رہی ہوں بہت ہو گیا ہے اب بس کرو بلال۔ ۔۔ ریڈی ہو کر نیچے آجاؤ ماموں کے گھر جاتا ہے آج" فضا نے اپنے بازو بلال کے ہاتھوں سے چھڑاتے ہوئے کہا اور باہر نکل گئی بلال اسے دیکھتا رہ گیا
*****
آج زین کافی لیٹ گھر آیا رات کا کھانا کھا کر وہ اپنا لیب ٹاپ سنبھال کر بیٹھ گیا۔۔۔۔ جب کہ حور شام سے ہی خضر سے ہونے والی بات کا سوچے جارہی تھی دماغ اسی طرف مسلسل لگا ہوا تھا۔۔۔۔ حور کی گھڑی پر نظر پڑی تو 12 بجنے والے تھے۔۔۔ وہ سونے کی نیت سے آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی
"ہیپی برتھ ڈے ٹو یو سویٹ ہارٹ"
تھوڑی دیر بعد حور کو زین کی آواز اپنے کانوں میں سنائی دی۔۔۔۔ حور نے آنکھیں کھول کر حیرت سے زین کو دیکھا
"تمہیں کیسے میری برتھ ڈے کا پتہ چلا یقینا تمہیں ماما نے بتایا ہوگا"
آج شام سے مسلسل ٹینشن میں وہ اپنی برتھ ڈے کا ہی بھول گئی تھی، سب ٹینشن کو ایک طرف رکھ کر اس پر لعنت بھیج کر وہ اٹھ کر بیٹھ گئی
"ماما کیوں بتائے گیں مجھے پہلے سے ہی پتہ ہے کہ آج کے دن تمہارا برتھ ڈے ہوتا ہے"
زین نے اٹھ کر ڈراز سے چھوٹا سا ہارٹ شیپ ڈبہ نکالا اس میں سے ڈائمنڈ رنگ نکال کر حور کو پہناتے ہوئے کہا
"پھر میری برتھ ڈے کا یقینا تمہیں تمہارے موکلوں نے بتایا ہوگا واو یہ رنگ بہت پیاری ہے تھینک یو"
حور نے رنگ دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا
"اور اس رنگ کے بدلے مجھے کیا ملے گا"
زین نے آنکھوں میں شرارت لیے ہوئے حور سے پوچھا
"جو تمہیں چاہیے تھا وہ تمہیں مل چکا ہے۔ یہ تم مجھے پہلے ہی کہہ چکے ہوں۔۔۔۔ اور جو میں تم سے پوچھ رہی ہوں تم اس بات کا جواب مجھے دو"
حور نے انکھیں گھماتے ہوئے کہا اور آخری بات پر منہ بنایا
"کیا بات کا جواب چاہئے سویٹ ہارٹ۔۔۔۔ کیا پوچھنا ہے تمھیں"
زین نے حور کے ہونٹ کے نیچے تل کو انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے پوچھا
"یہی پوچھنا ہے نہ کہ میری برتھ ڈے کا تمہیں کیسے پتہ چلا"
حور کی سوئی ابھی تک وہیں اٹکی ہوئی تھی
"تمہاری برتھ ڈے کا نہ مجھے کسی میرے جاسوس نے بتایا ہے، نہ موکلوں نے اور نہ ہی تمہاری ماما نے بلکہ یہ بات تم نے مجھے خود اپنے بچپن میں بتائی تھی اتنی جلدی بھول گئی ہو تم پری"
زین نے قریب آکر اسکے گالوں کو چھوا
حور ایک دم کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی۔۔۔ پیچھے ہٹنے کی وجہ زین کا اس کے قریب آنا نہیں بلکہ اس کو پری کہہ کر مخاطب کرنا تھا کتنے سالوں بعد وہ آج کسی کے منہ سے اپنے لیے یہ نام سن رہی تھی
"میں۔۔۔۔۔ میں پری تو نہیں ہوں"
بچپن کی طرح حور نے آج بھی زین سے حیرت سے کہا۔۔۔۔وہ ٹرانس کی کیفیت میں زین کو دیکھنے لگی
"مگر مجھے تو تم پری ہی لگتی ہو"
زین نے مسکرا کر بچپن میں اس سے کہی ہوئی بات کو دوبارہ دہرایا
"شاہ"
حور نے زیر لب بڑابڑایا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment