Monday, December 10, 2018

episode 34


tni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 34


زین آفس سے گھر آیا تو حور ٹیرس میں موجود سوچوں میں گم تھی اسے زین کے آنے کا احساس ہی نہیں ہوا

"کیا سوچا جارہا ہے"
زین نے حور کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے کان میں سرگوشی کی

"تم کب آئے؟ آج جلدی آ گئے آفس سے"
حور اس کے حصار میں آنے سے چونکی یا ڈری نہیں بلکہ اب وہ اس کے لمس کو پہچانتی تھی اور شاید اس کی عادی بھی ہو گئی تھی

"ہاں آج جلدی آگیا۔۔۔ تمہارا سیل کیوں آف ہے دوپہر سے؟ کب سے کال ملا رہا تھا"
زین اس کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا

"بیٹری لو ہوگئی ہوگی چارج پر لگا دیتی ہوں، تم فریش ہو کر آؤ میں چائے لے کر آتی ہوں"
حور بات بناتے ہوئے زین سے الگ ہوئی

"حور کیا ہوا ہے کوئی بات ہے؟ اگر کوئی بات ہے تو تم مجھ سے شیئر کر سکتی ہوں"
حور جانے لگی تو زین نے نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر غور سے حور کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا

"نہیں کوئی بات نہیں ہے بس ویسے ہی طبیعت ڈل سی ہو رہی ہے"
اف اک تو اس انسان کی آنکھوں کی جگہ ایکسرے فٹ ہے فورا ہی پتہ لگا لیتا ہے

"چائے رہنے دو چلو باہر چلتے ہیں میں  کال بھی اس لئے کر رہا تھا تاکہ تمہیں بتا دو گائناکالجز  سے تمھارا اپائنمنٹ لیا ہے اچھا ہے پراپر چیک اب ہو جائے گا۔۔۔ پھر وہاں سے اماں کے پاس ہسپتال چلے گیں، تم اپنی ساس سے مل لینا اور پھر تمھاری ماما کی طرف چلیں گے، تو پھر میں اپنی ساس سے مل لوں گا۔۔۔ کیا خیال ہے" زین پورا پلان بناتے ہوئے آخر میں حور سے اپنا مشورہ مانگا

"تم میری ماما سے ملو گے"
حور نے حیرت سے پوچھا

"اگر تم ملوانا چاہو تو ضرور"
زین حور کے گال چھوتے ہوئے بولا، وہ اس کو خوش دیکھنا چاہتا تھا اور اس کی خوشی کے لئے اتنا تو کر سکتا تھا

"تم ان سے ملو گے تو مجھے بہت اچھا لگے گا زین"
حور نے خوش ہوتے ہوئے کہا

"تو چلو شاباش جلدی سے ریڈی ہو جاؤ"
زین نے کاوچ پر بیٹھتے ہوئے ٹی وی آن کرلیا


****

ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد ٹیسٹ لکھے اور چھوٹی عمر اور ارلی پریگنینسی کی وجہ سے احتیاط بتائی۔۔۔ وہاں سے زین حور کو نادیہ بیگم کے پاس لے کر آیا وہ حور کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی بہت ساری دعائیں دی۔۔۔ خوشخبری کا پتہ چلا تو بہت ساری احتیاط کا کہا اور زین کو اس کا خیال رکھنے کی تلقین کی

اسماء چونکہ اپنے بھائی کے گھر تھی ایڈریس لے کر حور اور زین وہاں پہنچے وہاں بہت خوش دلی سے ان کا استقبال کیا گیا حور کے ماموں زین سے ان سے بہت اچھے طریقے سے ملے۔۔۔سیاست اور دوسرے موضوعات پر باتوں کے ساتھ اچھے ماحول میں کھانا کھایا گیا۔۔۔ آسماء بھی مطمئن ہو گئی آج اسے زین پہلی ملاقات کی بانسبت بہت اچھا اور سلجھا ہوا لگا، سب سے بڑھ کر اس کی آنکھوں میں حور کے لئے محبت اور کیئر دیکھ کر جو تھوڑے بہت وہم تھے وہ بھی جاتے رہیں۔۔۔  ایک اچھی شام گزار کا وہ لوگ سب کی دعاؤں کے ساتھ اپنے گھر سے روانہ ہوئے

****

"آج میں بہت خوش ہوں تھینکیو سو مچ"
حور نے بیٹڈ پر  لیٹتے ہوئے زین سے کہا جو پاس ہی بیٹھ اپنے موبائل میں مصروف تھا

"تھینکس کس بات کا سویٹ ہارٹ خوش رہا کرو بس اور احتیاط کرو جس چیز کا ڈاکٹر نے کہا ہے"
زین نے موبائل ایک طرف رکھتے ہوئے
حور سے کہا

"زین تمہیں مجھ سے محبت کب ہوئی"
حور نے اچانک سوال کیا

"جب تمہیں پہلی بار دیکھا شاید تب ہی ہو گئی تھی"
 زین نے کچھ سوچتے ہوئے مسکراتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ جواب دیا

"وہاں پر جب ہسپتال میں تو مجھ سے ٹکرائے تھے۔۔۔ مگر اس کے بعد تو تم جب بھی مجھے ملتے ڈراتے رہتے بلکہ اچھا خاصا ڈرایا تم نے مجھے۔۔۔ ایسے بھی کوئی محبت کرتا ہے بھلا"
حور نے پہلی ملاقات کے بعد ساری ملاقاتوں کو یاد کرتے ہوئے کہا

"ہسپتال میں ہماری پہلی ملاقات نہیں ہوئی تھی اور اس وقت ہسپتال میں بھی تم مجھ سے ٹکرائی تھی میں تم سے نہیں۔۔۔۔ میں کوئی ڈراتا تھوڑی تھا وہ تو صرف اپنا حق جتاتا تھا اور یہ بات صحیح کہی بالکل بدتمیز میں واقعی بہت ہوں" زین نے حور کے گلے میں موجود دوپٹہ اتار کر ایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا  

"اگر اسپتال میں ہماری پہلی ملاقات نہیں ہوئی تو پھر کہاں ہوئی ہماری پہلی ملاقات"
حور کا دماغ اسی بات پر اٹک گیا تو زین سے پوچھنے لگی

"یہ میں تمہیں نہیں بلکہ تم مجھے سوچ کر بتاؤں گی"
زین برابر میں لیٹتے ہوئے بولا

"مجھے تو یاد پڑتا ہیں ہم پہلی دفعہ اسپتال میں ہی ملے تھے اس سے پہلے کا تو مجھے کچھ یاد نہیں پڑتا"
حور نے سوچتے ہوئے بولا

"دماغ پر زور ڈالو شاید کچھ یاد آجائے"
زین اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں پہ لگاتے ہوئے بولا

"نہیں ہمارا پہلا ٹکراؤ اسپتال میں ہوا تھا اور اس کے بعد تم نے ہمیشہ مجھے ڈرانے کی ٹھانی تھی"
حور نے بات ختم کی

"تو اب ڈر نہیں لگتا تمہیں مجھ سے" زین نے کہنی کے بل بیٹھتے ہوئے حور سے پوچھا

"نہیں اب تو بالکل بھی نہیں لگتا"
حور نے بہادر بنتے ہوئے بولا

"جبکہ لگنا تو چاہیے"
زین اس کے اوپر جھکتے ہوئے بولا اور ایک معصوم سی شرارت کر کے دور ہٹا

"ایسے ہی نہیں میں تمہیں فضول انسان کہتی"
حور نے گھور کر کہا اور آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی

*****

ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی میٹنگ ختم ہوئی تھی تو وہ تینوں اپنے روم میں آئے تھے اسی کے متعلق پوائنٹ ڈسکس کر رہے تھے کہ پی اے کی کال آئی۔۔۔ بلال نے ریسیو کی

"سر کوئی فیصل نامی بندہ شاہ زین سر سے ملنا چاہتا ہے"
پی اے نے بلال کو بتایا

"ٹھیک ہے اس کو اندر بھیج دو"
بلال نے پی اے کو جواب دے کر فون رکھا

"السلام علیکم سر کیسے ہیں اپ لوگ"
فیصل نے روم میں آتے ہی مہذب انداز اپناتے ہوئے سلام کیا

"تم۔۔۔ تم یہاں کیوں آئے ہو"
زین نے حیرت سے اسے دیکھا اس کی پیشانی پر فیصل کو دیکھ کر بل پڑ گئے

"سر میرا موبائل چوری ہو گیا تھا اس لئے فون پر کانٹیکٹ نہیں کر سکا آپ دونوں سے، یہ دینے آیا ہوں"
فیصل نے ایک اینولپ آگے بڑھاتے ہوئے کہا

"ٹھیک ہے فیصل تم اس وقت جاؤ ہم بعد میں بات کرتے ہیں"
اشعر نے جلدی سے آگے بڑھ کر اینولپ فیصل سے لیتے ہوئے کہا

"مگر اس میں کیا ہے"
بلال نے تجسس سے پوچھا

"بلال کو صاف محسوس ہوا زین اور اشعر صاف کچھ چھپا رہے ہیں تھے۔ ۔۔۔ اس کے سامنے فیصل سے بات نہیں کرنا چاہ رہے ہیں۔۔۔ کہیں کچھ گڑ بڑ تھی

"سر یہ اس لڑکے کے کچھ کاغذات رہ گئے ہیں جسے چند گھنٹوں کے لئے۔۔۔۔" فیصل بلال کو بتانے لگا تھا

"تمہیں سنائی نہیں دے رہا اشعر نے کیا کہا ہے۔۔۔ بعد میں بات ہوگی جاو ابھی"
زین فیصل کی بات کاٹتے ہوئے بولا

"اوکے سر مائنڈ کیوں کر رہے میں تو اس لئے دینے آیا ہوں کہیں کوئی ضروری کاغذات نہ ہو اور آپ کے کچھ کام آ جائیں چلتا ہوں"
فیصل منہ بناتے ہوئے وہاں سے چلا گیا اشعر اور زین نے سکھ کا سانس لیا

"کیا ہو رہا ہے یہ سب اور کیا چھپا رہے ہو تم دونوں مجھ سے"
بلال نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا

"ارے کچھ نہیں یار تھوڑے دن پہلے کام پڑ گیا تھا اس سے اسی سلسلے میں آیا تھا"
اشعر نے بات کو ٹالتے ہوئے کہا

"بات کو ٹالو نہیں اشعر۔۔۔ کونسا کام پڑ گیا تھا فیصل سے جب کہ ہم تینوں ہر وہ کام چھوڑ چکے ہیں۔۔۔ جس کی وجہ سے ہمیں فیصل کی مدد لینا پڑے، تو اب ایسا کونسا کام پڑ گیا تھا؟؟ تم دونوں مجھ سے کیا چھپا رہے ہو"
اب کے بلال نے زین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

"یار بلال ایسی کوئی بات نہیں ہے تم کیوں بات کی کھال نکال رہے ہو بلاوجہ۔۔۔۔ ہم دونوں تم سے بھلا کچھ کیوں چھپائیں گے"
زین کی لمبی چوڑی وضاحت بھی بلال کو مطمئن نہ کر سکی

ٹھیک ہے یہ اینولپ مجھے دکھاؤ کیا ہے اس میں"
بلال نے اشعر کے ہاتھ سے انوولپ لیتے ہوئے کہا۔۔۔ اس کو کھول کر دیکھا تو اس میں کاغذات تھے جس میں ذیشان کا نام لکھا ہوا تھا۔۔۔ صرف دو سیکنڈ لگے اس کو ساری کہانی سمجھنے میں

 بلال نے حیرت سے ان دونوں کو دیکھا اور اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا

"اس دن جو بھی کچھ ہوا وہ سب کچھ تم دونوں کی کارستانی تھی"
بلال نے حیرت سے پوچھا

دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کوئی کچھ نہیں بولا

"تم لوگوں کو ذرا بھی احساس ہے کہ کتنا بڑا تماشہ لگایا ہے تم لوگوں نے" بلال نے اینوولپ پھینکتے ہوئے زین اور اشعر کو جھاڑا اور روم سے باہر نکل گیا

اشعر اور زین ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment