Itni mohbbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 32
آج اس کے ساتھ کیا ہوا تھا یہ سوچ سوچ کر اس کا دماغ شل ہو رہا تھا بلال سے ذیشان تک، پھر دوبارہ بلال تک کا سفر۔۔۔۔ دعائیں یوں بھی پوری ہو سکتی ہے جب ان کی امید ختم ہوجائے اس کو یقین نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔ اس نے بلال کو بہت چاہا تھا ہر دعاؤں میں مانگا تھا مگر جب اس کو یقین ہو گیا کہ وہ اس کی قسمت میں نہیں ہے پھر اللہ سے دعاؤں میں اسے مانگنا بھی چھوڑ دیا۔ مگر جب اس نے امید چھوڑ دی تو وہ بن مانگے اس کی زندگی میں شامل ہو گیا۔۔۔۔ اگر سب کچھ نارمل طریقہ طریقے سے اس کی زندگی میں ہوتا تو وہ اپنے آپ کو دنیا کی خوش نصیب لڑکی سمجھتی مگر اب اسے ایک بات کا دکھ تھا
"بلال مسعود تم نے مجھے محبت بھیک میں بھی دینا گوارا نہیں کری، لڑکی ہو کر میں نے پہل کی، اپنی جذبات کا اظہار کیا مگر تمہارے آگے وہ جزبات بےمعنی تھے لیکن آج تم نے یہ ثابت کر دیا کہ تمہاری نظر میں میری محبت سے بڑھ کر ہمدردی کا جذبہ تھا اور اسی جذبے کی وجہ سے تم نے مجھے قبول کیا ہے۔۔۔۔ لفظ ہمدردی سوچ کر فضا کی آنکھ میں آنسو آگئے جس کو صاف کرکے وہ اٹھی اور اپنے بھاری لہنگے ہیوی جیولری اور میک اپ سے خود کو آزاد کروایا ہلکا پھلکا سا سوٹ (جو کہ تھوڑی دیر پہلے تانیہ دے کر گئی تھی) پہنا اور آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی
****
کافی دیر بعد بلال کمرے میں داخل ہوا تو فضا کو سوتے ہوئے پایا اس نے فضا کو نظر بھر کر دیکھا سادہ سے روپ میں نیند کی وادیوں میں ڈوبی ہوئی وہ اسے خفا خفا لگی۔۔۔ مگر اسے یقین تھا وہ اسے جلد منا لے گا ویسے بھی محبت کرنے والے زیادہ دیر تک خفا نہیں رہ سکتے وہ وارڈ روب سے کپڑے نکال کر چینج کرنے چلے گیا
*****
حور کی صبح آنکھ کھلی تو کمرے میں اپنے آپ کو تنہا پایا وہ اٹھ کر کچن میں گئی، وہاں پر کوئی بھی نہیں تھا واپس آکر وہ دوبارہ لیٹ گئی۔۔۔۔ اسے اپنی طبیعت میں عجیب بوجھل پن محسوس ہو رہا تھا کیا کوئی شخص اتنی جلدی اپنا عادی بنا لیتا ہے اس کے بنا آپ کو کچھ اچھا نہیں لگتا اور اپنی عادت ڈال کر یہ رویہ رکھنا یہ بھی تو ظلم ہے خیر ظالم تو وہ شروع سے ہی تھا حور نے سوچتے ہوئے دوبارہ آنکھیں موند لیں
*****
زین آفس میں بیٹھا ہوا کل رات والے اپنے رویے کو سوچ رہا تھا
"مجھے اتنا ہارش نہیں ہونا چاہیے تھا وہ تو نارمل بات کر رہی تھی میں بلاوجہ میں غصہ کر گیا۔۔۔صبح بنا بتائے اسے آفس آگیا کتنا ہرٹ ہوئی ہوگی اب تک تو سو کر اٹھ گئی ہوگی"
زین نے حور کو کال کرنے کے لئے موبائل کی طرف ہاتھ بڑھایا تو بلال روم کے اندر آیا
"تم۔۔۔۔ تم آج آفس میں کیا کر رہے ہو" زین نے حیرت سے بلال کو دیکھا اور موبائل واپس ٹیبل پر رکھ دیا
"ظاہری بات ہے یار آفس میں بندہ کام کرنے کے لئے آتا ہے"
بلال نے بیٹھتے ہوئے زین کو جواب دیا
"وہ تو ٹھیک ہے مگر کل ہی تمہاری شادی ہوئی ہے"
زین نے جیسے اسے یاد دلایا
"اور شادی کس انداز اور کن حالات میں ہوئی ہے"
بلال نے کل والا واقعہ یاد کر کے کہا
"چلو تم نہ سہی فضا تو خوش ہو گی نا۔ ۔۔ ایک بیوقوف! جیسے وہ غلطی سے دل دے بیٹھی تھی اب اس کی زندگی میں شامل ہو گیا ہے"
زین نے ہنسی چھپاتے ہوئے کہا
"خوش! ایسی ویسی۔۔۔۔ میرے کمرے میں آنے پر محترمہ نے میرا استقبال اپنے خراٹوں کی آواز سے کیا" بلال نے جل کر کہا
"ہا ہا ہا تمہارے جیسا خشک بندہ ایسے ہی ویلکم کو مستحق ہے"
زین نے آپ کے ہنستے ہوئے کہا
بلال نے زین کو گھور کر دیکھا اتنے میں اشعر بھی آفس آگیا
"ارے یہ کیا دلہے صاحب بھی افس آگئے صبح صبح"
اشعر نے حیرت سے بلال کو دیکھتے ہوئے کہا
"بند کردو اب تم دونوں میرا ریکارڈ لگانا ورنہ شہید ہو جاؤ گے میرے ہاتھوں"
اشعر اور زین نے بلال کو دیکھ کر اپنی ہنسی دبائی
****
شام میں ولیمے کی تقریب تھی جو کہ بلال کے منع کرنے پر بھی زین نے اپنی طرف سے ریسٹورینٹ میں رکھی اور کل والے خاص خاص لوگوں کو مدعو کیا
بلال گھر پہنچا تو فضا کا سامان (فرنیچر) اس کے روم میں رکھا جا رہا تھا البتہ فضا اسے کہیں نظر نہیں آئی۔۔۔ باتوں ہی باتوں میں اسے پتہ چلا کہ وہ تانیہ کے ساتھ پارلر گئی ہوئی ہے، صبح وہ فضا کے اٹھنے سے پہلے ہی آفس نکل گیا تھا اس لیے اب تک فضا اور بلال کا سامنا نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ رضیہ خالہ سے اسے یہ بات بھی پتہ چلی کہ آج صبح ہی ان کے گھر ذیشان کے گھر والے ذیشان سمیت آئے کافی شرمندہ تھے اور معافی بھی مانگ رہے تھے مگر قصوروار وہ بھی نہیں تھے کیونکہ ذیشان جب گھر سے نکلا تو اس کو بے ہوش کرکے گاڑی میں ڈال دیا گیا، ہوش میں آنے کے بعد اسے چار سے پانچ گھنٹے قید میں رکھا پھر بنا کچھ مانگے یا نقصان پہنچائے چھوڑ دیا گیا۔۔۔۔ یہ کیا معمہ تھا بلال کو خود بھی اس وقت سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔۔ اس نے سوچا شاید اس طرح فضا اور اسکا ملن لکھا ہوا تھا
****
زین گھر پہنچا بیل بجانے پر بھی حور نے دروازہ نہیں کھولا کیز سے لاک کھول کر وہ گھر میں داخل ہوا۔۔۔ تو حور بڑے انہماک سے ٹی وی دیکھ رہی تھی شاید یہ اس کی ناراضگی کا اظہار تھا۔ ۔۔۔ مسکراہٹ دبا کر وہ بھی کاوچ پر اس کے پاس بیٹھ گیا
"شوہر جب گھر آتا ہے تو اچھی بیویاں شوہر سے چائے پانی کا پوچھتی ہیں، چلو وہ نہ پوچھے بندہ سلام دعا ہی کر لیتا ہے"
زین نے حور کو دیکھتے ہوئے سنجیدہ لہجہ بناتے ہوئے کہا
"جی صحیح کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔ یقینا یہ اچھی بیویوں کی خصوصیت ہے"
حور نے ٹی وی پر نظریں جماتے ہوئے جواب دیا
"تو یعنی تم یہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ تم اچھی بیوی نہیں ہو"
زین تھوڑا سا کھسک کر اس کے پاس بیٹھا اور اپنا ہاتھ پھیلا کر حور کے شولڈر پر رکھا
"یقینا اچھی بیوی اچھے شوہروں کو ہی ملتی ہیں"
اب بھی جواب ٹی وی کی طرف دیکھتے ہوئے دیا گیا اور تھوڑا دور ہو کر صوفے پر بیٹھ گئی
"یعنی میں اچھا شوہر نہیں"
زین نے حور کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہوئے پوچھا وہ مسلسل ناراض سی حور کو دیکھ رہا تھا
"اپنے بارے میں آپ کو خود زیادہ اچھا پتہ ہو گا۔۔۔۔ میں کیا کہہ سکتی ہوں"
حور نے اپنا ہاتھ زین کے ہاتھوں سے آزاد کراتے ہوئے بولا
"تو پھر یہ بتاؤ کہ اچھا شوہر بننے کے لئے کیا کرنا پڑے گا" اب کے زین نے دونوں ہاتھوں سے حور کا چہرہ تھام کر۔۔۔ رخ اپنی طرف کیا جو کہ مسلسل ٹی وی کی طرف تھا
"مجھے کیا پتا یہ بھی جاکر کسی اچھی شوہر سے پوچھئے"
حور نے زین کے دونوں ہاتھ اپنے منہ سے ہٹائے اور اٹھنے لگی
"معافی نہیں ملی گی کیا آج"
زین نے اس کا ہاتھ تھام کر واپس بھٹایا
"پہلے کان پکڑو"
حور نے شرط رکھی
"اوکے جناب"
زین نے حور کے دونوں کان پکڑ لئے جس پر اس کو ہنسی آگئی اور حور کو ہنستے ہوئے دیکھ کر زین خود بھی مسکرا دیا
"اگر آب آئندہ تم نے مجھ پر بلاوجہ میں غصہ کیا نا تو یاد رکھنا بہت برا ناراض ہوگی میں پھر مناتے رہنا"
حور نے زین کو وان کیا
"اوکے سویٹ ہارٹ مگر ایک بات ہے تم غصے میں آپ جناب کر کے شوہر کو عزت دے دیتی ہوں"
زین نے حور کو چھیڑتے ہوئے کہا جس پر حور نے آنکھیں گھمائی
"ویسے کان پکڑ کر سوری کرنے کے علاوہ بھی ایک اور طریقہ ہے جس سے سوری کیا جاتا ہے" زین کہتے ہوئے حور کی طرف جھکا حور اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر جلدی سے صوفے سے اٹھ گئی زین ہنستا ہوا ریموٹ سے چینل چینج کرنے لگا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment