tni mohbbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 33
حور اور زین ولیمے کی تقریب میں پہنچے بلال سے ریسپشن پر ملاقات ہوئی فضا ولیمے کی دلہن بن کر بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔ حور تانیہ سے باتیں کر رہی تھی اچانک اسے اپنی طبیعت بوجھل سی محسوس ہو رہی تھی بلکہ صبح سے ہی وہ اپنی طبیعت میں بوجھل پن سا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ اس نے زین سے گھر چلنے کے لئے کہا
"خیریت کیا ہوا تمہیں"
اس نے حور کا زرد پڑھتا ہوا چہرہ دیکھ کر کہا
"مجھے کچھ اچھا فیل نہیں ہو رہا"
حور نے جواب دیا
"اوکے چلو پھر گھر چلتے ہیں"
زین نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
مگر جیسے ہی حور کھڑی ہوئی اسے زور سے چکر آیا اس سے پہلے وہ گرتی زین نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا
"کیا ہوا حور تم ٹھیک ہو"
زین نے فکرمندی سے پوچھا
تانیہ اور شازیہ کے علاوہ اشعر اور بلال بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے
"نہیں میں ٹھیک ہوں آنکھوں کے آگے اندھیرا سا آگیا تھا مگر اب ٹھیک ہے" اس نے سب کی نگاہیں اپنے اوپر مرکوز ہوتے ہوئے دیکھ کر کہا
"مجھے لگتا ہے ہمیں چلنا چاہیے"
زین نے بلال کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
"ہاں میرا بھی خیال ہے تم لوگ نکلو"
بلال نے زین کی بات کی تائید کی
"بیٹا کسی ڈاکٹر کو دکھاتے ہوئے گھر جانا"
شازیہ نے مشورہ دیا
"جی آنٹی"
زین نے جواب دیا
سب سے اجازت لے کر حور کو سہارا دیتے ہوئے وہ گاڑی تک لے کر آیا
"تم ٹھیک ہو حور" گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے زین نے ایک نظر حور پر ڈالتے ہوئے پوچھا
"میں ٹھیک ہوں زین بس طبیعت تھوڑی ڈل ہو رہی ہے نیند لونگی تو فریش ہو جائے گی"
حور نے اپنے طور پر زین کو مطمئن کرنا چاہا مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکی
زین نے گاڑی ایک کلینک کے پاس روکی
"مجھے لگتا ہے ہمہیں چلنا چاہیے" حور نے اکتائے ہوئے انداز میں کہا
"میرا خیال ہے آنٹی ٹھیک کہہ رہی تھیں چیک اپ کروا لینا چاہیے۔۔۔ میں مطمئن ہو جاؤں گا شاباش اترو"
زین نے اپنی طرف کا ڈور کھولتے ہوئے حور سے کہا
ڈاکٹر کے چند سوالات کے بعد اس کا ایک ٹیسٹ کروایا مبارکباد کے ساتھ گڈ نیوز سنائی
اس خبر سے دونوں ہی اپنی اپنی جگہ خوش تھے زین کو اپنی خوشی اور فیلینگ کا اظہار سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس انداز میں کرے جبکہ حور اپنی جگہ نظریں جھکائے بیٹھی ہوئی تھی حیا کا رنگ اس کے چہرے پر واضح تھا جو زین کو بہت اچھا لگ رہا تھا ان دونوں نے خاموشی سے گھر کا راستہ طے کیا۔۔۔۔۔ گھر پہنچ کر حور ڈریس چینج کرنے کے ارادے سے کپڑے لے کر اٹھیں تو زین نے اس کو روک کر بیڈ پر بٹھایا اور ہاتھ تھام کر کہنے لگا
"میں آج بہت خوش ہوں تم جانتی نہیں ہوں تم نے میری زندگی کو کتنا حسین بنا دیا ہے میں اپنے آپ کو دنیا کا خوش قسمت انسان تصور کرنے لگا ہوں۔۔۔۔ تم نے آج مجھے اتنی بڑی خوشی دی ہے اس کے لئے تھینکس بہت چھوٹا لفظ ہے"
زین نے حور کا ہاتھ اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے کہا
حور نے مسکراتے ہوئے زین کو دیکھا
"اور سنو مجھے بیٹی چاہیے بالکل پری جیسی"
وہ اس کا بلش ہوتا ہوا چہرہ دیکھ کر مزید گویا ہوا
دونوں ہی مستقبل کے حسین تصور میں کھوئے ہوئے تھے یہ جانے بغیر کے آنے والے وقت کو کسی کو نہیں پتہ ہوتا
*****
فضا روم میں آکر ڈریس چینج کرنے کے ارادے سے اٹھی ہی تھی کہ بلال روم میں آگیا
"کیسی ہو"
بلال نے فضا کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے پوچھا
"جیسی لگ رہی ہوں ویسی ہی ہوں"
اس نے سیدھا جواب تو بلال کو دینا سیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔ ۔ فضا وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگی
"یعنی بہت حسین" بلال نے فضا کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا
"پلیز بلال ڈرامے بند کرو اپنے"
اس نے بلال کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں کہا
"اوکے مگر اتنی جلدی چینج کیوں کر رہی ہوں ابھی تو میں نے سہی سے دیکھا بھی نہیں"
اس نے فضا کا ہاتھ سے کپڑے لیتے ہوئے کہا
"میں نے ابھی ابھی کہاں تھا اور پھر کہہ رہی ہوں ڈرامے بند کرو"
فضا نے اس کے ہاتھ سے اپنا ڈریس لیا اور آگے بڑھ گئی
دھلے ہوئے چہرے کے ساتھ کپڑے چینج کرکے فضا روم میں واپس آئی تو بلال ویسے ہی کھڑا تھا
"مجھے پتا ہے فضا تم مجھ سے ناراض ہو حق بنتا ہے تمہارا۔۔۔۔ مگر تم خود سوچو، اپنے اپکو میری جگہ پر رکھ کر تو تمہیں خود اندازہ ہوگا"
وہ اسے رسانیت سے سمجھانے لگا
"مجھے اس بارے میں یا کسی بھی بارے میں کوئی بھی بات نہیں کرنی ہے" فضا نے اپنا تکیہ اٹھایا اور صوفے پر رکھا
"اوکے مگر یہ تو قبول کر لو تمہارے لیے لایا ہوں منہ دکھائی"
بلال نے ایک ڈبہ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
"جہاں ہمدردی میں رشتے جوڑے جائیں وہاں یہ تکلفات ضروری نہیں ہوتے" اس نے ڈبے پر اک نظر ڈال کر بولا اور تکیہ سیٹ کرکے لیٹ گئی
بلال نے ڈبہ دراز میں رکھ دیا اور ڈریس لے کر خود بھی چینج کرنے لگا
*****
صبح حور کی آنکھ کھلی تو زین پہلے سے ہی اٹھا ہوا تھا حور کچن میں جاکر ناشتے کے لئے چائے کا پانی رکھنے لگی
"کیا ضرورت تھی اٹھنے کی ڈاکٹر نے ریسٹ کرنے کو کہا تھا نہ تمہیں"
وہ شاید حور کو اٹھتا ہوا دیکھ کر جلدی میں آگیا منہ پر شیونگ کریم لگی ہوئی تھی
حور نے اس کو مسکرا کر دیکھا پھر اس کو شرارت سوجی اس نے چائے کا پانی کے چند چھیٹے لے کر زین کے اوپر چھڑکیں۔۔۔۔ جو اس کے پیچھے ہونے کے باوجود بھی منہ اور شرٹ پر آئے۔۔۔۔ حور ہنسنے لگی زین نے ابرو اچکا کر حور کو دیکھا
"اب تم کیسے بچو گی مسسز"
وہ حور کے قریب آیا اور بھاگنے کا موقع دیئے بغیر پکڑ کر شیونگ کریم والا منہ حور کے منہ پر رگڑا
"نہیں زین پلیز نہیں"
جب تک حور کچھ بولتی وہ اپنی کاروائی مکمل کر چکا تھا
حور کا منہ شیئونگ کریم سے سج چکا تھا
"اللہ بچائے تم سے تو، بس شروع ہو جایا کرو"
زین کو پیچھے کرتے ہوئے منہ بنا کر حور نے کہا
"سویٹ ہارٹ شروع تم ہوئی ہوں آج صبح صبح"
زین سامنے پڑے ٹشو باکس سے ٹشو نکال کر حور کا منہ صاف کرنے لگا۔۔۔ اس طرح ٹشو سے منہ صاف کرنے پر اس کو "شاہ" یاد آیا، حور زین کو دیکھنے لگی
"کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہوں"
زین چاہتا تھا وہ اسے خود سے شاہ کا پوچھے یا بتائے، اس پر اعتبار کرے
"نہیں کچھ نہیں جاو منہ دھوکر آو ناشتہ ریڈی کرتی ہوں"
حور نے کیبنٹ سے کپ نکالتے ہوئے کہا
"زین کو شاہ کے بارے میں بتاؤں کیا پتہ زین کو یہ ذکر پسند نہ آئے ویسے بھی اس نے یہ باور کرایا ہے کہ اسے کسی تیسرے کی مداخلت برداشت نہیں"
پیار کا رشتہ ان دونوں کے درمیان قائم ہو گیا تھا مگر شاید اعتبار کا رشتہ قائم ہونا ابھی باقی تھا
"ناشتہ ریڈی ہے زین آجاؤ"
حور نے بیڈ روم کے دروازے سے جھانکتے ہوئے کہنے لگی
ویسے ہی موبائل کی رنگ ٹون بجی
لگتا ہے تمہاری ماما کی کال آگئی ہے" زین نے ڈریسر کے سامنے بال بناتے ہوئے بولا
"اتنی صبح صبح" حور کہتے ہوئے اپنے موبائل کی طرف بڑھی مگر ماما کی جگہ خضر کا نمبر دیکھ کر اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ گئی
"خضر بھائی کو میرا نمبر کس نے دیا"
اس نے جلدی سے کال ڈسکنیکٹ کرکے موبائل off کیا
"کیا ہوا بات نہیں کی ماما سے"
زین نے حور کی طرف آتے ہوئے پوچھا
"ابھی بھوک لگ رہی ہے بعد میں کروں گی بات ناشتہ کرکے سکون سے" حور نے مسکراتے ہوئے نارمل انداز میں کہا اور روم سے چلی گئی اس کے پیچھے زین بھی روم سے نکل گیا
****
خضر نے موبائل کی طرف دیکھا اس کی کال کاٹ دی گئی تھی اس نے دوبارہ نمبر ٹرائی کیا تو سیل off تھا اس کا موڈ خراب ہو گیا۔۔۔
"شاید زین نے یہ حرکت کی ہو پر یہ بھی ہوسکتا ہے حور نے میری کال کاٹ دی ہو اور موبائل off کر دیا ہو۔۔۔۔۔ وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے کیوں نہیں کرسکتی ہوں زین کے ڈر سے ایسا کر سکتی ہے۔۔۔۔ چلو کال نا سہی اب جاکر ہی ملاقات کرنا پڑے گی
******
زین کے آفس جانے کے بعد وہ سارا دن یہی سوچتی رہی کہ خضر بھائی کو کیسے منع کرے آخر وہ خود کیوں نہیں سمجھ جاتے ہیں۔۔۔۔
"کیا مجھے ان سے بات کرنی چاہیے نہیں نہیں اگر زین کو پتہ چل گیا تو؟ اس کے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی زندگی میں خوش اور مطمئن تھی اس کے دماغ کے ساتھ ساتھ دل نے بھی زین کو اور اس سے جڑے رشتے کو قبول کر لیا تھا۔۔۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ زین کے اور اس کے درمیان کسی بھی قسم کی تلخ کلامی ہو اب تو ایک نئی وجہ بھی آ گئی تھی جو اسے زین سے مزید محبت کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔
زین ہر لحاظ سے بہت اچھا شوہر ثابت ہوا تو لونگ کیئرنگ مگر ایک چیز جو اس میں بری تھی وہ اس کا غصہ تھا۔۔۔۔ خیر پرفیکٹ تو کوئی بھی انسان نہیں ہوتا حور کے سوچوں کا دھارا خضر سے دوبارہ زین کی طرف آگیا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment