Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 42
وہ رات کو کافی دیر سے سوئی تھی اسے محسوس ہوا کہ زین خواب میں اس کو آواز دے رہا ہے۔۔۔۔ مگر جب اس کا ذہن اچھی طرح بیدار ہوا تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ خواب نہیں دیکھ رہی ہے زین شاید یہاں پر موجود ہے کیونکہ دوسری آوازیں بھی اس کے ساتھ آرہی ہیں۔ وہ اٹھ کر بیٹھی پاس پڑا ہوا دوپٹہ اوڑھ کر کمرے سے نکل کر ہال کی طرف بڑھی
***
"حور اب تمہارے ساتھ واپس نہیں جائے گی اور تم نکلو اسی وقت میرے گھر سے"
ظفر مراد گرج دار آواز میں بولے
"حور بیوی ہے میری،، وہ میرے ساتھ ہی جائے گی اور دیکھتا ہوں کون روک سکتا ہے اس لے جانے سے"
زین نے ظفر مراد کو جواب دیا،، اسی وقت زین کی نظر ہال میں آتی ہوئی حور پر پڑی
"چلو حور اپنے گھر میں تمہیں لینے آیا ہوں"
زین حور کی طرف بڑھا اور دونوں بازوں سے حور کو تھامتے ہوئے کہنے لگا
"مگر مجھے تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا"
حور نے زین کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا
ایک لمحے کو زین نے بے یقینی سے حور کو دیکھا مگر اگلے ہی لمحے دوبارہ بولا
"حور پلیز اس طرح نہیں کرو میرے ساتھ یہ ہمارا آپس کا معاملہ ہے ہم گھر جاکر اس پر بات کرتے ہیں"
اس نے حور کو بہلاتے ہوئے تحمل سے کہا
"میں نے تم سے کہا ہے نا زین مجھے کہیں نہیں جانا"
حور نے اپنے ہاتھ چھڑاتے ہوئے زین سے کہا
"تم نے سنا نہیں وہ کیا کہہ رہی ہے نہیں جانا چاہتی وہ تمہارے ساتھ"
آب کے خضر قدم بڑھاتا ہوا زین کے سامنے آیا
"میں تم سے نہیں اپنی بیوی سے بات کر رہا ہوں اور تم ہمارے ہر معاملے سے دور رہو"
زین کو خضر کی مداخلت اس وقت زہر لگی اس لئے وہ شہادت کی انگلی اٹھاتے ہوئے وان کرنے کے انداز میں بولا
"ھاھاھا بیوی کوئی اپنی بیوی کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرتا ہے اور اب یہ تمہارا معاملہ نہیں ہے بلکہ بات اب اس گھر میں آ گئی ہے" خضر کے بولنے کی دیر تھی زین نے آگے بڑھ کر خضر کا گریبان پکڑا
"میں تمہیں کب سے برداشت کر رہا ہوں،، اگر تم اب دوبارہ میرے اور حور کے درمیان میں بولے تو میں تمہیں یہی زندہ گاڑھ دوں گا"
زین نے غرا کر خضر سے کہا
"میرے ہی گھر میں کھڑے ہوکر مجھے ہی زندہ گاڑھنے کی دھمکی دے رہے ہو تم"
خضر بھی زین کا گریبان پکڑ چکا تھا
اس سے پہلے دونوں میں ہاتھا پائی شروع ہوتی ماحول کی سنگینی دیکھتے ہوئے ظفر مراد نے آگے بڑھ کر خضر کو اپنی طرف کھینچا حور آگے بڑھی زین کے سینے پہ دونوں ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کی طرف دھکیلا
"بس یہی سب کچھ تو آتا ہے نہ تمہیں غصہ، دھونس، رعب، زبردستی اور آتا ہی کیا ہے تمہیں اس کے علاوہ"
حور نے تیز آواز میں زین سے کہا
"حور تم مزید تماشہ بنائے بغیر میرے ساتھ ابھی اور اسی وقت یہاں سے چل رہی ہو جو بھی بات ہے وہ ہم گھر جا کے کلیئر کرلیں گے"
زین نے سنجیدہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے اس سے کہا
"نہیں جا رہی ہوں میں تمہارے ساتھ، کیا کر لو گے بتاو؟ جب تم چاہو زبردستی گن پوائنٹ پر نکاح کر لو۔۔۔۔۔ جب تم چاہو زور زبردستی سے اپنی بات منوالو،، ایسا نہیں چلے گا سنا تم نے"
حور کو بھی غصہ آنے لگا اور اب وہ بھی اپنی پر آگئی تھی
"جو بھی کچھ ہوا وہ بہت برا ہوا، میں اس کے لئے شرمندہ ہوں مگر مجھے بھی تو اپنی غلطی کی سزا ملی ہے نا۔۔۔ تو اب مزید سزا کیوں دے رہی ہو مجھے"
حور کو غصے میں دیکھ کر زین نے نرم پڑھتے ہوئے اس سے کہا
"ہر بار تمہاری اجارہ داری نہیں چلے گی زین تم جاو اس وقت یہاں سے"
حور نے چہرے کا رخ دوسری طرف پھیرتے ہوئے زین سے کہا۔۔۔ کیونکہ وہ مزید زین کو دیکھتی تو وہ شاید ہار جاتی اور وہ اس وقت یہ نہیں چاہتی تھی
"ہاں تم پر چلے گی میری اجارہ داری،، بیوی ہو تم میری حق رکھتا ہوں میں تم پر"
یہ کہتے ہوئے زین حور کا ہاتھ پکڑ کر آگے کی طرف قدم بڑھانے لگا
"ہاتھ چھوڑو میرا زین"
وہ زین کے ساتھ کھنچتی ہوئی جا رہی تھی۔۔۔۔ حور کے بولنے پر بھی زین کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا اور وہ آگے قدم بڑھائے جا رہا تھا
دوسری طرف فاطمہ نے خضر کو روکے رکھا تھا۔۔۔۔ ظفر مراد جو کہ پولیس کو کال کر رہے تھے آسماء کے روکنے پر رکے دوسرے پل آسماء زین کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی
"حور کا ہاتھ چھوڑ دو زین"
اسماء نے زین سے نرم لہجے میں کہا زین نے ایک نظر آسماء کو دیکھا
"حور تمہاری بیوی ہے بیٹا اور اس پر تمہارا ہی حق ہے مگر اس کی کنڈیشن دیکھو ابھی پلیز تم اس کو میرے پاس چھوڑ دو،، اسے تمہارے پاس ہی آنا ہے مگر تم ابھی میری بات مان لو۔۔۔۔۔ بیٹا پلیز اگر مجھے اپنی ماں کی جگہ سمجھتے ہو تو اس وقت تم یہاں سے چلے جاؤ اس طرح سے صرف بات بڑھے گی اور دل مزید برے ہونگے"
آسماء کے منت بھرے لہجے کے آگے وہ کچھ نہ بولا حور کا ہاتھ چھوڑ کر ایک نظر آسماء پر ڈالی اور باہر نکل گیا
زین کے جانے کے بعد کمرے میں ایک منٹ کے لیے خاموشی چھا گئی جسے ظفر مراد کی آواز میں توڑا
"صبح صبح اس انسان کی شکل دیکھ کر بی پی ہائی ہو گیا میرا میڈیسن دیجیے مجھے آکر"
وہ فاطمہ سے کہتے ہوئے روم سے باہر چلے گئے
اس کے بعد خضر بھی اپنے روم میں چلا گیا
"بس لگتا ہے اب روز روز یہی تماشے دیکھنے کو ملیں گے صبح صبح"
فاطمہ بھی دونوں ماں بیٹیوں کو دیکھتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
اسماء اور حور ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں
***
"بتاؤ حور یہ سب کیا تماشا لگا ہوا ہے"
روم میں آتے ہی اسماء نے حور سے پوچھا
"کس بارے میں بات کر رہی ہیں آپ میں سمجھی نہیں"
حور نے اسماء سے نظریں چراتے ہوئے کہا
"اگر کچھ سمجھی نہیں تو پھر نظریں کیوں چرا رہی ہوں" آسماء نے حور کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے کہا
"بتاؤ مجھے کیا بات ہوئی ہے تمہارے اور زین کے درمیان" آسماء نے دوبارہ پوچھا
"ماما ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ہے آپ پریشان مت ہوں"
حور نے کاوچ پر بیٹھتے ہوئے کہا
"اگر کوئی بات نہیں ہوئی ہو تو پھر زین کے ساتھ جانے سے کیوں انکار کر رہی تھی"
اسماء بولی
"ماما پلیز ہم اس بارے میں بعد میں بات کرتے ہیں"
کب سے ضبط کیے ہوئے آنسووں کو ایک بار پھر نکلنے سے باز رکھتے ہوئے،، حور نے بولا
وہ زین کا امیج ماما کے سامنے خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر وہ فی الحال زین کے ساتھ جانا بھی نہیں چاہتی تھی، اپنے غصے کی وجہ سے وہ کتنا بڑا نقصان کر بیٹھا تھا اپنا بھی اور اس کا بھی
"ٹھیک ہے تم مجھے کچھ بھی نہیں بتاو میں خود زین سے پوچھ لوں گی" اسماء حور سے کہتے ہوئے روم سے باہر نکل گئی
**
"آج امی آئی تھی کہہ رہی تھی کافی دن ہوگئے چکر لگائے ہوئے تو سوچ رہی ہوں ایک دو دن جاکر انکے پاس رہ آو"
فضا نے بلال سے کہا جوکہ بڑے انہماک سے بیڈ پر بیٹھا ہوا ٹی وی دیکھ رہا تھا
"ہہمم سمجھدار ہوتی جا رہی ہو تم۔۔۔ اچھا لگا یہ چینج تم میں"
بلال نے مسکرا کر فضا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
"اس میں سمجھداری کہاں سے آگئی بھلا"
فضا نے بلال سے سوال کیا
"سمجھدار بیویاں ہی تو شوہر سے اجازت لے کر میکے جاتی ہیں"
بلال نے نظریں ٹی وی اسکرین پر مرکوز کرتے ہوئے جواب دیا
"تمہیں یہ کس نے کہا کہ میں تم سے اجازت مانگ رہی ہوں۔۔۔۔ میں تمہیں آگاہ کررہی ہوں،، کہ میں کل امی کی طرف جاؤنگی رکنے کے لئے"
فضا نے سر جھٹکتے ہوئے کہا اور بیڈ پر میں لیٹ گئی،، پاؤں کی چوٹ ٹھیک ہونے کے بعد بھی اب وہ بیڈ پر ہی سو رہی تھی
"روکنے کی کیا ضرورت ہے صبح میں چلی جانا رات کو میں لے آؤں گا"
بلال نے ٹی وی بند کرتے ہوئے کہا
"وہ کس خوشی میں"
فضا بولی
"وہ اس خوشی میں کہ روزانہ آنکھ کھلنے پر اب میں تمہارا چہرہ دیکھنے کا عادی ہو گیا ہوں اس لئے No رکنا وکنا رات کو"
بلال نے فضا پر جھگتے ہوئے کہا
"بلال پلیز"
وہ اس طرح بلال کے اپنے اوپر جھگنے سے گھبرا گئی
"اور کب تک سزا دینے کا ارادہ ہے کافی نہیں اتنا"
بلال نے شکایتی نظروں سے فضا کو دیکھتے ہوئے کہا
"تم پیچھے ہٹ رہے ہو یا میں صوفے پر جاؤ"
فضا نے اٹھتے ہوئے کہا
"چپ کرکے لیٹی رہو یہی پر، اگر میں تمہیں ٹائم دے رہا ہو تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر بار تمہاری ہی چلی گئ۔۔۔ جس دن میں اپنی پہ آگیا تو اچھی طرح بتاؤں گا تمھیں"
بلال فضا سے بولتا ہوا روم سے باہر چلا گیا
**
تانیہ ابھی کلاس اٹینڈ کرکے فری ہوئی تھی کہ اس کے موبائل پر کال آنے لگی
"ہیلو"
تانیہ نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا
"کیسی ہیں آپ تانیہ"
نرم لہجے میں پوچھا گیا
"آپ کون بات کر رہے ہیں اور میرا نام کیسے جانتے ہیں"
تانیہ اس کی آواز کو پہچاننے کی کوشش کرنے لگی
"میں اشعر بات کر رہا ہوں۔ ۔۔ بلال کا دوست"
اشعر نے اپنا تعارف کروایا
"آپ خیریت۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے،، میرا نمبر آپ کے پاس کیسے آیا"
تانیہ تھوڑا بہت پہچان تو گئی تھی مگر جو سوال پریشان کر رہا تھا اس نے اس کا جواب چاہا
"آپ ساری باتیں فون پر ہی پوچھنا چاہتی ہیں"
اشعر بولا
"کیا مطلب فون پر۔۔۔ کہاں ہیں آپ ابھی"
تانیہ نے حیرت سے پوچھا
"میں آپکی یونیورسٹی کے باہر آپ کا ویٹ کر رہا ہوں"
اشعر بولا
"مگر کیوں؟؟ میں اس طرح کیسے۔۔۔ سوری میرا مطلب ہے"
تانیہ سچ میں گڑبڑا گئی۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آیا وہ اس کی بات کا کیا جواب دے، کیوکہ وہ جب بھی ملا تھا ہمیشہ اس کے کام ہی آیا تھا
"دیکھئے تانیہ مجھے خود بھی اس طرح مناسب نہیں لگ رہا، مگر جو بات میں آپ سے کرنا چاہتا ہوں وہ کال پر بھی نہیں ہو سکتی، اگر آپ مجھے قابل بھروسہ سمجھتی ہیں تو آپ یونیورسٹی کے باہر آجائے۔۔۔۔ میں آپ کا ویٹ کر رہا ہوں"
اپنی بات ختم کرکے اشعر نے کال کاٹ دی
اور تانیہ کشمکش میں پڑ گئی کہ اب کیا کرے کیا نہیں کرے پھر کچھ سوچتے اس نے قدم باہر کی طرف بڑھائے
اشعر چونکہ شازیہ کو اپنی پسند سے آگاہ کر چکا تھا مگر وہ چاہتا تھا ایک بار تانیہ سے بھی اس کی مرضی معلوم کرے، پھر ہی شازیہ کو تانیہ کے گھر رشتے کے لئے بھیجے۔۔ ۔دل کے کونے میں کہیں اس بات کا اس کو یقین تھا کہ تانیہ کبھی بھی منع نہیں کرے گی،، مگر پھر بھی وہ اپنی زندگی میں تانیہ کو اس کی مرضی جانے بغیر شامل نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ اپنی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا تانیہ اسے باہر کی جانب آتی ہوئی دکھائی دی اشعر نے گاڑی سے اتر کر ہاتھ ہلایا، دور ہونے کی وجہ سے وہ یہاں وہاں دیکھ رہی تھی اشعر کہ ہاتھ ہلانے پر وہ چلتی ہوئی اس کے قریب آئی۔۔۔ اشعر نے گاڑی کا دروازہ کھولا تانیہ اندر بیٹھی، تو اس نے خود بھی گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کردی
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment